صدر زرداری کا امریکہ کو شمسی ائربیس پر مزید مہلت دینے سے انکار اور وفاقی کابینہ کے فیصلے .... پاکستان کی سلامتی کو نقصان پوری مسلم اُمہ کے نقصان کے مترادف ہوگا

ـ 30 نومبر ، 2011
صدر مملکت آصف علی زرداری نے امریکہ سے شمسی ائربیس خالی نہ کرانے کیلئے متحدہ عرب امارات کی درخواست مسترد کردی ہے اور واضح کیا ہے کہ امریکہ سے شمسی ائربیس خالی کرانے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کی دفاعی کمیٹی نے کیا ہے جس میں کوئی ردوبدل نہیں کیا جاسکتا جبکہ پاکستان میں نیٹو کے فضائی حملوں کیخلاف عوام میں غم و غصہ بھی پایا جاتا ہے۔ گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبد اللہ بن زائد النھیان نے ہنگامی طور پر پاکستان آکر ایوان صدر اسلام آباد میں صدر زرداری سے ملاقات کی اور درخواست کی کہ جب تک مہمند ایجنسی کے واقعہ کی تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، اس وقت تک امریکہ سے شمسی ائربیس خالی نہ کرایا جائے اور اس سلسلہ میں دی گئی 15 دن کی مہلت میں توسیع کردی جائے۔ صدر زرداری نے انہیں باور کرایا کہ نیٹو اور ایساف نے پاکستان کی سرحدی چیک پوسٹوں پر بلااشتعال حملہ کیا ہے۔
امریکی نیٹو فورسز کی جانب سے مہمند ایجنسی میں پاکستان کی دو چیک پوسٹوں پر فضائی حملوں کیخلاف پاکستان کے اندر ہی نہیں، پوری دنیا میں سخت ردعمل سامنے آرہا ہے اور ان حملوں کو امریکی ریاستی بدمعاشی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے اپنے ہم منصب چین اور روس کے وزراءخارجہ کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے پر ان دونوں ممالک نے بھی امریکی نیٹو فضائی حملوں کو پاکستان کی آزادی و خودمختاری پر حملہ سے تعبیر کرتے ہوئے اسے پرامن بقائے باہمی کے فلسفہ اور متعلقہ عالمی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔ چین نے تو بے لوث دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میں پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے اس کی بھرپور امداد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جبکہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بھی امریکہ اور نیٹو ممالک کو باقاعدہ وارننگ دی ہے کہ وہ خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے سے گریز کریں۔ روسی وزیر خارجہ نے نیٹو حملے کی باقاعدہ انکوائری کرانے کا تقاضہ کیا ہے جبکہ پاکستان کے اندر کوئی ایک بھی شہری ایسا نہیں ہوگا جسے مہمند ایجنسی میں امریکی ریاستی بدمعاشی کی بنیاد پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کے دو درجن سے زائد جوانوں کو شہید اور کم و بیش اتنے ہی اہلکاروں کو زخمی کرنے کے واقعہ پر افسوس اور ملک کی سالمیت کے حوالے سے تشویش لاحق نہ ہوئی ہو۔
اس تناظر میں ملک کی حکومتی اور عسکری قیادتوں نے قوم کے جذبات اور امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے امریکی نیٹو فورسز کی بدمعاشی کیخلاف ٹھوس اور بروقت اقدامات اٹھائے۔ پاکستان کے راستے سے نیٹو کی سپلائی بند کی اور شمسی ائربیس 15 دن کے اندر اندر خالی کرنے کی امریکہ کو وارننگ دی جبکہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ کو یہ بھی باور کرایا کہ اب اسکے ساتھ پہلے جیسے تعلقات برقرار نہیں رہ سکتے۔ گزشتہ روز گورنر ہاﺅس لاہور میں منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں امریکی نیٹو فضائی حملوں کیخلاف قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں وزیراعظم نے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا اعلان بھی کردیا ہے اور توقع کی جانی چاہئے کہ اس اجلاس میں حکومت مہمند ایجنسی کے سانحہ کے معاملہ میں تمام حقائق ملک کے منتخب نمائندوں کے سامنے پیش کریگی اور امریکی مفادات کی جنگ میں اب تک شریک رہنے کی مجبوری کا پس منظر بھی کھول کر بیان کریگی تاکہ پاکستان امریکہ تعلقات پر نظرثانی کے مرحلہ میں صحیح سمت کا تعین ہوسکے۔
اسی تناظر میں شمسی ائربیس کو مقررہ میعاد کے اندر امریکہ سے واگزار کرانا ملکی سالمیت کا ہی نہیں، قومی غیرت کا بھی تقاضہ ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ کوئٹہ سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر بلوچستان میں موجود اس ائربیس کو سابق جرنیلی آمر مشرف نے ملکی اور قومی مفادات کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یو اے ای کو لیز پر دیدیا اور پھر اسے یہ ائربیس امریکہ کے حوالے کرنے کی بھی اجازت دیدی۔ یہ جرم بذاتِ خود ملک کے ساتھ غداری کے زمرے میں آتا ہے کہ اپنی ہی سرزمین پر موجود اپنے ایک ائربیس کو ملک کی سالمیت کیخلاف کھلم کھلا استعمال کرنے کی اجازت دیدی جائے۔ یہ دنیا کی تاریخ میں اپنی طرز کا ایک انوکھا معاہدہ ہے جسکے تحت ملک کا ائربیس ایک دوسرے ملک کو پٹے پر دیا گیا اور پھر اس ملک نے متذکرہ ائربیس ایک تیسرے ملک کے حوالے کردیا جس نے اسے اپنے ڈرون جہازوں کا رن وے بناکر اسی ملک کی دھرتی کو ادھیڑنا اور اسکے شہریوں کا خونِ ناحق بہانا شروع کردیا جہاں یہ ائربیس موجود ہے۔ یہ دہری ڈیل لازمی طور پر ہمارے اس وقت کے حکمرانوں کی رضامندی اور اجازت سے ہی کی گئی ہوگی جس سے انکی حب الوطنی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ موجودہ منتخب حکمرانوں نے بھی دہری ڈیل پر مبنی اس معاہدے کو برقرار رکھ کر ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
جب 2 مئی کے ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پاک فضائیہ کے سربراہ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بریفنگ کے دوران شمسی ائربیس کی ڈیل سے متعلق رازوں سے پردہ اٹھایا تو ملکی اور قومی مفادات کے تقاضوں کے تحت حکومت یو اے ای کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو اسی وقت منسوخ کردیتی اور اسے فی الفور امریکہ سے خالی کرالیتی۔ اس بارے میں وزیر دفاع احمد مختار نے شمسی ائربیس امریکہ سے واپس لینے کا اعلان بھی کیا مگر اگلے ہی روز یہ امریکی دیدہ دلیری سامنے آگئی کہ ہم کسی صورت شمسی ائربیس خالی نہیں کرینگے۔ عسکری ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ 2 مئی کے ایبٹ آباد آپریشن کے بعد اب تک ملک کے قبائلی علاقوں میں جتنے بھی ڈرون حملے ہوئے ہیں اس کیلئے امریکی ڈرونز شمسی ائربیس سے ہی اڑان بھرتے رہے ہیں جبکہ اب پاکستان نے امریکہ کو 15 دن کے اندر اندر یہ ائربیس خالی کرنے کی وارننگ دی ہے تو امریکی پینٹاگون کے ترجمان کی جانب سے ڈھٹائی پر مبنی یہ وضاحت پیش کی گئی ہے کہ شمسی ائربیس پر کوئی امریکی فوجی موجود ہے نہ اسے امریکہ استعمال کررہا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو اس ائربیس پر امریکی قبضہ ختم کرنے کی ڈیڈلائن میں توسیع کیلئے امریکہ کو پاکستان پر یو اے ای کے ذریعے دباﺅ ڈلوانے کی کیا ضرورت ہے جبکہ یہ بھی افسوسناک صورتحال ہے کہ امریکی نیٹو حملوں کیخلاف پوری دنیا اور عالمی تنظیمیں تو پاکستان کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کررہی ہیں مگر برادر اسلامی ملک یو اے ای کی جانب سے امریکہ کو پاکستان کی سالمیت پر مزید حملوں کا موقع دینے کی سفارش کی جا رہی ہے۔ یہ وقت تو اسلام دشمن طاغوتی طاقتوں کے ہاتھوں مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت پاکستان کی سالمیت کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر مسلم امہ کے اتحاد و یکجہتی کا متقاضی ہے چہ جائیکہ برادر اسلامی ملک کی جانب سے امریکہ کی حمائت میں پاکستان پر ہی دباﺅ ڈالا جائے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ یو اے ای کے وزیر خارجہ پاکستان کی سالمیت کیخلاف امریکی منصوبہ بندی کے تناظر میں صدر آصف علی زرداری کی وضاحت سن کر مطمئن ہوگئے ہوں گے کیونکہ خدانخواستہ پاکستان کی سلامتی کو کوئی نقصان پہنچے گا تو یہ پوری مسلم دنیا کے ناقابلِ تلافی نقصان کے مترادف ہوگا۔
اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت امریکہ کیلئے زمینی اور فضائی روٹ ہمیشہ کیلئے بند کرنے اور اسکے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے اقدامات کے علاوہ بالخصوص اپنے ایکسپرٹ سفارتکاروں کے وفود بھی تمام اسلامی ممالک میں بھجوائے تاکہ پاکستان کی جانب سے امریکہ کیخلاف اٹھائے جانیوالے اقدامات پر انہیں مکمل مطمئن کیا جاسکے۔ اگر امریکہ ہمارے ساتھ ”چور نالے چتر“ کا رویہ اختیار کررہا ہے تو اسے سبق سکھانا بھی ضروری ہوگیا ہے تاکہ وہ پاکستان کی سالمیت کیخلاف اپنے مزید جنونی عزائم کی تکمیل سے باز رہ سکے۔
میمو سکینڈل پارلیمانی کمیٹی کے سپرد
وزیراعظم گیلانی نے میمو کیس کو پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے سپرد کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی متنازعہ خط پر سفارشات دیگی۔ رضا ربانی کی زیر صدات کمیٹی حسین حقانی سمیت فوج کے کسی بھی افسر کو طلب کرنے کیلئے مکمل با اختیار ہوگی۔
میمو کیس غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔اس کی اہمیت کا اندازہ امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کے استعفے سے لگایاجاسکتا ہے۔ان سے استعفیٰ لینے کی وجہ میمو کیس کی شفاف تحقیقات بتائی گئی ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کیس میں جن دیگر بڑے عہدیداروں کا نام لیاجارہا ہے ان کو بھی مستعفی ہوکر کیس کی غیر جانبدار تحقیقات کو یقینی بنانے میں اپنا کردارادا کرناچاہئے لیکن بات یہاں تک پہنچتی ہے تو استثنیٰ کو آڑ بنا لیاجاتا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی حقانی اور فوجی افسروں کو طلب کرسکتی ہے۔ میمو میں صدر اور وزیراعظم کا نام بھی آتا ہے ۔وہ طلبی سے مستثنیٰ کیوں؟ اگر ان کو کمیٹی طلب بھی کرتی ہے تو کمیٹی میں موجود اکثر ارکان پارلیمنٹ صدر اور وزیراعظم کے مرہون منت اور اگلے الیکشن میں ٹکٹ کیلئے ان کے ہی محتاج ہیں تو انصاف کے تقاضے کیوں کر پورے ہوسکتے ہیں؟۔حکومت کو چاہئے تھا کہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کرکے تحقیقات کو مشکوک بنانے کے بجائے اصل حقائق سامنے لانے کیلئے اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمشن تشکیل دیتی۔معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کیے جانے سے لوگوں کے ذہن میں یہ شکوک پختہ ہورہے ہیں کہ حکمران اصل حقائق کو منظر عام پر نہیں لاناچاہتے۔ میمو کیس کی تحقیقات کے حوالے سے موجودہ حالات میں عوام کو صرف عدلیہ پر ہی اعتبار ہے میمو سکینڈل پر سپریم کورٹ میں مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف خواجہ آصف اور اسحق ڈار کی طرف سے دائر کی گئیں درخواستیں سماعت کیلئے منظور ہوچکی ہیں۔ گوحکومت کی طرف سے یہاں بھی استثنیٰ سے فائدہ اٹھایاجائیگا۔اس کے باوجودانصاف کے تقاضے پورے ہوںگے اور یقینا سپریم کورٹ میمو سکینڈل کے ہر کردار کو بے نقاب کردے گی۔اس طرح کی امید پارلیمانی کمیٹی سے نہیں رکھی جاسکتی جب معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو پارلیمانی کمٹی کو وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔
افغان سینئر وزیر کی ہرزہ سرائی بے معنی نہیں
سینئر افغان وزیر اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان جنگ کی طرف جاسکتے ہیں، برہان الدین ربانی پر خود کش حملہ کرنیوالے کی بھی اسلام آباد نے مدد کی۔
سینئر وزیر اشرف غنی کو افغان کہنا درست نہیں کیونکہ اُن کے منہ میں امریکہ کی زبان بول رہی ہے، یہ موصوف کرزئی کے سینئر وزیر و مشیر ہیں اور کرزئی امریکہ کی کٹھ پتلی۔ چنانچہ ان سے ایسے ہی بیان کی توقع کی جاسکتی ہے، پاکستان جس نے ہر دور میں افغانستان کو اپنا برادر اسلامی ملک سمجھتے ہوئے اُس کی دامے درمے سخنے مدد کی، آج امریکہ کے تراشے ہوئے افغان اعلیٰ عہدے دار افغانستان پاکستان یعنی پاکستان امریکہ کی جنگ کرانے کی اطلاع دے رہے ہیں، امریکہ اپنے نام سے حملہ آور نہیں ہوگا بلکہ کٹھ پتلی افغان حکومت کا نام استعمال کرکے ہی حملہ کرے گا۔ نیٹو کی حالیہ کارروائی ایک شروعات ہے جس کے بعد افغان حکومت کے امریکی تربیت یافتہ فوجیوں کے اندر اپنا اور نیٹو کا حصہ ڈال وہ پاکستان پر بھرپور حملہ کرسکتا ہے،افغان سینئر وزیر کے بیان میں ایک الارمنگ صورتحال چھپی ہوئی ہے،پاکستان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں،بالخصوص افغانستان کے ساتھ پھر کیا وجہ ہے کہ دو برادر اسلامی ملکوں کے نام پر امریکہ پاکستان کو پامال کرنے کے درپے ہے،اسی طرح ربانی قتل میں امریکہ تو شامل ہوسکتا ہے،اسلام آباد نہیں، یہ اب افغانستان امریکہ نیٹو کی طرف سے آبیل مجھے مار والی صورت پیدا ہوچکی ہے، حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کو ہمہ وقت چوکنا رہنا ہوگا کیونکہ جو منظر نامہ نظر آرہا ہے اُس میں باران رحمت کے بادل دکھائی نہیں دیتے۔
کراچی کی بد امنی میں ملوث کسی بھی قوت کو منہ توڑ جواب دیاجائے
وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کراچی میں بد امنی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کراچی کے حالات میں شیعہ سنی کی بجائے تیسری قوت کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ یہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے۔
وزیراعظم گیلانی اور وزیر داخلہ رحمن ملک متعدد بار بلوچستان کی شورش میں بھارت کے ملوث ہونے کی بات کر چکے ہیں۔ وزیراعظم گیلانی نے تو ڈیڑھ دو سال قبل شرم الشیخ میں بھارتی ہم منصب منموہن کو ملاقات کے دوران ثبوت بھی فراہم کیے تھے۔ اس پر منموہن نے نوٹس لینے کا یقین بھی دلایا تھا لیکن بلوچستان میں حالات بدستور مخدوش ہیں ٹارگٹ کلنگ اُسی طرح جاری ہے۔علیحدگی پسندوں کو افغانستان میں موجود ڈیڑھ درجن کے قریب قونصل خانے بدستور اسلحہ اور سرمایہ فراہم کر رہے ہیں۔ ہمارے حکمران ہاتھوں میں ثبوت پکڑے پھرتے ہیں لیکن کوئی عملی اقدام اٹھانے سے قاصر ہیں۔یہ بزدلی کی انتہا اور غداری کے مترادف ہے۔ کراچی میں بھارت کے ملوث ہونے کی رپورٹیں شائع ہوچکی ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کا نوٹس نہیں لیا گیا۔دوسری طرف بھارت محض افواہوں کی بنیاد پر پاکستان پر الزام لگا کر سرجیکل سٹرائیک تک کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے۔ وزیر داخلہ کے پاس کراچی کے حالات بدتر کرنے والی تیسری قوت کے ملوث ہونے کے ثبوت ہیں تو اس قوت کے خلاف کسی شدید ردّعمل کا اظہار اور عملی اقدام کیوں نہیں کرتے؟ اس کا نام کیوں نہیں لیتے یہ کون ہے؟جوحب الوطنی اور خود ان کے وزیر داخلہ جیسے منصب کا تقاضا بھی ہے۔آخر رحمن ملک بھارت کا نام لینے سے کیوں خوفزدہ ہیں۔اگر بھارت کے علاوہ کوئی طاقت ہے تو اس کو بھی منہ توڑ جواب دیاجاناچاہیے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں