نواز‘ زرداری ملاقات … عوام کو کیا ملا؟

ـ 28 اکتوبر ، 2009
صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے درمیان ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں آئین سے تمام غیر جمہوری شقیں ختم کرنے، میثاق جمہوریت پر عمل کرنے اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
تین ساڑھے تین ماہ کی مدت کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے درمیان ملاقات ایسے ماحول میں ہوئی‘ جب پاک فوج سوات آپریشن کے بعد وزیرستان آپریشن کا آغاز کر چکی ہے، کیری لوگر بل کی منظوری پر حکومت اور پاک فوج کے مابین نقطہ نظر کا اختلاف سامنے آچکا ہے، سپریم کورٹ کی ہدایت کیمطابق این آر او کا بدنام زمانہ آرڈیننس پارلیمنٹ میں پیش کر دیا گیا ہے جبکہ 17ویں ترمیم کے خاتمہ کیلئے صدر زرداری اور حکومت کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوا اور آئینی اصلاحات کی کمیٹی کئی ماہ سے اپنی رپورٹ مکمل نہیں کر سکی۔ کیری لوگر بل کی متنازعہ شقوں کے حوالے سے پاک فوج کے تحفظات سامنے آنے کے بعد عام سیاسی و مذہبی قوتوں نے اس بل کو قومی مفادات کے منافی قرار دیا ہے لیکن وفاقی کابینہ نے اسے قبول کر کے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ان تحفظات اور مخالفت کو کوئی اہمیت دینے کیلئے تیار نہیں۔ حکومت کے اس روئیے کی وجہ سے نہ صرف جمہوری نظام کیلئے خطرات میں اضافہ ہوا بلکہ حکومت اور اپوزیشن میں نئی محاذ آرائی کے خدشات نے بھی جنم لیا۔
توقع یہ کی جا رہی تھی کہ ملک کی ابتر معاشی صورتحال‘ دہشت گردی کے واقعات میں اضافے‘ سیاسی تنائو اور جمہوری نظام کو درپیش ممکنہ خطرات کے پیش نظر ملک کی دو مقبول اور اتحادی جماعتوں کے سربراہان کی ملاقات کامیابی سے ہمکنار ہو گی‘ قوم کو جنرل (ر) پرویز مشرف کی طرف سے 17ویں ترمیم کے ذریعے آئین میں تجاوزات کے خاتمے‘ وزیراعظم کے غصب کئے گئے اختیارات کی واپسی‘ میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کیلئے آئینی اقدامات‘ این آر او اور کیری لوگر کے بارے میں عوامی خواہشات کے مطابق فیصلوں کا مژدہ سنایا جائیگا تاکہ جمہوری سیاسی نظام موجودہ جمود کی کیفیت سے نکلے‘ پارلیمانی جمہوریت بحال ہو اور پارلیمنٹ و حکومت گڈگورننس کے ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوں۔
اس وقت ملک بدترین بدامنی‘ دہشت گردی‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ لوڈشیڈنگ‘ کرپشن‘ کساد بازاری کا شکار ہے‘ امریکہ بھارت اور اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ نے ہماری سلامتی کیلئے خطرات بڑھا دیئے ہیں۔ جمہوری نظام کی بحالی اور حکومت کی تبدیلی کا کوئی فائدہ عوام کو نہیں ہوا حتٰی کہ پرویز مشرف کی امریکہ نواز عوام دشمن اور جمہوریت مخالفت پالیسیاں بھی تبدیل نہیں ہوئیں۔ اگر حکومت اور اسکی فرینڈلی اپوزیشن مسلم لیگ (ن) مل جل کر سابقہ پالیسیاں تبدیل نہیں کرتیں‘ عوامی مسائل کے حل پر توجہ نہیں دیتیں اور امریکہ و بھارت کے دبائو کا مقابلہ نہیں کرتیں تو عوام میں پیدا ہونے والی مایوسی کا فائدہ بہرصورت غیرجمہوری‘ غیرسیاسی قوتیں ہی اٹھائیں گی۔ وہ عوام کو یہ باور کرانے میں اب بھی مصروف ہیں کہ جمہوریت کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے‘ قومی مفادات کا سودا کیا جا رہا ہے‘ قومی سلامتی اور قومی سلامتی کے ضامن ایٹمی پروگرام کو خطرہ ہے اور قومی عزت و وقار کا سودا کیا جا رہا ہے‘ توقع تھی کہ گزشتہ شب کی ملاقات میں عوام کو کوئی خوشخبری سننے کو ملے گی مگر ملاقات کے بعد وعدہ فردا اور ایک بار پھر مل بیٹھے پر اتفاق رائے کے سوا کچھ سامنے نہیں آیا۔
اس کے باوجود دونوں لیڈروں نے آئین سے غیرجمہوری شقیں ختم کرنے اور موجودہ جمہوری نظام کو مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے تو یہ اس لحاظ سے مستحسن بات ہے کہ کوئی بھی جمہوری نظام کو غیرمستحکم دیکھنا نہیں چاہتا مگر اب عوام نتائج کے خواہش مند ہیں‘ وہ ڈیڑھ پونے دو سال سے وعدہ فردا پر ٹرخاتے جا رہے ہیں۔ اگر میاں صاحب گڈگورننس کی عدم موجودگی اور سترہویں ترمیم کی واپسی میں ٹال مٹول کے باوجود موجودہ حکومت کو مزید وقت دینا چاہتے ہیں تو یہ انکی سیاسی عالی ظرفی ہے لیکن دونوں لیڈروں اور جماعتوں کو یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہئے کہ انکی بے نتیجہ ملاقاتوں اور کسی بہتر کارکردگی کے بغیر شخصی طرز حکمرانی سے عوام کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے‘ عوام نے 2008ء کے انتخابات میں تبدیلی کیلئے ووٹ دیا تھا‘ وہ آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل اور گڈگورننس چاہتے تھے‘ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ لوڈشیڈنگ اور بدامنی کا خاتمہ انکی ترجیحات میں شامل تھا‘ دہشت گردی کے نام پر امریکی کروسیڈ سے جان چھڑا کر قومی سلامتی اور دفاع پر توجہ دینے اور جمہوری نظام کے استحکام کیلئے اقدامات کرنے کی عوامی خواہش کو پورا کرنا موجودہ حکومت اور اسکی حلیف جماعتوں کی ذمہ داری تھی جبکہ ایٹمی پروگرام کا تحفظ بھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔ مگر آہستہ آہستہ عوام یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ منتخب سیاست دان اور مقبول قائدین ماضی کی طرح اقتدار کے تحفظ اور ایک دوسرے کو سہولتیں فراہم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں‘ جس سے مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ زرداری صاحب اور میاں صاحب اگر واقعی ایک دوسرے کے علاوہ جمہوری نظام سے مخلص ہیں اور جمہوریت کا استحکام اور عوامی مسائل کا حل چاہتے ہیں تو اس ملاقات کے مفید نتائج اگلے چند دنوں میں سامنے آنے چاہئیں اگر ان ملاقاتوں کا مقصد کسی قوت کو مخصوص پیغام دینا تھا تو اسکی افادیت تو نتیجہ خیز اقدامات کے بغیر کچھ نہیں۔ میاں صاحب نے گیند زرداری صاحب کی کورٹ میں ڈال دی ہے‘ عوام صرف قائدین کی مسکراہٹ‘ پرتکلف کھانوں کی تفصیل اور خوبصورت وعدہ فردا سے ہی لطف اندوز ہوئے ہیں۔
مسئلہ کشمیر کا واحد حل
یو این قراردادوں پر عملدرآمد
پاکستان اور ترکی نے بین الاقومی معاملات میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کیمطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ آزاد کشمیر کے دورے کے دوران صدر آزاد کشمیر کی طرف سے دئیے گئے استقبالیہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی جغرافیائی اعتبار سے تھوڑا دور ہو سکتا ہے مگر پاکستان اور آزاد کشمیر ہمارے دل کے بہت قریب ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارے تمام پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات ہیں اور ہم مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم ترکی سے کہا کہ وہ کشمیریوں کی آزادی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ یو این قراردادوں کیمطابق کشمیری عوام کو خود ارادیت کا حق دئیے بغیر مسئلہ کشمیر کا کوئی حل پائیدار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی دوسرا حل کشمیری عوام اور پاکستانی قوم کیلئے قابل قبول ہو سکتا ہے۔ بھارت خود کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ لے کر گیا تھا اور یو این سلامتی کونسل نے اپنی دو الگ الگ قراردادوں کے تحت کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے بھارت پر اس کی روشنی میں مسئلہ کشمیر حل کرنے پر زور دیا تھا جس سے بھارت منحرف ہوا اور اب تک اس نے کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ جمایا ہوا ہے۔ کشمیر پر پاکستان بھارت دوطرفہ مذاکرات کا سلسلہ تو گزشتہ 60 سال سے جاری ہے مگر یہ مذاکرات ابھی تک اس لئے نتیجہ خیز نہیں ہو سکے کہ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنائے رکھنے کی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ اگرچہ بھارتی وزیر داخلہ چدم برم نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے حریت پسند گروپوں کو بھی مذاکرات میں شامل کرنے کا عندیہ دیا ہے اور وزیر خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی نے بھارت کو پھر کشمیر پر مذاکرات کی دعوت دی ہے جبکہ آل پارٹیز حیرت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے بھی لندن میں کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ بھارت کو مسئلہ کشمیر سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہو گا تاہم یہ مذاکرات اس وقت تک سودمند نہیں ہو سکتے جب تک بھارت کشمیریوں کو یو این قراردادوں کیمطابق خود ارادیت کا حق دینے پر آمادہ نہیں ہوتا اس لئے مسئلہ کشمیر کا بہترین، پائیدار اور قابل قبول حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدآرمد ہی ہے تاکہ کشمیری عوام اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکیں۔ اگر دو طرفہ مذاکرات کی تان اسی پر ٹوٹتی ہے کہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ تسلیم کرلیا جائے جس کیلئے بھارت ساری منصوبہ بندی کر چکا ہے اور کشمیر پر پاکستان کے دیرینہ اور اصولی مؤقف کو کمزور کرنے کیلئے جہاد کشمیر کو دہشت گردی کے کھاتے میں ڈالوانے کیلئے تُلا بیٹھا ہے تو اس فضا میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا لاحاصل ہو گا۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ترک وزیراعظم پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار بروئے کار لانے کیلئے کہا ہے جبکہ ترک وزیراعظم یو این قراردادوں کیمطابق مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے متفق ہیں‘ اس لئے بھارت کیساتھ دوبارہ مذاکرات کے قضیہ میں پڑے بغیر یو این قراردادوں کیمطابق مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت پر عالمی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ بھارت تو کل کو دہشت گردی کے اپنے خود ساختہ کسی دوسرے ڈرامہ کو بہانہ بنا کر پھر مذاکرات کی میز الٹا سکتا ہے اس لئے مذاکرات کا کھیل کھیلنے کے بجائے اسے یو این قراردادوں پر عملدرآمد کی راہ پر لگایا جائے یہی کشمیری عوام کی تمنا بھی ہے اور مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کی ضمانت بھی۔
سنیٹر جان کیری کی ملفوف دھمکی
امریکی سنیٹر جان کیری نے کہا ہے کہ پاکستان القاعدہ کا مرکز ہے جبکہ القاعدہ کی جانب سے امریکہ کو حملوں کا خطرہ برقرار ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز امریکی سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی بے رخی سے پاکستان عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے اور اس طرح القاعدہ کا مرکز ہونے کے باعث نہایت آسانی کے ساتھ پوری دنیا میں انتہاپسندی کا آتش فشاں ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی جمہوریت کو بہت سے خطرات لاحق ہیں اور افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے‘ اس کا اثر بھی پاکستان پر پڑ رہا ہے۔
سنیٹر جان کیری کا یہ بیان درحقیقت اس امریکی منصوبہ بندی کی نشاندہی ہے جس کے تحت وہ القاعدہ کے خاتمہ کی آڑ میں افغانستان کی طرح پاکستان کا بھی تورا بورا بنانا چاہتا ہے اور ہمارے حکمران جرنیلی آمریت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بندے مار مہم میں نہ صرف امریکی احکام کی تعمیل کررہے ہیں بلکہ پاکستان میں افغانستان جیسی امریکی کارروائی کیلئے بھی اسکی معاونت کررہے ہیں۔ جس سنیٹر جان کیری نے اپنے متعارف کرائے گئے کیری لوگر بل میں پاکستان کو دہشت گرد ریاست تسلیم کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی وہ بھلا ہماری سلامتی اور آزادی و خودمختاری کے معاملے میں ہمارے خیرخواہ کیسے ہوسکتے ہیں‘ اس لئے ہماری سیاسی‘ حکومتی اور عسکری قیادتوں کو ان کی جانب سے پاکستان کو القاعدہ کا مرکز قرار دینے پر ملک کی سالمیت کیلئے فکرمند ہونا چاہئے کیونکہ اب ڈرون حملوں کیساتھ ساتھ پاکستان میں امریکی افواج کی زمینی کارروائی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارا مکار دشمن بھارت پہلے ہی امریکی سرپرستی میں ہماری سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کیلئے تلا بیٹھا ہے جبکہ اب سنیٹر جان کیری نے اپنی ملفوف دھمکی کے ذریعے ہماری سالمیت کیخلاف امریکی عزائم بھی کھول کر بیان کردئیے ہیں۔ اس صورتحال میں حکومتی اور عسکری قیادت کو ملک کی سرحدوں کی حفاظت اپنی اوّلین ترجیح بنانی چاہئے اور دشمن کے عزائم بھانپ کر اپنے گھوڑے تیار رکھنے چاہئیں۔
لاہور: ایک دن میں
62وارداتیں‘ پولیس کہاں؟
صوبائی دارالحکومت میں گزشتہ روز ڈکیتی چوری اور رہزنی کی 61 وارداتوں میں لاکھوں کی نقدی زیورات گاڑیاں موبائل اور دیگر قیمتی اشیاء لوٹ لی گئیں۔ ڈاکوئوں نے مزاحمت پر متعدد افراد کو فائرنگ کرکے زخمی کر دیا۔ ایک روز قبل ڈیفنس میں 20 لاکھ کی ڈکیتی کے دوران چوکیدار کو قتل کر دیا گیا تھا۔
ایک دن میں 61 وارداتوں کا ہونا افسوسناک اور انتظامیہ کی نااہلی کا ثبوت ہے اور یہ وارداتیں ان حالات میں ہو رہی ہیں جب شہر میں ہر سڑک پر پولیس ناکے لگائے کھڑی ہے۔ چوبیس گھنٹے پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے گشت کرتے ہیں۔ ایسے میں وارداتیوں کا دندناتے پھرنا حیران کن ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پولیس جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کرتی ہے۔ کئی پولیس اہلکار خود ڈکیتی کی وارداتیں کرتے بھی پکڑے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف کی طرف سے پولیس کی تنخواہیں ڈبل کرنے سے امید پیدا ہوئی تھی کہ یہ لوگ اپنے اللے تللے چھوڑ کر دیانتداری سے کام کریں گے جس سے عوام کو سکون کا سانس لینے کا موقع ملے گا لیکن پولیس نے عوام اور وزیراعلیٰ کو مایوس کیا ہے۔ تنخواہوں میں اضافے کے بعد اس کی کارکردگی انحطاط پذیر ہے۔ جس کا ثبوت ایک دن میں61 وارداتوں کا رپورٹ ہونا ہے اور ایسی بھی کئی ہونگی جن کی رپورٹ نہیں کی گئی۔ پولیس کی کارکردگی ہو سکتا ہے کہ اسکی تربیت کی وجہ سے ہو۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پولیس کی تربیت فوج کرے یا تمام پولیس والوں کو فوج میں بھیج دیا جائے اور فوج سے پولیس کیلئے لوگ لئے جائیں اور یہ ہر چار پانچ سال بعد بدلتے رہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں