چین کی حقیقت پسندی اور پاکستانی قیادت کی بے حسی پاکستان کی وزارت خارجہ کو بھی دوٹوک فیصلے کرنے ہونگے

ـ 29 اگست ، 2010
عوامی جمہوریہ چین نے بھارت کے نادرن ایریا زون کے فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل بی ایس جسوال کو یہ کہتے ہوئے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے کہ انکی کمان میں جموں و کشمیر کا علاقہ بھی ہے‘ جسے چین متنازعہ سمجھتا ہے لہٰذا دورہ چین کیلئے انہیں ویزا جاری نہیں کیا جا سکتا۔
عوامی جمہوریہ چین کی طرف سے اختیار کئے گئے مؤقف سے قبل ورلڈ بنک بھی مقبوضہ کشمیر میں تعمیر ہونے والے کئی ڈیموں کیلئے قرضے دینے سے انکار کر چکا ہے‘ مقبوضہ کشمیر اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے‘ جہاں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی استصواب ہونا ہے۔ بھارتی حکومت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ تجویز پیش کی تھی اور کاغذات پر دستخط کئے تھے۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک کروڑ تیس لاکھ کشمیری 1948ء میں ہونیوالے اس معاہدے کی تکمیل کا انتظار کر رہے ہیں اور آج ان کشمیریوں کی تیسری نسل نے بھی بھارت کو کشمیر میں قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کشمیری عوام اگرچہ نہتے ہیں‘ مگر گزشتہ 63 برسوں میں انہوں نے کسی ایک دن بھی بھارتی سامراج کو کشمیر میں قبول نہیں کیا اور بھارت نے اپنی تمام اخلاقی اور قانونی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈال کر وہاں سات لاکھ سے زائد مسلح افواج کو متعین کر رکھا ہے۔ اسکے علاوہ پولیس اور بھارتی بارڈر فورس کی بھاری نفری بھی مقبوضہ کشمیر میں قدم قدم پر جدید ترین اسلحہ سے مسلح موجود ہے۔ نہتے کشمیری عوام سیاسی جلسہ کرتے ہیں‘ جلوس نکالتے ہیں‘ ریلیاں منعقد ہوتی ہیں‘ ان پرامن اجتماعات پر بھارتی فوج اور دیگر سیکورٹی فورسز وحشیانہ انداز میں فائرنگ کرتے ہیں‘ لاٹھی چارج ہوتا ہے‘ آنسو گیس کے شیل پھینکے جاتے ہیں اور گزشتہ بارہ برسوں میں ڈیڑھ دو لاکھ کشمیری نوجوان اس جدوجہد میں شہید ہو چکے ہیں‘ لاکھوں خواتین کے ساتھ بھارتی فوجیوں اور دیگر مسلح افراد نے درندگی کی‘ لاکھوں نوجوان اور بزرگ خواتین جام شہادت نوش کر گئیں۔
چین پاکستان کا دوست ہے‘ اسکی نظر میں یہ سارا پس منظر موجود ہے‘ جو قابل تحسین ہے مگر ہمارے ملک کے ان سیاسی لیڈروں کو اب تک شرم نہیں آئی‘ جو بھارت میں اور مقبوضہ کشمیر میں اپنے بھائیوں پر ہونیوالے اس بے پناہ ظلم و تشدد اور وحشیانہ سلوک کو نظرانداز کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ تجارت کرنے‘ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے اور ثقافتی وفود کے تبادلوں کی بات کرتے ہیں اور کوئی غیرنہیں‘ ہمارے اپنے بھائی امن کی آشا کے گیت گا رہے ہیں۔ ان گیت گانے والوں کو مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ٔکشمیر اور بھارتیو! جموں و کشمیر کو چھوڑ دو‘ جیسی تحریکوں کے قائد 80 سالہ کشمیری شیر سید علی گیلانی کی جدوجہد نظر نہیں آتی جن کیخلاف سینکڑوں مقدمات درج کرکے انہیں ایک پنجرے میں بند کر دیا ہوا ہے۔ جو لوگ بھارت کے متر بن کر یہ نغمے گا رہے ہیں‘ انکے بارے میں تو سب جانتے ہیں‘ مگر ہماری قومی لیڈر شپ کو تو شرم آنی چاہیے کہ ہم کس منہ سے بھارتی لیڈروں کو گلے لگاتے ہیں‘ کس ناطے سے یہاں انکی مہمان نوازیاں کرتے ہیں۔ ہمارا دوست ملک تو ایسے لوگوں کو ویزا بھی دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔
کیا ہم پاکستانی مسلمانوں کو اتنی بھی غیرت نہیں ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت اور فوج نے کئی ہفتوں سے نماز جمعہ کی ادائیگی سے بھی روک رکھا ہے اور ہم پاکستان میں انکے چینل اور ننگا ناچ گانا دیکھنے کیلئے پاکستانی سینمائوں میں انکی فلموں کی کھلے عام نمائش کر رہے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم سردار منموہن سنگھ کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں‘ مگر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی میں اتنی جرأت نہیں ہے کہ وہ اسے جواب دے کہ بھارتی وفد کوئی بات کرنے کے بجائے وقت ضائع کرتا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ بھارتی لیڈروں کے سامنے جو اداکاری کرتے ہیں اور جس خوشامدانہ انداز میں جعلی مسکراہٹیں بکھرتے ہیں‘ یہ پاکستانی عوام کو پسند نہیں۔ وہ امریکی آقائوں کے اشارے اور ہلیری کلنٹن کی موجودگی میں بھارت کو افغانستان تک راہداری دینے کیلئے فوراً تیار ہو جاتے ہیں‘ انہیں چاہیے کہ ایک صحیح پاکستانی کی حیثیت سے بھارت کے ساتھ تجارت کے تمام معاہدے فوری طور پر منسوخ کردیں۔ بھارت کی طرف سے سیلاب زدگان کی امداد کے نام پر جو پچاس ملین ڈالرز دینے کا اعلان کیا گیا ہے‘ اسے قبول کرنے سے انکار کر دیں۔ پاکستان کے عوام اس بھارتی امداد کو کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کے خون میں لتھڑا ہوا دیکھ رہے ہیں‘ اس میں سے ہمارے مسلمان بھائیوں کا خون ٹپک رہا ہے۔ گزشتہ روز بھی مقبوضہ کشمیر میں شدید مظاہرے ہو رہے ہیں اور آج بھی ہو رہے ہیں اور غیرتمند کشمیری عوام اپنی جدوجہد آزادی ایک تسلسل سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستانیوں کی بھاری اکثریت کشمیری عوام کی تحریک آزادی کی حمایت کر رہی ہے‘ مگر یہ کیسے پاکستانی ہیں جو کشمیریوں کی قربانیوں کو نظرانداز کرکے بھارت کو افغانستان تک راہداری بھی دینا چاہتے ہیں‘ بھارتی فلمیں دیکھنے کیلئے پاکستانی سینمائوں کو سجا رہے ہیں اور بھارت کے ساتھ امن کی آشا کے گیت گانے کیلئے تیار ہیں اور سیلاب زدگان کیلئے بھارتی امداد قبول کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کے حکمرانوں اور انکے ہمنوائوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ امریکہ پاکستان کا دوست نہیں ہے‘ وہ بھارت کا دوست ہے۔ امریکہ پاکستان میں بھارتی مفادات کی حفاظت کرنے کیلئے بھارت سے زیادہ مستعد ہے۔ امریکہ پاکستان کے نازک اور حساس مقامات میں اپنے فوجی اڈے قائم کر چکا ہے اور اسکی نظریں ہمارے ایٹمی اثاثوں پر ہیں‘ جو ہمارے دفاع کی ضمانت ہیں اور پاک فوج کی طرف سے یہ وضاحت خوش آئند ہے کہ پاکستان کی تاریخ کے انتہائی خوفناک اور تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونیوالے دو کروڑ سے زائد عوام کیلئے امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے بھی وہ اس نازک موقع پر بھارت کو بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ پاکستانی فوج کے لیڈروں کی یہ بات انتہائی دانشمندانہ ہے کہ بھارتی ہمارے دشمن ہیں اور ایسے دشمن جن پر کسی حال میں اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی فوج بخوبی اس بات کو سمجھتی ہے کہ بھارت ہر وقت کسی بھی موقع کی تلاش میں ہے اور پاکستان کے عوام اس بات پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ وہ ہر وقت اپنے دشمن کو پہچانتے ہیں اور اسکے مقابلے کیلئے مستعد اور ہوشیار ہیں۔
افواج پاکستان کی طرف سے یہ وضاحت پاکستان کی حکومت اور وزارت خارجہ کیلئے بھی ایک رہنماء اصول کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کو خواب غفلت سے جگایا جائے یا پھر اسکے چیئرمین مولانا فضل الرحمٰن کی جگہ کسی مستعد سیاست دان کو اس کا چیئرمین مقرر کیا جائے۔ صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان کو اب یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ ایک آزاد اور خودمختار اسلامی جمہوری فلاحی پاکستان کے لیڈر ہیں اور پاکستان کو جن مقاصد کیلئے حاصل کیا گیا تھا‘ بابائے قوم اور شاعرِ مشرق کے نظریات پر قائم رہ کر ہی اس ملک کو چلایا جا سکتا ہے۔ امریکہ کی ہدایات پر چلیں گے تو پھر زلزلوں اور سیلابوں سے بھی زیادہ خوفناک عذاب ہمارے منتظر ہونگے۔
میاں نواز شریف کا حرفِ حق
میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت ناکام ہوئی‘ جمہوریت نہیں‘ مارشل لاء کی دعوت نہ دی جائے‘ متاثرین کی بحالی کے سلسلے میں صوبوں کو بائی پاس کرنا خطرناک ہو گا۔
حکومت جس طرح کی کارکردگی دکھا رہی ہے‘ اس نے فی الواقع حکومت اور جمہوریت کو الگ الگ کردیا ہے۔ جمہوریت ہے جس کے باعث پاکستان کی ساکھ کچھ نہ کچھ برقرار ہے‘ وگرنہ حکومت تو کب کی ناکام ہو چکی ہے اور جمہوریت اس کا لاشہ اٹھائے ہوئے ہے۔ میاں نواز شریف محب وطن لیڈر ہیں اور تعاون پر ہر برے وقت میں آمادہ اپوزیشن لیڈر‘ مگر حکومت انکے ساتھ بھی ہاتھ کر گئی اور انکے کھلے تعاون کا ایک انداز میں مذاق اڑایا وگرنہ اب تک حکومت اپوزیشن مل کر مجوزہ کمیشن بنا چکی ہوتی جس کے متاثرین سیلاب پر بہت مثبت اثرات پڑتے۔
میاں صاحب نے بجا طور پر کہا ہے کہ اب جبکہ بڑی مشکلات کے بعد ملک میں جمہوریت لوٹ کر آئی ہے تو مارشل لاء کو آواز نہیں دینی چاہیے اس لئے کہ فوج جو کام مارشل کے ذریعے کر سکتی ہے‘ اس سے بہتر طور پر وہ ایک سویلین حکومت اور جمہوریت کے تابع رہ کر انجام دے سکتی ہے۔ ہمارے دشمن چاہتے ہیں کہ اس ملک میں جمہوریت نہ ہو‘ مارشل لاء نافذ ہو تاکہ حکومت کو بھی زیر نگیں بنا کر ملک میں نادر شاہی قائم کر دی جائے اور فوج اپنا اصل کام چھوڑ کر سیاست میں پڑ جائے جو کہ بہت بڑ قومی ا نقصان ہے۔ متاثرین کی بحالی کا جہاں تک تعلق ہے تو مرکزی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ یہ کام صوبوں کے حوالے کرے اور اسے فنڈز بھی فراہم کرے وگرنہ صوبائی خودمختاری مجروح ہو گی اور اسکے منفی اثرات سے مرکزی حکومت بھی نہیں بچ سکے گی۔ حکومت نواز شریف کی آواز کو گوشِ ہوش سے سنے کہ یہی اسکی صحت کیلئے مفید ہے۔ میاں صاحب کا یہ فرمانا کہ الطاف حسین کا بیان منطق سے بالاتر ہے مگر شاید وہ یہ ضرور سمجھ گئے ہیں کہ مارشل لاء کی آمد میں ایم کیو ایم کا مفاد پوشیدہ ہے۔
امریکہ ڈرون حملے بند کرے
سیلاب زدگان کی مدد کیلئے جو غیر ملکی رضا کار مختلف ممالک سے امدادی سامان لے کر پاکستان آئے ہیں اور مصیبت میں گھرے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی طرف سے ان انسان دوست لوگوں کی حوصلہ شکنی کیلئے خبریں اڑائی گئی ہیں کہ طالبان یا انتہا پسند ان لوگوں پر حملے کرسکتے ہیں۔
جو لوگ انسانی خدمت کے جذبہ کے ساتھ مصیبت زدہ لوگوں کی خدمت کیلئے پاکستان آئے ہیں خواہ یہ لوگ کسی مذہب و ملت سے تعلق رکھتے ہوں یہ پاکستان کے مہمان ہیں حکومت پاکستان اور انتظامیہ کو انکی حفاظت کیلئے ہرممکن اقدامات کرنے چاہئیں۔ پاکستان میں جن لوگوں پرانتہا پسندی کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ وہ بھی مسلمان ہیں اور اسلام میں انسانیت سے محبت پیار اور انسانی خدمت کو بہت بلند مقام دیا گیا ہے۔ انہیںچاہئے کہ وہ اسلامی تعلیمات کو پیشِ نظر رکھیں اور پاکستان کے سیلاب زدہ اور مسائل سے بد حال عوام کیلئے مزید مشکلات پیدا نہ کریں۔
حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ امریکی حکومت سے مطالبہ کرے کہ سیلاب زدہ عوام کے مسائل حل کرنے میں مصروف حکومت پاکستان اور اسکے شہریوں کو اس طرح کی ہوائیوں سے پریشان نہ کریں اور امریکی حکومت کو چاہئے کہ قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بند کئے جائیں پاکستان میں بد امنی اور خوفناک دھماکوں کی روایت ان ڈرون حملوں سے ہی شروع ہوئی ہے امریکی قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کر رہا ہے اور قبائلی خاندان کے جو لوگ ایسے حملوں میں بچ جاتے ہیں وہ اپنے عزیز و اقرباء کا بدلہ لینے کیلئے خود کش بمبار کا روپ دھار لیتے ہیں اس لئے امریکہ ڈرون حملے بند کرے تو پاکستان کو خود کش حملوں سے بہت حد تک نجات مل سکتی ہے۔
قیمتوں پر کنٹرول
رمضان کے بعد بھی جاری رکھیں
حکومت پنجاب نے رمضان المبارک کے دوران عوام کو سستی و معیاری اشیاء صرف کی فراہمی کیلئے انتظامات کئے ہیں اور یہ خوش آئند دعویٰ کیا گیا ہے کہ رمضان المبارک میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو مقررہ نرخوں پر رکھنے اور معیاری اشیاء کی فراہمی کیلئے گیارہ سو پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی تعینات کئے گئے ہیں۔ تمام کمشنرز‘ ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن آفیسرز بھی اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے یہ سب انتظامات قابل تحسین ہیں‘ اس کیلئے وہ یقیناً داد کے مستحق ہیں۔ مگر وہ یہ بتائیں کہ رمضان المبارک سے پہلے اور بعد کے عام دنوں میں بھی غریب عوام نے روٹی ہی کھانی ہے‘ روٹی وہ تب ہی کھا سکتے ہیں‘ اگر انہیں کہیں روزگار ملے گا جن کی جیب میں خریدنے کیلئے تھوڑی بہت رقم ہے‘ وہی کچھ خرید سکیں گے مگر وہ لوگ جو برسوں سے نوکریاں ڈھونڈ رہے ہیں‘ بھوک افلاس اور بیروزگاری سے تنگ آکر خودکشیاں کر رہے ہیں‘ اپنے بچوں کو بیچ رہے ہیں‘ وہ کیا کرینگے؟
وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو چاہیے کہ یہ سارے انتظامات جو انہوں نے رمضان المبارک کیلئے کئے ہیں‘ سارا سال جاری رکھیں‘ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ سرکاری ملازم ہیں‘ وہ سارا سال کام کیوں نہیں کر سکتے؟ عوام کو کم از کم قیمت پر آٹا‘ چینی‘ چاول اور گھی فراہم کیجئے‘ عارضی اور وقتی انتظامات کرنے کی بجائے مستقل بنیادوں پر انتظامات کئے جائیں‘ غریب لوگ سارا سال روٹی کھاتے ہیں‘ اور انہیں ہر روز اشیاء صرف کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں صرف رمضان المبارک کیلئے نہیں‘ ہمہ وقت کم قیمت پر اشیاء صرف مہیا کی جائیں۔ سستے بازار اور قیمتوں پر کنٹرول کے انتظامات سارا سال جاری رکھیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter