بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں اور آنیوالے خطرات.... قوم اور حکمران اجتماعی توبہ کریں
ـ 31 جولائی ، 2010
مون سون کی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے صوبہ خیبر پی کے‘ بلوچستان‘ پنجاب اور آزاد کشمیر میں تباہی پھیلادی‘ کئی دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ گئے‘ تین سو کے قریب افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ چار لاکھ کے قریب افراد سیلاب زدہ علاقوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ شانگلہ میں چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد جاں بحق ہو گئے۔ خطار اور مظفرآباد میں دو مسافر بسیں مسافروں سمیت سیلابی ریلے میں بہہ گئیں‘ لوئر اور اپر دیر سوات میں درجنوں افراد سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے‘ موٹر وے سمیت کئی شاہراہیں بند ہو گئیں‘ کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں‘ درجنوں پل بھی پانی میں بہہ گئے‘ ہزاروں مکان منہدم اور سینکڑوں افراد لاپتہ ہو گئے جبکہ پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد کی چھت بھی ٹپک پڑی‘ سیلابی ریلے کے دبائو کے باعث منگلا‘ راول اور خانپور ڈیم کے سپیل وے کھول دیئے گئے ہیں اور تربیلا ڈیم کیلئے وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق سیلاب سے متاثرہ کئی علاقوں کے زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں‘ کئی سڑکیں بہہ گئی ہیں اور جنڈولہ وزیرستان کا رابطہ پل بھی بہہ گیا ہے‘ اس وقت نوشہرہ شہر میں تین لاکھ کیوسک پانی داخل ہو چکا ہے اور سوات کے 32 پل اور 13 ہوٹل تباہ ہو چکے ہیں‘ جبکہ پشاور کا جی ٹی روڈ سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور متاثرہ آبادیوں کے لوگ بے سرو سامان ہو کر گھروں کی چھتوں‘ درختوں اور کھلے آسمان تلے پناہ لئے ہوئے ہیں۔ خیبر پی کے کے کئی شہر اور دیہات مکمل ڈوب گئے ہیں۔
دوسری جانب فیڈرل فلڈ کمشن اور محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں آئندہ 20 گھنٹوں میں خیبر پختونخواہ‘ پنجاب اور سندھ میں بڑی تباہی ہو سکتی ہے جس سے لاتعداد دیہات پانی میں گھر جائینگے‘ جبکہ کئی رابطہ پل ٹوٹنے کا بھی اندیشہ ہے۔ کمشن کے ایک عہدیدار کے بقول دریائے سندھ کے ایک خطرناک سیلابی ریلے میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے‘ اسی طرح ارسا نے بھی سندھ میں آئندہ تین سے چار روز کے اندر زبردست سیلاب آنے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے جس کے بقول گدو بیراج میں روزانہ سات لاکھ کیوسک پانی کا اخراج ہو سکتا ہے‘ اسی طرح محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ حضرت میر نے ایک اخبار سے گفتگو کے دوران بتایا کہ 31 جولائی اور یکم اگست کو دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام سے چھ سات لاکھ کیوسک پانی کا بڑا ریلہ گزریگا‘ جو ڈیرہ غازی خان‘ راجن پور اور جام پور میں شدید تباہی پھیلائے گا۔ انکے بقول یہ ریلا 3 اگست کو گدو‘ پنوں عاقل اور کوٹلی کے مقام سے جبکہ چار اگست کو سکھر‘ مٹھن کوٹ‘ کشمور‘ لاڑکانہ‘ دادو‘ سہون شریف اور حیدرآباد میں تباہی مچاتا ہوا گزریگا اور بالآخر 8 اگست کو کوٹری کے مقام پر سمندر میں گر جائیگا۔
اس وقت وطن عزیز میں قدرتی آفات اور انسانوں کے اپنے پیدا کردہ حالات جس بڑے پیمانے پر انسانی تباہی کا باعث بن رہے ہیں‘ وہ کسی عذابِ الٰہی سے کم نہیں‘ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کسی سانحے‘ حادثے‘ قدرتی آفت یا کسی تخریب کاری کے نتیجہ میں اس دھرتی پر انسانی خون نہ بہہ رہا ہو اور انسانی تباہی کا اہتمام نہ ہو رہا ہو‘ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری بداعمالیوں کے نتیجہ میں خدائے بزرگ و برتر بھی ہم سے روٹھ چکے ہیں اور ہمارے لئے آئے روز نئی سختیاں اور آزمائشیں پیدا کی جا رہی ہیں‘ جو ہم سے قدرت کی ناراضگی کی غماز ہیں‘ پہلے تو ہمیں اپنے رب کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگنی اور اجتماعی توبہ کرنی چاہیے‘ رحم کی بھیک مانگنی چاہیے اور آئندہ کیلئے اچھے چال چلن کا یقین ہی نہیں دلانا چاہیے‘ اس پر کاربند بھی ہو جانا چاہیے تاکہ ہم پر آئی ہوئی اور آنیوالی سختیاں ٹل جائیں اور اس دھرتی کو لگی ہوئی انسانی خون کی پیاس بجھ جائے۔ اس سلسلہ میں حکمرانوں کو بھی اپنی عیاشیاں اور بداعمالیاں ترک کرکے خدا کے حضور رحم کی بھیک مانگنی چاہیے اور قوم کو ساتھ لے کر خطرات کا مقابلہ کرنا اور حفاظتی تدابیر اور اقدامات بروئے کار لانے چاہئیں۔
بلاشبہ یہ آزمائش کی گھڑی ہے اور بلائوں کو ٹالنے کیلئے حکومت اپنی سطح پر بھی علماء کرام کے ذریعے اور علماء کرام اپنے طور پر بھی اسلامیانِ پاکستان کو فجر کی نمازمیں قنوتِ نازلہ کا اہتمام کرنے کی اپیل کر سکتے ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ حکمرانوں کیلئے یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ وہ تو مکار بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور ہمارے قریشی صاحب آج بھی بیتاب ہیں‘ جبکہ یہی بھارت ہمارے دریائوں کے پانی کو اپنے کنٹرول میں کرکے کبھی پانی روکتے ہوئے ہماری زرخیز دھرتی کو ریگستان میں تبدیل کرنے اور ہمیں بھوکا پیاسا مارنے کی سازش کرتا ہے اور کبھی سارا فالتو پانی سیلاب کی شکل میں ہماری جانب چھوڑ کر ہمارے بھرے پرے شہروں اور دیہات اور کھڑی فصلوں کو ڈبونے کی سازش کے تانے بانے بنتا رہتا ہے۔ موجودہ سیلاب کی نوبت بھی بھارت کی جانب سے دریائے سندھ اور دریائے چناب میں پانی زیادہ چھوڑنے کے نتیجہ میں آئی ہے مگر ہمارے حکمرانوں کی جانب سے بھارت کی اس کمینگی کیخلاف عالمی فورموں پر آواز اٹھانے اور اس مکار دشمن کو سخت جواب دینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی جبکہ ایسی بھارتی سازشوں کیخلاف آئندہ کیلئے کسی قسم کی پیش بندی بھی ہوتی نظر نہیں آرہی۔ خیبر پی کے کے شہروں بالخصوص نوشہرہ میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بالخصوص کالاباغ ڈیم کے مخالفین کو ضرور سبق حاصل کرنا چاہیے جو اس ڈیم کی وجہ سے نوشہرہ کے ڈوبنے کا غلط پروپیگنڈہ کرتے رہے ہیں اگر آج کالاباغ ڈیم موجود ہوتا تو سیلابی ریلے کا پانی نوشہرہ میں داخل ہونے کے بجائے‘ اس ڈیم کے پونڈ میں سما جاتا اور اس سیلابی ریلے کی وجہ سے خیبر پی کے کے عوام کو جس بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا‘ اسکی نوبت نہ آتی اس لئے کالاباغ ڈیم کے مخالفین کو قدرت کی جانب سے دی گئی اس سزا سے عبرت حاصل کرتے ہوئے کالاباغ ڈیم کی مخالفت ترک کر دینی چاہیے۔
ابھی بڑے سیلاب کا خطرہ موجود ہے اور بالخصوص پنجاب اور سندھ کے بیشتر علاقے اسکی زد میں آسکتے ہیں‘ اس لئے وفاقی حکومت کیساتھ ساتھ ان دونوں صوبوں کے حکمرانوں کو بھی آنیوالے سیلاب کی تباہ کاریوں سے عوام کو بچانے کے پیشگی اور خصوصی اقدامات کر لینے چاہئیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سیلاب میں ڈوبے خیبر پی کے کے عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انکی امداد کیلئے ڈیڑھ درجن کشتیاں بھجوا کر بڑا تیر مارا ہے‘ اس سے زیادہ تعداد میں تو سیاحت کیلئے آنیوالے افراد کو سمندر کی سیر کرانے کی غرض سے کلفٹن میں سمندر کے کنارے کشتیاں کھڑی ہوتی ہیں جبکہ سیلاب سے متاثرہ افراد کو اس وقت ٹینٹوں‘ خوراک‘ کپڑے اور ادویات کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں آنیوالی سختیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو بھی پوری حکومتی مشینری کو متحرک کرنا چاہیے اور سیلاب سے ہونیوالے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے اقدامات بروئے کار لانے چاہئیں‘ اگرچہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سیلاب کے متاثرہ علاقوں میں جا کر امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں جن کے بقول ناگہانی آفت کا مقابلہ قومی جذبے سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اسکے باوجود اس مشکل گھڑی میں شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی اصل ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکمرانوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ وہ ان خامیوں اور کوتاہیوں پر قابو پائیں جو بالخصوص خیبر پی کے میں سیلابی ریلا آنے سے تباہ کاریوں کا باعث بنی ہیں۔ قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کیلئے حکمرانوں میں اخلاص ہو گا تو عوام بھی قومی جذبے کے تحت انکے شانہ بشانہ امدادی کاموں میں حصہ لیں گے‘ بصورت قومی انتشار کی بنیاد آزمائش کے ایسے مراحل میں ناکامی کے باعث ہی پڑاکرتی ہے۔
ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ‘ وزیر اطلاعات کا خوش آئند موقف
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات قمرالزمان کائرہ نے ’’وقت نیوز‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کشمیر کا تنازعہ حل ہونے تک بھارت کو ٹرانزٹ ٹریڈ سہولت نہیں دی جائیگی پاک افغان ٹرانزٹ سمجھوتے کے صرف منٹس پر دستخط ہوئے ہیں ابھی سمجھوتہ نہیں ہوا۔اسکی منظوری کابینہ دیگی۔
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے حالیہ دورۂ پاکستان کے موقع پر وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نے جو اعلان کیا اور بعد میں اُلجھے ہوئے بیانات دئیے اور اس ٹرانزٹ معاہدہ پر دستخط کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن کا افغان اہل کار کے پیچھے کھڑے ہونے کا مطلب کیا تھا؟ قمر الزمان کائرہ کواس بات کا جواب دینا چاہئے کہ وہ کیا معاہدہ تھا؟ کیا یہ امریکی ڈکٹیشن نہیں تھی بھارت اور افغانستان کو تجارت کرنا ہے تو وہ کسی اور ذریعہ سے تجارت کریں۔ قمر زمان کائرہ کا یہ موقف قابلِ تحسین ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت سے ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت نہیں دی جائیگی مگر پھر یہ معاہدہ جہاں ہلیری کلنٹن بھی دستخط کرتے ہوئے موجود تھیں۔ کن نکات پر ہوا ہے اور اگر یہ معاہدہ نہیں تو امریکہ اور بھارت اسے اپنی بڑی کامیابی کیوں قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ کی ہر طرح کوشش ہے کہ بھارت کو پاکستان کے سرپر سوار کرادے اور موجودہ حکمران نامعلوم وجوہات کی بناء پر امریکی احکامات کی پابندی کررہے ہیں۔اور ان حکمرانوں کو امریکی حکام کی خوشامد کرتے ہوئے دیکھ کر پاکستان کے عوام یہ محسوس کرسکتے ہیں کہ جو معاہدہ افغانستان سے کیا گیا ہے اسے خاموشی سے کابینہ کی میٹنگ میں منظور کرلیاجائیگا اور پاکستان کے عوام بے بسی سے اسے دیکھتے رہ جائینگے‘ اس لئے حکمرانوں کو چاہئے کہ اس معاہدہ کو قومی اسمبلی اور سینٹ کے اگلے اجلاس میں پیش کیاجائے اور اسے عوام کی آگاہی کیلئے تمام مندرجات سمیت اخبارات میں بھی شائع کیاجائے‘ سینٹ‘ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو بھی خواب خرگوش سے اب اس ضمن میں بیدار ہونا چاہیے تاکہ عوام یہ جان سکیں کہ امریکی وزیر خارجہ اس معاہدے کیلئے اس قدر بے چین کیوں تھیں؟ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ روز بروز کمزور ہوتا جارہا ہے۔جمہوریت عوام کے حکومت پر اعتماد کا نام ہے مگر یہ اعتماد کہاں ہے؟ حکمرانوں کواس پہلو پر زیادہ توجہ دیناچاہئے۔
اکثر پاکستانی امریکہ کو دشمن سمجھتے ہیں‘ سروے
امریکہ میں کئے گئے تازہ سروے میں کیا گیا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت امریکہ کو اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ واشنگٹن سے جاری بیورو ریسرچ سنٹر کے شائع کردہ سروے کیمطابق 60فیصد پاکستانیوں کا خیال ہے کہ امریکہ پاکستان کا دشمن ہے۔ پنجاب میں امریکہ مخالف جذبات سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے 52فیصد ارکان امریکہ کو دشمن قرار دیتے ہیں ن لیگ کے صرف 9فیصد لوگ امریکہ کے حامی ہیں پیپلز پارٹی کے بھی 46فیصد امریکہ کو دشمن اور 15فیصد دوست قرار دیتے ہیں سروے کیمطابق صدر زرداری کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آ رہی ہے آج صرف 20فیصد زرداری کے حامی اور 75فیصد مخالف ہیں۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی ہے پاکستان کی گزشتہ حکومت کے دوران امریکہ نے پاکستان کے تعاون سے افغانستان میں تباہی مچا دی پاکستان کی طرف سے امریکہ کیساتھ تعاون نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں اسکے باوجود مزید اضافہ ہو رہا ہے کہ امریکہ نے یہ جنگ پاکستان تک پھیلا دی ہے۔ ڈرون حملوں کا سلسلہ مشرف دور میں شروع ہوا جن میں اضافہ در اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پر حکمران خاموش ہیں جبکہ ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے خودکش بمبار بن کر انتقام لے رہے ہیں امریکی مفادات تک انکی رسائی نہیں اسلئے امریکہ کی حمایت کرنیوالوں کو وہ نشانہ بناتے ہیں انکی آڑ میں پاکستان کا دشمن بھی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ کوئی بھی جنگ قوم کی مدد اور حمایت کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ قوم اس جنگ کی حامی نہیں ہے یہ امریکہ کی جنگ ہے یہی وجہ ہے کہ 60فیصد پاکستانی امریکہ کو اپنا دشمن قرار دے رہے ہیں جس کے ڈرون حملوں میں پاکستانیوں کی بچوں اور خواتین سمیت ہلاکتیں جاری ہیں۔ اس جنگ کے سبب صدر زرداری کی مقبولیت میں کمی آئی ہے 2008ء میں انکی مقبولیت 64فیصد 2009ء میں 32فیصد رہ گئی۔ امریکہ کی جنگ لڑتے لڑتے اب عوام میں انکی مقبولیت صرف 20فیصد رہ گئی ہے۔ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی مقبولیت گو 71فیصد ہے۔ وہ بھی امریکہ کی جنگ کے بارے میں خاموش ہیں اس لئے انکی مقبولیت میں بھی 8فیصد کمی آئی ہے۔ نہ صرف امریکہ کی اس سروے سے آنکھیں کھل جانی چاہئیں بلکہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو بھی اپنے کارکنوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے۔ ان پارٹیوں کے ارکان کی اکثریت امریکہ کو دشمن قرار دیتی ہے باقی پارٹیوں کے کارکنوں کی رائے لی جاتی تو ان کارکنوں کی بڑی اکثریت بھی امریکہ مخالف ہے۔ آپ کسی دوسرے ملک میں اس کی قوم کی امنگوں کا خون کر کے اور دشمنی مول لیکر کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ امریکہ کو خود ہی چاہئے کہ پاکستان کی جنگ جہاں سے دور لے جائے۔ حکمرانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ قوم کے جذبات سے امریکہ کو آگاہ کرے اور اسکی جنگ سے جان چھڑانے کی کوشش کرے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں