نیٹوحملے پر نیٹو چیف کی وضاحت‘ وائٹ ہاﺅس کی درفنطنی اور ہماری سلامتی کے تقاضے .... عالمی برادری کی مدد بھی لیں اور خود بھی دفاعی اقدامات کریں

ـ 29 نومبر ، 2011
نیٹو کے سیکرٹری جنرل راسموسین نے مہمند ایجنسی میں پاکستان کی چیک پوسٹ پر نیٹو کے فضائی حملے میں پاکستان کے سیکورٹی اہلکاروں کی شہادتوں پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیرارادی واقعہ قرار دیا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کو بھجوائے گئے اپنے مراسلہ میں یقین دلایا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کیلئے پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھایا جائیگا۔ دوسری جانب امریکی سنٹرل کمان نے پاک افغان سرحد پر نیٹو ہیلی کاپٹروں کے حملے کی الگ سے تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں امریکی جنرل جیمز میٹس کو تحقیقاتی افسر مقرر کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ افغانستان میں اتحادی افواج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملہ دفاع میں کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں برطانوی اخبار گارڈین کی خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جس وقت پاکستانی چوکیوں پر حملہ کیا گیا‘ اس وقت پاکستانی اہلکار سو رہے تھے جبکہ ایساف کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ نیٹو ہیلی کاپٹرز نے زمینی کارروائی میں مصروف نیٹو کے فوجی دستوں کی مدد کی کال پر حملہ کیا ہے۔ انکے بقول ہفتے کی صبح امریکی اور افغان فورسز افغان صوبہ کنٹر کے پہاڑی علاقے میں مشترکہ کارروائی کر رہی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا جس کے جواب میں نیٹو ہیلی کاپٹروں نے حملہ کیا ہے۔
یہ حقیقت تو اب طشت ازبام ہو چکی ہے کہ پاکستان کی چیک پوسٹوں پر نیٹو ہیلی کاپٹروں کا حملہ کسی غلط فہمی کے نتیجہ میں نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے جس کا عندیہ اتحادی افواج کے اعلیٰ عہدیدار کے بیان سے بھی ملتا ہے اس لئے امریکی نیٹو حکام کی جانب سے محض رسمی معذرت کا اظہار اس مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس گزشتہ روز واضح طور پر باور کرا چکے ہیں کہ مہمند ایجنسی کے جارحانہ واقعہ پر صرف افسوس کا اظہار کافی نہیں اور نیٹو کی کارروائی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی باور کرایا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر نیٹو ہیلی کاپٹروں کے اب تک کے آٹھ فضائی حملوں میں پاکستان کی سیکورٹی فورسز کے 72 جوان شہید ہو چکے ہیں جبکہ نیٹو کی اس جارحیت کیخلاف پوری قوم میں غم و غصہ کی شکل میں سخت ردعمل پایا جاتا ہے۔
اس تناظر میں تو اب ملک کی سالمیت کیخلاف جارحیت کا ارتکاب کرنیوالی نیٹو فورسز کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے اور قوم بھی یہی چاہتی ہے کہ اب امریکہ اور نیٹو کا کوئی عذر قبول کیا جائے‘ نہ پہلے کی طرح مفاہمانہ پالیسی اختیار کرکے نیٹو کی سپلائی لائن بحال کی جائے بلکہ نیٹو کی جارحیت کا ملک کی سالمیت کے تقاضوں کے مطابق سخت جواب دیا جائے جو نیٹو کی سپلائی لائن مستقل بند کرنے کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز کا فوجی اپریشن بند کرنے اور امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ترک کرنے سے ہی ممکن ہے۔
اگرچہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے امریکہ کو باور کرایا ہے کہ موجودہ صورتحال میں دہشت گردی کیخلاف جنگ میں تعاون ممکن نہیں رہا اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی واضح کیا ہے کہ نیٹو کی سپلائی معطل نہیں بلکہ مستقل طور پر بند کی گئی ہے۔ اسکے باوجود بدمست ہاتھی امریکہ اور اسکے چیلوں چانٹوں کے ہوش تبھی ٹھکانے آئینگے‘ جب انہیں سخت ترین جوابی کارروائی کے ذریعے چھٹی کا دودھ یاد کرایا جائیگا۔ بصورت دیگر انکے جارحانہ عزائم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی اور وائٹ ہاﺅس کی جانب سے گزشتہ روز بھی امریکی صدر اوبامہ کو مہمند ایجنسی حملے کے بارے میں دی گئی بریفنگ کے حوالے سے درفنطنی چھوڑی گئی ہے کہ خطے میں دہشت گردی کے مراکز کی بدستور موجودگی سے پوری دنیا کو شدید خطرات لاحق ہیں جبکہ پاکستان مخالف امریکی سینیٹرز آج بھی اوبامہ انتظامیہ کو یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ سخت رویہ رکھے۔
اس سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ مہمند ایجنسی میں نیٹو ہیلی کاپٹروں کا پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملہ غیرارادی قطعاً نہیں تھا بلکہ پاکستان پر دباﺅ بڑھانے کیلئے دانستاً اس حملے میں پاکستان کی سیکورٹی فورسز کو ٹارگٹ کیا گیا ہے اور جب پاکستان کی جانب سے اس جارحیت کیخلاف امریکی توقعات کے برعکس انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے نیٹو کی سپلائی روک لی گئی اور نیٹو حملوں کیخلاف پاکستان کے ہر مکتبہ فکر کی جانب سے احتجاجی ریلیوں‘ مظاہروں اور امریکہ کیلئے سنگین نتائج کی دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو امریکی نیٹو حکام نے حالات کی نزاکت کو بھانپ کر معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کرلیا۔ اسکے باوجود امریکی جارحانہ‘ توسیع پسندانہ عزائم میں کوئی کمی نہیں آئی اور پینٹاگون کے ترجمان امریکی کرنل ڈیوڈ لیپن نے پاکستان کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کی ہے کہ اس نے نیٹو کی سپلائی بند کی تو ہمارے پاس متبادل راہداریاں موجود ہیں۔
اس تناظر میں تو اب امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا فدویانہ کردار یکسر ترک کرکے چالاک لومڑی کے پاﺅں کو جھلسانا اور بدمست ہاتھی کی دھنائی کرکے اس کا نشہ اتارنا ضروری ہو گیا ہے تاکہ وہ ہماری سالمیت کیخلاف جو بھی جارحانہ عزائم رکھتے ہیں‘ ان سے باز آجائیں۔ اس مقصد کیلئے پوری قوم پہلے ہی سیسہ پلائی دیوار بن کر اپنی جری و بہادر افواج کے شانہ بشانہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت و دفاع کیلئے تیار ہے اور تمام قومی سیاسی قیادتیں بھی دفاع وطن کی خاطر اپنے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کرخودداری پر مبنی قومی پالیسی کی تیاری کیلئے حکمرانوں کی معاونت کرنے پر آمادہ ہونگی جس کیلئے صدر اور وزیراعظم کو خود انہیں اعتماد میں لینا ہو گا اس لئے اب ملکی اور قومی دفاع و سلامتی کے معاملہ میں کسی غفلت یا کمزوری پر کوئی عذر قابل قبول ہو گا‘ نہ ملک اس کا متحمل ہو سکتا ہے۔ حکمرانوں کو اب خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ امریکی نیٹو جارحیت کے ارتکاب کیخلاف اقوام متحدہ‘ یورپی یونین‘ نام‘ اسلامی کانفرنس‘ سارک اور عرب لیگ سمیت ہر عالمی فورم پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا اور عالمی امن و سلامتی کی تباہی کا اہتمام کرنیوالے امریکی جارحانہ عزائم کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ او آئی سی کی جانب سے پہلے ہی پاکستان کی چیک پوسٹ پر نیٹو کے فضائی حملے کی مذمت کی جا چکی ہے‘ اسی طرح ہرعالمی فورم پر امریکہ کیخلاف نہ صرف مذمتی قراردادیں منظور کرائی جائیں بلکہ اسکی ممکنہ مزید جارحیت کیخلاف عالمی برادری کی مدد بھی حاصل کی جائے‘ تاہم اس معاملہ میں پہلے ہم خود سخت پالیسی اختیار کرینگے اور امریکی اتحادی کا کردار عملاً ترک کر دینگے تو یقیناً عالمی برادری بھی ہماری جانب متوجہ ہو گی۔ ملکی سلامتی سے زیادہ تو بہرصورت ہمیں کوئی چیز عزیز نہیں ہو سکتی جبکہ ملکی سلامتی کے تحفظ کو امریکی مفادات کی جنگ سے نکل کر ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
بھارت پسندیدہ کشمیر کاز کیلئے مضرت رساں فیصلہ
آزاد کشمیر میں منعقد ہونیوالی کل جماعتی کشمیر کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں بھارت کو انتہائی پسندیدہ ملک قرار دینے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منعقد ہونیوالی اس کانفرنس میں آزاد جموں و کشمیر کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں کے علاوہ حریت کانفرنس کی قیادت اور گلگت و بلتستان کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر بنیادی اور بڑے تنازع کی حیثیت رکھتا ہے۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا جس پر بھارت نے جارحانہ اور غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے۔ پاکستان نے بزور بازو مقبوضہ وادی کو آزادی کرانے کی کوشش کی تو بھارت اقوام متحدہ میں معاملہ لے گیا۔ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کےلئے استصواب کو مسئلہ کا حل تجویز کیا۔ یہ قراردادیں 1948 میں پاس ہوئیں، اسکے بعد سے بھارت نہ صرف ان قراردادوں پر عملدرآمد سے انکاری ہے بلکہ اس نے 1956 میں مقبوضہ کشمیر کو آئین میں ترمیم کر کے بھارتی صوبہ قرار دے دیا۔ اسکے ساتھ ساتھ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات بھی کر رہا ہے جو سراسر منافقت ہے۔ پاکستان کا شروع سے موقف رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ بھارت تب ہی مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر تیار ہو گا جب پاکستان کی طرف سے انتھک کوششیں ہوں گی، عالمی سطح پر مسئلہ اجاگر کیا جائےگا اور یو این میں بار بار مسئلہ اٹھایا جائےگا۔ موجودہ حکومت بھارت سے تجارت کر رہی ہے، اسے افغانستان تک راہداری دے رہی ہے اور اسے پسندیدہ ترین ملک بھی قرار دیدیا ہے۔ ایسے میں مسئلہ کشمیر پر آپ کا موقف کہاں گیا اور بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیا دباو رہ گیا ہے؟ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کا کسی حد تک مداوہ اس فیصلے کو واپس لے کر کیا جا سکتا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ حکومت نہ صرف عالمی سطح پر اس مسئلہ کو زندہ رکھنے کی کوشش کرے بلکہ یہ مسئلہ پھر سے یو این میں لے جائے۔
سیکرٹری فنانس ایوان قائد اعظم کی بقیہ رقم فی الفور جاری کریں
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ نوجوان نسل کو تحریک پاکستان اور دو قومی نظریہ سے روشناس کرانے کیلئے قابل ستائش کردار ادا کر رہا ہے۔ میاں شہباز شریف نے ایوان قائد اعظم کی تعمیر کیلئے مزید 10 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔
نظریہ پاکستان ٹرسٹ نوجوان نسل کو صحیح راستے پر گامزن کرنے کیلئے جدوجہد کر رہا ہے، دو قومی نظریے کے تشخص کو اجاگر کرکے معاشرے کو صحیح خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ درحقیقت تحریک پاکستان کے کارکنان نے جناب مجید نظامی کی معیت میں جو کام شروع کر رکھا ہے، یہ کام تو حکومت کے کرنے کا تھا۔ سربراہ مملکت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے عوام کو قیام پاکستان کے اصل مقاصد سے آگاہ کریں لیکن حکومت کی بے رُخی کے باعث نظریہ پاکستان ٹرسٹ اس فریضے کو احسن طریقے سے نبھا رہا ہے۔ تحریک پاکستان کے کارکنان نے بانی پاکستان حضرت قائد اعظم کے نام سے موسوم ایوان قائد اعظم کی تعمیر کا منصوبہ تشکیل دیا ہے تاکہ بانی پاکستان اور تحریک پاکستان کے اکابرین کے فرمودات اور انکی تشکیلِ پاکستان کی جدوجہد کے ثمرات کو آنےوالی نسلوں تک منتقل کیا جا سکے، اس سلسلے میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے 44 کنال زمین خریدی اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے 2 کنال زمین ٹرسٹ کو عطیہ کی‘ اسکے ساتھ ہی شہباز شریف نے اڑھائی کروڑ روپے بھی دیئے ، گزشتہ روز نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وفد نے جب وزیر اعلیٰ کو انسداد ڈینگی مہم کیلئے 5لاکھ روپے اور 20سپرے کی مشینوں کا عطیہ دینے کے سلسلے میں ملاقات کی تو میاں شہباز شریف نے ایوان قائداعظم کیلئے مزید 10 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا جس میں 5 کروڑ اس سا ل اور 5 کروڑ اگلے مالی سال دیئے جائیں گے جو میاں شہباز شریف کی نظریہ پاکستان سے محبت کا ثبوت ہے۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی ایوان قائد اعظم کیلئے 20 کروڑ روپے 2 قسطوں میں دیئے ہیں لیکن 5 کروڑ مزید دینے کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔ وہ کیس وفاقی سیکرٹری فنانس کے پاس ہے، اس رقم کو فی الفور جاری کیا جائے کیونکہ اس وقت ایوان قائد کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ ان حالات میں رقم کی اشد ضرورت ہوتی ہے، ایوان قائد میں نوجوان نسل کیلئے شاندار لائبریری بنائی جا رہی ہے جس میں10لاکھ کتابیں موجود ہونگی، اسی طرح تصویر گیلری میں ساڑھے تین ہزار تصویریں ہوں گی جو نوجوان نسل کو اپنے اکابرین کے کارناموں سے روشناس کروائیں گی، اس میں صوبائی اور وفاقی حکومت کی مزید سرپرستی کی ضرورت ہے۔
”زرداری سے ایٹمی اثاثے محفوظ نہیں“ شاہ محمود ثبوت بھی پیش کریں
سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز گھوٹکی میں جلسہ عام سے دھواں دار خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کی موجودگی میں ایٹمی پروگرام محفوظ نہیں۔
ہمارے ہاں سیاست میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا اور سیاسی مخالفت کو ذاتیات تک لے جانا ایک معمول بن چکا ہے جسے کبھی عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔ تاہم ہر بات یا الزام کو مخالفت برائے مخالفت قرار دیکر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ شاہ محمود قریشی ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور موجودہ حکومت میں اڑھائی سال تک وزیر خارجہ کے اہم عہدے پر تعینات رہے۔ ان کو صدر اور وزیراعظم دونوں کا قرب حاصل تھا۔ وہ اندر کے معاملات سے بخوبی آگاہ تھے۔ ان کا صدر زرداری کے بارے میں یہ کہنا کہ انکی موجودگی میں ایٹمی پروگرام محفوظ نہیں۔ قوم کیلئے تشویشناک ہے۔ شاہ محمود قریشی کے اس الزام کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یقیناً شاہ محمود قریشی کے پاس اس حوالے سے ثبوت بھی ہونگے‘ ان کو میڈیا کے سامنے پیش کریں۔ وہ خود معاملہ عدلیہ میں لے جائیں تو بہتر ہو گا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں