لندن کانفرنس کا اعلامیہ‘ کرزئی کا مطالبہ اور ہماری ضرورت

ـ 30 جنوری ، 2010
افغانستان کے بارے میں لندن میں ہونے والی عالمی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں طالبان سے مصالحت اور انہیں قومی دھارے میں لانے کے کرزئی حکومت کے منصوبے کی حمایت کی گئی ہے اور صورتحال میں ابتری کی بنیاد پر افغانستان کے ذمہ ایک عشاریہ چھ ارب ڈالر کے قرضے معاف کر دیئے گئے ہیں۔ کانفرنس میں افغان صدر حامد کرزئی نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ افغانستان میں قیام امن اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے کردار ادا کریں۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق رواں سال کے آخر میں اسی طرح کی ایک اور کانفرنس کابل میں ہوگی‘ جہاں لندن کانفرنس میں ہونے والے اعلانات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائیگا۔ ایک نیوز ایجنسی کے مطابق افغان صدر نے طالبان کو سیاسی عمل میں شریک کرنے کیلئے کونسل بنانے اور جرگہ طلب کرنے کے اعلانات کردیئے ہیں اور کہا ہے کہ مزاحمت کاروں کو سیاسی عمل میں شریک کرنے کیلئے جرگہ بلایا جائیگا۔ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قیام امن کیلئے تشدد کی راہ ترک کرنے والے طالبان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ قبائلی عمائدین کا بھی درجہ دیا جائیگا اور انہیں فیصلہ سازی میں بھی شامل کیا جائیگا‘ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ لندن کانفرنس دراصل افغانستان سے غیرملکی فوجوں کیلئے ایگزٹ سٹریٹجی تھی اور اس حوالے سے کانفرنس میں افغان صدر کرزئی کی تقریر کو اہم قرار دیا جا رہا ہے جس میں انہوں نے غیرملکی فوجیوں کی جگہ صوبوں اور اضلاع میں افغان فوجوں کی تعیناتی کا اعلان کیا۔ اسی طرح افغان صدر نے مختلف افغان دھڑوں کے ساتھ مفاہمت کا عندیہ بھی دیا ہے جسے سفارت کار کرزئی کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا اعلان قرار دے رہے ہیں۔
افغانستان میں تعینات نیٹو کمانڈر میک کرسٹل نے لندن کانفرنس سے چند روز قبل فنانشل ٹائمز کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں نیٹو ممالک بشمول امریکہ کو اپنے فوجی تجربات کی روشنی میں واشگاف الفاظ میں یہ مشورہ دیا تھا کہ افغان دھرتی پر نیٹو افواج کی افغان عسکریت پسندوں کے ساتھ 2001ء سے جاری جنگ کا سوائے جانی و مالی نقصان میں اضافہ کے اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا‘ اس لئے جنگ بہت ہو چکی‘ اب طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرکے افغان مسئلہ کا کوئی سیاسی حل نکالا جائے۔ انہوں نے نیٹو افواج کو افغانستان سے واپس لے جانے اور طالبان کو امور حکومت میں شامل کرنے کا بھی مشورہ دیا جبکہ 80ء کی دہائی میں سرد جنگ کے دوران افغان مجاہدین سے شکست کھانے والے ایک سابق روسی فوجی کمانڈر نے بھی نیٹو ممالک کو اپنی افواج افغانستان سے واپس لے جانے کا ہی مشورہ دیا ہے۔ لندن کانفرنس درحقیقت افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کی حکمت عملی طے کرنے کیلئے ہی انعقاد پذیر ہوئی ہے جس میں امریکی کٹھ پتلی افغان صدر حامد کرزئی نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے پاکستان اور سعودی عرب کو کردار ادا کرنے کیلئے کہا ہے جو اس حوالے سے اہم پیش رفت ہے کہ وہ اس خطہ میں امریکہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے اور اپنے اندرونی باہمی تنازعات خود طے کرنے کا عندیہ بھی دے رہے ہیں۔ اگر یہی پالیسی وہ افغانستان میں امریکی اتحادی افواج کی مداخلت کے بعد اپنی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی اختیار کرتے اور غیرملکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کیلئے خطہ کے برادر اسلامی ممالک سے مدد طلب کرتے تو اس خطہ میں اب تک ہمارے مسلمان کلمہ گو بھائیوں کا جتنا خونِ ناحق بہہ چکا ہے‘ اسکی ہرگز نوبت نہ آتی مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر کرزئی نے بھی ماسوائے طالبان کے دور اقتدار کے‘افغان حکومت کی پاکستان مخالف دیرینہ پالیسی ہی برقرار رکھی اور امریکی بیساکھیوں کے سہارے وہ کابل میں اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف رہے جس کے بدلے امریکہ کو اس خطہ میں اپنے پائوں جمانے اور افغانستان کے علاوہ پاکستان اور ایران تک مسلم امہ کیخلاف اپنی سازشوں کے جال پھیلانے کا موقع ملا۔ افغانستان میں نیٹو افواج کی موجودگی اور انکی جنگی جنونی کارروائیوں کے نتیجہ میں ہی یہاں امن و امان کی صورتحال غارت ہوئی ہے اور ہمارا وطن عزیز بدترین دہشت گردی اور ردعمل میں ہونے والے خودکش حملوں کی لپیٹ میں آیا ہے جبکہ کرزئی کی مفاد پرستانہ سوچ اور کمزوریوں کی وجہ سے ہی ہمارے دیرینہ مکار دشمن بھارت کو افغان دھرتی ہماری سالمیت کیخلاف استعمال کرنے اور اپنے تربیت یافتہ دہشت گرد ہمارے ملک میں داخل کرنے کا موقع ملا۔ اسی طرح امریکہ کو بھی افغان دھرتی پر فوجی جنگی سہولتیں ملنے کے باعث ہی وہاں سے ہماری جانب راکٹ اور میزائل داغنے اور ڈرون حملے کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہے۔
اس سب کے باوجود اگر آج کرزئی اس خطہ اور اپنی سرزمین سے غیرملکی نیٹو افواج کے انخلاء کیلئے مخلص اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے خطہ میں قیام امن کیلئے سنجیدہ ہیں تو پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے انکے ساتھ تعاون میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا بشرطیکہ کرزئی اس تعاون کی آڑ میں ہمیں بھی اس کیمپ کی جانب دھکیلنے کی کوشش نہ کریں جس میں وہ خود موجود ہیں اور امریکی چھتری کے نیچے اپنے اقتدار کی تیسری ٹرم کے مزے لوٹ رے ہیں۔
یہ طے شدہ امر ہے اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غیور افغان باشندوں کو آج تک طاقت کے زور پر زیر نہیں کیا جا سکا‘ روس اور برطانیہ کو پہلے ہی اس کا تلخ تجربہ ہو چکا ہے‘ سکندر اعظم کو بھی افغانستان پر چڑھائی مہنگی پڑی تھی اور اب افغانستان میں گزشتہ نو سال سے برسر پیکار نیٹو افواج کے کمانڈر بھی اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ افغان باشندوں سے طاقت کے زور پر جنگ جیتنا ممکن نہیں ہے۔ بالآخر نیٹو افواج نے بھی افغانستان سے انخلاء کی راہ پر ہی آنا ہے جس کیلئے وہ بہانے ڈھونڈ رہے ہیں اور طالبان سے مذاکرات کے ساتھ ساتھ انہیں امور حکومت میں شامل کرنے پر بھی آمادہ ہیں چنانچہ کٹھ پتلی کرزئی بھی انکی منشاء کے مطابق ہی طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں جس کیلئے وہ پاکستان اور سعودی عرب کا کندھا استعمال کرنا چاہتے ہیں جبکہ اسکے برعکس امریکہ اس خطہ میں شروع کی گئی اپنے مفادات کی جنگ میں ہم سے زیادہ سے زیادہ کردار کا تقاضہ کر رہا ہے تاکہ نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلاء کی نوبت آتے آتے افغان جنگ میں سب سے زیادہ ہمارا ہی جانی اور مالی نقصان ہو اور کوئلوں کی اس دلالی میں ہمارے ہی ہاتھ کالے ہوں۔
اس صورتحال میں جبکہ امریکہ خود افغان جنگ کے کمبل سے اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے اور اس مقصد کیلئے وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنی واپسی کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے تو ہمارے حکمرانوں کو بھی بہرصورت اس خطہ کی سٹریٹیجکل اہمیت کے پیش نظر اور اپنے ملکی و قومی مفادات کو سامنے رکھ کر اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو زعم ہے کہ لندن کانفرنس میں پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا گیا ہے جبکہ کٹھ پتلی کرزئی اب بھی ہمارے ذریعے اپنے مفادات پورے کرنے کی تگ و دو میں نظر آتے ہیں۔
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس خطہ میں قیام امن کیلئے بنیادی کردار ہم نے ہی ادا کرنا ہے پھر ہمارے حکمرانوں کو خود ہی بدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں امریکی مفادات کی جنگ میں اپنے کردار پر نظرثانی کر لینی چاہئے اور افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد اس خطہ میں پیدا ہونے والی ممکنہ صورتحال کو پیش نظر رکھ کر ابھی سے لائحہ عمل طے کرنا چاہئے جس میں اپنے ہی شہریوں پر فوجی چڑھائی کی تو قطعاً گنجائش نہیں نکلتی۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ جنوبی وزیرستان میں جاری فوجی اپریشن فی الفور بند کرکے مسلح افواج کو ملک کی سرحدوں پر جارحیت کے کسی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار اور چوکس رکھا جائے‘ خطہ کے تبدیل ہونے والے موجودہ حالات ہمارے حکمرانوں سے قومی مفادات کی روشنی میں فہم و ادراک کے متقاضی ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں ہم اپنی حکمت عملی میں کسی معمولی سی غلطی کے بھی متحمل نہیں ہو سکتے۔
جن کو استثنیٰ حاصل نہیں انکے خلاف تو کارروائی کریں!
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل نہیں کرینگے۔ آرٹیکل 248 کی تشریح کرکے بتایا جائے کہ وہ کیا کہتا ہے۔ اس کے تحت صدر کو استثنیٰ حاصل ہے جو کہ صرف میرا ہی نہیں آئینی و قانونی ماہرین کا بھی یہی خیال ہے۔ اگر کسی کو اس پر اعتراض ہے تو وہ عدالت میں جائے عدالت جو وضاحت کرے گی اس پر عمل کریں گے۔
وزیراعظم کا بیان خوش آئند ہے انہوں نے اپنی تقریر میں اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ سپریم کورٹ صدر کو حاصل استثنیٰ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرے۔ یقیناً اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کی طرف سے وضاحت آ جائیگی مگر اس دوران جن لوگوں کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے ان کیخلاف کارروائی کا تو آ غاز کیا جائے۔ پاکستان میں کرپشن بدعنوانی اور قومی خزانہ میں خرد برد کرنے، رشوت، کمشن اور کک بیکس حاصل کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کے بہت اچھے قوانین موجود ہیں۔ بدعنوان کوئی پٹواری، چپڑاسی کلرک ہو یا پارلیمنٹ کا رکن ان کیخلاف ایک ہی قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہئے اور اس کارروائی کا مقصد قومی دولت کو قومی خزانہ میں واپس لانا ہی ہونا چاہئے انسانوں کی توہین نہیں اور نہ ہی بااثر اور بڑے لوگوں کی بدعنوانی کیلئے خصوصی قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنے کئی گورنروں کیخلاف کرپشن کے الزام میں کارروائی کی اور انہیں ان ہی قوانین کے تحت سزا دی گئی جو عام لوگوں کیلئے بھی موثر تھے۔ ایک ریاست میں امیر اور بااثر افراد کیلئے اور غریب عام آدمی کیلئے دہرا قانون نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان کے عوام کی خواہش ہے کہ حکومت طویل مقدمہ بازی کی بجائے موثر قوانین کے تحت بدعنوانی کیخلاف اپنے جہاد کا آغاز کرے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے بار بار یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ عدلیہ، پارلیمنٹ اور جمہوریت کو مضبوط اور مستحکم کرنا چاہتی ہے۔ عدالت عظمیٰ اور پارلیمنٹ کا ٹکرائو چاہنے والوں سے ہمیں کوئی غرض نہیں۔ حکومت کو عملاً اس کام کو آگے بڑھانا چاہئے جس کا راستہ عدالت نے حکومت کو دکھایا ہے۔ وزیراعظم گیلانی آگے بڑھیں۔ آئین، قانون اور عدالت کے احکامات کی پابندی کیلئے اپنے ارکان پارلیمنٹ کو بھی ہدایت کریں۔ اپوزیشن کے لیڈر بھی انہیں آئین ہی کی روشنی میں مشورے دے رہے ہیں ان پر غور و خوض کرنے کے بعد عمل کرنا بھی حکومت کے مفاد ہی میں ہو گا۔
نواز شریف کا مسئلہ کشمیر پر جاندار موقف
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے سرحدوں پر کشیدگی کے عمل کو پاکستان بھارت تعلقات کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بھارت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ وہ گذشتہ روز بھارتی ہائی کمشنر شرت سبھروال سے ملاقات کے دوران اظہار کر رہے تھے۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ ہم بھی بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں جس کیلئے ہمارے باہمی تنازعات کا حل ہونا چاہئے تاکہ مستقل بنیادوں پر سرحدی تلخی کا خاتمہ ہو سکے۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہئے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین ایک ہی سب سے بڑا تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے جس پر دونوں ممالک کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں اور جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کی راہ میں بھی یہی مسئلہ رکاوٹ ہے۔ اگر مسئلہ کشمیر حل ہو جاتا ہے تو دیگر تنازعات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی اپنی سی کوشش کی لیکن بھارت کی اٹوٹ انگ کی رٹ اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ اب تو باقاعدہ بھارت اس مسئلہ پر بات چیت کرنے پر بھی تیار نہیں۔ اس نے یکطرفہ طور پر مذاکرات کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور یہ بھارت جیسے مکار دشمن کے قبضے میں ہو تو وہ شہ رگ دبانے سے باز نہیں آتا۔ بھارت پاکستان کے دریائوں کا پانی بند کرکے واقعی پاکستان کی شہ رگ دبا رہا ہے۔ میاں نواز شریف کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے موقف درست اور جاندار اور بروقت ہے۔ انہیں اپنی یہ آواز کمزور نہیں پڑنے دینا چاہئے اور پاکستان کی خالق جماعت کے قائد کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر کو قومی امنگوں کے مطابق اجاگر کرتے رہنا چاہئے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter