میاں نواز شریف کا انقلاب کے ذریعے ہر سونامی کو بہا لے جانے کا دعویٰ اور اصل حقائق .... آج یوم تاسیس پر وہ تمام لیگوں کو یکجا کر دیں تو یہی انقلاب ہو گا
ـ 30 دسمبر ، 2011
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے کارکن ایسا انقلاب لائیں گے جو ہر قسم کے سونامی کو بہا کر لے جائیگا۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کو کیا پتہ کہ ملک کیسے چلتا ہے‘ جبکہ یہ نعرہ لگانے والوں کے بارے میں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اقتدار میں بھی آتے ہیں یا نہیں؟ گزشتہ روز پشاور میں مسلم لیگ (ن) کی صوبائی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ پارلیمنٹ آج بھی کمزور ہے اور عدالتی فیصلوں کو روندا جا رہا ہے‘ ہماری حکومت ختم نہ کی جاتی تو آج ڈرون حملے ہوتے‘ نہ ملکی سلامتی پر کوئی کمپرومائز ہوتا‘ ہماری حکومت میں دہشت گردی تھی‘ نہ انتہاپسندی جبکہ ہم کشکول اٹھا کر مارے مارے بھی نہیں پھرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج تبدیلی کی بات ہو رہی ہے جبکہ ہم 1998ءمیں تبدیلی لا چکے ہیں اور آئندہ بھی تبدیلی لائیں گے۔
یہ امر واقع ہے کہ موجودہ منتخب جمہوری حکمرانوں نے اپنی من مانی پالیسیوں‘ اقدامات‘ اقرباءپروری اور قومی دولت و وسائل کی لوٹ مار کی انتہاءکرتے ہوئے ملک اور عوام کیلئے جتنے گھمبیر مسائل پیدا کر دیئے ہیں‘ اسکے پیش نظر عوام کیلئے عرب ریاستوں کے عوام جیسی حکومت اور سسٹم مخالف تحریک چلانے کے تنگ آمد بجنگ آمد والے حالات پیدا ہو چکے ہیں۔ عوام نے تو مشرف آمریت کی ملک و قوم کے مفادات کے منافی پالیسیوں سے عاجز آکر فروری 2008ءکے انتخابات میں انہیں انکی باقیات سمیت مسترد کیا اور سلطانی جمہور کی راہ ہموار کی جبکہ منتخب جمہوری حکومت کے ساتھ عوام اپنے مسائل کے حل کے حوالے سے اس لئے توقعات وابستہ کرتے ہیں کہ وہ عوام کے ووٹوں ہی سے منتخب ہو کر عنانِ اقتدار سنبھالتی ہے۔ اس تناظر میں عوام کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ انکے مستقبل کی بہتری کے اقدامات بھی منتخب جمہوری حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے مگر موجودہ منتخب حکمرانوں نے عوام کا حال ہی بے حال کرکے انہیں زندہ درگور کردیا۔ انکے بہتر مستقبل کے اقدامات بروئے کار لانا تو بہت دور کی بات ہے‘ اس صورتحال میں عوام نے جہاں اپنے مسائل کے حل کے سلسلہ میں متبادل قیادت کیلئے اپوزیشن لیڈر میاں نواز شریف سے توقعات وابستہ کیں‘ وہاں وہ موجودہ حکمرانی کا مشرف آمریت کے ساتھ موازنہ کرنے پر بھی مجبور ہوئے جس میں انہیں سلطانی جمہور سے وابستہ حکمرانوں کے معاملات میں مزید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
میاں نواز شریف نے اپنے گزشتہ دور حکومت میں بلاشبہ عوام کی بہتری اور فلاح کے مختلف ترقیاتی پروگراموں کے ذریعے اقدامات اٹھائے تھے اور اگر انکی منتخب جمہوری حکومت پر مشرف آمریت والا شب خون نہ مارا جاتا تو جمہوریت کے استحکام کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی بھی کئی منزلیں طے ہو جاتیں۔ اس تناظر میں میاں نواز شریف کی زیر قیادت مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے ترقیاتی منصوبوں اور عوام کے روٹی روزگار کے مسائل کے حل کیلئے اختیار کی گئی ٹھوس اور جامع پایسیوں سے فی الواقع عوام کی حکمرانی کے تصور کو مستحکم کیا تھا اور انکی اس سابقہ کارکردگی کی بدولت ہی عوام جرنیلی آمریت کے بعد موجودہ حکمرانوں سے بھی عاجز آکر میاں نواز شریف پر متبادل قیادت کےلئے اعتماد کر رہے تھے مگر میاں نواز شریف نے عوام کے ان بے پایاں جذبات کی روشنی میں خود کو متبادل قیادت کے طور پر سامنے لانے کے بجائے سسٹم کی بقاءکے نام پر انہی نااہل اور کرپٹ حکمرانوں کو سہارا دیئے رکھنے کی پالیسی اختیار کرلی جن کی بدنظمیوں اور بری حکمرانی سے عاجز آکر عوام نے متبادل قیادت کیلئے ان سے توقعات وابستہ کی تھیں۔
تین سال بطور فرینڈلی اپوزیشن مطالبے کرنے کے بعد اس وقت میاں نواز شریف اگرچہ اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے موجودہ حکومت کی بری حکمرانی کو چیلنج کر رہے ہیں مگر جب آئینی اداروں کے اصلاحی اقدامات پر موجودہ حکمران اپنے اقتدار کو خطرہ محسوس کرکے سسٹم کیخلاف سازشوں کا واویلا کرتے ہیں تو میاں نواز شریف سسٹم کو بچانے کے نام پر پھر انہیں کندھا دینے کو تیار نظر آتے ہیں۔ انکے اس دہرے طرزعمل نے ہی عوام کی سوچ اور ذہن تبدیل کئے اور تبدیلی کیلئے انہوں نے عمران خان کی شکل میں موجود تیسری قوت سے توقعات وابستہ کرلیں۔ اگر آج عمران خان اپنے پبلک جلسوں میں عوام کی کثیر تعداد کو سامنے پا کر اسے سونامی سے تعبیر کرتے ہیں اور حکمرانوں کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف کو بھی چیلنج کرتے ہیں تو معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ عمران خان کیلئے اتنے سازگار حالات پیدا کرنے میں حکمرانوں کی طرح میاں نواز شریف نے بھی اپنے تئیں خوب کردار ادا کیا ہے۔
چاہیے تو یہ تھا کہ عوام کی جانب سے متبادل قیادت کیلئے اعتماد حاصل ہونے کے بعد میاں نواز شریف اپنی صف بندی کرتے‘ اپنی پارٹی میں موجود ناراض قائدین اور کارکنوں کے تحفظات دور کرتے اور جو مسلم لیگی قائدین ماضی میں کسی نہ کسی پس منظر میں ان سے الگ ہو گئے تھے‘ میاں نواز شریف اپنی انا کو پس پشت ڈال کر پارٹی کے اچھے مستقبل اور ملکی و قومی مفادات کے پیش نظر انہیں خود گلے لگاتے اور عوام میں پیدا ہونیوالی حکومت مخالف لہر کو اپنے اور پارٹی کے حق میں کیش کراتے مگر میاں نواز شریف نے اپنے ساختہ اصولوں پر چلتے ہوئے پارٹی چھوڑ کر جانیوالے لیگیوں کیلئے قطعی غیرلچکدار پالیسی اختیار کرلی جبکہ پارٹی کے اندر بھی مشاورت کا عمل انتہائی محدود رہا‘ نتیجتاً پارٹی میں نظرانداز ہونیوالے مخلص اور دیرینہ کارکنوں اور قائدین کی حوصلہ شکنی ہوئی اور جب ہوا کا رخ بدلا اور اگلے اقتدار کی بساط عمران خان کیلئے بچھتی نظر آئی تو پارٹی قیادت کے رویے سے مایوس اور نظرانداز ہونیوالے مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں‘ کارکنوں اور سابقہ و موجودہ ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ بھی تحریک انصاف کی جانب رجوع کا سوچنے پر مجبور ہو گئے جبکہ میاں نواز شریف کے پاس تو یہ نادر موقع تھا کہ وہ مسلم لیگ (ق) اور اس سے ٹوٹ کر ”ہم خیال“ بننے والے مسلم لیگی ارکان پارلیمنٹ اور دوسرے عہدیداروں کیلئے اپنی پارٹی کے دروازے کھول کر ان کیلئے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنے کی گنجائش ہی پیدا نہ ہونے دیتے اس طرح مسلم لیگوں کے ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہونے سے مسلم لیگیوں کا منقسم ووٹ بھی یکجا ہوجاتا اور سنگل مجارٹی پارٹی کی حیثیت مسلم لیگ کی کامیابی یقینی بن جاتی۔ مگر میاں نواز شریف نے یہ سنہری موقع خود ہی ضائع کردیا۔ اب جبکہ انکی پارٹی کی صفوں میں ہی نقب لگ چکی ہے اور سونامی کی لہریں انکے گھر پر دستک دے رہی ہیں‘ وہ کس کے بازوﺅں کے سہارے اسے روک کر انقلاب برپا کرنے کے دعوے کر رہے ہیں؟ جبکہ اصل حقیقت یہ سامنے آرہی ہے کہ میاں نواز شریف اپنی پارٹی کے سینئر لیڈر سرانجام خان کو منانے اور انکی غلط فہمیاں دور کرنے انکے گھر گئے مگر صوبائی تنظیم کےلئے اپنے خودسرانہ فیصلوں سے انہیں مزید ناراض کر آئے‘ نتیجتاً وہ واک آﺅٹ کرکے پارٹی کی ایگزیکٹو کونسل سے بھی مستعفی ہو گئے جبکہ پارٹی کے سینئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی کے پارٹی کو خیرباد کہنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کی کئی دوسری اہم شخصیات کے ناموں کی بھی صدائے بازگشت سنائی دے رہی ہے جو میاں نواز شریف کو خداحافظ کہنے کے موقع کی تلاش میں بیٹھے ہیں۔ ممکن ہے انعام اللہ نیازی اور نجیب اللہ نیازی کی عمران خان سے خاندانی قرابت داری انہیں میاں نواز شریف سے دور لے جانے کا باعث بنی ہو مگر اس قرابت داری کے باوجود وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ طویل عرصہ تک وابستہ رہے ہیں تو اب بھی وابستہ رہ سکتے تھے اس لئے بالخصوص اس موقع پر جبکہ آج 30 دسمبر کو مسلم لیگ کا 105واں یوم تاسیس ہے‘ میاں نواز شریف کو ٹھنڈے دل سے اور پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے کہ وہ کیوں مسلم لیگ کو قائد و اقبال کی متحد و یکجا مسلم لیگ کے قالب میں نہیں ڈھال پائے اور دیرینہ مخلص مسلم لیگی کیوںان سے بادل نخواستہ الگ ہو کر کسی سونامی کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ مدبر سیاسی قائدین اپنی غلطیوں کا اعادہ نہیں‘ ان کا اعتراف کرکے اصلاح کا راستہ اختیار کیا کرتے ہیں اور اپنے ساختہ کسی اصول کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا کرتے۔ میاں نواز شریف نے اگر تو سونامی کا راستہ روکنا ہے اور اپنی اور پارٹی کی مستقبل کی سیاست محفوظ بنانی ہے تو آج مسلم لیگ کے یوم تاسیس کے موقع پر انہیں اپنی ساری اناﺅں کو بالائے طاق رکھ کر تمام مسلم لیگی قائدین کو مسلم لیگ کے ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دینا چاہیے۔ وہ اس مشن میں سرخرو ہو گئے تو تبدیلی کے نعروں پر مبنی کوئی سونامی ان کا راستہ نہیں روک سکے گا اور اگر یہ سارے مسلم لیگی انکے رویے سے دلبرداشتہ ہو کر سونامی کے ہمنوا ہو گئے تو میاںنواز شریف کے انقلاب کے نعرے دھرے کے دھرے رہ جائینگے۔
مزید فوجی آپریشنز کی ضرورت نہیں
اورکرزئی‘ کرم ایجنسی میں آپریشن کے دوران گولہ باری جاری رہی‘ 25 شدت پسند جاں بحق8 ٹھکانے تباہ‘ بارودی سرنگیں اور 40 راکٹ برآمد۔
بڑی اچھی بات ہے کہ ہماری بہادر افواج نے یہ کامیابی حاصل کی لیکن کیا یہ بہتر نہیں کہ امریکہ کی جو طویل جنگ ہم نے لڑی اور اس نے ہمیں شہادتوں کے نذرانے پیش کئے‘ اسکے بعد بھی کیا ضروری ہے کہ امریکہ کی جنگ ہم اپنی سرزمین پر اس طرح لڑتے رہیں گے اور اپنوں ہی کو شدت پسند قرار دیکر مارتے رہیں گے۔ اورکزئی کرم ایجنسی قبائل کا وہ علاقہ ہے‘ جہاں پاکستان سے محبت اس قدر ہے کہ ان کو پاکستان کے حفاظتی دستے سمجھا جاتا تھا۔ ہماری فوج اب بس کرے اور اپنے ہی لوگوں کیخلاف اپریشن روک دے کہ امریکہ نے ہمارے کہنے پر کچھ بھی نہیں روکا۔ امریکہ کے ساتھ جنگی اتحاد کے معاہدے کی اب مزید ضرورت نہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو قبائل میں ایک ایسی نفرت بیٹھ جائیگی کہ آئندہ وہ اعتبار ہی نہیں کرینگے۔ آج جن کو ہم امریکی اصطلاح کے مطابق دہشت گرد کہتے ہیں‘ ان سے مل بیٹھ کر اگر بات چیت کی جائے تو وہ دہشت گرد نہیں‘ اپنے ہی وطن کے محافظ ہیں۔ باقی یہ جو اسلحہ بارود ان سے برآمد ہوا ہے‘ یہی ان کا دفاع ہے‘ آخر وہ یہ نہ کریں تو اپنی ہی فوج کے آپریشن سے بچاﺅ کیلئے کیا کریں؟ فوج اب امریکہ سے جنگی اتحاد کو ختم کرے تاکہ 35 شہریوں کی ارواح کو کچھ کو چین ملے۔ قبائلی علاقہ میں امن بحال کرنے کیلئے صوبہ کے علماءکرام کو بھی اپنا رول ادا کرنا چاہیے۔
پاکستان میں ریکارڈ کرپشن،لمحہ فکریہ
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2011ءکے دوران ملک میں کرپشن کے ریکارڈ ٹوٹ گئے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سروے کےمطا بق لینڈ ایڈمنسٹریشن (پٹواری، قانون گو، تحصیلدار وغیرہ) کرپشن میں پہلے اور پولیس دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ٹیکسیشن اور عدلیہ بتدریج تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہے۔ فوج اور تعلیم کے محکمے انتہائی کم کرپٹ پائے گئے ہیں۔
کرپشن کو فروغ اور اس کا خاتمہ اعلیٰ قیادت کے کردار پر منحصر ہے۔ آئے روز اعلیٰ سطح پر کرپشن کے سکینڈل منظر عام پر آتے رہتے ہیں، یہ ایک المیہ ہے کہ پاکستان میں ریکارڈ کرپشن ہو رہی ہے، کرپشن کا خاتمہ دو ہی صورتوں میں ممکن ہے۔ اوّل خود اعلیٰ قیادت نہ صرف کرپشن سے پاک ہو بلکہ کرپشن کے خاتمے کا عزم بھی رکھتی ہو۔ دوسرا کڑا اور بے لاگ احتساب۔ دراصل فوج ہی ایک ایسا ادارہ ہے جس میں بہت کم کرپشن ہوتی ہے، شعبہ تعلیم کا بجٹ ہی کتنا ہے، ڈیڑھ پونے دو فیصد، اس میں سے کرپشن کتنی ہو سکتی ہے۔ تاہم جتنی ممکن ہے اتنی ہو رہی ہے۔ عدلیہ میں کرپشن ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے،جناب افتخار محمد چوہدری کے چیف جسٹس ہوتے ہوئے عدلیہ کا کرپشن میں چوتھے نمبر پر آ جانا لمحہ فکریہ ہے۔حکومتی پالیسیوں کے باعث ہر ادارہ بحران میں مبتلا ہے۔ حکمرانوں کی طرف سے اصلاح کی کوئی کمٹمنٹ نظر نہیں آتی۔ ایسے میں لوگ پھر عدلیہ کی طرف دیکھتے ہیں، چیف جسٹس نہ صرف اپنے ادارے میں کرپشن کے خاتمے کے اقدامات کریں بلکہ ہر ادارے میں کرپشن کے خاتمے کیلئے از خود نوٹس لیتے ہوئے جو بھی ممکن ہے ضرور کریں۔
بجلی اور گیس بدترین لوڈشیڈنگ
صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں گزشتہ روز بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا، بجلی کی قلت 4600 میگاواٹ کے لگ بھگ ریکارڈ کی گئی، جسے پورا کرنے کیلئے شہروں میں 6 سے 8گھنٹے جبکہ دیہات میں 12 سے 14گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جبکہ حکومت نے جنوری سے بجلی 2.40 روپے فی یونٹ مہنگی کرنے اور گیس کی قیمت میں 13.98 فیصد اضافے کی تجویز دےدی ہے۔ بجلی کی قلت 4600 میگاواٹ کے ریکارڈ کو چھو رہی ہے۔ صنعتیں تباہ ہو چکی ہیں، کاروبار بند ہو گئے ہیں، 14گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، گیس کی کمی 900 ملین کیوبک فٹ ہو گئی ہے، چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں، خواتین کھانا پکانے سے تنگ ہیں، سردیوں کے موسم میں گیس کا پریشر اکثر کم ہو جاتا ہے۔ موجودہ حکومت کو 4 سال اقتدار میں بیٹھے ہو چکے ہیں لیکن عوامی مسائل کی طرف ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ایران نے گیس پائپ لائن کو سرحد کے قریب پہنچا دیا ہے، ہمارے صدر صاحب کہتے ہیں کہ گیس لینے کیلئے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں لیکن ایران کے بار بار کہنے کے باوجود حکومت صرف بیانات تک اس پر عمل کر رہی ہے۔آج ہر شہر میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں، مزدور طبقہ دھرنے دینے پر مجبور ہے لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی، جس انداز سے شب و روز مظاہرے ہو رہے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حالات سول نافرمانی کی طرف جا رہے ہیں اور انکی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیاں ہیں۔ مہنگائی سے عوام زندہ درگور ہو رہے ہیں جبکہ حکومت نئے سال کا تحفہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے بہا اضافہ کرکے دے رہی ہے، بجلی اور گیس مل ہی نہیں رہی، اضافہ کس بنا پر کیا جا رہا ہے؟ حکومت پہلے ضرورت کےمطابق بجلی اور گیس مہیا تو کرے، عوام کی ضروریات کو پورا کیا جائے اور اسے جلاﺅ ، گھیراﺅ پر مجبور نہ کیا جائے اور نرخوں میںاضافے کو فی الفور واپس لیا جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں