صوبے اور دانشمند سندھی عوام

ـ 1 فروری ، 2012
مکرمی! پارلیمنٹ میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے قرارداد کیخلاف سندھی قوم پرستوں کی اپیل پر سندھ میں کامیاب ہڑتال نے ثابت کر دیا ہے کہ سندھی عوام بے ہوش نہیں۔ صرف کراچی یا حیدر آباد ہی سندھ نہیں دادو‘ بدین‘ جامشورو‘ سکرنڈ‘ ٹھٹھہ‘ میرپور‘ جیکب آباد‘ گھوٹکی‘ پڈعیدن‘ سہون‘ بھی سندھ میں شامل ہیں۔ یاد رکھیئے پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان اور سرحد کو ملا کر لفظ ”پاکستان“ بنایا گیا تھا اپنے بزرگوں کی اس یادگار کو بابائے قوم کے اس عطیہ کو اقبال کے اس خواب کو تقسیم در تقسیم کے عمل سے‘ ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش سے بچانا ہم سب کا مشترکہ فرض ہے ورنہ یاد رکھیں کل پوٹھوہاری‘ براہوی‘ مکرانی اور اردو بولنے والے بھی اپنے لسانی و ثقافتی علم لے کر علیحدہ یا نئے صوبے کی جنگ لڑنے نکل پڑے تو کیا گھمسان کا رن پڑے گا۔ یہی لوگ جو آج اپنے لئے نیا صوبہ مانگتے ہیں ان لسانی بھائیوں کو کیا حق دیں گے بلکہ ان کا گلا کاٹنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ اس لئے خدارا پاکستانی بن کر مسلمان بن کر سوچئے ذاتی مفادات سے ہٹ کر صرف عوام اور غریبوں کے مفادات کا خیال رکھ کر ملک اور قوم کے حق میں اچھا فیصلہ کریں۔ سندھی قوم پرستوں نے کھل کر صوبوں کی تقسیم یا نئے صوبوں کے قیام کی قانون سازی کی مخالفت کی۔ اگرچہ انہوں نے یہ کاوش اپنے صوبے کی تقسیم کے خوف سے کی ہے مگر اسی میں بھی باقی سب صوبوں کیلئے خیر کا پہلو نکلتا ہے کہ وہ بھی اجتماعی طور پر مل جل کر ملک و قوم کی فلاح کیلئے صوبوں کی تقسیم کی بجائے ملکی وحدت اور عوام کی خوشحالی کیلئے کام کریں۔ کیونکہ بقول شاعر
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں (جی این بٹ لاہور)
پنشنرز سے زیادتی
مکرمی! ملک میں پنشنرز کو سینئر سٹیزن تو کہا جاتا ہے مگر حکومتی سطح پر انہیں کوئی سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔ ارباب اختیار ایسے اقدامات کر رہے ہیں۔ جس کی سے پنشنرز اس دنیا سے جلد رخصت ہوں اور پنشن کی شکل میں ہونے والا خرچ بچ جائے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ آج سے کچھ عرصہ قبل تک پنشن کا کمیوٹڈ حصہ 10 سال بعد یعنی رہنما یا منتخب نمائندے نے آواز بلند نہیں کی۔ ہر سال پنشن میں اضافہ گراس پنشن کی بجائے نیٹ پنشن پر دیا جاتا ہے۔ پنشنرز کی جانب سے مسلسل احتجاج کے باوجود مرکزی حکومت کے ارباب اختیار اس مطالبے کو نظرانداز کر رہے ہیں جوکہ پنشنرز کے ساتھ ظلم اور صریحاً ناانصافی ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال بھٹی جنرل سیکرٹری پنجاب گورنمنٹ پنشنرز فرنٹ -832 شادمان لاہور0323-4076365
نیٹو سپلائی معطل ہی رہنی چاہئے
مکرمی! حکومت پاکستان نیٹو سپلائی بحال کرنے کیلئے بے چین نظر آتی ہے۔ بس چند ڈالر ٹیکس مل جائے کوئی بہانہ مل جائے اور اسے ڈرون حملے بھی نظر نہیں آتے جو دوبارہ شروع ہو چکے ہیں۔ عصمت فروش بے غیرت رنڈیاں بھی تو نقد لیکر اپنا کاروبار چلاتی ہیں مگر وہ کسی کی جان سے نہیں کھیلتیں۔ ہماری حکومت کو اتنی غیرت بھی نہیں۔ ہماری درخواست ہے نیٹو سپلائی مستقل بند کرکے سمندری فضائی اور زمینی تمام راستوں کو نیٹو سے آزاد کرایا جائے۔پروفیسر محمد حمزہ نعیم سابق پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج جھنگ
وزیراعظم اور عجب بیانات
مکرمی! کچھ عرصہ سے وزیراعظم اپنے ہی بیانات پر یوٹرن لے کر عجیب دلچسپ صورتحال پیدا کر دیتے ہیں۔ جیساکہ میمو کیس کے حوالے سے حالیہ بیان کہ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے آرمی چیف و ڈی جی آئی ایس آئی کے بیان حلفی قانون کے مطابق تھے۔ جبکہ اس سے قبل چینی اخبار کو دئیے گئے انٹرویو میں برملا اظہار خیال فرما چکے تھے کہ جنرل کیانی اور شجاع پاشا کا یہ اقدام غیر آئینی ہے۔ کونسا بیان سچا ہے ”یہ بات سمجھ میں آئی نہیں“.... شبر علی چنگیزی 0321-3177967
SIMS کی طالبات وزیراعلیٰ کی توجہ کی منتظر
مکرمی! میری بیٹی سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SIMS) لاہور میں میڈیکل امیجنگ بی ایس سی آنرز فائنل میں زیر تعلیم ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ہونہار طلباءو طالبات میں کمپیوٹرز (لیپ ٹاپ) کی تقسیم کے اعلان کے بعد دیگر طلبا و طالبات کے ساتھ میری بیٹی نے بھی درخواست (SIMS) کے پرنسپل کو جمع کرائی۔ انتہائی حیران کن امر کے طور پر پرنسپل صاحب نے یہ کہہ کر درخواستیں مسترد کر دیں کہ آپ لوگ میرے طالب علم ہی نہیں ہیں۔
پرنسپل صاحب کے اس ناقابل یقین اقدام سے میری بیٹی سمیت (SIMS) کے متعدد طلبا و طالبات اپنا حق مارے جانے پر سخت مایوس اور بددل ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے درخواست ہے کہ وہ اس کا نوٹس لیں۔ (SIMS میں زیر تعلیم طالبہ کا والد)
میرا پیارا پاکستان
مکرمی! میرے پیارے پاکستان پر اللہ تعالیٰ اپنا کرم فرمائے۔ کب تک پاکستان سلگتا رہے گا؟ کب تک پاکستان پر یہ عذاب آتے رہیں گے؟ کبھی آسمانی عذاب! اور کبھی حکمرانوں کی صورت میں عذاب! مجھے حیرت ہوئی ہے جب حکمران جماعت Clean Sweep کی بات کرتی ہے۔ کیا کارنامہ اس حکومت نے انجام دیا ہے؟ لوگوں کے مسائل میں اضافہ عوام کی مشکلات و مصائب میں اضافہ یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔
ملت کی آبرو تھی‘ وطن کا وقار تھی
ارفع کریم نابغہ روزگار تھی
ننھی کلی کو سارے جہاں نے کیا سلام
اہل چمن کو تحفہ پروردگار تھی
(طاہر ہارون)
بخل کے چور
یزیدّیت کی زد میں میرے وطن کی آب و خاک
دشمنانِ دین و ملت اسے کربلا بنا رہے ہیں
کھٹکتے ہیں جس کی آنکھ میں ہم کانٹے کی طرح
اس عدو کی شان میں ہم قصیدے سُنا رہے ہیں
(غلام زادہ نعمان صابری )
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں