کرکٹ اور ضمیر کی دستک!

ـ 2 فروری ، 2010
مکرمی لیجئے آخر وہ وقت آ ہی گیا جب پاکستان آسٹریلیا کرکٹ سیریز اپنے ’خوشگوار‘ اختتام کو پہنچی۔ اس سیریز کے دوران قومی کرکٹ ٹیم نے جو گل کھلائے وہ سب کے سامنے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں بہت بڑی بڑی اور متوازن ٹیمیں بنیں مگر موجودہ ٹیم کا تو جواب ہی نہیں۔باولر لاجواب، بلے باز بے مثال، فیلڈر لاکھوں میں ایک۔ اس پر طرہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین؟ اللہ نظر بد سے بچائے وہ تو کرکٹ کے دولہا ہیں۔ اپنی تقرری سے تاحال ان کی زیرسرپرستی جو کارکردگی کرکٹ ٹیم نے دکھائی ہے اس سے صاف ظاہر ہے موصوف کی کرکٹ پر کتنی ’گرفت‘ ہے اور ڈسپلن کے معاملے میں تو وہ اتنے مضبوط ہیں کو الامان والحفیظ!پہلے جوئے کی وبا نے کرکٹ کا بیڑا غرق کیا اور اب کرکٹ کے میدانوں میں سیاست! ہماری کرکٹ کو دشمنوں کی ضرورت؟ ’ کام ہی کافی ہے‘ مشروبات کی ایڈورٹائزنگ میں نظر آنے والے ہیرو، حقیقت کی دنیا میں ہو گئے ہیں زیرو۔ قوم کا وقت ضائع کرنے کا کوئی اور طریقہ ڈھونڈا جائے۔ آفریدی پر آفرین ہے۔ بس ان سے صرف ایک درخواست ہے۔ خدارا کرکٹ کا پیچھا چھوڑو۔ بوڑھی گوڑھی لال لگام۔ آفریدی کو قوم کا سلام۔ آئی پی ایل والوں کے ہاتھوں انتہائی ذلت اٹھانے کے بعد اب اپنا وزن کریں۔ دیکھیں آپ کہاں کھڑے ہیں؟ اقبال قاسم نے ضمیر کی دستک سن لی اور کون ہے جو اس آواز پر کان دھرے اور لبیک کہے۔ نوکریاں بہت سی مل جائیں گی مگر پاکستان کی عزت؟ اس عزت و حرمت کو عزیز جانیں۔ اللہ مدد کرے گا۔ ویسے بھی کروڑوں کما لئے ہیں۔ اب کوئی ڈھنگ کا کام بھی کام کرلیں۔ قوم کی دعائیں پھر بھی آپ کے ساتھ رہیں گی۔ (انور بشیر لاہور 0321-4632051)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں