قومی کرکٹ پر میچ فکسنگ کے سنگین الزامات.... اب اس برائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے

ـ 31 اگست ، 2010
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں ایک برطانوی اخبار کی رپورٹ پر سخت نوٹس لیتے ہوئے وزارت کھیل اور پاکستان کرکٹ بورڈ سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ صدر زرداری نے قومی کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر بھی مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ جو کھلاڑی اور دوسرے لوگ سکینڈل میں ملوث ہیں‘ ان کیخلاف کارروائی کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ انکے بقول اگر قومی کرکٹ ٹیم سکینڈل میں ملوث ہو گی تو اس سے یہ کھیل بھی ختم ہو جائیگا۔ انہوں نے چیئرمین پی سی بی اعجاز بٹ کو یہ ہدایت بھی کی کہ میچ فکسنگ کے حوالے سے سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات سے انہیں براہ راست آگاہ کیا جائے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اس واقعہ سے قوم کے سر شرم سے جھک گئے ہیں اور میرا دل بہت دکھا ہے۔ انہوں نے وزارت کھیل کو اس سکینڈل کی تحقیقات کرانے کی ہدایت کی۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایف آئی اے کو قومی کرکٹ ٹیم پر میچ فکسنگ کے الزامات کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کر دی ہے اور اس سلسلہ میں ایڈیشنل ڈی آئی جی کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم لندن بھجوانے کا حکم دیا ہے۔ انکے بقول قوم کے جذبات سے کھیلنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائیگا۔
پاکستان اور انگلستان کی کرکٹ ٹیموں کے مابین ٹیسٹ سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کے دوران جو لارڈز میں کھیلا جا رہا تھا‘ ایک برطانوی اخبار میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ سمیت قومی کرکٹ ٹیم کے چھ کھلاڑیوں کے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں ایک مفصل تحقیقاتی سٹوری شائع ہونے سے قومی کرکٹ ٹیم ہی نہیں‘ قومی وقار کو بھی سخت دھچکا لگا اور قومی کرکٹ ٹیم کے حوصلے تو اتنے پست ہوئے کہ اسے اس آخری ٹیسٹ میچ میں برطانیہ کے ہاتھوں ایک اننگ 225 رنز سے بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور یہ ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد لندن میں اپنے ہوٹل واپسی پر کھلاڑیوں کو مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں گندے انڈوں اور ٹماٹروں سے تواضع کرانا پڑی۔
اس وقت قومی کرکٹ ٹیم کے حوالے سے پوری قوم کے جذبات برانگیخت ہیں اور جب یہ ٹیم ملک واپس آئیگی تو ممکن ہے اسکے ساتھ لندن سے بھی برا سلوک ہو۔ جبکہ قومی کرکٹ ٹیم کے متعلقہ کھلاڑیوں کو ہی نہیں‘ پی سی بی کی انتظامیہ کو بھی سکاٹ لینڈ یارڈ کی پولیس تفتیش کے مراحل سے گزرتے ہوئے پریشانی اٹھانا پڑی۔ پاکستانی کھلاڑیوں سے تفتیش کا عمل ابھی جاری ہے‘ برطانوی حکام نے انکے پاسپورٹ لے لئے ہیں اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں ممکن ہے برطانیہ میں سزا کے مراحل سے بھی گزرنا پڑے‘ کیونکہ مقدمہ سکاٹ لینڈ کی پولیس نے درج کیا ہے‘ جس میں برطانوی بکیوں کے ساتھ دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا گیاہے۔ اس سکینڈل کے مرکزی ملزم مظہر مجید کو تو برطانیہ کی متعلقہ عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے جبکہ پاکستانی کرکٹروں کے سروں پر تلوار لٹکی ہوئی ہے جنہوں نے ابھی برطانیہ میں ون ڈے سیریز بھی کھیلنی ہے جبکہ اس کشیدہ ماحول میں ان سے اچھی کارکردگی کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ چنانچہ میچ فکسنگ کے الزامات کی زد میں آئی ہوئی کرکٹ ٹیم کی خراب کارکردگی قوم میں مزید مایوسی کا باعث بنے گی اس لئے صدر زرداری کی یہ تشویش بجا ہے کہ میچ فکسنگ کے الزامات ثابت ہو گئے تو پاکستان میں کرکٹ ختم ہو جائیگی۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ کرکٹ کو پاکستان میں بہت پہلے ختم ہو جانا چاہیے تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کے الزامات نہ لگے ہوں‘ عمران خان کی کپتانی میں بھی کرکٹ ٹیم کے بعض کھلاڑی اس الزام کی زد میں آئے‘ پھر وسیم اکرم کی کپتانی میں تو خود وسیم اکرم جسٹس قیوم کمشن سے سزا یافتہ ٹھہرے۔ اب چند ماہ قبل ہی آسٹریلیا کے ساتھ ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کے دوران قومی کرکٹروں کی اسی الزام میں کمبختی آئی اور انہیں ٹیسٹ اور ون ڈے میچ کھیلنے پر پابندی اور جرمانوں کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق کپتان شعیب ملک اور فاسٹ بائولر شعیب اختر بھی سزا پانے والوں میں شامل تھے۔ مگر بدقسمتی سے اب تک کسی کھلاڑی کو میچ فکسنگ کے الزام میں ملنے والی کوئی بھی سزا مثالی نہیں بن سکی اور نہ ہی ان سزائوں کے نتیجہ میں کھلاڑیوں کی اصلاح ہوئی یا میچ فکسنگ کی حوصلہ شکنی ہوئی بلکہ اب تو ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلنے والے کرپشن کلچر کی طرح قومی کرکٹ ٹیم میں بھی میچ فکسنگ کی لعنت پھیلتی نظر آرہی ہے اور کھلاڑی اپنا کیریئر تو اپنی جگہ‘ قومی وقار کو بھی دائو پر لگا کر ناجائز ذرائع سے دولت کے ڈھیر لگانے کے چکر میں نظر آتے ہیں۔ کرپشن کلچر کے حوالے سے بیرون ملک پہلے ہی ہمارا تشخص اتنا خراب ہو چکا ہے کہ لوگ سیلاب زدگان کی امداد کیلئے بھی ہمارے حکمرانوں کو فنڈز فراہم کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اب قومی کرکٹ ٹیم پر جس انداز میں میچ فکسنگ کا ملبہ پڑا ہے‘ اسکی روشنی میں تو ملک سے باہر ہر پاکستانی باشندہ ناقابل اعتبار ٹھہرے گا۔
یقیناً اسی بنیاد پر سابقہ کھلاڑیوں اور قومی سیاسی قائدین سمیت پوری قوم کی جانب سے تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ میچ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ بعض حلقے تو متعلقہ کھلاڑیوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کا تقاضہ بھی کر رہے ہیں اور بعض حلقے انہیں ملک سے غداری کے جرم کی سزا دینے کے حق میں ہیں۔ یقیناً عدالتی عملداری میں جرم ثابت ہونے تک کسی کو مجرم اور گناہ گار قرار نہیں دیا جا سکتا‘ تاہم جن شواہد کی بنیاد پر قومی کرکٹ کے چھ کھلاڑی ‘جن کی تعداد انکوائری کے بعد بڑھ بھی سکتی ہے۔ میچ فکسنگ کے الزامات کی زد میں آئے ہیں‘ بادی النظر میں ان پر عائد الزامات درست نظر آرہے ہیں جس کے بارے میں سابق جج ہائیکورٹ ملک محمد قیوم کی بھی یہی رائے ہے کہ ان کھلاڑیوں کا معاملہ گڑبڑ نظر آتا ہے اس لئے جب اعلیٰ سطح پر اس معاملہ کا نوٹس لیا جا چکا ہے تو یہی موقع ہے کہ قومی کرکٹ کے دامن پر لگنے والے داغ دھبے دھولئے جائیں‘ چاہے اس کیلئے کرکٹ کے کھیل پر کچھ عرصہ کیلئے پابندی ہی کیوں نہ عائد کرنی پڑے اور چاہے تمام کھلاڑیوں کو فارغ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی ہرگز کمی نہیں‘ اگر قومی جذبے سے نئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جائے تو ملک کے چپے چپے سے ہمیں بہترین کھلاڑی دستیاب ہو سکتے ہیں جو قوم کیلئے قابل فخر سامایہ ثابت ہونگے مگر اس کیلئے سب سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ میں اپریشن کرکے گند کی صفائی کرنا ہو گی۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ کرکٹ بورڈ کی جس انتظامیہ کے ماتحت قومی کرکٹ ٹیم ملک کی بدنامی اور رسوائی کا باعث بن رہی ہے‘ وہ انتظامیہ اب بھی ٹس سے مس نہیں ہوئی اور چیئرمین کرکٹ بورڈ اعجاز بٹ اور منیجر یاور عباس اپنی پیرانہ سالی کے باوجود عہدے چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ انکی موجودگی میں تو بہرصورت قومی کرکٹ کی اصلاح نہیں ہو سکے گی اس لئے اگر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی قوم کیلئے سبکی کا باعث بننے والی قومی کرکٹ کا دامن فی الواقع صاف کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں پی سی بی کی تنظیم نو کرنی چاہیے اور پھر نئی انتظامیہ کے ماتحت قومی کرکٹ کے معاملات کی چھان بین کی جائے اور جہاں جہاں بھی گند موجود ہے‘ اسکی صفائی کی جائے‘ ورنہ ماضی کی طرح اب بھی میچ فکسنگ کا چند روز تک شور اٹھتا رہے گا اور پھر نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات والا برآمد ہو گا۔ اب کم از کم کسی شعبے میں نظر آنیوالی کسی برائی کو تو اسکے منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے۔
بہتر ہو گا کہ اب کرکٹ کے علاوہ دوسرے قومی کھیلوں ہاکی‘ فٹ بال‘ سکواش‘ کبڈی وغیرہ کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مہنگے ترین کھیل کرکٹ سے قوم کی خلاصی کرالی جائے جو وقت کے ضیاع کے ساتھ جرائم کے فروغ کا بھی باعث بن رہی ہے۔
وزیر خارجہ بھارتی مشکل آسان کریں
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی ہٹ دھرمی ہی مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے‘ امریکہ سمیت عالمی برادری خاموشی توڑے۔ بھارت جلد سے جلد جامع مذاکرات بحال کرے‘ عالمی برادری کشمیریوں کا قتل عام روکنے کیلئے بھارت پر دبائو ڈالے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جب سے وزیر خارجہ بنے ہیں‘ انہوں نے پہلی دفعہ جرأت مندانہ اور پاکستانی وزیر خارجہ کے شایانِ شان لب و لہجہ اختیار کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کا عمل بند کرے۔
وزیر خارجہ یہ جانتے ہیں کہ پوری پاکستانی قوم کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی ہے‘ مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان کا موقف درست‘ مضبوط اورحقیقت پر مبنی ہے‘ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادیں ہمارے موقف کی تائید میں موجود ہیں‘ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام تکمیل پاکستان کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور اب تو بھارتی فوج کا چیف اور وزیر داخلہ بھری پارلیمنٹ میں خود اعتراف کر چکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل ڈھونڈے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ شاہ محمود قریشی انکی مشکل کو حل کریں اور انہیں بتائیں کہ کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق کشمیر میں رائے شماری کرائیں‘ کشمیریوں کو آزادی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے دیں اور جنوبی ایشیاء میں امن کا عمل مکمل کریں۔ پھر بھارت سے دوستی بھی ہو گی‘ تجارت بھی ہو گی اور جب تک بھارت کشمیریوں کو آزادی دینے کیلئے تیار نہیں ہوتا‘ ہمیں بھارت کیساتھ کسی قسم کے تعلقات بھی پسند نہیں اور پاکستان کے سیلاب زدگان کیلئے بھارت نے پانچ ملین ڈالر کی جو امداد دی ہے‘ ہمیں یہ بھی قبول نہیں۔ ہم اسے واپس کرتے ہیں اور باضابطہ طور پر بھارتی امداد واپس کر دی جائے۔ یہ امداد اقوام متحدہ کے ذریعے بھی قبول نہ کی جائے۔
کالاباغ ڈیم اہم قومی مسئلہ ہے
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کا حامی ہوں‘ مگر اس پر بحث چھیڑنے کا یہ مناسب موقع نہیں ہے۔
وزیراعظم صاحب کو معلوم ہے کہ حالیہ سیلاب میں بے پناہ تباہی ہوئی ہے اور انہوں نے ماہرین کی ان آراء کو بھی ملاحظہ کیا ہو گا کہ اگر کالاباغ ڈیم بنا ہوتا تو یہ تباہی بہت کم ہوتی اور اگر منڈا ڈیم‘ اوڑی ڈیم‘ دیامیر‘ بھاشا اور دیگر ڈیمز بھی بن چکے ہوتے تو یہ تباہی نہ ہوتی بلکہ پاکستان اربوں ڈالر کا یہ قیمتی پانی اپنے ڈیموں میں جمع کرلیتا جس سے ملک کے ہر حصہ میں ضرورت کے وقت زراعت کیلئے پانی بھی وافر مقدار میں مل جاتا اور پورے ملک کو سستی بجلی بھی میسر ہوتی۔ پوری قوم جو لوڈشیڈنگ کے عذاب میں گرفتار ہے‘ اس سے بھی نجات مل جاتی۔ ملک بھر میں فیکٹریاں اور کارخانے بند نہ پڑے ہوتے‘ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کا سدباب ہو جاتا۔
کالاباغ ڈیم کی اہمیت اور قومی ضرورت ثابت ہو چکی ہے‘ اس پر اب ہچرمچر کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘ وزیراعظم کسی مخصوص طبقہ کے نمائندے نہیں ہیں‘ وہ پاکستان کے وزیراعظم اور پوری قوم کے منتخب نمائندہ کی حیثیت سے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا آغاز کریں۔ اسکے ساتھ ہی منڈاڈیم پر بھی کام شروع کر دیا جائے۔ سیاسی لوگوں کی رائے اور بحث مباحثہ کی سیاسی موضوعات پر ضرورت ہے‘ کالاباغ ڈیم کی تعمیر ایک فنی اور ٹیکنیکل معاملہ ہے‘ اس پر سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے وزیراعظم صاحب کو اس کیلئے براہ راست ماہرین کی میٹنگ بلائیں اور انکی رائے لے کر اس پر عملدرآمد شروع کریں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو آج سے پانچ سال بعد بھارت دریائے سندھ کے پانی پر مکمل قبضہ کرلے گا کیونکہ سندھ طاس معاہدہ کے مطابق اگر پاکستان اپنے حصہ کے پانی پر ڈیم نہیں بنائے گا تو بھارت اس پانی کو اپنے استعمال میں لے آئیگا اور بھارت پہلے سے ہی یہ پروگرام بنائے ہوئے ہے کہ پاکستان کو ہر طرح تباہ و برباد کرنا ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کیلئے وہ رشوت کے پیسے بھی استعمال کر رہا ہے‘ تاکہ پاکستان کو شاداب اور سرسبز میدانوں کے بجائے صحرا بنا دینا چاہئے۔ ہم نے اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے پاکستان کے مستقبل کو محفوظ کرنا ہے یا بھارتی ارادوں کو مکمل کرنا ہے۔
پاکستان کو بچانے اور اسے ترقی و خوشحالی سے ہمکنار کرنے کیلئے ہمیں بڑے اور اہم فیصلے کرنے پڑیں گے‘ وزیراعظم اس اہم فیصلہ پر پوری ہمت اور اختیار سے عمل کرنے کا اعلان کریں‘ وزارت عظمٰی ہمیشہ کسی کے پاس بھی نہیں رہتی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter