وزیراعظم کا سوئس عدالتوں میں صدر کیخلاف مقدمات بحال کرانے سے انکار...... اداروں میں ٹکرائو سسٹم کے خاتمہ پر منتج ہو سکتا ہے

ـ 29 جنوری ، 2010
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ آئین کے تحت صدرمملکت کو استثنیٰ حاصل ہے اور یہ استثنیٰ انہیں کسی فرد واحد نے نہیں، پارلیمنٹ نے دیا ہے۔ اگر پارلیمنٹ یہ استثنیٰ ختم کردے تو ہم صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات کھولنے کو تیار ہیں۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ این آر او کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا تاہم اس کیلئے وقت درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں مگر اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ دستور میں ترمیم صرف پارلیمنٹ کرسکتی ہے۔ ہمیں اس بارے میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔
یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ ایک جانب تو وزیراعظم عدلیہ کے احترام اور این آر او کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مکمل عملدرآمد کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب اس فیصلہ پر عملدرآمد سے گریز کیلئے ایسے عذر پیش کئے جا رہے ہیں جو صدر کے استثنیٰ کے حوالے سے آئین کی کسی شق سے مطابقت ہی نہیں رکھتے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا ہے نہ اس فیصلہ کی یہ منشا ہے بلکہ اس فیصلہ کے تحت آئین و قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کا تقاضہ کیا گیا ہے جو عدالت عظمیٰ کی جانب سے این آر او کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد تمام این آر او یافتگان کے خلاف ان کے نیب، کرپشن اور دیگر جرائم کے الزامات کے تحت دائر ہونے والے فوجداری مقدمات بحال ہونے کی بنیادپر بلاامتیاز کارروائی سے ہی ممکن ہے۔
بے شک سپریم کورٹ کو آئین وضح کرنے یا اس میں رد و بدل کرنے کا قطعاً اختیار نہیں ہے اور یہ اختیار پارلیمنٹ ہی کا ہے تاہم آئین کی کسی شق یا دفعہ کی توجیح و تشریح کا مجاز فورم سپریم کورٹ ہی ہے اس لئے اگر سپریم کورٹ نے صدر کے استثنیٰ سے متعلق آئینی دفعات کی موجودگی میں صدر آصف علی زرداری کے خلاف ناجائز اثاثوں، کرپشن، منی لانڈرنگ سے متعلق مقدمات بشمول سوئس کیسز میں این آر او کے کالعدم ہونے کے نتیجہ میں کارروائی کا عندیہ دیا ہے تو اس میں آئینی اختیارات سے تجاوز کا کوئی پہلو نہیں نکلتا کیونکہ عدالتِ عظمیٰ نے متعلقہ آئینی دفعات کا مفہوم سمجھ کر ہی صدر آصف علی زرداری کے مقدمات سے متعلق رولنگ دی ہے۔ چونکہ عدالتِ عظمیٰ این آر او کیس کی سماعت کے آغاز ہی میں قرار دے چکی تھی کہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والے تمام افراد کی اہلیت این آر او کیس کے حتمی فیصلہ کے ساتھ مشروط ہوگی اس لئے این آر او کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد این آر او سے فائدہ اٹھانے والے نیب کے تمام ملزمان کی ملزم کی حیثیت اور ان کے خلاف درج فوجداری مقدمات ازخود بحال ہوگئے ہیں جس کی رو سے صدر کی حیثیت بھی اب نیب کے ایک ملزم کی ہے اور اس بناء پر سپریم کورٹ کی رولنگ کی روشنی میں ان کی اہلیت پر بھی نظرثانی ہوسکتی ہے اور صدر کے استثنیٰ سے متعلق آئین کی دفعہ 248,41 کی موجودگی میں ان کے خلاف سوئس کورٹس علاوہ ملک کے اندر نیب کی عدالتوں میں بھی مقدمات چل سکتے ہیں جس کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ میں کسی قسم کا ابہام موجود نہیں ہے۔ چونکہ صدر مملکت کیلئے جناب آصف علی زرداری کا انتخاب این آر او سے رعایت حاصل کرنے کے بعد عمل میں آیا تھا جس کی بنیاد پران کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ برقرار نہیں رہا تھا اس لئے ان کے کاغذات نامزدگی کی وصولی کے وقت ان کی اہلیت پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جا سکا تھا جبکہ اب این آر او کے خاتمہ سے ان کے خلاف نیب کے مقدمات بحال ہو گئے ہیں تو سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں اب صدر کے انتخاب کے لئے ان کی اہلیت پر بھی اعتراض اٹھایا جا سکتا ہے اس لئے صدر کے استثنیٰ سے متعلق آئینی دفعات ان پر لاگو نہیں ہوتیں جبکہ آئینی ماہرین خالد انور اور محمد اکرم شیخ کے بقول صدر کو اپنے خلاف مقدمات میں آئینی استثنا کے لئے پہلے سوئس عدالتوں میںہی نہیں، ملکی عدالتوں سے بھی رجوع کرنا پڑے گا اور ان کے روبرو درخواستیں دائر کرکے عدالتی احکام کے تحت آئینی استثنیٰ حاصل کرنا پڑے گا اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں بھی وضاحت کر دی گئی ہے کہ جناب زرداری کے صدر منتخب ہونے کے بعد بھی ان کی اہلیت چیلنج ہو سکتی ہے چنانچہ سپریم کورٹ کے ان واضح احکام کے باوجود صدر کے آئینی استثنیٰ کا عذر پیش کرکے ان کے خلاف دائر مقدمات پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی اور سوئس عدالتوں میں ان کے مقدمات کی بحالی کے لئے درخواست نہیں دی جاتی تو یہ اقدام عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد سے دانستہ انحراف کے مترادف ہو گا۔ وزیراعظم ایک جانب تو اداروں کے مابین ٹکرائو نہ ہونے دینے اور این آر او کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مکمل عملدرآمد کرنے کے دعوے اور اعلانات کر رہے ہیں اور اس کے برعکس انہوں نے قومی اسمبلی کے فورم پر صدر کے آئینی استثنٰی کا جواز پیش کر کے ان کے خلاف سوئس مقدمات کی بحالی کے لئے رجوع کرنے سے انکار کر کے عدالتی فیصلہ اور آئین سے ہی انحراف نہیں کیا بلکہ عدلیہ کے ساتھ ٹکرائو کا راستہ اختیار کرنے کا بھی عندیہ دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ بار کی وکلاء رابطہ کونسل نے این آر او کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پرمکمل عملدرآمد سے متعلق وزیراعظم کی یقین دہانی کی بنیاد پر ہی گذشتہ روز اپنی 28 جنوری کی ملک گیر ہڑتال مؤخر کی تھی۔
اگر حکمران ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی، انصاف کی عملداری اور عدلیہ کے احترام کے عہد پر کاربند ہوں تو این آر او کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کر کے اس عہد کی تکمیل کی جا سکتی ہے، عوام پر اپنا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے اور جمہوریت کے استحکام کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے جبکہ حکمران طبقہ کے ارادے اور عزائم اس کے قطعی برعکس نظر آتے ہیں۔ این آر او کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سے انحراف کر کے صرف عدلیہ کے ساتھ ہی ٹکرائو مول نہیں لیا جائے گا بلکہ اپنی اس نادانی کے نتیجہ میں سلطانیٔ جمہور کے پائوں پر کلہاڑی مارنے اور سسٹم کی بساط لپیٹے جانے کا بھی خود ہی اہتمام کر لیا جائے گا۔
اس صورت حال میں مناسب یہی ہے کہ این آر او کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے اور ہر متعلقہ شخصیت پر اس پر عملدرآمد کا آغاز کر کے انصاف و قانون کی عملداری بھی یقینی بنائی جائے اور سسٹم کو بھی بچایا جائے۔ اگر حکمران طبقہ کی بے تدبیریوں سے اس سسٹم کو کوئی گزند پہنچتی ہے تو وہ اس کی ذمہ داری سے خود کو کسی صورت بچا نہیں پائیں گے۔
جنرل کیانی کا نیٹو ممالک کو صائب مشورہ
آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے نیٹو ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کا مسئلہ پائیدار بنیادوں پر حل کرنے کے لئے پاکستان کے کردار میں اضافہ کریں۔ افغانستان کے حوالے سے پاکستان سے بہتر زمینی حقائق کو کوئی نہیں جانتا۔ جنرل کیانی برسلز میں نیٹو ہیڈ کوارٹرز میں نیٹو ملٹری کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کر رہے تھے جس میں 42 ممالک کے فوجی سربراہوں نے شرکت کی۔ جنرل کیانی نے مزید کہا کہ پاکستان میں امن افغانستان کے امن سے منسلک ہے۔ امریکہ اور روس کے اتحادیوں کو ادراک ہو چکا ہے کہ وہ افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ جیت نہیں سکتے۔ گزشتہ ماہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز اپنی حکومت پر واضح کر چکے ہیں کہ افغانستان میں مزید لاکھوں فوجی بھی بھیج دئیے جائیں تو کامیابی ممکن نہیں یہ خطہ ان کا قبرستان بن جائے گا۔ لیکن اس کے باوجود بھی اوباما نے مزید 30 ہزار سے زائد فوج بھیجنے کا اعلان کر دیا۔ افغانستان میں موجود امریکی سفیر نے بھی مزید فوج کی تعیناتی کی مخالفت کی تھی۔ لیکن خطے کے حقائق سے لاعلم اوباما جیسے لوگوں کے ہاتھ میں تمام تر معاملات ہیں اور طاقت کو ہر مسئلے کا حل سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے لئے جنرل کیانی کا صائب مشورہ ہے کہ وہ ان لوگوں پر اعتماد کریں جن کو خطے کے حقائق کا علم ہے اور پاکستان سے زیادہ خطے کے معاملات کو کوئی اور نہیں جانتا۔ پاک افغان لیڈرشپ کو مل کر خطے میں قیام امن کے لئے کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہئے۔ امریکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات پر تو تیار نظر آتا ہے اس کے لئے لندن میں عالمی کانفرنس برائے افغانستان میں بھی پیشرفت ہو رہی ہے۔ لیکن اچھے اور بُرے طالبان کی تخصیص سے معاملات سرے چڑھتے نظر نہیں آتے۔ اپنی طرف سے کسی کو اچھا اور کسی کو بُرا قرار دینا طالبان میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ ان سے بلاتخصیص مذاکرات کئے جائیں اور پاکستان کو بھی مزید آپریشنوں پر مجبور نہ کیا جائے عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات اور جرگوں کے ذریعے معاملات طے کئے جائیں۔ افغانستان میں طاقت کا استعمال غط ہے تو پاکستان میں کیسے درست ہو سکتا ہے۔ خطے میں قیام امن کے لئے بہترین اقدام تو یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں افغانستان میں غیر جانبدارانہ انتخابات ہوں اور عنانِ اقتدار جیتنے والوں کے حوالے کر کے امریکہ اور اتحادی اپنی فوجیں واپس لے جائیں۔
تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیوں نہیں۔؟
وفاقی کابینہ نے مسلح افواج کے افسران کی تنخواہوں میں 15 فیصد جوانوں کی تنخواہوں میں 20 فیصد اور مغربی سرحدوں پر لڑنے والے فوجی جوانوں کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے فیصلے پر فوری عملدرآمد ہو گا۔
وفاقی کابینہ کے فیصلہ کے مطابق فوج کی تنخواہوں میں اضافہ فوری طور پر ہو گا جبکہ ملک کے دیگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا فیصلہ پے اینڈ پنشن کمشن کی رپورٹ پر یکم جولائی سے ہو گا۔ کمیشن کی رپورٹ مارچ میں آئے گی جس پر اس میں مزید ایڈجسٹ منٹ ہو گی اور بلوچستان میں پولیس ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور انہیں ملک کے دیگر صوبوں کے برابر کرنے کے لئے کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ کابینہ نے ایشیائی ترقیاتی بنک کی رپورٹ پر 5 رینٹل منصوبوں پر بھی عملدرآمد روک دیا ہے۔
وفاقی کابینہ کی طرف سے فوجی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا جو بھی تناسب طے کیا گیا ہے یہ مناسب ہے اور یقیناً یہ ضروری بھی تھا کیونکہ مہنگائی کی وجہ سے کم آمدنی والے طبقات کی گزراوقات بہت مشکل ہو گئی ہے، مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی بدحالی کے اس دور میں سب سے زیادہ مشکل سرکاری ملازمین اور دیگر تنخواہ دار طبقہ کو ہی ہے اس لئے وفاقی کابینہ کو چاہیے تھا کہ فوجی ملازمین کے ساتھ ہی ملک کے دیگر سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقہ کی تنخواہوں میں بہ یک وقت اضافہ کیا جاتا۔ کیونکہ ملک کے تمام شہریوں کو ایک ہی قسم کے مسائل کا سامنا ہے سب ہی ملازم پیشہ لوگ مہنگائی قلت اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، کسی ایک طبقہ کو اولیت دے کر باقی سرکاری ملازمین کے ساتھ ان کی رقابت کو نمایاں کرنا مناسب نہیں ہے۔ جہاں تک بلوچستان میں پولیس ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا تعلق ہے تو یہ متعلقہ پے پنشن کمیشن کی نااہلی ہے کہ صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں برابری اور مساوات کا اصول کیوں نہیں اپنایا گیا۔ پورے ملک میں صوبائی ملازمین کی تنخواہیں یکساں ہونی چاہیں۔ ان میں کوئی فرق روا رکھنا ناانصافی ہے۔
رینٹل پاور پراجیکٹس کی تنصیب بہت مہنگا پروگرام ہے۔ پاکستان کے پاس متعدد نجی پاور پراجیکٹس کام کر رہے ہیں ان میں بہت سے پراجیکٹس بند پڑے ہیں کیونکہ انہیں حکومت کی طرف سے ادائیگی نہیں کی گئی۔ کوٹ ادو کا پاور سٹیشن، فیصل آباد تھرمل پاور اور سندھ کے کئی بڑے پاور سٹیشن بند ہیں کیونکہ ان کی مین ٹینینس پر توجہ نہیں دی گئی۔ نئے پاور پراجیکٹس میں حکمرانوں کو سب سے زیادہ کشش شاید اس لئے بھی نظر آ رہی ہے کہ ان میں کمشن اور کک بیکس کی بہت زیادہ گنجائش ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ان نئے رینٹل پاور پراجیکٹس کی کوئی ضرورت نہیں ملک میں تھرمل پاور کے لئے جو پراجیکٹس موجود ہیں انہیں چالو کیا جائے ان کے بقایا جات ادا کئے جائیں ان کی دیکھ بھال کر کے انہیں ہی چلایا جائے۔ حکومت اگر پاور پراجیکٹس پر سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے تو پھر بھاشا ڈیم، کالا باغ ڈیم، داسوڈیم، منڈا ڈیم اور دیگر ڈیمز کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جائے تاکہ ملک میں انرجی کے بحران کا مستقل بنیادوں پر کوئی حل نکل سکے۔ رینٹل پاور پراجیکٹس بھی عارضی بندوبست ہے کل آپ ان کے بھی بقایا جات ادا کرنے کی بجائے نئے پراجیکٹس لگانے کی بات کریں گے۔ پاکستان کی معیشت اتنے مہنگے اور عارضی قسم کے پراجیکٹس پر سرمایہ کاری کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اس لئے پاکستان میں تھرمل بجلی کے موجود وسائل کو ہی استعمال میں لایا جائے۔ قومی سرمایہ کی لوٹ مار کر کے چند افراد کے بینک اکاؤنٹس کو مزید بھاری بنانے کی سازش نہ کی جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter