ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ ملک میں غیر عوامی سرگرمیوں کے باعث فوج کو اقتدار سنبھالنے کا کہہ سکتی ہے میں نے اپنی تقریر میں مارشل لاء لگانے کا نہیں کہا۔ اگر مارشل لاء آتا ہے تو ایم کیو ایم اس کی حمایت نہیں کرے گی۔
ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ میں خود 32سال سے جمہوریت کیلئے جدوجہد کر رہا ہوں میں کوئی بزدل انسان نہیں جو سچ کہنے سے ڈروں۔ تمام وڈیروں اور جاگیر داروں نے اپنی زمینیں بچانے کیلئے ہاریوں اور غریب عوام کو ڈبو دیا ہے۔62سال سے جاگیردار، وڈیرے اور نو دولتیئے اقتدار میں آئے انہوں نے بڑی خوبصورت مہارت سے مارشل لاء کے نفاذ کی بات سے پلٹا کھا لیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ آئین کی دفعہ 190 کے تحت سپریم کورٹ فوج کے ایماندار جرنیلوں کو کہے کہ وہ بد دیانت قومی دولت لوٹنے والے ، قرضے معاف کرانے والے، سیاستدانوں اور دیگر افراد کو پکڑے اور اُن سے قومی دولت بازیاب کرکے قومی خزانے میں جمع کرائی جائے۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین جو راہ فوجی جرنیلوں کو دکھا رہے ہیں۔اس پر انکی نیت پر شبہ کئے بغیر یہ کہا جاسکتا ہے کہ فوجی جرنیل افواجِ پاکستان کے ڈسپلن اور آئین کے پابند ہیں۔ دوسرے تمام محکموں اور شعبوں کی طرح اُنکے بھی رولز آف بزنس ہیں اور وہ اسکے پابند ہیں۔ فوج کے تمام اور ہر سطح کے عہدیداروں کو ڈسپلن اور آئین کا پابند ہی رہناچاہئے اور پاکستان کے تمام سیاسی کارکنوں لیڈروں اور حکومت کو بھی چاہئے کہ سابقہ تجربات کی روشنی میں تمام اہم اور نازک معاملات کو باہمی افہام و تفہیم اور صوبوں کے اتفاق رائے سے بات چیت کے ذریعہ طے کریں قومی معاملات کو سڑکوں پر نہ لائیں۔ اختلافات کو بڑھنے نہ دیں۔
الطاف حسین اگر پاکستان کے بد دیانت، قومی دولت خُرد بُرد کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے خواہش مند ہیں تو اسکا ایک آئینی اور قانونی طریق کار موجود ہے وہ یہ کہ وہ اپنے قانونی مشیروں کے ذریعے ایسے لوگوں کے خلاف ملک کی چاروں ہائی کورٹس میں مقدمات دائر کریں۔اُن افراد کو نامزد کیاجائے اور عدالتوں سے درخواست کی جائے کہ اِن لوگوں سے قوم کا سرمایہ واپس لیاجائے۔ پاکستان میں اِس وقت آزاد عدلیہ موجود ہے جس پر انہوں نے اپنے انٹرویو میں اعتماد کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ قانونی طریق کار آئین اور جمہوری اصولوں کے مطابق یہی ایک دُرست طریقہ ہے ۔کیونکہ اگر الطاف حسین کی تجویز پر عمل کیاجائے تو ایماندار فوجی جرنیل کہاں کہاں عدالتیں لگائیں گے…؟ اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوج میں بے ایمان جرنیل ہی ہیں؟ الطاف بھائی آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ ایک جمہوری ملک میں سول عدالتیں کام کریں گی اور اپنے فیصلے دیں گی۔ یا پھر ملک میں ایماندار فوجی عدالتیں اپنی کارکردگی دکھائیں گی۔ عدالتوں کا دُہرا نظام۔ بہت سی آئینی اُلجھنوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لئے ملک میں جو نظام جاری ہے اسی نظام کو چلنے دیں۔ جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں نے جو بھی جرائم کئے ہیں انکے خلاف مقدمات دائر کریں اور ان مقدمات کی پیروی جاری رکھی جائے تو قصور وار افراد کو کڑی سزائیں مل سکتی ہیں۔ فوج کو سول معاشرے میں کسی بھی مقصد کیلئے دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے۔
الطاف بھائی! جو کہ اب برطانوی شہری ہیں اور انہوں نے اپنے انٹرویو میں خود بتایا ہے کہ وہ برطانوی پاسپورٹ ہولڈر ہیں اور اُنکے پاس پاکستانی پاسپورٹ نہیں ہے الطاف بھائی۔ کوئی امیر آدمی نہیں ہیں اُنہوں نے لندن آنے کے بعد اپنے ابتدائی زمانہ کی تنگ دستی اور مالی پریشانیوں کا ذکر بھی کیا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ اسکے بعد انہوں نے لندن میں کیا کاروبار شروع کیا جس سے اُنہیں کوئی کام یا کاروبار کئے بغیر موجودہ فارغ البالی اور سہولت کے دن دیکھنے نصیب ہوئے۔
الطاف حسین۔ پاکستان میں سیاست کرتے ہیں۔ مقیم وہ لندن میں ہیں۔ اُنکی پارٹی کو اُن سے ہدایت لینے کیلئے لندن سے رابطے کرنے پڑتے ہیں۔ اُنکا کہنا ہے کہ وہ پاکستان آناچاہتے ہیں مگر وہ اُس وقت ہی پاکستان آئیں گے جب اُنکی پارٹی کے لوگ اُنہیں مشورہ دیں گے کہ وہ پاکستان آجائیں۔
وہ اپنی پہلی فرصت میں آجائیں اور پاکستان کے کسانوں، ہاریوں اور غریب لوگوں کو یہ مشورہ نہ دیں کہ وہ جاگیر داروں اور وڈیروں کے محلات اور زمینوں پر قبضے کریں۔ اس سے بے شمار سماجی اُلجھنیں پیدا ہوجائیں گی پاکستان میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔ پاکستان میں اگر انتظامی، سماجی اور قانونی بد نظمی شروع ہوجائے گی تو پھر اسے کون سنبھالے گا…؟ اس لئے پاکستان کے عوام کو ایسا مشورہ نہ دیں جس پر عمل کرنے کے نتائج منفی ہوں۔ وہ اپنے آپ کو پاکستان میں جمہوری سیاست کرنے والوں میں شمار کرتے ہیں تو ایک جمہوریت پسند سیاست دان کی حیثیت سے وڈیروں، جاگیرداروں اور قومی دولت کھا جانے قرضے معاف کرانے والوں کے خلاف باقاعدہ عدالت میں قانونی کارروائی کریں۔ اپنے ارکان اسمبلی کو پابند کریں کہ وہ ایسی سیاسی پارٹی کے ساتھ تعاون کریں جو انکی ہم خیال ہو اور وہ تمام سیاسی اقدامات کرنے کیلئے تیار ہو جو وہ کرناچاہتے ہیں۔ وہ جو بھی اصلاحات کرناچاہتے ہیں انہیں تحریری صورت میں سندھ اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینٹ میں پیش کریں وہ ایک سیاسی قوت ہیں۔ اپنے سیاسی خیالات میں وسعت اور لچک پیدا کریں۔ جن خرابیوں کی وہ نشاندہی کر رہے ہیں وہ بالکل درست ہیں اور پاکستان کے عوام انہیں درست کرناچاہتے ہیں۔ گزشتہ چار مارشل لاء نافذ کرنے والوں نے ملک سے جمہوریت کی صف لپیٹنے کی یہی وجوہات بیان کی تھیں مگر جب ان جرنیلوں نے اپنا کام شروع کیا تو وہ ان سب کرپٹ سیاستدانوں کی معاونت سے ملک میں دس سے گیارہ برس تک اقتدار میں تو رہے مگر وہ خرابیوں کو دو رکرنے کی بجائے ان خرابیوں میں دو گُنا اور سہہ گُنا اضافہ کرکے چلے گئے۔
اس لئے پاکستان کے عوام کی خواہش یہی ہے کہ الطاف بھائی پہلے تو خود پاکستان تشریف لائیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کو ملاحظہ کریں۔ سیلاب زدگان کے مسائل کا جائزہ لیں اور اپنے ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر ان کو حل کریں اور ساتھ ساتھ وہ اپنی قانونی کارروائی کے ایجنڈہ پر بھی عمل درآمد کریں۔ اگر وہ ملک میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کریں گے تو ملک کی مختلف سیاسی پارٹیوں کے سیاسی کارکن جو اُنکے منشور اور پروگرام سے اتفاق کریں گے وہ خود بخود اُنکے ساتھ آملیں گے اور یہی جمہوری عمل ہے جو ہر جمہوری ملک میں چلتا رہتا ہے۔
متاثرین کی امداد حکومت پر اعتماد یا عدم اعتماد
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے بعد متاثرین کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو ایک اہم کام ہوگا اور اس حوالے سے ہم وفاق اور صوبوں میں رابطوں کا فقدان نہیں ہونے دینگے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ساکھ کا کوئی مسئلہ نہیں۔ متاثرین کی امداد کیلئے عالمی برادری سے فنڈز مل رہے ہیں اور نقصانات کی بنیاد پر ہی متاثرہ علاقوں میں فنڈز کی تقسیم کو یقینی بنایاجائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سول سوسائٹی اور تمام محب وطن قوتیں ریلیف اور بحالی کی کوششوں میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ متاثرین کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو حکومت کیلئے ایک اہم کام ہوگا یہ کوئی متنازع بات ہے نہ اس پر کسی کو اختلاف ہے۔ البتہ وزیراعظم کے اس مفروضے سے اختلاف کی وسیع گنجائش موجود ہے ۔وزیراعظم اپنے قائم کردہ ریلیف فنڈ میں جمع شدہ رقم کا حساب کتاب ہی کرلیں تو انہیں حکومتی ساکھ کی حقیقت سمجھنے میں کافی آسانی رہے گی اور اگر اس رقم میں سے سرکاری اداروں کے عطیات خارج کردئیے جائیں تو ان کے ذہن سے خوش فہمی کا بوجھ مزید کم ہوسکتا ہے۔ یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ سول سوسائٹی سیلاب زدگان کی مدد اپنے جذبہ اخوت کے تحت کر رہی ہے وہ نہ حکومت کی کسی اپیل سے متاثر ہے نہ امداد پہنچانے کے حوالے سے سرکا ری اداروں پر اسے اعتبار ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ امدادی اشیاء بالعموم فوجی امدادی کیمپوں یا ’’ مذہبی تنظیموں‘‘ کے کیمپوں کو زیادہ اعتماد کے ساتھ پیش کررہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک ان کی کمٹمنٹ اور دیانتدار ی شک و شبے سے بالا ہے۔قبل ازیں 2005 کے زلزلے میں امدادی اشیاء کے ساتھ جو ’’ حسن سلوک‘‘ کیا گیا وہ ابھی تک لوگوں کے ذہن سے محو نہیں ہوا۔ وزیراعظم نے حوصلہ افزا انداز میں کہا کہ عالمی برادری سے فنڈز مل رہے ہیں اور نقصانات کی بنیاد پر ہی ان کی تقسیم یقینی بنائی جائیگی۔ اصولی طورپر تقسیم نقصانات کی بنیاد پر ہی ہونی چاہئے مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس سے قبل حکومتی دعوے مسلمہ طورپر قابل اعتماد ہوتے۔ ابھی تو یہ باتیں ہی منطقی انجام تک نہیں پہنچیں کہ مخصوص علاقوں کو بچانے کیلئے بعض حکمرانوں نے جان بوجھ کر بند توڑ کر دوسرے علاقوں کو غرقاب کردیا۔ جہاں بے رحمی کی حالت یہ ہو وہاں اگلے معاملات میں رحم اور انصاف کی امیدیں کس طرح اور کس سے باندھی جاسکتی ہیں۔ یہ بات کسی حد تک خوش کن ہے کہ وزیراعظم وفاق اور صوبوں میں رابطوں کا فقدان نہیں ہونے دینگے اور یہ کہ وفاقی حکومت قومی ہم آہنگی کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے، ممکن ہے وزیراعظم صوبوں اور وفاق میں رابطوں کا فقدان پیدا نہ ہونے دیں مگر وفاق اور صوبوں میں اعتماد کا فقدان پیدا ہوچکا ہے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت غیر ملکی امداد خود تقسیم کرنے کی بجائے صوبوں کے حوالے کرے۔ وزیراعظم سے گذارش ہے کہ وہ تمام صوبائی وزراء اعلیٰ کا اجلاس بلائیں اور تمام معاملات باہم مل بیٹھ کر طے کریں۔ کیونکہ یہ صوبائی اختلافات بڑھ کر زیادہ خطر ناک صورتحال پیدا کرسکتے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں مظاہرے جاری، سیاسی حل ناگریز
حریت کانفرنس کے احتجاجی کیلنڈر کے تحت ایک دن کے وقفہ کے بعد ہفتہ کے روز پوری وادی میں دوبارہ ہڑتال رہی اور بھارتی مظالم کیخلاف مظاہرے کئے گئے جھڑپوں میں 100 افراد زخمی ہوئے مظاہرین پر جانوروں کو مارنے والے ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، فوج نے گھروں میں کھانے پینے کی اشیاء ضائع کردیں۔
مقبوضہ جموں کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے بہت سختی شروع کردی ہے جو ناقابل برداشت ہے اور انتہائی افسوس اس بات پر ہے کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اس ظلم پر آنکھیں بند کرلی ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیںاس بربریت پر خاموش تماشائی کا کردارادا کر رہی ہیں۔ او آئی سی نے نہ جانے کیوں مصلحت کی چادر اوڑھ رکھی ہے، چیئر مین پاکستان کشمیر کمیٹی صاحب جبہ و دستار تو صرف دستر خوان کے ہی دھنی ہیں۔
ہندو بنیا کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے جانوروں کو مارنے والے ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود تحریک میں شدت آرہی ہے۔ بھارت کا چیف آف آرمی سٹاف اس بات کا اعتراف کرچکا ہے کہ اس تحریک آزادی کو طاقت سے ختم نہیں کیاجاسکتا بلکہ حکومت کو اس مسئلے کا سیاسی حل نکالنا ہوگا اور اسی طرح بھارتی وزیر داخلہ چدم برم بھی اسمبلی کے فورم میں یہ کہہ چکا ہے کہ کشمیر کا سیاسی حل تلاش کیاجائے سیاسی حل صرف یہی ہے کہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کردیں اور کشمیری عوام جس ملک کے ساتھ بھی رہناچاہیں انہیں اسکی آزادی دی جائے۔پاکستان یا ہندوستان،یہ فیصلہ بہرصورت کشمیری عوام نے ہی کرنا ہے اور حالات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جبر اور طاقت کے ساتھ اُن پر کوئی فیصلہ ٹھونسا نہیں جاسکتا اور نہ ہی کسی کے جذبہ آزادی کو چھیناجاسکتا۔
بنگلہ دیش کا محصورین کو شہریت دینے کا اچھا اقدام
بنگلہ دیش نے 1971 کے بعد سے اب تک مہاجرین کیمپوں میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں کو قومیت دینے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔ بنگلہ دیش نے اس سال مارچ میں ایک منصوبے کی منظوری دی جس کے تحت ان پاکستانی مہاجرین کی بحالی کیلئے 45 منزلہ عمارتیں تعمیر کی جائیں گی اس وقت 38 ہزار667 محصور پاکستانی خاندان ڈھاکہ میں مقیم ہیں۔
بنگلہ دیش نے محصورین کو شہرت دینے کا جو فیصلہ کیا وہ اچھی پیشرفت ہے انہوں نے انسانی ہمدردی کا ثبوت دیا ہے محصورین کو اسکو قبول کرلینا چاہئے شہریت کے بعد ان لوگوں کو نوکریاں مل سکیں گی روز گار کے مواقع میسر آئیں، سماجی سہولتوں سے فائدہ اٹھاسکیں گے ۔ پہلے کیمپوں میں رہائش پذیر تھے اب مکانات مل جائیں گے، معاشرے میں اچھا شہری بن کر زندگی گزار سکیں گے۔ محصورین بنگلہ دیش کیلئے نوائے وقت کے زیر اہتمام بھی فنڈ اکٹھے کرکے وہاں بھجوائے جاتے رہے ہیں اور ان کی واپسی کیلئے بھی متحرک رہا پاکستان میں میاں چنوں اور اوکاڑہ میں انکے رہائشی کوارٹر بھی بنائے گئے لیکن حکومت کی سرد مہری کی بنا پر انکو واپس نہیں لایاجاسکا جو لوگ وہاں کی شہریت لے رہے ہیں وہ در ست لیکن جو واپس آنے کے متمنی ہیں حکومت انکو واپس لانے کا بندوبست کرے۔