’’رمضان بازار بے سود ثابت ہو رہے ہیں‘‘

ـ 2 ستمبر ، 2010
مکرمی! رحمتوں، برکتوں اور نیکیوں کا موسمِ بہار رمضان المبارک کے شروع ہی سے شہر اقبالؒ (سیالکوٹ) اور مضافات میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں غیرمعمولی اضافہ ہو چکا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت کے واضح اعلان کے باوجود اوقاتِ سحر و افطار اور نمازِ تراویح کے دوران بھی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ تواتر کیساتھ شروع کر دیا گیا ہے جس سے روزہ دار انتہائی کرب اور پریشانی میں مُبتلا ہیں۔ بندگانِ خُدا روزہ افطاری کی تیاری میں مصروف ہوتے ہیں تو اچانک افطاری سے آدھ پون گھنٹہ قبل بجلی بند ہو جاتی ہے اور یوں موجودہ قیامت خیز گرمی میں افطاری کی تیاری اور پھر روزہ افطار کرنے میں روزہ داروں کا جو بُرا حال ہوتا ہے اس صورتِ حال کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ اُدھر عین نمازِ تراویح کے دوران اچانک بجلی غائب ہو جانے سے نمازیوں کا شدید گرمی کیوجہ سے مساجد، عبادت گاہوں میں بُرا حال ہوتا ہے۔ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ ایک اسلامی نظریاتی مملکت ’’پاکستان‘‘ میں ماہِ صیام کے دوران حکومت کی جانب سے روزہ داروں کو ریلیف دینے کی بجائے بجلی کی بے تحاشہ اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ایک آزمائش اور مصیبت میں ڈالدیا گیا ہے۔ (ابو سعدیہ سید جاوید علی شاہ )
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter