دہشتگردی کیخلاف جنگ کی دلدل سے نکلنے کی ضرورت

ـ 30 اگست ، 2009
صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں برطانوی وزیراعظم گورڈن برائون نے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے اور برطانیہ پاکستان کی ہر ممکن مدد کریگا۔ جبکہ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے برطانوی وزیراعظم گورڈن برائون کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی صاحیت بڑھانے کیلئے کئے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرائی۔
دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر امریکہ نے افغانستان اور عراق کے مسلمانوں کیخلاف جو کروسیڈ شروع کیا‘ اس کا دائرہ اب پاکستان تک وسیع ہو چکا ہے اور اس نام نہاد جنگ میں شمولیت کے بعدوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بقول پاکستان 36 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے جبکہ امریکہ سے اب تک پاکستان کو بمشکل دس ارب ڈالر ملے۔ اگلے پانچ سال کے دوران مزید ساڑھے سات ارب ڈالر ملنے کی امید ہے لیکن اس امداد کا چکمہ دے کر فنڈز خرچ کرنے کے نظام کی نگرانی اور ممکنہ نتائج کے نام پر امریکہ نے اسلام آباد میں اپنی خفیہ ایجنسیوں‘ فوج اور دیگر اداروں کا وسیع و عریض نیٹ ورک قائم کرلیا ہے۔ گزشتہ روز امریکی سفیر متعینہ پاکستان این پیٹرسن نے اعتراف کیا کہ امریکہ اسلام آباد میں 200 مکان کرائے پر لے چکا ہے‘ سفارت خانے میں توسیع کرکے میرینز کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ امریکی سفیر نے انکی تعداد کم بتائی مگر دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط انکی تعداد ایک ہزار ظاہر کر چکے ہیں۔ بدنام زمانہ تنظیم بلیک واٹر کے اہلکاروں کی اسلام آباد اور پشاور میں موجودگی کی اطلاعات منظر عا م پر آچکی ہیں‘ یہ پراجیکٹ سی آئی اے کا ہے جس کا مقصد القاعدہ اور طالبان کے اہم لیڈروں تک رسائی اور انہیں قتل کرنا ہے اور ممکن ہے ہمارے ایٹمی اثاثوں پر بھی انکی نظر بد ہو۔
یہ سب کچھ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر ہو رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کی خودمختاری ختم ہو کر رہ گئی ہے‘ بلکہ سلامتی کو درپیش خطرات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ڈرون حملوں اور دیگر اقدامات کی وجہ سے امریکہ کیخلاف نفرت کا اعتراف امریکی سفیر کے علاوہ رچرڈ ہالبروک اور مائیک مولن بھی کر چکے ہیں‘ اس لئے اتنی بڑی تعداد میں امریکیوں کی وفاقی دارالحکومت میں موجودگی بذات خود سیکورٹی مسائل کا باعث بنی رہے گی اور عام شہریوں کی زندگی کو بھی خطرات لاحق رہیں گے۔ امریکہ کے متکبرانہ اور توہین آمیز رویے کی وجہ سے جس کا اعتراف مائیک مولن نے اپنے مضمون میں کیا ہے‘ عالم اسلام میں نفرت اور اشتعال موجود ہے لیکن پاکستان میں یہ سب سے زیادہ ہے اس لئے امریکہ برطانیہ کی طرف سے پاکستان کو دہشت گردی کیخلاف جنگ کی صلاحیت بڑھانے اور مزید کردار ادا کرنے کی ہلہ شیری کسی بھی لحاظ سے اطمینان بخش نہیں بلکہ یہ پاکستان کو مسلسل حالت جنگ میں رکھ کر سیاسی‘ معاشی اور اقتصادی عدم استحکام کا شکار کرنے اور پاک فوج کو اپنے ہی عوام کیخلاف الجھائے رکھنے کی سازش ہے۔ امریکہ نے اب تک پاکستان سے جو کام لیا ہے‘ اس کے عوض ناروا شرائط کے ساتھ آئی ایم ایف کے قرضوں میں اضافے‘ قومی سطح پر ہیجان اور خلفشار اور سلامتی کے مسائل کے سوا کچھ نہیں ملا۔ فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس گزشتہ ایک سال سے جاری ہیں‘ مگر پاکستان کو ایک پائی کی امداد نہیں ملی‘ امریکی قرضے‘ امداد بھی قبائلی علاقوں میں اپنے کلمہ گو بھائیوں کیخلاف کارروائیوں سے مشروط ہیں اور یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ سوات کی طرح قبائلی علاقوں میں حالات کی خرابی میں امریکی‘ بھارتی‘ اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کا کردار ہے تاکہ پاک فوج مسلسل پھنسی رہے اور شیطانی اتحاد ثلاثہ ہمارے ایٹمی پروگرام‘ اسلامی تشخص اور قومی سلامتی کیخلاف اپنی سازشوں کو یکسوئی سے پروان چڑھا سکے۔
اب جبکہ پاک فوج کو عوام کے علاوہ سیاسی و جمہوری قوتوں کے خوشدلانہ تعاون کی وجہ سے سوات میں کامیابی حاصل ہوئی ہے‘ رچرڈ ہالبروک کے بقول پاکستان کا سب سے بڑا دشمن بیت اللہ محسود جاں بحق ہو گیا ہے اور سوات میں نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی جاری ہے۔ پاکستان کے قومی مفادات اور دفاعی حکمت عملی کا تقاضہ ہے کہ پاک فوج‘ امریکہ اور برطانیہ کی خواہش کے مطابق جنوبی وزیرستان کی دلدل میں پھنسنے کے بجائے‘ اپنی کامیابیوں کو مستحکم کرنے اور واپسی کی حکمت عملی طے کرنے پر توجہ دے اور امریکہ‘ برطانیہ کی طرف سے مدد کے جھانسے میں نہ آئے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی مزید امداد کی اپیلوں کے ذریعے امریکہ و یورپ کو یہ تاثر نہیں دینا چاہئے کہ ہم انکی جنگ پیسے لے کر لڑنے کیلئے بے تاب ہیں اور معمولی خیرات کے عوض جذبہ جہاد سے سرشار فوج کو امریکہ کے مخالفین کی سرکوبی کیلئے بآسانی استعمال کر سکتے ہیں۔ امریکہ کا ایجنڈا اب کسی سے مخفی نہیں رہا‘ وہ اسلام‘ مسلمانوں اور پاکستان کے دشمنوں بھارت اور اسرائیل کا آزمودہ دوست اور خیرخواہ ہے اور یہ تینوں یورپ کو ساتھ ملا کر اس اسلام و پاکستان مخالف ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں‘ چین اور ایران کا گھیرائو کرنے کیلئے پاکستان میں سفارت خانے کی آڑ میں فوجیوں اور جاسوسوں کی چھائونیاں بنائی جا رہی ہیں اور دنیا میں یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ پاکستان امریکہ کی کالونی ہے جس کا وائسرائے ہالبروک اسلام آباد میں بیٹھ کر سیاسی اور اقتصادی معاملات پر احکامات جاری کرتا ہے۔ حد یہ ہے کہ ایک اخباری اطلاع کے مطابق پاکستان میں بجلی کے بحران سے نمٹنے کیلئے امریکہ سے 28 ارب روپے کی امداد طلب کی گئی ہے حالانکہ اتنی رقم بجلی کے لائن لاسز کم کرکے بآسانی حاصل کی جا سکتی ہے۔ امریکہ‘ برطانیہ اور مالیاتی اداروں سے امداد مانگتے چلے جانے کی پالیسی کی وجہ سے پاکستان کا قومی وقار مجروح ہو رہا ہے‘ خودمختاری پر آنچ آرہی ہے اور سلامتی کیلئے خطرات بڑھ گئے ہیں‘ اس لئے اب امداد مانگنے کے بجائے اس جنگ سے نکلنے کی حکمت عملی وضع کی جائے جس پر 36 ارب ڈالر پلّے سے خرچ کرکے ہم نے رسوائی‘ عدم استحکام‘ سلامتی کیلئے خطرات کی فصل کاشت کی ہے جو خسارے کا سودا ہے۔ اب ہم مزید اس کارزیاں کو جاری نہیں رکھ سکتے‘ یہی ہمارے قومی مفاد میں ہے۔
قومی مالیاتی کمشن کا اجلاس ایثار کی ضرورت
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی سربراہی میں قومی مالیاتی کمشن کے اجلاس کے دوسرے روز پنجاب نے پہلی بار منگلا ڈیم اور غازی بروتھا پاور پراجیکٹ کے نٹ ہائیڈل منافع میں حصہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اجلاس میں صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کے مختلف عوامل کو وزن دینے کے حوالے سے اختلاف رائے سامنے آیا‘ جن کو دور کرنے کیلئے دو کمیٹیاں قائم کردی گئیں۔ دریں اثناء اجلاس کے دوران ایک دوسرے سے شکوہ شکایت کیا گیا اور الزامات بھی لگائے گئے‘ خصوصی طور پر بلوچستان اور سرحد کی طرف سے پنجاب پر تنقید کی گئی۔
قومی مالیاتی کمشن کے اجلاس میں اپنا حصہ مانگنا ہر صوبے کا حق ہے اور یہ حصہ اسے ملنا بھی چاہئے لیکن دوسرے صوبوں کو مطمئن کرنا بھی حصہ مانگنے والے فریق کی ذمہ داری ہے۔ پنجاب کو یہ بتانے پر صوبہ سرحد اور بلوچستان کے نمائندوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ بلوچستان کے فی کس وسائل 6 ہزار سندھ 4800‘ سرحد 4000 اور پنجاب کے 3000 ہیں۔ کل وسائل کو آبادی پر تقسیم کریں گے تو جو نتیجہ نکلے گا‘ وہی فی کس وسائل ہونگے۔ پنجاب کے مجموعی طور پر وسائل زیادہ ہیں لیکن جب اسکی کروڑوں کی آبادی پر تقسیم ہونگے تو نتیجہ وہی آئیگا جو پنجاب نے سامنے رکھا ہے۔ اس پر اعتراض یا شدید تنقید کو مثبت قرار نہیں دیا جا سکتا‘ پنجاب نے دوسرے صوبوں کے حوالے سے ہمیشہ بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایثار کا مظاہرہ کیا۔ انہیں گندم‘ آٹا‘ گوشت‘ چاول سب کچھ فراخدلی سے فراہم کیا ہے اور کبھی احسان نہیں جتلایا۔ اب اگر اس نے بھی اپنا جائز حصہ مانگا ہے تو اس پر غور ہونا چاہئے‘ وسائل کی تقسیم میں آبادی کے ساتھ ٹیکس کولیکشن کو بھی بنیاد بنایا جائے تو بہتر ہو گا جس سے ہر صوبے کا یہ اعتراض دور ہو جائیگا کہ وہ دوسروں سے بڑھ کر ٹیکس دیتا ہے لیکن اسے اطمینان بخش حصہ نہیں دیا جا رہا۔
نئے ایوارڈ میں جہاں ایک طرف کسی صوبے سے زیادتی نہیں ہونی چاہئے‘ وہیں کسی کی طرف سے بلیک میلنگ کی بھی کوشش نہیں ہونی چاہئے۔ چاروں صوبے بھائیوں کی مانند ہیں‘ اجلاس تب ہی کامیاب ہو گا‘ جب ہر صوبہ ایثار اور قربانی کے جذبے کے تحت ایک دوسرے کی مجبوریوں کا احساس کریگا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا سیکورٹی پروٹوکول ختم کرنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سیکورٹی پروٹوکول تاحکم ثانی ختم کرنے کے احکامات دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کہیں بھی آجا سکتے ہیں۔ ان پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ عدالت نے یہ ریمارکس ڈاکٹر قدیر خان کی اس درخواست پر دیئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پروٹوکول سیکورٹی کی آڑ میں انکی آزادی سلب کرلی گئی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے عدالت عالیہ کی طرف سے آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دینے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروٹوکول کے نام پر انکے ساتھ بدمعاشی کی گئی‘ میں آزاد شہری ہوں اور آزاد پھرنا چاہتا ہوں۔
کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی تھی لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ وہ بدستور ایک قیدی کی سی زندگی گزارتے رہے۔ ڈاکٹر قدیر خان کو قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہے‘ ان کو پروٹوکول اور سیکورٹی انکے شایان شان ضرور فراہم کرنی چاہئے لیکن سیکورٹی کے نام پر ان کے گھر کو تالے لگا کر گارد بٹھا دینا قطعی نامناسب ہے۔ ڈاکٹر خان صاحب کو بھی احتیاط سے کام لینا چاہئے‘ وہ عام آدمی نہیں‘ محسن پاکستان ہیں اور عام آدمی کی طرح انکی نقل و حرکت خود ان کیلئے خطرناک ہو سکتی ہے۔ اس لئے وہ اپنی سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سے تعاون ضرور کریں۔ انکی طرف سے یہ کہنا بھی مناسب نہیں کہ انکے ساتھ بدمعاشی کی گئی تو حساس باتوں سے پردہ اٹھائیں گے۔ ملک کے انتہائی اہم ایٹمی سائنس دان کے طور پر انہیں احتیاط کے تمام تقاضے ملحوظ رکھنے چاہئیں‘ یہی ملک و قوم اور انکے اپنے مفاد میں ہے۔
گیلپ سروے کی رپورٹ
گیلپ سروے کے مطابق 71 فیصد پاکستانی 3 نومبر کے اقدامات پر مشرف کی سزا کے حق میں ہیں۔
کچھ برائیاں ایسی ہوتی ہیں‘ جن سے فرد اتنا متاثر نہیں ہوتا‘ جتنا معاشرہ۔ گیلپ سروے ایک مستند ادارہ ہے‘ جس کے دیئے گئے اعداد و شمار کو سنجیدگی سے لیا جا سکتا ہے۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے حوالے سے کئے گئے سروے میں اکثریت ان رائے دہندگان کی ہے‘ جو انہیں کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ سابق صدر پر ایک نہیں اکتوبر 99ء اور نومبر 2007ء کو دوبارہ آئین توڑنے‘ پاکستانیوں کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کرنے‘ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں معصوم بچوں کو باردو سے پگھلانے اور اکبر بگتی جیسے سیاست دان کے قتل سمیت کئی سنگین الزامات ہیں۔ فوجی ڈکٹیٹروں نے آئین توڑا‘ ملک توڑا لیکن وہ محض اس لئے محفوظ رہے کہ فوج ان کا ٹرائل نہیں چاہتی تھی لیکن آج ایسی صورتحال نہیں۔ خود انکے پیٹی بند بھائی بھی انکے ٹرائل کا بارہا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اس وقت ملک جمہوری حکومت ہے جو عوام کے بھاری مینڈیٹ سے برسر اقتدار آئی ہے‘ لہٰذا گیلپ سروے کی رپورٹ کی روشنی میں حکومت کو عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والے آمر کو فوری کیفرکردار تک پہنچا کر اپنے خلاف اس تاثر کو دور کرنا چاہئے کہ وہ ایک قومی مجرم کو بچانے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ آئندہ جمہوریت کو فوجی شب خون سے بچانے اور فوجی آمروں کا راستہ روکنے کی واحد صورت بھی یہی ہے اور منتخب حکومت کو جمہوری اداروں کے استحکام کے علاوہ عوامی خواہشات کی پذیرائی کے نقطہ نظر یہ قدم اٹھا لینا چاہئے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں