مارگلہ اسلام آباد کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہونیوالے نجی ایئر لائن کے مسافر طیارے کے سانحہ نے جہاں پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے‘ وہاں بے نظیر بھٹو ایئرپورٹ کے کنٹرول کی جانب سے اس طیارے کی لینڈنگ کی اجازت نہ دینے اور پھر لینڈنگ کیلئے رخ تبدیل کرنے اور اسکے ساتھ ہی اس بدقسمت جہاز کے پائلٹ کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترنے کے بجائے لاہور جانے کی ہدایات اور طیارے کا رخ انتہائی نچلی پرواز کے دوران اچانک مارگلہ کی پہاڑیوں کے نوفلائی زون کی جانب موڑے جانے کے معاملہ نے اس فضائی حادثے کے بارے میں کوئی شکوک و شبہات بھی پیدا کر دیئے ہیں۔
اس فضائی حادثے میں 152 قیمتی انسانی جانوں کا ضائع ہونا کوئی معمولی واقعہ نہیں اور اس سے جہاں فضائی سفر کو غیرمحفوظ سمجھ کر لوگوں کا قومی اور نجی ایئرلائنز پر اعتماد مجروح ہو گا‘ وہاں حکومت کی اپنی گورننس اور انتظامی مشینری پر اسکی گرفت کے بارے میں بھی سوالات اٹھیں گے۔ اگرچہ حکومت کی متعلقہ ایجنسیوں کی جانب سے اس سانحہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ملبے کے معائنہ کے بعد متعلقہ تحقیقاتی اداروں نے اس سانحہ کے حوالے سے تخریب کاری کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے تاہم ابھی تک تباہ شدہ طیارے کے بلیک باکس کے ملنے یا نہ ملنے کے بارے میں بھی متضاد اطلاعات ہیں‘ جس سے حادثے کی وجوہات کے شواہد مل سکتے ہیں‘ جبکہ اس حادثے کے کئی پہلو جواب طلب ہیں۔ حادثے کا شکار ہونیوالا متذکرہ طیارہ نجی ایئرلائن نے پانچ سال قبل لیز پر لیا تھا اور اتنی عمر کے طیارے کو فضائی ماہرین نیا طیارہ ہی تصور کرتے ہیں‘ اس لئے اس میں کسی ایسی بڑی فنی خرابی کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آتا جو اتنے سنگین فضائی حادثے کا باعث بن سکتا ہو جبکہ طیارے کے پائلٹ پرویز اقبال کا منجھے ہوئے اور زیرک پائلٹوں میں شمار ہوتا تھا جو پی آئی اے کی 30 سال کی سروس کے بعد ریٹائرمنٹ لے کر نجی فضائی کمپنی میں آیا تھا۔ چنانچہ حادثے میں کسی سنگین انسانی غلطی کے امکانات بھی معدوم ہیں۔
اگرچہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے اپنے ابتدائی بیان میں عندیہ دیا تھا کہ اس فضائی حادثے میں تخریب کاری کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا‘ تاہم وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے اسے محض حادثہ قرار دیا اور تخریب کاری کے امکانات کو مکمل مسترد کیا جبکہ جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے والی تحقیقاتی ٹیم بھی اسے اتفاقی حادثہ ہی قرار دے رہی ہے چنانچہ اس تناظر میں شکوک و شبہات اور سوالات کا رخ فطری طور پر طیارے کے پائلٹ کے اسلام آباد ایئرپورٹ کے کنٹرول کے ساتھ رابطے کے معاملہ کی جانب ہو گا کہ اگر کوئی گڑبڑ ہوئی ہے تو پائلٹ اور کنٹرول کے رابطے کے عمل میں ہی ہوئی ہے‘ اس حوالے سے متذکرہ نجی کمپنی کے مالک سابق وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی کا بیان سامنے آیا ہے کہ طیارے کے پائلٹ نے طیارے کی اسلام آباد ایئرپورٹ پر لینڈنگ کیلئے کنٹرول سے دو بار اجازت طلب کی مگر دونوں بار اسے لینڈنگ کی اجازت نہ ملی اور اسے یہ کہتے ہوئے کہ رن وے فارغ نہیں ہے‘ فضاء میں چکر لگانے کیلئے کہا گیا جبکہ اس وقت طیارہ لینڈنگ کی پوزیشن پر انتہائی نچلی سطح پر پرواز کر رہا تھا۔
یقیناً کنٹرول سے موصول ہونے والی اس ہدایت کے بعد ہی طیارے کا رخ نچلی سطح پر پرواز میں ہی مارگلہ کی پہاڑیوں کی جانب ہوا ہوگا‘ جس کے بارے میں کنٹرول ٹاور کی جانب سے پائلٹ کو خبردار کیا گیا کہ وہ رن سے دور جا رہا ہے‘ جس پر پائلٹ نے جواب دیا کہ اسے رن وے نظر آرہا ہے‘ اسی دوران طیارے کا رابطہ کنٹرول ٹاور سے منقطع ہوا اور پھر طیارے کے مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرانے کا سانحہ ہو گیا۔
اس حوالے سے لوگوں کیلئے یہ صورتحال زیادہ اذیت کا باعث بن رہی ہے کہ بدقسمت طیارہ تو کراچی سے اسلام آباد تک اپنا سفر بحفاظت مکمل کر چکا تھا‘ اگر معمول کے مطابق اسے رن وے پر لینڈنگ کی اجازت مل جاتی تو یہ سانحہ کبھی رونما نہ ہوتا اور 152 انسانی زندگیاں بھی محفوظ رہتیں جبکہ کنٹرول ٹاور کی جانب سے طیارے کو لینڈنگ کی اجازت نہ ملنے سے ہی اس کا موت کا سفر شروع ہوا تھا۔ اس لئے تحقیقات میں اس امر کا کھوج لگانے کی ضرورت ہے کہ بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس وقت ایسی کونسی مصروفیات یا غیرمعمولی صورتحال تھی جس کے باعث بدقسمت طیارے کی پرواز کو معمول کی لینڈنگ کی اجازت نہ ملی جبکہ اس وقت اسلام آباد کا موسم بھی خراب تھا اور طیارے کا فضا میں چکر لگانا خطرناک ہو سکتا تھا جو بالآخر اس طیارے کے فضائی حادثے پر منتج ہوا۔ اسی طرح لینڈنگ کی اجازت نہ ملنے پر طیارے کے اچانک ریڈزون کی جانب رخ کرنے سے بھی شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں اور ایسے استفسارات کا جواب کنٹرول ٹاور اور پائلٹ کے مابین ہونیوالی گفتگو سے ہی مل سکتا ہے‘ جو یقیناً ریکارڈ ہوئی ہو گی اور محفوظ بھی ہو گی‘ اسی طرح طیارے کے بلیک باکس سے بھی حادثے کی اصل وجوہات کی نشاندہی ہو سکتی ہے اس لئے بلیک باکس کو تلاش کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونا چاہیے۔
بلاشبہ یہ بہت بڑا قومی سانحہ ہے جس کے اثرات متذکرہ نجی ایئرلائن پر ہی نہیں‘ تمام ایئرلائنز پر مرتب ہونگے اور فضائی سفر کرنے والوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کے ساتھ ساتھ خوف و ہراس کی فضا بھی طاری رہے گی اس لئے اس حادثے کے ہر پہلو کا مکمل جائزہ لے کر قوم کو واضح طور پر حادثے کی وجوہات سے آگاہ کیا جانا چاہیے اور حادثے کا باعث بننے والی خامیوں پر بھی مکمل قابو پایا جانا چاہیے تاکہ قوم کو آئندہ ایسے کسی صدمے سے دوچار نہ ہونا پڑے۔
اس فضائی حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں کے بارے میں بھی حوصلہ افزاء رپورٹیں سامنے نہیں آئیں اور قوم کو یہ جان کر سخت صدمہ ہوا کہ امدادی ٹیمیں ایک گھنٹہ کی تاخیر سے جائے وقوعہ پر پہنچیں جبکہ اس وقت تک طیارے میں موجود انسانوں سمیت کچھ جل کر راکھ ہو چکا تھا۔ جائے وقوعہ تک پہنچنے کیلئے راستے یقیناً دشوار گزار تھے اور موسم کی خرابی کی وجہ سے بھی دقت پیدا ہوئی ہو گی مگر پاک فضائیہ کی ہیلی کاپٹر سروس میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ اسکے ہیلی کاپٹر امدادی کاموں کے سلسلہ میں کسی بھی مشکل جگہ پر چند لمحات میں آسانی سے پہنچ جاتے ہیں اس لئے امدادی ٹیموں کو ان ہیلی کاپٹروں کے ذریعہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچایا جا سکتا تھا۔ اسی طرح ڈیزاسٹر مینجمٹ سیل کی جانب سے بھی فوری امدادی کاموں کیلئے زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیاجبکہ طیارے کے بدقسمت مسافروں کے لواحقین کو بھی کراچی اور اسلام آباد میں اپنے پیاروں کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کرنے میں انتہائی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا‘ حتٰی کہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں بھی جہاں پر جائے وقوعہ سے نعشیں اور انسانی اعضاء لا کر کھے گئے تھے‘ لواحقین کیلئے کسی قسم کی سہولت موجود نہیں تھی اور انہیں اپنے عزیزوں کی شناخت کیلئے ہسپتال کے اندر جانے کی بھی اجازت نہ ملی۔
ایک طرف تو پوری قوم اس حادثے کے سوگ میں غم میں ڈوبی ہوئی ہے اور دوسری طرف متعلقہ اداروں کی بے حسی اور روایتی غفلت نے متاثرہ افراد کی پریشانیوں میں اور بھی اضافہ کیا‘ اس لئے ان سارے معاملات کا جائزہ لے کر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ قوم کے آئندہ ایسے کسی صدمے سے دوچار ہونے کے امکانات کم سے کم کئے جا سکیں۔
اس سانحہ کا جو بھی پس منظر ہے‘ وہ جتنی جلد ممکن ہو‘ قوم کے سامنے لایا جانا چاہیے تاکہ اصل حقائق کا علم ہو سکے اور فضائی سروس کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے تحفظات دور ہو سکیں۔
برطانیہ بھارت کے
پاکستان دشمنی پر مبنی معاہدے
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو فروغ دینے والے گروپوں کیخلاف کارروائی کرے‘ کسی کو یہ اجازت نہ دے کہ وہ دوسرے ملکوں میں دہشت گرد بھیجے۔ برطانوی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بھارت کے دورے کے دوران اپنے انٹرویو اور ایک تقریب میں خطاب کے دوران کیا۔ ڈیوڈ کیمرون کے دورے کے دوران برطانیہ اور بھارت کے مابین متعدد معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے۔ ایک معاہدے کے تحت برطانیہ اپنی سول نیوکلیئر کمپنیوں کو بھارت سے تجارت کیلئے لائسنس جاری کریگا۔ بھارت کو 57 ہاک طیارے بھی فراہم کرنے کا بھی معاہدہ ہوا۔
خطے میں طاقت کا توازن بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور ہمسایہ ممالک کو برداشت نہ کرنے کے رویے کے باعث بگڑا ہوا ہے۔ بھارت جن ممالک کو برداشت کرنے پر تیار نہیں‘ ان کو تباہ برباد کر دینا چاہتا ہے۔ وہ اسلحہ کے انبار بھی اسی وجہ سے لگا رہا ہے۔ پوری دنیا کی تھانیداری کے زعم میں مبتلا امریکہ جو پاکستان کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنا فرنٹ لائن اتحادی قرار دیتا ہے لیکن اسکی تمام تر نوازشات بھارت پر ہیں‘ اس نے بھارت کو کئی ممالک سے نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حوالے سے معاہدے کرنے کی تھپکی دے رکھی ہے۔ خود بھی بھارت کو نیوکلیئر ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔ اب برطانیہ نے بھی اپنی نیوکلیئر کمپنیوں کو بھارت کے ساتھ درآمد برآمد کی اجازت دے دی ہے جبکہ امریکہ پاکستان کو خود یہ سہولت دینے پر تیار ہے‘ نہ چین سے کئے گئے معاہدے کو ہضم کر رہا ہے۔ کیمرون کی نظر میں ساری صورتحال ہونی چاہیے۔
پوری دنیا پر واضح ہے کہ آج پاکستان کی عدلیہ کسی بھی دور کے مقابلے میں آزاد اور خودمختار ہے۔ اس نے پوری ذمہ داری سے سماعت کرتے ہوئے ان لوگوں کو دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات سے بری کر دیا جن کو بھارت ملزم قرار دیتا ہے۔ بھارت تو اپنے حق اور آزادی کیلئے لڑنے والے لوگوں کو بھی دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ کشمیر میں لڑنے والے یہ لوگ کشمیریوں اور پاکستانیوں کیلئے حریت پسند اور مجاہدین ہیں۔ برطانیہ کے نوجوان وزیراعظم کو کوئی بھی بات سوچ سمجھ کر اور حالات کا جائزہ لے کر کرنی چاہیے۔ پاکستان تو خود بدترین دہشت گردی کا شکار ہے‘ وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کیونکر کریگا؟ البتہ بھارت جسے دہشت گردی قرار دیتا ہے‘ باقی دنیا اسے حریت پسندی سے تعبیر کرتی ہے۔ بھارت جسے دہشت گردی سمجھتا ہے اور پوری دنیا میں اس کا واویلا کرتا ہے‘ اس کا بنیادی تعلق بھی برطانیہ سے ہے۔ مسئلہ کشمیر برطانیہ کا پیدا کردہ ہے‘ اس کو ہندوستان چھوڑنے سے قبل یہ مسئلہ حل کراکے جانا چاہیے تھا‘ اب بھی اسکی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت پر مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیلئے دبائو ڈالے۔ برطانیہ کے بھارت کے ساتھ نیوکلیئر ٹیکنالوجی اور ہاک 57 طیاروں کی فراہمی کے معاہدوں سے خطے میں طاقت کا توازن مزید بگڑ جائیگا‘ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے تحفظات سے برطانیہ کو آگاہ کرے‘ کیونکہ یہ پاکستان دشمنی پر مبنی معاہدے ہیں۔
دو چھٹیوں اور آٹھ بجے
دکانیں بند کرنے پر نظرثانی
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے‘ دو چھٹیوں‘ دکانیں آٹھ بجے بند کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
وزیر اعلیٰ نے تاجروں‘ دکانداروں اور عوام کے دل کی بات کی ہے‘ ضرور اس فیصلے پر نظرثانی ہونی چاہیے۔ بجلی کی بچت رات کو اتنی نہیں ہوتی‘ کیونکہ بلب جلانے سے کیا بچت ہوگی‘ پھر یہ کہ قوم و ملک کا ایک کلچر بن چکا ہے کہ وہ خرید و فروخت کیلئے رات کو نکلتے ہیں اس لئے آٹھ بجے تک تو تقریباً دن ہوتا ہے‘ پھر بجلی کی بچت کا یہ فلسفہ چہ معنی دارد؟ ہمارے ملک کے اپنے تقاضے ہیں‘ اس لئے آٹھ بجے کے بجائے تاجروں اور دکانداروں سے مشاورت کرکے دکانیں بند کرنے کا وقت رات 9 بجے کا مقرر کردیا جائے۔ اسی طرح دو چھٹیاں بھی ہمارے حالات سے لگا نہیں کھاتیں‘ کیونکہ ہمیں ہفتے میں زیادہ محنت اور کاروبار کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح تجارت اور کاروبار میں اضافہ ہو سکتا ہے‘ اگر دکانیں آٹھ بجے بند کر دینی ہیں اور ہفتے میں دوچھٹیاں دینا ہیں تو اس سے بہتر ہے کہ سرے سے کاروبار ہی بند کر دیا جائے۔ اس پر وزیراعلیٰ نے بڑی اچھی تجویز پیش کی ہے کہ اس پر نظرثانی کی جائے اور نظرثانی سے پہلے تاجروں‘ دکانداروں سے بھی پوچھ لیا جائے‘ اس لئے کہ فیصلہ وہی چلتا ہے اور اچھا بھی ہوتا ہے جس میں فریقین کو شامل رکھا جائے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے‘ اسے ترقی کی راہ پر ڈالنے کیلئے زیادہ سے زیادہ وقت صرف کرنے کی ضرورت ہے‘ اس لئے دو چھٹیوں کا کوئی جواز نہیں بنتا اور نہ ہی آٹھ بجے مارکیٹیں بند کرنے کا کوئی فائدہ۔