حکومت نے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی اسمبلی کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہے۔ آٹھ نکات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔ امریکہ کو پاکستان میں اپنی موجودگی پر نظرثانی ضرور کرنی چاہئے‘ پاکستان کی علاقائی سرحدوں کے اندر ڈرون حملوں کا خاتمہ کیا جائے‘ غیرملکی پرائیویٹ کنٹریکٹروں کی سرگرمیاں لازمی طور پر شفاف ہوں‘ پاکستان کے جوہری پروگرام اور اثاثوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا‘ امریکہ بھارت سول نیوکلیئر معاہدے نے علاقے میں سٹریٹجک توازن نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے‘ پاکستان کو بھی وہی سہولت دی جائے جو بھارت کو دی گئی ہے تاکہ نقصان کی تلافی ہو۔ علاقے میں استحکام لانے کیلئے افغانستان میں امن ناگزیر ہے‘ سرحدوں پر سیکورٹی انتظامات کو موثر بنایا جائے۔ افغانستان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی موجودگی پاکستان کیلئے اضافی سٹریٹجک خطرے کا باعث ہے۔ پاکستان عالمی برادری کی معاونت سے بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کی بحالی کیلئے زور دے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔
پارلیمانی کمیٹی نے جو تجاویز پیش کیں‘ سفارشات کیں اور جن عزائم کا اظہار کیا‘ یہ تو قومی پالیسی ہونی چاہئے۔ مذکورہ رپورٹ کسی اپوزیشن رہنماء نے نہیں‘ خود وزیر مملکت برائے قانون و انصاف مہرین انور راجہ نے پیش کی‘ اس لئے بھی اسکی اہمیت بڑھ گئی ہے لیکن بدقسمتی سے حکمران ذاتی اور سیاسی معاملات میں اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ قومی مفادات کا جس جوش و جذبے سے تحفظ ہونا چاہئے‘ اس کا فقدان ہے۔ مشرف آمریت کی ملکی مفادات کے منافی خارجہ پالیسی سلطانی ٔ جمہور کے دور میں بھی نہ صرف جاری ہے بلکہ اسے بہت زیادہ آگے بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ ڈرون حملوں میں تیزی اور اس پر اب تو رسمی احتجاج بھی نہیں کیا جاتا‘ اس کی ایک بڑی مثال ہے۔ پہلے مشرف اب جمہوری حکومت امریکہ کی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قومی خواہشات اور جذبات کے بالکل برعکس دل و جان سے شامل ہے۔ اس وجہ سے حکومتوں کو متواتر عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا امریکہ کو قطعاً احساس اور ادراک نہیں‘ اگر ہے بھی تو وہ پاکستانی حکمرانوں کو اہمیت نہیں دیتا۔ پاکستانی حکمران امریکہ کے ایسے رویے کیخلاف جرأت مندانہ مؤقف اختیار کرنے سے محض امداد کے لالچ میں قاصر ہیں‘ حالانکہ فوجی و سویلنز کی ہزاروں کی تعداد میں اموات کے علاوہ انفراسٹرکچر کی تباہی کی مد میں پاکستان کو حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 35 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ جاری ہے۔ بدلے میں ’’جھونگا‘‘ برابر امداد اور اسکے بھی صرف وعدے… کیری لوگر بل کا بہت شور تھا‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ سال منظور ہونے والے اس بل پر ہنوز عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
امریکہ نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی خدمات کو سراہا اور اعتراف کیا کہ پاکستان کے بغیر یہ جنگ جیتی نہیں جا سکتی‘ اسکے ڈومور کے مطالبات بڑھتے اور پاکستانی حکمران اس پر عمل کرتے گئے‘ اسکے باوجود امریکہ کی تمام تر نوازشات پاکستان کے ازلی دشمن بھارت پر ہیں۔ بھارت پاکستان کو نہ صرف ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتا‘ بلکہ اس کا وجود ہی اس کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ وہ پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے مذموم عزائم کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ امریکہ نے نہ صرف خود بھارت کو نیوکلیئر ٹیکنالوجی دی‘ بلکہ فرانس اور روس نے اس شعبے میں تعاون کیا تو اس پر بھی معترض نہ ہوا۔ روس بھارت کو سخوئی اور امریکہ ایف 18 جنگی لڑاکا طیارے فراہم کرنے کے معاہدے کر چکا ہے۔ بھارت‘ امریکہ‘ روس‘ فرانس کے علاوہ اسرائیل سے بھی دھڑا دھڑ اسلحہ خرید رہا ہے اور مقامی سطح پر بھی بھاری اسلحہ کی تیاری میں مصروف ہے۔ امریکہ کا بھارت کی جنگی تیاریوں کا نوٹس نہ لینا اور پاکستان کو ڈومور کی تنبہہ اسکی پاکستان دوستی نہیں‘ دشمنی کا شاخسانہ ہے۔
جنوبی ایشیاء میں امن کی ابتری کی وجہ مسئلہ کشمیر ہے‘ جو بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے62 سال سے لاینحل چلا آرہا ہے۔ اسکے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں‘ بھارت ان پر عمل کرنے پر تیار نہیں۔ اسکی سات لاکھ فوج کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم کرتی چلی آرہی ہے۔ اب تو بھارت نے پاکستان کی طرف آنے والے دریائوں پر 62 ڈیم تعمیر کرکے بچے کھچے پانی کا رخ موڑ کر باقاعدہ آبی جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق پاکستان بھارت کے درمیان چوتھی جنگ ناگزیر نظر آتی ہے۔ امریکہ کو اس سب کا علم ہے‘ اس کے باوجود کہتا ہے کہ پاکستان بھارت مسئلہ کشمیر مل بیٹھ کر طے کریں۔ اس نے بھارت کو سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی دی تھی تو ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کی شرط رکھی جاسکتی تھی۔ امریکہ کا بھارت کی جنگی تیاریوں کا نوٹس نہ لینا اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا نہ کرنا‘ پاکستان کے ساتھ دوستی کی آڑ میں دشمنی کا شاخسانہ ہے۔ ایک طرف بھارت نے پاکستان کی سرحدوں پر فوجیں لگا رکھی ہیں تو دوسری طرف اسے افغانستان میں بھی کردار دیا جا رہا ہے۔ وہ پہلے ہی افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت کرتے ہوئے اسے غیرمستحکم کررہا ہے۔
خطے میں توازن اسی صورت برقرار رہ سکتا ہے کہ امریکہ سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی پاکستان کو بھی فراہم کرے‘ اس شعبہ میں چین اور فرانس سے معاہدے ہوتے ہیں تو اسکی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صورت میں موجود ہے‘ امریکہ ان پر عملدرآمد کیلئے بھارت پر دبائو ڈالے۔ اگر امریکہ پاکستان کے مفادات کے حوالے سے خاموشی اختیار کرتا ہے تو ہمیں بھی اسکی جنگ میں دلچسپی نہیں لینی چاہئے۔ حکومت کو جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کو باور کرا دینا چاہئے کہ بہت ہو گیا۔ امریکہ ہمیں معاف کرے اور دہشت گردی کی آڑ میں اپنے مفادات کی جنگ خود لڑے۔ ہماری مشرقی سرحد غیرمحفوظ ہے ‘ سرحد کے شمالی علاقہ جات میں مصروف فوج کو واپس بلا کر بھارت کی فوج کے سامنے کھڑا کر دیا جائے۔
صدر زرداری ۔ کس سیاسی
یکجہتی کا اعلان کر رہے ہیں؟
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں اتحادی جماعتوں سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں گے۔ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم ‘ فنکشنل لیگ ‘ اے این پی اور جے یو آئی (ف) سے ملکر مشترکہ طور پر بلدیاتی انتخابات لڑیں گے۔ مرکز اور سندھ میں اتحادی حکومت قائم رہے گی۔
صدر کے خیالات واقعی قابلِ تحسین ہیں کہ سیاسی جماعتوں میں زیادہ سے زیادہ یک جہتی اور اتفاق رائے ہونا چاہیے مگر صدر صاحب جس اتفاق رائے اور یک جہتی کا اظہار فرما رہے ہیں عملاً یہ یک جہتی موجود ہی نہیں ہے اور ملک بھر میں پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کی مقبولیت کا گراف نیچے کی طرف آ رہا ہے۔ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ صدر کو استثنیٰ ہونے کے باوجود عدالت میں پیش ہونا چاہیے اور ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں جن کا صدر صاحب نے کہا ہے پیپلز پارٹی کے مؤقف سے بالکل جُدا ہو کر اپنی اپنی پارٹی کے حق میں اپنی اپنی مہم چلا رہے ہیں اور اس وقت زیادہ تر سیاسی پارٹیوں کا مؤقف یہی ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ پر عمل درآمد کیلئے صدرِ محترم کو فاضل عدالت میں پیش ہونے کے علاوہ جب تک ان کیخلاف تمام مقدمات کا فیصلہ نہیں ہو جاتا عہدہ صدارت سے علیحدہ ہو جانا چاہئے۔ یہی نہیں بہت سی سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ بلدیاتی انتخابات غیر سیاسی بنیادوں پر ہونے چاہئیں مگر زرداری صاحب اس کیلئے باقاعدہ سیاسی اتحاد کا اعلان کر رہے ہیں جو کہ کہیں بھی وجود میں نہیں آیا۔ ہزارہ میں ہونے والے قومی اسمبلی کے انتخاب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پیپلز پارٹی ملک کی سب سے زیادہ مقبول جماعت نہیں ہے اور نہ ہی نواز شریف کی مسلم لیگ غیر مشروط طور پر ان کے ساتھ ہے۔ پیپلز پارٹی کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی دعویٰ کر رہے ہیں کہ صدر کے استثنیٰ کے معاملہ پر مسلم لیگ (ن) سے کوئی اختلاف نہیں حالانکہ اختلاف موجود ہے۔
صدر آصف علی زرداری کا مؤقف خوش آئند تو ہے مگر اس کا زمین پر کوئی وجود نہیں ہے اس لئے اُنہیں چاہیے کہ وہ پہلے تمام سیاسی پارٹیوں سے مشاورت کرکے اپنے اتحادیوں سے معاملات طے کریں۔ عوام بہت سمجھ دار اور تمام معاملات کی نزاکتوں سے پوری طرح باخبر ہیں اس لئے ملکی معاملات کو درست کرنے اور سیاسی یک جہتی پیدا کرنے کیلئے عملی اقدامات کریں خواہشات پر مبنی بیان بازی اور دعوے نہ کریں۔
جان بچانے والی ادویات
کی قلت اور مہنگائی
محکمہ صحت کے ڈرگ انسپکٹروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ملی بھگت سے میڈیکل سٹوروں پر جان بچانے والی ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ جان بچانے والی قیمتی ادویات کی قیمتیں مزید بڑھانے کیلئے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کر دی گئی ہے۔
ہمارے سٹاف رپورٹر کی بیان کی گئی تفصیلات کے مطابق مارکیٹ میں دل کی دھڑکن درست کرنے والا ٹیکہ دل کی دھڑکن کو نارمل کرنے اور درد روکنے والی دوا‘ گلے کے گلہڑ کیلئے دوا‘ شوگر کے مریضوں کیلئے انسولین کی مختلف اقسام اور اپریشن میں استعمال ہونے والے دھاگہ پرولین بھی مارکیٹ میں دستیاب نہیں۔ یہ ادویات بلیک مارکیٹ میں مل جاتی ہیں‘ اس کیلئے ضرورت مندوں کو مارکیٹ میں خوار ہونا پڑتا ہے۔ اس سے قبل بھی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں کئی دفعہ چھپ چکی ہیں کہ ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنیاں ہر سال چھ سات سو ڈاکٹروں اور پروفیسروں کو غیرملکی دوروں پر بھیجتی ہیں اور یہ بااثر ڈاکٹرز اور پروفیسرز انکی تیار کردہ ادویات کی سرپرستی کرتے ہیں۔
حکومت کو چاہئے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ان ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی اعلیٰ سطحی پرائس کنٹرول کمیٹی بنائے جس میں ارکان پارلیمنٹ اور ادویات کے ماہرین کو بھی شریک کیا جائے۔ ادویات کی قیمتوں کو حتی الامکان کم کرنے کے علاوہ انکی مارکیٹ میں دستیابی کو بھی ممکن بنایا جائے کیونکہ اصل اور موثر ادویات کی غیرموجودگی کی وجہ سے ہسپتالوں اور میڈیکل سٹورز پر جعلی ادویات کا کاروبار بہت بڑھ گیا ہے۔ حکومت کو مقامی اور قومی سطح پر اسکے انسداد کیلئے خصوصی توجہ دینی چاہئے۔
زرعی ٹیکس کیوں نہیں؟
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور کو بتایا ہے کہ بجٹ مئی میں پیش کیا جائیگا بجٹ خسارہ ہدف سے 62 فیصد زائد رہنے کا امکان ہے صوبوں نے زراعت پر رواں سال ٹیکس نہیں لگایا تو اگلے سال وفاق معاملہ کا خود جائزہ لے گا۔ گذشتہ پندرہ برس سے ملک میں زرعی ٹیکس کے نفاذ کی باتیں کی جا رہی ہیں لیکن ملک میں جاگیرداروں اور زرعی اجارہ داروں کی گرفت ایسی مضبوط ہے کہ کوئی بھی حکومت زرعی ٹیکس لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ہر سال وفاقی وزیر خزانہ جو بھی ہو زرعی ٹیکس کی بات کرتے ہیں مگر ہر سال اسے آئندہ پر ٹال دیا جاتا ہے۔ اب تو ملک کے وزیراعظم نے جو کہ بہت بڑے زمیندار بھی ہیں گندم، چاول، گنا اور دیگر زرعی پیداوار کی قیمتیں عالمی منڈی کیمطابق مقرر کر دی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کے کم آمدنی والے غریب عوام بری طرح متاثر ہوئے ہیں مگر حکومت نے عام لوگوں کی آمدنی اور چھوٹے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ دنیا بھر میں زرعی ٹیکس زمینداروں اور جاگیرداروں پر لگایا جاتا ہے۔ پاکستان میں زمینداروں کو جب حکومت ہر قسم کی سہولیات فراہم کرتی ہے، سڑکیں بناتی ہے، پانی، بجلی، بیج، کھاد اور زرعی مشینری کے لئے سہولتیں دیتی ہے تو پھر ان پر زرعی ٹیکس بھی لگنا چاہئے۔
وزیر خزانہ کو چاہئے کہ زرعی ٹیکس کے علاوہ ملک کے تاجروں، دکانداروں اور دیگر کاروبار کرنے والوں کو بھی ٹیکس کے دائرہ کار میں لائے۔ بڑی بڑی مارکیٹوں اور بڑے سٹوروں کے مالکان ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں بھی کسی نہ کسی طرح ہر سال ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور ٹیکس کی ادائیگی کو صرف تنخواہ دار طبقہ تک ہی محدود نہ رکھیں۔