سپریم کورٹ کے لارجر بینچ میں میمو سکینڈل سے متعلق درخواستیں منظور اور عدالتی انکوائر ی کمیشن کی تشکیل .... اب بہتر یہی ہے کہ حکمران انصاف کی عملداری کے آگے سر جھکالیں

ـ 31 دسمبر ، 2011
چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 9 رکنی وسیع تر بینچ نے میموگیٹ سکینڈل کی تحقیقات کےلئے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف‘ سینیٹر اسحاق ڈار اور بیرسٹر ظفراللہ خاں کی دائر کردہ الگ الگ آئینی درخواستیں گزشتہ روز باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرلیں اور معاملہ کی تحقیقات کیلئے تین ہائیکورٹوں کے چیف جسٹس صاحبان اور ایک سیشن جج پر مشتمل چار رکنی انکوائری کمیشن تشکیل دےدیا۔ چیف جسٹس بلوچستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اس کمیشن کے سربراہ ہونگے جبکہ فیڈرل ہائیکورٹ اسلام آباد کے چیف جسٹس اقبال حمیدالرحمان‘ جسٹس مشیر عالم اور سیشن جج جواد عباس اسکے ارکان میں شامل ہیں۔ فاضل عدالت عظمٰی نے کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ چار ہفتے کے اندر اندر انکوائری مکمل کرکے عدالت میں رپورٹ پیش کرے۔ اس سلسلہ میں کمیشن کو اختیار دیا گیا کہ وہ فوانزک ماہرین اور وکلاءکی خدمات بھی حاصل کر سکتا ہے۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران صدر‘ وزیراعظم اور آرمی چیف نے کئی اہم ملاقاتیں کیں جبکہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی‘ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا اور امریکی باشندے منصور اعجاز نے میمو کو حقیقت قرار دیکر اس معاملہ کی تحقیقات کا تقاضہ کیا جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ کیس اہم نوعیت کا ہے اور تحقیقات کا متقاضی ہے۔ اگر میمو کی کوئی اہمیت نہ ہوتی تو وزیراعظم امریکی سفیر حسین حقانی کو واپس بلوا کر ان سے استعفیٰ نہ لیتے اور اس معاملہ کو قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے سپرد نہ کرتے۔ فاضل عدالت نے اس امر کا نوٹس لیا کہ صدر پاکستان کی جانب سے اس کیس میں جواب داخل نہیں کرایا گیا۔
حسین حقانی کی وکیل بیگم عاصمہ جہانگیر نے فاضل عدالت عظمٰی کے اس فیصلہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عدالت عظمٰی نے درخواست دہندگان کو وہ ریلیف بھی دے دیا ہے جو انہوں نے طلب بھی نہیں کیا تھا۔ انکے بقول فیصلے پر انکی تنقید توہین عدالت ہے تو وہ اس جرم میں جیل جانے کو بھی تیار ہیں۔ تاہم درخواست دہندگان‘ انکے وکلاءاور دیگر آئینی ماہرین نے عدالت عظمٰی کے اس فیصلہ کو انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق قرار دیا اور کہا کہ درخواستوں میں میمو سکینڈل کی آزادانہ تحقیقات کیلئے جو استدعا کی گئی تھی‘ فاضل عدالت عظمٰی نے اسکی روشنی میں ہی احکام صادر کئے ہیں جو اس کیس کا بنیادی تقاضہ تھا۔
یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی قادیانی باشندے منصوراعجاز کے ایک مضمون کے ذریعے جب سے میمو سکینڈل منظر عام پر آیا‘ اسکے بارے میں پوری قوم کے ذہنوں میں ملکی سلامتی کے حوالے سے تشویش کی فضا قائم ہو گئی تھی اور ضروری تھا کہ متذکرہ میمو کا جو بھی پس منظر ہے اور اسکے پس پردہ جو بھی ہاتھ کارفرما ہیں‘ وہ بے نقاب ہوں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ یہ معاملہ اس وقت زیادہ سنگین ہوا جب ڈی جی‘ آئی ایس آئی جنرل پاشا کے دورہ امریکہ میں منصور اعجاز سے میمو کی حقیقت کے بارے میں حاصل کی گئی معلومات اور اس سلسلہ میں بلیک بیری کمپنی کا ریکارڈ سامنے آیا جس کی بنیاد پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکہ میں تعینات پاکستان کے سفیر حسین حقانی کو ملک واپس بلایا اور ان سے استعفیٰ لیا۔ اسی دوران اس سکینڈل کی تحقیقات کیلئے بیرسٹر ظفراللہ خاں نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی تھی جس سے میمو سکینڈل کے معاملہ میں حکمرانوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجتی نظر آئی تو انہوں نے پینترا بدلتے ہوئے میمو کو فرضی کہانی اور کاغذ کا پرزہ قرار دینا شروع کردیا اور وزیراعظم نے یہ معاملہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کر دیا تاکہ سپریم کورٹ کی کارروائی کو غیرموثر بنایا جا سکے جبکہ سپریم کورٹ پہلے ہی اس کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کر چکی تھی۔ حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل کی وساطت سے اس کیس میں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا گیا جس کی بعدازاں حسین حقانی کی وکیل بیگم عاصمہ جہانگیر نے بھی تائید کی۔ اس صورتحال میں آئینی اداروں کے ٹکراﺅ کی کیفیت پیدا ہوئی جسے ڈاکٹر بابراعوان اور گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ نے اپنی پریس کانفرنسوں کے ذریعہ مزید گھمبیر بنایا جبکہ اس کیس میں حکمرانوں کے اضطراب اور سپریم کورٹ کو ہدف تنقید بنانے سے بادی النظر میں یہ تاثر پختہ ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے اس لئے حکمران اس کیس کی عدالتی تحقیقات نہیں ہونے دینا چاہتے۔ یقیناً اس معاملہ میں حکومت کا اپنا ایجنڈہ ہے جس پر عمل پیرا ہو کر وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے بعد انصاف کی عملداری کے معاملہ میں پہلے سے بھی زیادہ بیچ و تاب کھاتی نظر آرہی ہے تاہم ملکی اور قومی سلامتی کا تقاضہ ہے کہ اگر میمو کے پس منظر میں افواج پاکستان کو کمزور کرنے اور اسے تضحیک کا نشانہ بنانے کی سازش کی گئی ہے تو اسکی آزادانہ و غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے ملکی سلامتی سے کھیلنے کی سازش میں ملوث عناصر کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے‘ چاہے وہ جس بھی پوزیشن پر ہوں کیونکہ ملکی سلامتی پر تو کسی بھی حکمرانی کو فوقیت نہیں دی جا سکتی۔ چونکہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف نے عدالت عظمٰی کے روبرو اپنے بیانات حلفی اور جواب الجواب میں میمو کو حقیقت قرار دیکر اسکی جامع تحقیقات کا تقاضہ کیا اور میمو کے مرکزی کردار منصور اعجاز نے بھی پاکستان آکر عدالت عظمٰی سمیت کسی بھی فورم کے روبرو پیش ہونے پر آمادگی ظاہر کی اور پھر حسین حقانی کی عملاً وزیراعظم ہاﺅس میں نظربندی کا معاملہ سامنے آیا تو انصاف کے تقاضے بروئے کار لانا ضروری تھا جس کی قومی سلامتی کی پارلیمانی سے ہرگز توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ اسکے سربراہ حکومتی رکن ہونے کے ناطے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے اس لئے اب عدالت عظمٰی کے فیصلہ کے بعد حکومت کیلئے دانشمندی کا یہی تقاضہ ہے کہ وہ اس معاملہ کو کسی انا کا مسئلہ نہ بنائے اور عدالت عظمٰی اور اسکے تشکیل دیئے گئے انکوائری کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کرے جو اسکے اپنے فائدے میں ہے۔ اگر میمو کے کسی پس منظر سے اقتدار کے ایوانوں کا کوئی تعلق نہیں ہے اور میمو محض ایک فرضی کہانی ہے تو عدالتی فورم پر ہی وہ اپنی صفائی پیش کرکے سرخرو ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ روز قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی نے بھی میموگیٹ سکینڈل کی انکوائری سے متعلق اپنی کارروائی کرتے ہوئے ڈی جی‘ آئی ایس آئی‘ حسین حقانی اور منصور اعجاز کو 10 جنوری کےلئے طلب کرلیا ہے تاہم اب مناسب یہی ہے کہ حکومت اس کمیٹی کے ذریعہ متوازی عدالت کا تاثر پیدا نہ ہونے دے اور سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے تک پارلیمانی کمیٹی کی کارروائی روک دی جائے۔ اسی طرح ضروری ہے کہ حسین حقانی کو مکمل آزاد کردیا جائے تاکہ وہ میمو کے معاملہ میں اپنی کوئی صفائی پیش کرنا یا کوئی ثبوت فراہم کرناچاہتے ہوں تو انہیں پوری آزادی کے ساتھ اس کا موقع مل سکے۔
اگر حکومت نے میمو کیس میں اپنے سابقہ طرز عمل کے مطابق عدالتی عملداری کی مزاحمت‘ مخالفت اور تنقید کا سلسلہ برقرار رکھا تو اس سے انصاف کی عملداری تو نہیں رک سکے گی البتہ حکومت کو ضرور اس کا نقصان اٹھانا پڑےگا اس لئے بہتر یہی ہو گا کہ ہر آئینی ادارے کی اہمیت اور حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے قانون و انصاف کی حکمرانی کے آگے سرتسلیم خم کیا جائے۔ اگر حکومت کو اس فیصلہ پر کسی قسم کا اعتراض ہے تو اس کا سڑکوں پر اور پریس کانفرنسوں کے ذریعے اظہار کرنے کے بجائے اس فیصلہ کیخلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا حق استعمال کیا جائے ورنہ اس کیس کے حوالے سے انصاف کے تقاضوں پر مبنی عدلیہ کا جو فیصلہ صادر ہو گا‘ وہ موجودہ حکمرانوں کے طرز عمل کے حوالے سے تاریخ کی گواہی بن جائیگا۔ حکمرانوں کو اس حقیقت کو بہرصورت پیش نظر رکھنا چاہیے کہ میمو کیس کی بنیاد پر انہیں سیاسی شہادت کا ”مقامِ فیض“ کبھی حاصل نہیں ہو سکے گا۔ اب عدلیہ آزاد ہے جس کے کردار پر ماضی کی طرح کوئی انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔
وزیر تجارت کا کشمیر کمیٹی میں نہ آنا ا فسوسناک ہے
بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے معاملہ پر کشمیر کمیٹی کے طلب کردہ اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نے شرکت سے معذرت کر لی، جس پر کشمیر کمیٹی کے چیئر مین مولانا فضل الرحمن اور دیگر ارکان نے شدید احتجاج کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے بھارت کیساتھ تعلقات کس نوعیت کے ہیں؟ اس پس منظر سے ہر کوئی واقف ہے اسکے باوجود مولانا فضل الرحمن کا مسئلہ کشمیر پر پاکستانی قوم کے موقف پر ڈٹ جانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، حکومت نے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی کمپین چلائی جس سے اس تاثر کو تقویت ملی کہ حکومت مسئلہ کشمیر پر کوئی سودے با زی کر رہی ہے کیونکہ بھارت کے ساتھ تجارت تو ایسی ہے جیسے کشمیریوں کے خون کا سودا کیا جائے‘ وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کو کشمیر کمیٹی نے اپنے اجلاس میں وضاحت کیلئے بلایا لیکن نہ وہ آئے، انہیں اجلاس میں آ کر وضاحت پیش کرنی چاہیے تھی، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بھارت سے ایسی سبزیاں بھی درآمد کی جا رہی ہیں جو پاکستان میں وافر مقدار میں پہلے ہی موجود ہیں۔ ایسی تجارت تو ہماری منڈیوں کو تباہ کر دے گی۔بھارت پہلے تو دریاﺅں پر ڈیم بنا کر پاکستان کے حصے آنےوالے پانی کو روک رہا ہے، جس سے ہماری فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ خشک سالی بڑھ چکی ہے، اب وہ سبزیاں اور دیگر اشیاءخوردونوش کی تجارت کرکے پاکستان کو اپنا محتاج کرنا چاہتا ہے۔بلکہ ہمارے حکمران امریکی خوشنودی کیلئے بھارت کو موسٹ فیورٹ قرار دینے کیلئے بے تاب ہیں۔ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، اور سب سے پہلے بھارت کے خونیں پنجے سے اپنی شہ رگ کو آزاد کرانا چاہیے، بھارت پاکستان کو ہڑپ کرنے کے چکر میں ہے، جبکہ مخدوم امین فہیم پوری قوم کو اس کے منہ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بھارت سے ایک ہزار سا ل جنگ کرنے کی پالیسی کو اپنائیں، اور بنیے کو چھٹی کا دودھ یاد دلانے کی تیاری کریں۔
گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ میں پنجاب سے زیادتی بند کی جائے
وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا ہے کہ ملک میں گیس ایمرجنسی نافذ کرکے جنوری سے ایک ماہ کیلئے سی این جی سٹیشنز بند کرنا پڑینگے۔ اسی طرح پنجاب اور خیبر پی کے کی صنعتوں کو ایک ماہ کیلئے گیس بند کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
حکومت عوامی مسائل سے آنکھیں چرا کر مدت پوری کرنے کی تگ و دو میں ہے‘ جبکہ عوام اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر آچکے ہیں۔ تنگ آمد بجنگ آمد کی نوبت آپہنچی ہے لیکن حکومت اپنی عوام کش پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کیلئے تیار ہی نہیں۔ صوبہ پنجاب کے ساتھ گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ میں زیادتی برتی جا رہی ہے‘ پنجاب کو بڑا صوبہ ہونے کی سزا دی جا رہی ہے یا (ن) لیگ کی حکومت ہونے کے ناطے عوام کو باور کرایا جا رہا ہے کہ آپ نے پیپلز پارٹی کو ووٹ کیوں نہیں دیئے‘ اگر عوام اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر آتے ہیں تو وفاق چیخ اٹھتا ہے کہ پنجاب گورنمنٹ عوام کو وفاقی حکومت کیخلاف گھروں سے نکال رہی ہے۔ گزشتہ روز بھی فیصل آباد کے تاجروں نے موٹروے بلاک کرکے احتجاج کیا‘ اگر یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو یقینی طور پر حالات سول نافرمانی کی طرف چلے جائینگے جنہیں کنٹرول کرنا حکومت کے بس میں نہیں رہے گا۔
اب اگر حکومت جنوری سے ایک ماہ کیلئے سی این جی سٹیشنوں کو گیس کی فراہمی بند کردیتی ہے تو گاڑیوں کے وہ مالکان جنہوں نے سی این جی کٹیں لگوائی ہیں‘ انہیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔ اس وقت 95 فیصد گاڑیاں سی این جی پر ہیں‘ ان کا مستقبل کیا ہو گا؟ کیا وزیر پٹرولیم نے کبھی اس بات کی جانب توجہ دی ہے۔ مزدور طبقہ ویسے ہی بےروزگار ہو جائیگا‘ جبکہ معاشی حالات پہلے ہی انتہائی مخدوش ہیں۔ پنجاب اور خیبر پی کے کی صنعتوں کو ایک ماہ کیلئے گیس نہ دیکر حکومت کون سا پیغام دینا چاہتی ہے؟ کیا اس سے وفاق کیخلاف غصہ زیادہ نہیں ہوگا؟ حکومت ہوش کے ناخن لے اور گیس کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ایران سے ہنگامی بنیادوں پر گیس پلانٹ پر کام شروع کیا جائے تاکہ احتجاجوں اور مظاہروں کے طوفان کا سامنا نہ کرنا پڑے اور چاروں صوبوں میں یکساں پالیسی اپنائی جائے۔ پنجاب اور خیبر پی کے کو پیچھے دھکیلنے کے نتائج خطرناک نکلیں گے۔ اس پر فی الفور نظرثانی کی ضرورت ہے۔
چیچن باشندوں کا پوسٹ مارٹم کرنیوالا سرجن قتل
کوئٹہ میں چیچن باشندوں کا پوسٹ مارٹم کرنیوالے ڈاکٹر باقر شاہ کو قتل کر دیا گیا۔
اس قتل کے پیچھے کئی عوامل ہیں‘ سرفہرست تو یہ کہ وہ اہم گواہ تھے سانحہ اخروٹ آباد کے‘ کیونکہ انہوں نے چیچن مقتولین کا پوسٹ مارٹم کیا تھا اور عدالت میں گواہی دی تھی کہ چیچن باشندوں کو گولیاں ماری گئی تھیں۔ یہ سرجن پولیس کے محکمے سے تعلق رکھتا تھا لیکن اسے کوئی سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی تھی۔ اگر اسی طرح سرجن گولیوں کا نشانہ بنتے رہے تو کوئی گواہی دینے نہیں آئیگا اور عدالتیں بے بس ہو جائیں گی کیونکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر ہی مقدمہ آگے چلتا ہے۔سفاکانہ قتل کیس کے اہم ترین گواہ کی ٹارگٹ کلنگ بلوچستان حکومت کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے اس لئے بلوچستان اور مرکزی حکومت اس معاملے کا سخت نوٹس لے اور مکمل تحقیقات کرائے کہ آخر ڈاکٹر باقر شاہ کو کیوں زندگی سے محروم کر دیا گیا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں