مغرب اسلام سے خوفزدہ کیوں؟

ـ 1 فروری ، 2010
مکرمی! روس کو شکست دینے کے بعد امریکہ اور یورپ نے اسلام کو اپنا ٹارگٹ بنا لیا۔ بین الاقوامی میڈیا جو کہ یہودیوں کے تسلط میں ہے کا تمام تر زور اس بات پر ہے کہ اسلام کا چہرہ مسخ کرکے مسلمانوں کو شدت پسند اور دہشت گرد ثابت کر دیا جائے۔ سوشل ازم تو انسانوں کا بنایا ہوا نظریہ تھا جس میں خوبیاں تو چند ایک تھیں مگر خامیاں بہت زیادہ، جس سے انسان کی سوچ ایک ہی دائرے میں گھومتی رہتی ہے۔ اسلام دین الٰہی ہے جو ہر خامی سے پاک ہے اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ مسلمانوں کو شدت پسند کہنے والوں کے چہروں سے نقاب اترنا شروع ہو گیا ہے۔ خود کو لبرل اور اعتدال پسند کہنے والوں کے دعوے اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے سامنے جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں۔ یورپ ایک عرصہ سے اس بات کا پراپیگنڈہ کر رہا ہے کہ اسلام میں عورت کو دوسرے درجے کے حقوق حاصل ہیں جوکہ سراسر جھوٹ ہے جبکہ اسلام میں مرد اور عورت کو برابر کا حق دیا گیا ہے۔ عورت کا حق نہ صرف اپنے خاندان پر ہوتا ہے اگر ان میں سے کوئی بھی یہ حق ادا نہ کرے تو پھر لازم ہے کہ عورت کی کفالت اور حفاظت معاشرہ کرے گا۔ دوسری طرف یورپ میں تو عورت کا تو وجود ہی نہیں ہے وہاں تو مرد نما عورت ہے جسے اپنے روزگار کی ذمہ داری خودپوری کرنا پڑتی ہے۔ عورت پر جسمانی اور جنسی تشدد جتنا یورپ میں کیا جاتا ہے اس کی مثال کسی دوسرے معاشرے میں ملنا محال ہے۔ پاکستانی معاشرے کو تنگ نظر اور شدت پسند کہنے والوں کو یہ بھی یادرکھنا چاہےے کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا مگر یہاں مسجدوں کے ساتھ ساتھ مندر اور چرچ بھی ہیں اور ان کے ماننے والوں کے نظریات کے مطابق نئے مندر اور چرچ بنانے پر کوئی پابندی ہے نہ لباس پر اور نہ ہی عبادت پر جبکہ یورپ اسلام سے خوفزدہ ہو کر نت نئی پابندیاں عائد کر رہا ہے کبھی سکارف پہننے پر اور کبھی مسجدوں کے مینار بنانے پر۔ اگر خوبصورت اور بلند و بالا عبادت گاہوں سے کوئی مذہب مقبولیت حاصل کر سکتا ہے تو آج اسلام دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب نہ ہوتا۔ اسلام کی مقبولیت کی وجہ صرف اور صرف اس کا سچا ہونا ہے۔ (شاہد اقبال شیروانی گوجرہ)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں