کشمیری عوام کی صرف سیاسی و اخلاقی نہیں‘ عملی مدد کریں
ـ 30 ستمبر ، 2009
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر مرحلہ پر ہونے والی بات چیت میں مسئلہ کشمیر سرفہرست رہے گا‘ پاکستان مسئلہ کشمیر سے چشم پوشی کرکے بھارت سے تعلقات بڑھانا چاہتا ہے اور نہ وہ بھارت سے تجارت مسئلہ کشمیر کی قیمت پر کریگا۔ حریت رہنماء میر واعظ عمر فاروق سے ملاقات میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت کشمیریوں کی سیاسی و اخلاقی مدد جاری رکھے گی۔
پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی اور تنائو کی بنیادی وجہ تنازعہ کشمیر ہے اور مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دیگر تنازعات پیدا ہوئے۔ بھارت پاکستان کیخلاف اس وقت جو آبی دہشت گردی کررہا ہے اور جس کی وجہ سے بہترین نہری نظام اور وسیع میدانی رقبہ رکھنے والا زرعی ملک پاکستان آٹے اور چینی کی قلت کا شکار ہے‘ اس نے بھی مسئلہ کشمیر کی کوکھ سے جنم لیا‘ یہی حال سیاچن اور ہتھیاروں کی دوڑ کا ہے‘ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور تقسیم ہند کے ایجنڈے کے عین مطابق ہے۔ اگرچہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور حالیہ دنوں میں قوم کو پہلی بار قائداعظمؒ کے قول کی حقیقی اہمیت کا اندازہ ہوا ہے لیکن پاکستان نے کبھی یہ نہیں کہا کہ عوام کی مرضی کے بغیر اسے پاکستان کا حصہ بنا دیا جائے بلکہ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام کو یہ فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے کہ وہ پاکستان اور بھارت میں سے جس کے ساتھ چاہیں‘ الحاق کرلیں‘ اگر کشمیری عوام بھارت سے ملنا چاہتے ہیں تو پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
چونکہ بھارت جانتا ہے کہ استصواب میں کشمیری عوام کی کیا رائے سامنے آئیگی‘ اس لئے وہ روزاول سے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں بلکہ عالمی فورمز پر کئے گئے جواہر لعل نہرو اور دیگر بھارتی رہنمائوں کے وعدوں سے بھی انحراف کرتا چلا آرہا ہے۔ حالانکہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت خود لے کر گیا اور رائے شماری کا وعدہ کرکے 1948ء کی جنگ بندی کرائی‘ کشمیری عوام نے الحاق پاکستان کی خواہش کو کبھی نہیں چھپایا‘ وہ عید پاکستان کی رویت ہلال کے مطابق مناتے ہیں‘ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے جیتنے کی خوشی کا اظہار کرتے اور اپنے گھروں‘ بازاروں اور دفاتر میں پاکستانی پرچم لہراتے ہیں‘ وہ 14؍ اگست کو یوم پاکستان کے موقع پر جشن کا اہتمام کرتے ہیں جبکہ 15؍ اگست کو بھارت کے یوم آزادی پر یوم سیاہ مناتے ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ بھارت اپنی سات لاکھ فوج کی موجودگی میں بھی جموں و کشمیر میں رائے شماری کا رسک لینے کیلئے تیار نہیں۔ نام نہاد انتخابات میں بھی اسے عوام کی سخت مخالفت اور بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کشمیری عوام اپنی بقائ‘ حق خودارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کے علاوہ پاکستان سے الحاق اور ہمارے قومی و علاقائی مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے آج تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا ہی دعویٰ کیا ہے‘ وہ پاکستان سے صرف سیاسی و اخلاقی نہیں بلکہ عملی امداد کے خواہاں ہیں۔ پاکستانی عوام نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا اور 1971ء کے سانحہ مشرقی پاکستان تک ہر پاکستانی حکومت بھی ان کا ساتھ دیتی رہی ہے لیکن بعدازاں مختلف سیاسی و فوجی حکومتوں نے اپنی اپنی کمزوریوں اور مصلحتوں کے تحت شملہ معاہدہ‘ اعلانِ لاہور‘ اعلان اسلام آباد وغیرہ میں مسلمہ طور پر ایک بین الاقوامی تنازعہ کو دو طرفہ مسئلہ قرار دے کر ایک لحاظ سے بھارت کو قراردادوں سے فرار کا موقع فراہم کیا اور بھارت نے اٹوٹ انگ کی رٹ لگانے کے ساتھ پاکستان پر دراندازی اور دہشت گروں کو مدد دینے کا الزام دینا شروع کر دیا ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے یہ ظلم کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ناقابل عمل قرار دیکر اپنی طرف سے کئی فارمولے پیش کر دیئے جن میں مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے قبضہ کو برقرار رکھنے‘ تقسیم کشمیر کی راہ ہموار کرنے اور بین الاقوامی سرحد جی ٹی روڈ تک لانے کے فارمولے شامل تھے‘ پرویز مشرف نے ہی جہاد کو دہشت گردی قرار دینے کی بھارتی منطق کو پاکستان کی سرزمین دہشت گردی کے تدارک کیلئے استعمال کرنے کے بیانات کے ذریعے پذیرائی بخشی اور اعتماد سازی کے اقدامات‘ بیک چینل ڈپلومیسی اور تجارت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال دیا۔ موجودہ حکومت اس لحاظ سے قابل داد ہے کہ اس نے ایک بار پھر بھارت کے علاوہ بین الاقوامی برادری کے سامنے مسئلہ کشمیر اٹھایا ہے اور امریکہ کو بھی باور کرایا ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا‘ نہ تو پاک بھارت تعلقات میں بہتری آسکتی ہے اور نہ تجارت ممکن ہے۔ امریکہ اور یورپ نے پہلی بار بھارت کو مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے‘ تاہم ممبئی حملوں کو بہانہ بنا کر بھارت پاکستان پر دبائو بڑھا رہا ہے اور جامع مذاکرات کے التواء کا مقصد بھی کشمیر سے توجہ ہٹانا ہے۔
ساری دنیا جانتی ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات‘ تجارتی اور ثقافتی رابطوں میں اضافے اور پاکستان کی طرف سے کشمیری عوام کی جدوجہد سے لاتعلقی کا فائدہ اٹھا کر بھارت نے مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالنے اور ممبئی حملوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی ہے‘ وہ جموں و کشمیر سے فوج واپس بلانے کے بجائے حافظ سعید کی گرفتاری کا مطالبہ کرتا ہے اور امریکہ اسکی پشت پر ہے‘ وہ ممبئی حملوں کو کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے استعمال کر رہا ہے اور اس کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان دبائو میں آکر مسئلہ کشمیر کا ذکر چھوڑ دے لیکن پاکستانی عوام ایسا نہیں چاہتے اور فی الوقت مسئلہ کشمیر کا حل اگر ممکن نہ ہو تو بھی پاکستانی اور کشمیری عوام برسوں انتظار کر سکتے ہیں لیکن پاکستان کے مستقبل اور عوام کے حقوق و مفادات کا سودا نہیں کر سکتے۔ صدر آصف علی زرداری نے حریت کانفرنس کے رہنماء کو جو یقین دہانی کرائی ہے‘ وہ پاکستانی عوام کے جذبات و احساسات کی مظہر ہے لیکن محض زبانی کلامی یقین دہانیاں کافی نہیں‘ ہمیں مذاکرات کی بھیک مانگنے کے بجائے عالمی برادری پر کھل کر واضح کرنا چاہئے کہ وہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرائے‘ بھارت کشمیر سے سات لاکھ فوج واپس بلا کر رائے شماری کا اہتمام کرے اور کشمیری قیادت کی گرفتاریاں‘ نظربندیاں اور ظلم و تشدد کے دیگر حربے بند کرے۔ اس وقت تک تجارت بھی بند کردی جائے‘ جب تک بھارت مسئلہ کشمیر پر بامقصد مذاکرات کیلئے آمادہ نہیں ہوتا‘ صرف اسی طرح کشمیری عوام کی عملی‘ سیاسی اور اخلاقی امداد ممکن ہے اور کشمیری عوام کی یہی خواہش ہے۔ بھارت کی آبی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے بھی فوری اقدامات کی ضرورت ہے‘ ورنہ 62 ڈیم مکمل کرکے بھارت ہمیں بنجر صحرائوں میں بدل دیگا‘ اللہ نہ کرے کہ ایسا برا وقت آئے۔
فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ کو
مطمئن کریں
فاٹا کے تین وزراء سمیت 15 ارکان پارلیمنٹ نے اپنے استعفے وزیراعظم کو پیش کر دیئے ہیں‘ جبکہ وزراء نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کا بھی بائیکاٹ کیا۔ فاٹا ارکان کے پارلیمانی لیڈر منیر اورکزئی نے اس سلسلہ میں میڈیا کو بتایا کہ دو وفاقی وزرائ‘ ایک وزیر مملکت‘ پانچ سینیٹروں اور سات ارکان قومی اسمبلی سمیٹ فاٹا کے 15 ارکان نے گورنر سرحد اویس غنی کی برطرفی اور بے گناہ قبائلیوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ وزیرستان میں اپریشن نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور ہمیں اس بارے میں بھی تشویش ہے کہ فاٹا کیلئے رواں مالی سال کے پہلے کوارٹرز کیلئے مختص کی گئی رقم بھی ابھی تک جاری نہیں ہوئی‘ انکے بقول اگر صرف گورنر سرحد کی تبدیلی کا مطالبہ منظور کرلیا جائے تو وزراء اپنے استعفے واپس لے لیں گے۔
اگرچہ حکومتی اور عسکری قیادتوں کی جانب سے سوات‘ مالاکنڈ ڈویژن کے فوجی اپریشن کی کامیابی کے ڈھنڈورے پیٹے جا رہے ہیں اور اسے موجودہ حالات میں بہترین حکمت عملی سے تعبیر کیا جا رہا ہے‘ تاہم اس اپریشن کے دوران بالخصوص مقامی باشندوں کا جتنا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے‘ اسکے پیش نظر ہی فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ وزیرستان میں فوجی اپریشن نہ ہونے دینے کیلئے یکسو ہیں اور احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے حکومت سے الگ ہونے اور اپنی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اگرچہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے امریکہ سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو فون کرکے انہیں فاٹا کے ارکان کے استعفے منظور نہ کرنے اور معاملہ کو انکی ملک واپسی تک مؤخر رکھنے کی ہدایت کی ہے تاہم فاٹا کے ارکان بالخصوص وزیرستان کے ممکنہ فوجی اپریشن کیخلاف متحد ہوئے ہیں اس کے پیش نظر حکومت کو دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور محض امریکی ڈکٹیشن پر وزیرستان کو بھی اپریشن کی لپیٹ میں نہیں لینا چاہئے کیونکہ اس سے مقامی آبادیوں میں پیدا ہونے والا ردعمل حکومت کیلئے زیادہ مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ سوات‘ مالاکنڈ کے اپریشن نے پہلے ہی ملک کی سلامتی کیلئے بے شمار خطرات پیدا کر رکھے ہیں‘ جبکہ وزیرستان میں اپریشن شروع کرکے حکومت ایک تو اپنی صفوں میں بیٹھے مقامی باشندوں کے نمائندگان کی مخالفت مول لے گی اور دوسرے امریکہ کو اپریشن کا دائرہ کار مزید بڑھانے کی ڈکٹیشن دینے کا بھی نادر موقع مل جائیگا۔ امریکی سرکاری اور غیرسرکاری ایجنسیاں پہلے ہی ملک کے چپے چپے کو جکڑنے کی منصوبہ بندی کئے بیٹھی ہیں اگر خدانخواستہ وزیرستان اور ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی اپریشن شروع کردیا گیا تو اس سے حکومت اپنے پائوں پر خود ہی کلہاڑی مارے گی۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ حکومت اپریشن کا دائرہ وزیرستان تک پھیلانے سے گریز کرے‘ گورنر سرحد اویس غنی کو تبدیل کرے جو پہلے ہی گورنر بلوچستان کی حیثیت سے بلوچستان اپریشن کے ذمہ دار ہیں‘ فاٹا کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرے اور متاثرین سوات و مالاکنڈ اپریشن کی بحالی پر توجہ دے۔ بصورت دیگر آج فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ استعفے دے رہے ہیں تو کل کو امریکی ہدایت پر جاری رکھے گئے اپریشن کیخلاف پوری قوم متحد ہو کر سڑکوں پر نظر آئیگی اور اپنے حکمرانوں کا سیاپا کریگی۔
ڈاکٹر فاروق ستار اور
حنا ربانی کھر میں جھڑپ
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجلی کے نرخوں میں اضافہ کے معاملہ پر بحث کے دوران گزشتہ روز ایم کیو ایم کے وزراء نے نرخوں میں اضافے کی مخالفت کی اور اس معاملہ میں اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار اور وزیر مملکت برائے اقتصادی امور حنا ربانی کھر میں سخت تلخ کلامی ہو گئی۔ ڈاکٹر فاروق ستار متقاضی تھے کہ بجلی کے نرخ بڑھانے کے بجائے زرعی ٹیکس لگایا جائے جبکہ حنا ربانی کھر کا موقف تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے تحت بجلی کے نرخ بڑھانا ضروری ہیں‘ اس پر ڈاکٹر فاروق ستار نے جذبات میں آکر انہیں تلخ ترش سنا ڈالیں اور کہا کہ عوام بل ادا کرنے سے عاجز ہیں اور آپ آئی ایم ایف کی ایجنٹ بنی ہوئی ہیں۔
آئی ایم ایف سے قرض کے چند ٹکوں کی وصولی کی خاطر اسکی ڈکٹیشن پر یوٹیلٹی بلوں میں اضافہ کرکے‘ سبسڈی ختم کرکے اور نئے ٹیکس عائد کرکے جس طرح غریب عوام کی کمر توڑی جا رہی ہے اور انہیں زندہ درگور کیا جا رہا ہے‘ اس کیخلاف عوام کی صفوں میں پیدا ہونے والی بے چینی یقیناً کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے اور ڈاکٹر فاروق ستار نے یقیناً اسی خطرے کو بھانپ کر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ کی مخالفت کی ہو گی۔ اگر آئی ایم ایف کی ہدایات پر اسی طرح تابعداری کا مظاہرہ کیا جاتا رہا تو عوام تو زندہ درگور ہونگے ہی‘ حکمران طبقہ بھی ایوان اقتدار کی بلند فصیلوں میں امن و سکون کی زندگی بسر نہیں کر سکے گا‘ اس لئے انہیں عوام کے مسائل اور انہیں درپیش مشکلات پر بھی توجہ دینا چاہئے اگر آئی ایم ایف کی ہدایت پر بجلی پر دی گئی سبسڈی ختم کرکے بجلی کے نرخوں میں پہلے ہی چار بار اضافہ کیا جا چکا ہے‘ تو اب نرخوں میں مزید اضافہ کرکے عوام کے صبر کو مزید آزمانا اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہی ہو گا کیونکہ ملک کا غریب اور متوسط طبقہ بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کا کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتا۔ حنا ربانی کھر جس طبقہ اشرافیہ کی نمائندگی کرتی ہیں‘ انہیں نہ مہنگائی کچھ کہتی ہے اور نہ ہی مہنگائی کے عاجز آئے غریب عوام کے مسائل سے انہیں کوئی سروکار ہے کیونکہ انکے چولہے ہمہ وقت گرم اور سنٹرلی ایئرکنڈیشنڈ گھر اور دفاتر ہمہ وقت یخ بستہ رہتے ہیں‘ جہاں غریب عوام کی آہیں‘ کراہیں انکے کانوں تک نہیں پہنچ سکتیں جبکہ عوام کا اضطراب بالآخر اقتدار کے محفوظ ایوانوں کی بنیادیںتک ہلانے کا باعث بن جاتا ہے۔ اندریں حالات وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو عوام کی بے چینی اور مایوسی کو پیش نظر رکھ کر بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کی ہرگز منظوری نہیں دینی چاہئے‘ بصورت دیگر حکومت کو سخت ترین عوامی ردعمل کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں