نیٹو حملہ! دفاعی کابینہ کمیٹی کا سخت جواب دینے کا فیصلہ اور پاک فوج کی تیاری
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں امریکہ کے ساتھ تعاون پر مکمل نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں نیٹو اور امریکہ کے مہمند ایجنسی میں وحشیانہ فضائی حملے سے ملک کی سالمیت کیلئے پیدا ہونیوالی سنگین صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے نیٹو کی سپلائی لائن فوری طور پر بند کرنے کا اعلان اور امریکہ سے شمسی ایئربیس 15 دن کے اندر اندر خالی کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ ملک کی خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ نیٹو فضائی حملے پر امریکہ سے سخت احتجاج کیا جائیگا اور نیٹو سے شہداءکو معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا جائیگا۔ عوام اور فوج ملک کی سالمیت کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں گے جبکہ نیٹو کی جانب سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائیگا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ وزیراعظم پاک امریکہ تعلقات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے‘ اجلاس میں نیٹو حملے کے بعد پاکستان کی جانب سے جوابی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادتوں کے علاوہ خارجہ‘ دفاع‘ خزانہ اور اطلاعات کے وفاقی وزراءاور سیکرٹری دفاع نے بھی شرکت کی۔
امریکی نیٹو فورسز کی جانب سے پاکستان کی چیک پوسٹوں پر یہ پہلا فضائی حملہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی پانچ بار پاکستان کی چیک پوسٹوں کو ٹارگٹ کرکے فضائی حملے کئے جا چکے ہیں اس لئے امریکی نیٹو حکام کا یہ عذر تو کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتا کہ مہمند ایجنسی میں کسی غلط فہمی کے نتیجہ میں حملہ ہوا ہے۔ اس بارے میں آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس بھی واضح طور پر باور کرا چکے ہیں کہ نیٹو نے جس جگہ پر حملہ کیا‘ وہ علاقہ شدت پسندوں سے پہلے ہی کلیئر ہے اس لئے یہ بہانہ نہیں بنایا جا سکتا کہ یہ حملہ دہشت گردوں کا پیچھا کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں نیٹو کی کارروائی دانستہ اور اشتعال انگیز ہے۔
اگرچہ امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے مہمند ایجنسی میں امریکی نیٹو فضائی حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ ایسے کسی واقعہ کا آعادہ نہ ہونے دینے کا یقین دلایا ہے جبکہ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر کیمرون منٹر نے اس حملے کی پاکستان کے ساتھ مل کر تحقیقات کرانے کا بھی عندیہ دیا ہے‘ اسکے باوجود ملک کی سالمیت کے حوالے سے امریکہ اور اسکے اتحادی ہمارے لئے قابل اعتبار نہیں رہے اور انکی جانب سے کسی بھی وقت پاکستان کی سرزمین پر بھی افغانستان جیسی کارروائی کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اس تناظر میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمیدگل کا یہ موقف حقائق کے عین مطابق ہے کہ امریکہ کی افغانستان ‘ پاکستان (افپاک) پالیسی سے ہی یہ واضح ہو گیا تھا کہ اس خطہ میں اسکے مفادات کی جنگ میں اس کیلئے پاکستان اور افغانستان کی حیثیت یکساں ہے چنانچہ جس جنگی جنون کا مظاہرہ اس نے افغان دھرتی پر کیا‘ ایسی ہی پاکستان کی دھرتی پر کارروائی کو بھی وہ اپنا استحقاق سمجھتا ہے اور مہمند ایجنسی میں پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملہ اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔
اس صورتحال میں یقیناً ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ کو اپنا دشمن گردان کر پاک امریکہ تعلقات پر نظرثانی کا محض عندیہ ہی نہ دیں‘ اس کیلئے عملی اقدامات بھی بروئے کار لائیں اور امریکی مفادات کی جنگ سے مکمل خلاصی حاصل کرکے اولین اقدام کے طور پر قبائلی علاقوں میں جاری فوجی اپریشن فی الفور بند کر دیں۔ صرف چیک پوسٹوں پر حملے کو ہی ملک کی سالمیت اور خودمختاری پر حملہ نہ سمجھیں بلکہ ملک کی شہری آبادیوں پر ہونےوالے ڈرون حملوں کو بھی واضح طور پر ملک کی سلامتی اور خودمختاری پر حملہ قرار دیکر اس کا فوری‘ موثر اور ٹھوس توڑ کریں۔
ملک کی سرحدوں کی حفاظت و دفاع ہی ملک کی مسلح افواج کا بنیادی فریضہ ہے اس لئے انہیں ملک کی حفاظت کی خاطر ہمہ وقت مستعد و چوکنا رہنا چاہیے اور ملک کی فضائی اور زمینی حدود میں جارحیت کا ارتکاب کرنے یا اسکی نیت سے آنیوالے کسی بھی بیرونی حملہ آور کو بچ کر واپس جانے کا موقع نہیں دیا جانا چاہیے۔ اب پاکستان کے اندر سے نیٹو کی سپلائی روک کر بے شک امریکہ اور نیٹو فورسز کو سخت پیغام دیا گیا ہے تاہم مہمند ایجنسی میں پاکستان کی چیک پوسٹوں پر حملہ کرنیوالے امریکی نیٹو ہیلی کاپٹروں کو بھی اس کارروائی کے بعد واپس جانے کا موقع نہیں ملنا چاہیے تھا۔ اول تو راڈار سسٹم سے ان ہیلی کاپٹروں کو پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوتا دیکھ کر ان کا تعاقب کیا جاتا تاکہ انکی جانب سے پاکستان کی چیک پوسٹ پر سفاکانہ حملے کی نوبت ہی نہ آتی مگر نہ جانے کس مصلحت کے تحت ان ہیلی کاپٹروں کا پیچھا نہ کیا گیا اور انہیں پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملہ آور ہونے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اس معاملہ کی بھی اعلیٰ سطح پر انکوائری ہونی چاہیے اور آئندہ ایسی کسی کارروائی کی تو امریکی نیٹو فورسز کیلئے کوئی گنجائش ہی پیدا نہیں ہونے دینی چاہیے ورنہ وہ ہماری دفاعی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ہمیں کسی بھی وقت افغانستان جیسے حالات سے دوچار کر سکتا ہے جو اسکی مفادات کی جنگ کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔
یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ امریکی نیٹو فورسز کی جانب سے ملک کی سالمیت کو لاحق خطرات کو محسوس کرکے تمام قومی سیاسی قائدین اور پوری قوم دشمن کی ممکنہ جارحیت کے مقابلہ کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن گئی ہے‘ اس نازک صورتحال میں سیاسی اختلافات و ترجیحات کو بالائے طاق رکھ کر ملکی اور قومی دفاع کی مشترکہ حکمت عملی طے کرنا ہی وقت کا اولین تقاضہ ہے جس کیلئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی‘ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر‘ اسفندیار ولی‘ مولانا فضل الرحمان کو ایوان صدر بلا کر ان سے مشاورت کی جس کی روشنی میں بعدازاں وزیراعظم گیلانی نے ‘ میاں نوازشریف‘ چودھری نثار علی خان‘ چودھری شجاعت حسین‘ عمران خان اور فاروق ستار سمیت تمام اہم قومی سیاسی قائدین سے فون پر مشاورت کی۔ اپوزیشن قائدین نے امریکی نیٹو فورسز کی جارحیت پر حکومت کی جانب سے سخت ترین موقف اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے اور یقیناً موجودہ صورتحال کسی نرمی کی متقاضی بھی نہیں ہے۔ آج اگر امریکہ کو پاکستان کی سالمیت کیلئے پوری قوم کے متحد و یکجا ہونے کا ٹھوس پیغام نہ دیا گیا تو وہ اس خطے میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ اس لئے اب سیکورٹی فورسز کے ارکان کی طرح ملک کے ہر شہری کی جان کو قیمتی سمجھا جائے اور امریکی ڈرون حملوں پر بھی ایسا ہی سخت موقف اختیار کیا جائے جیسا مہمند ایجنسی میں چیک پوسٹ پر حملے کیخلاف نیٹو کی سپلائی روک کر اختیار کیا گیا ہے۔ اگر امریکی مفادات کی جنگ میں ہماری جانب سے یہ پالیسی شروع دن سے اختیار کرلی جاتی تو امریکہ کو ہمیں بھی افغانستان سمجھ کر اس خطہ کیلئے ”افپاک“ پالیسی ترتیب دینے کی جرات نہ ہوتی۔ اب عمران خان کے بقول ہمارے لئے امریکی جنگ سے نکلنے کا یہی بہترین موقع ہے جس میں ہمارے حکمرانوں کی جانب سے کسی پس و پیش کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہیے۔ نیٹو کی سپلائی لائن تو اب کسی صورت بحال نہیں کی جانی چاہیے جبکہ امریکی ڈرون حملوں کا توڑ کرنا اور جواب دینا بھی ہماری دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
اس معاملہ میں حکومتی عسکری قیادتیں جو بھی فیصلہ کرینگی اور جو بھی حکمت عملی طے کرینگی‘ اس پر عملدرآمد کیلئے پوری قوم انکے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی۔ اب کسی نرمی کی کوئی گنجائش ہے‘ نہ ملک اس کا متحمل ہو سکتا ہے۔ غیور قومیں دشمن کے ساتھ مفاہمت نہیں‘ میدان میں اس کا مقابلہ کیا کرتی ہیں کیونکہ دشمن کے ساتھ مفاہمت اپنی آزادی اور خودمختاری کو دانستہ طور پر اسکے حوالے کرنے اور اسے ملک کی سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کا سنہری موقع دینے کے مترادف سمجھی جائیگی۔
حکومت عراقی سفیر کی پیشکش کو فی الفور قبول کرے
پاکستان میں تعینات عراق کے سفیر ڈاکٹر رشدی الاینی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے کام شروع کر رہا ہے جس کیلئے وہ پاکستان سے وسیع تعاون چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کو سستا تیل‘ ایل پی جی دینے اور اس سے چاول درآمد کرنے کیلئے تیار ہیں‘ اس میں اگر کوئی دیر ہے تو پاکستان کی طرف سے ہے۔
پاکستان اور عراق اگرچہ جغرافیائی اعتبار سے دو الگ ملک ہیں لیکن مذہبی‘ ثقافتی اور تاریخی اعتبار سے دونوں کی جڑیں اکٹھی ہیں۔ امریکہ نے عراق پر حملہ آور ہو کر جب بصرہ اور کوفہ میں خون کی ندیاں بہائیں‘ تب پاکستانیوں کے دل خون کے آنسو روتے تھے۔ امریکہ کی عراق میں مسلم کش جنگ کے بعد عراق کی بحالی اور تعمیر نو کا کام شروع ہو چکا ہے۔ عراقی سفیر کی کوشش ہے کہ اس میں افرادی قوت پاکستان اور بالخصوص پنجاب سے لی جائے۔ عراق کو تعمیرنو کے کاموں کیلئے ہر شعبے میں کم و بیش پانچ لاکھ افراد کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز ڈاکٹر رشدی الاینی نے ایڈیٹر انچیف نوائے وقت مجید نظامی سے ملاقات کی اور انہیں ذاتی طور پر کردار ادا کرنے کی استدعا کی ہے‘ جنہوں نے گزشتہ شام ان کےساتھ ملاقات میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے کہا کہ انہیں آگے بڑھ کر عراقی سفیر کی اس پیشکش کو قبول کرنا چاہیے تاکہ نوجوان نسل کیلئے روزگار کے موقع پیدا ہو سکیں۔ آج انکی سفیر عراق سے ملاقات بھی طے تھی‘ امید ہے اسکے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین توانائی کے بحران کا رونا رو رہے ہیں‘ انہیں چاہیے کہ عراق کی سستا تیل اور ایل پی جی دینے کی پیشکش کو فی الفور قبول کریں تاکہ توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔ دوسری طرف عراق پاکستان سے چاول کی درآمد کا بھی متمنی ہے‘ لیکن عراقی سفیر کا شکوہ ہے کہ پاکستانی حکومت انہیں اس سلسلے میں کوئی موثر جواب نہیں دے رہی۔ حکومت اس سلسلے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر پاکستان انکی ضرورت پوری نہیں کریگا‘ تو وہ کسی دوسرے ملک کی طرف رجوع کرینگے لہٰذا وزیر تجارت سر سے پانی گزرنے سے پہلے عراق کی ضروریات پوری کرکے اپنی معیشت کو مستحکم کریں‘ وہ ایک اسلامی ملک ہے۔ امام حسینؓ سے لےکر غوث اعظمؒ تک بزرگان دین کے مزارت مقدسہ وہاں موجود ہیں‘ ہمارا مذہبی تشخص ایک جیسا ہے۔ لہٰذا حکومت پاکستان کو عراق کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر رابطے قائم رکھنے چاہئیں۔
کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ
نیٹو کے حملے کے بعد کنٹرول لائن پر بھارتی فوج نے پاکستانی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کردی۔ کرشنا گھاٹی سیکٹر میں دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ دو گھنٹے جاری رہا۔ جوابی کارروائیوں پر دشمنوں کی گنیں خاموش ہو گئیں‘ کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔ پاکستانی قیادت اس بات کا اندازہ لگا لے کہ کس طرح نیٹو کے حملے کے فوراً بعد بھارت نے بھی کنٹرول لائن پر پاکستانی چوکیوں کو گولہ باری کا نشانہ بنا ڈالا۔ گویا پاکستان کو خالہ جی کا باڑا سمجھ لیا گیا ہے کہ جس کا جی چاہے‘ منہ اٹھائے‘ پاکستان کی سرحدوں کا رخ کرلے۔ پاکستان کی سورما فوج نے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں تو بھارتی لومڑوں کو منہ توڑ جواب دیکر خاموش کر دیا اور انکی توپیں گولے داغنا بھول گئیں۔ ایسا ہی جواب شمالی سرحدوں پر نیٹو کی یلغار کا بھی دیا جائے تو پھر ایک ساتھ نیٹو اور بھارت دونوں کا منہ دوسری طرف لگ جائیگا۔ جب سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا گیا ہے‘ اس کا وحشت آمیز رومانس بڑھ گیا ہے اور وہ پاکستان کو کمزور کرنے‘ ڈرانے ڈھمکانے کی کارروائیاں بھی تیز کر چکا ہے۔ یہ جو کچھ بھی پاکستان جیسے ایٹمی ملک اور دنیا کی بہترین فوج رکھنے والے ملک کے ساتھ ہو رہا ہے‘ اس کا بنیادی سبب ہمارے حکمرانوں کی وہ مفاہمانہ پالیسیاں ہیں جو امریکی ایجنڈے سے ماخوذ ہیں‘ جب تک امریکہ کو آخری سلام نہیں کیا جاتا اور اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیا جاتا‘ بھارت راہ پر آئیگا‘ نہ نیٹو امریکی فورسز ہوش کے ناخن لیں گی۔ حکومت اور حکمران پیپلز پارٹی اپنی پالیسیوں اور فیصلوں پر نظرثانی کرے وگرنہ بھارت پاکستان سے مفاد اٹھائے گا‘ آبی دہشت گردی کریگا اور کنٹرول لائن پر حملے کرکے آزاد کشمیر کی طرف رخ کریگا۔
عدلیہ عوام کی امیدوں پر پورا اترے
لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ہے کہ فیصلے میرٹ پر ہونے چاہئیں 2007ءکے مشکل ایڈونچر سے گزر کر آئے ہےں، عدلیہ کا کردار بڑھ گیا، سسٹم تبدیل کیے بغیر مسائل حل نہیں ہونگے۔
پاکستانی عوام، وکلا اور ججز نے پیش بہا قربانیاں دے کر عدلیہ کو ایک ڈکٹیٹر سے آزاد کروایا، ججز کی ثابت قدمی نے عدل و انصاف کا بول بالا کیا ہے، لیکن عوام کو عدلیہ کےساتھ انصاف کی عملداری کی جو توقعات وابستہ تھیں وہ ابھی تک پوری نہیں ہو سکیں۔ چیف جسٹس شیخ عظمت سعیدنے 2007ءمےں جن حالات کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا، آج اللہ نے انہیں موقع دیا ہے تو عدالتی نظام کو درست کرنے کی کماحقہ ذمہ داری نبھاتے وہ نظر بھی آتے ہےں وہ یقیناً یہ تاثر بھی زائل کرنے مےں بار کی معاونت سے سرخرو ہوں گے کہ دادا کا دائر کردہ کیس اسکے پوتے تک جا پہنچتا ہے مگر اسکے فیصلہ کی نوبت نہیں آتی۔ آزادی کے بعد عدلیہ کا کردار اور ذمہ داری بڑھ چکی ہے، ججز اور وکلا کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے کہ وہ سسٹم کو کس طرح تبدیل کر کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہےں اور خصوصی طور پر سیشن اور لوئر کورٹس مےں انصاف کا جو حال ہے اس کو فی الفور بہتر کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔ ججز کو عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے فرائض کو ادا کرنا چاہئے، اگر وکلا اور ججز جذبے کے تحت کام کرینگے، تو یقینی طور پر اس نظام کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ عوام الناس نے ایک جذبے کے ساتھ آزاد عدلیہ کی تحریک چلائی تھی، آج عدلیہ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کی امیدوں پر پورا اترتے ہوئے انہیں فوری انصاف مہیا کرے۔