’’دعا کی فضیلت‘‘

ـ 2 ستمبر ، 2010
مکرمی! دعا انسان پر اللہ کا خاص احسان ہے دعاقرب الٰہی کا ذریعہ ہے۔بندے کا اپنے رب سے مدد مانگنا اور اللہ کا اس کی دعا کو قبول کرنا وہ نعمت ہے جسکا خیر مقدم کرنا ضروری ہے۔ حدیث میں ہے’’ دعا عبادت کا مغز ہے‘‘ ۔دعا ایسی عبادت ہے جو اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے دعا کی عادت ڈالنے کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ہر کام کیلئے اللہ سے رجوع کرتا ہے۔اسی کی مدد مانگتا ہے جس سے اسکا تعلق اللہ سے اور مضبوط ہوجاتا ہے قرآن مجید میں دعا کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے تقریباً پچاس مرتبہ دعا کے بارے میں ارشاد کیا گیا ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ نے بھی اپنی امت کو بار بار دعا مانگنے کی تلقین کی۔دعا مانگتے ہوئے اول و آخر درود شریف پڑھنا باعث افضل ہے رسولؐ کا ارشاد ہے’’ ہر دعا معلق رہتی ہے جب تک دعا سے پہلے اور آخر میں درود و سلام نہ بھیجا جائے(صحیح الجامع)حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا’’ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب کے قریب ہوتا ہے۔لہٰذا سجدے میں کثرت سے دعا کرو(صحیح مسلم)دعا خشوع و خضوع اور گریہ وزاری کے ساتھ کرنی چاہیے اور دعا تردد کی حالت میں نہیں کرنی چاہیے۔ دعا قبول ہونے کی 3مختلف صورتیں ہیں۔(1)اگر وہ دعا اُس شخص کے حق میں بہتر ہو تو اللہ اسکو ویسا ہی قبول کرکے پورا کردیتے ہیں۔(2) بعض اوقات انسان دعا مانگتا ہے اس پر کوئی پریشانی آنے والی ہوتی ہے تو اللہ اسکی دعا کو ذریعہ بنا کر آنے والی پریشانی سے اسکو محفوظ کردیتے ہیں۔(3)کسی کی دعائیں نیکیوں کا خزانہ بن کر آخرت میں جمع کردی جاتیں ہیں۔(مدیحہ ذوالفقاراحمدگورنمنٹ فاطمہ جناح کالج چونا منڈی لاہور۔)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter