پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر کشیدگی نہ بڑھائے اور ایسے اقدامات نہ کرے جس سے جنگ بندی لائن متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔ پیر اور منگل کو سیالکوٹ ورکنگ بائونڈری کے بجوات اور سچیت گڑھ سیکٹروں میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے اس واقعہ پر شدید احتجاج کیا اور بھارت کو باور کرایا کہ وہ سیزفائر معاہدے کا احترام کرے اور اگر فائرنگ کے واقعات جاری رہے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔ اس موقع پر پاکستان نے دراندازی کا بھارتی الزام بھی سختی سے مسترد کر دیا۔ ہمارے عسکری حکام کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں بھارت پندرہ سے بیس مرتبہ مختلف سیکٹرز میں سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے اور اسکی طرف سے یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ گزشتہ دنوں بھی لائن آف کنٹرول کے پونچھ سیکٹر میں بھارتی بلااشتعال فائرنگ سے پاکستان کے دو فوجی شہید ہو گئے تھے جبکہ اب سیالکوٹ میں بھارت کی لفامشعل چیک پوسٹ‘ بیلی عظمت چیک پوسٹ اور کھتی چندر چیک پوسٹ کی جانب سے پاکستان فورسز پر فائرنگ کی گئی ہے تاہم خوش قسمتی سے ہمارے جوان محفوظ رہے۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق کنٹرول لائن پر اکھنور سیکٹر پر پاکستان بھارت فوجوں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ تقریباً چھ گھنٹے تک جاری رہا اور بھارت کی طرف سے وگرف مارٹر اور جی ٹو ہتھیار استعمال کئے گئے جبکہ بھارتی گولے دیہاتی آبادی میں بھی گرے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہمارے اس شاطر و مکار دشمن بھارت نے قیام پاکستان کی حقیقت اور ہماری آزادی و خودمختاری کو آج تک دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ شروع دن سے ہی ہماری سالمیت کیخلاف گھنائونی سازشوں میں مصروف ہے۔ وہ جب بھی موقع ملتا ہے‘ اپنے خبث باطن کا اظہار کرتا ہے اور ہمارے خلاف جارحیت کا مرتکب ہوتا ہے۔ ہم پر تین جنگیں مسلط کر چکا ہے‘ پاکستان کو دولخت کر چکا ہے‘ کشمیر پر شروع دن سے بزور اپنا تسلط جمائے ہوئے ہے‘ سیاچن پر بھی قابض ہو چکا ہے اور ہمارے خلاف آبی دہشت گردی شروع کرکے کشمیر کے راستے آنے والے دریائوں پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 62 سے زائد ڈیم تعمیر کرکے ہمارے حصے کے پانی پر بھی قابض ہو چکا ہے تاکہ ہمیں خشک سالی اور قحط زدگی کا شکار کرکے ایک کمزور پاکستان پر ہاتھ صاف کر سکے۔
ہماری سالمیت کیخلاف اسکے عزائم قطعاً ڈھکے چھپے نہیں ہیں جبکہ امریکی سرپرستی میں اپنی فوجی دفاعی صلاحیتوں میں ہم سے تین گناہ اضافہ کرکے وہ ہماری سالمیت کے ساتھ ساتھ اس پورے خطہ کی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال چکا ہے اور اسکے ان جارحانہ عزائم کا واحد مقصد خطہ میں اپنی برتری تسلیم کرانا اور اپنی تھانیداری قائم کرنا ہے جس کیلئے وہ ہمارے علاوہ چین کے خلاف بھی جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔ کنٹرول لائن پر بھارتی افواج کی فائرنگ اور جھڑپوں کے پے در پے واقعات اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ ان واقعات میں اگرچہ ہماری افواج بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر اس کا نشہ ہرن کر چکی ہیں‘ تاہم بھارتی جارحانہ عزائم کو پیش نظر رکھ کر ملک کی مسلح افواج کو دفاع وطن کیلئے ہمہ وقت چوکس اور تیار رکھنے اور اپنی ایٹمی صلاحیت کے بل بوتے پر دفاعی حصار کو مضبوط و مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں تو سات لاکھ سے زائد بھارتی افواج نے اپنے ظلم و جبر کی انتہا کرتے ہوئے شروع دن سے ہی نہتے‘ بے گناہ اور معصوم کشمیری عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے اور کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے والی اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھنے کیلئے وہاں بھارتی افواج کی باقاعدہ بستیاں آباد کر دی گئی ہیں تاکہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی پر مسلسل اور کڑی نگرانی رکھی جا سکے۔ اسکے باوجود بھارتی افواج کے مظالم کشمیری باشندوں کے حوصلے پست نہیں کر سکے اور وہ اپنی جدوجہد آزادی کو جو تقسیم ہند کے ایجنڈے کی روشنی میں پاکستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کی تحریک ہے‘ پوری ثابت قدمی کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ مقبوضہ کشمیر میں قائم ہونے والی کسی بھارتی کٹھ پتلی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے‘ بھارتی چھتری کے نیچے منعقد ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہیں اور بھارتی یوم جمہوریہ کو ہمیشہ یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ کشمیری عوام نے گزشتہ روز بھی بھارتی یوم جمہوریہ کوپورے مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا‘ احتجاجی مظاہرے کئے‘ ریلیاں نکالیں‘ ہڑتال کی اور مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ کشمیری باشندوں نے اسلام آباد‘ لاہور‘ لندن اور مظفرآباد میں بھی بھرپور مظاہرے کئے اور اقوام متحدہ کے دفاتر میں یادداشتیں پیش کیں۔ کشمیری عوام کی اس مزاحمت کے باعث ہی گزشتہ روز سری نگر کے لال چوک میں بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر بھارتی ترنگا بھی نہیں لہرایا جا سکا۔
کشمیری عوام جس صبر و استقامت کے ساتھ بھارتی افواج کی مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں‘ مظالم برداشت کر رہے ہیں اور اسکی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی میں دراڑیں ڈال رہے ہیں۔ وہ اپنے عزم و اعتماد کی بنیاد پر جلد یا بدیر اپنی آزادی کی منزل حاصل کرکے رہیں گے۔
بلاشبہ پاکستان اور کشمیر کے عوام کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں‘ مگر بدقسمتی سے حکومتی سطح پر کشمیری عوام کی حوصلہ افزائی اور تائید و حمایت میں کبھی ایسی گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں ہوا جس کی آزادی ٔ کشمیر کی منزل کو یقینی بنانے کیلئے انہیں ضرورت ہے۔ گزشتہ ماہ صدر آصف علی زرداری نے حصول کشمیر کیلئے حوصلہ افزا بیانات ضرور دیئے تھے اور اس مقصد کیلئے بھارت کے ساتھ ہزار سال تک جنگ لڑنے کے اپنے سسر اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عہد کا بھی اعادہ کیا‘ مگر بھارتی جارحانہ عزائم کا توڑ کرنے کیلئے حکومت کی سطح پر ابھی تک کوئی موثر اور ٹھوس حکمت عملی سامنے نہیں آسکی اور بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے حکمرانوں نے بھارتی جارحانہ عزائم کے معاملہ میں چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے جس سے ہمارے اس مکار دشمن کے حوصلے مزید بلند ہوتے ہیں۔
یہ خوش آئند بات ہے کہ پنجاب اسمبلی نے گزشتہ روز ایک متفقہ قرارداد کے ذریعہ وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں استصواب کرانے تک بھارت کو تجارتی راہداری نہ دی جائے‘ اگر بھارت ہماری سالمیت کیخلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے‘ ہمارے خلاف آبی دہشت گردی شروع کئے ہوئے ہے‘ ہمیں بھوکا پیاسا مارنا چاہتا ہے اور اس مقصد کیلئے کشمیر پر اپنا تسلط جمائے رکھنا چاہتا ہے تو ہماری جانب سے اس موذی دشمن کے ساتھ تجارت کرنا ‘ یا کسی اور ملک کے ساتھ تجارت کرنے کی سہولت مہیا کرناسانپ کو دودھ پلانے کے مترادف ہو گا‘ اس لئے مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل تک اسکے ساتھ کسی قسم کے تجارتی مراسم استوار نہیں ہونے چاہئیں‘ اس سلسلہ میں وفاقی حکومت نہ صرف پنجاب اسمبلی کی قرارداد کو عملی جامہ پہنائے بلکہ بھارت پر دبائو ڈالنے کیلئے دیگر صوبائی اسمبلیوں‘ قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی ایسی قراردادیں منظور کرانے کی ضرورت ہے۔ دشمن کے ساتھ نرمی اختیار کرنا‘ اسکے ہاتھوں اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اگر بھارت ہماری سالمیت کے درپے ہے تو ہمیں اپنے اس مکار دشمن کو اسکی زبان میں ہی جواب دینا چاہئے‘ ہمیں اپنی سالمیت سے زیادہ تو اور کوئی چیز عزیز نہیں ہو سکتی۔
امریکی ایجنڈا پر بہت کام ہو چکا
امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز نے ایک امریکی تھنک ٹینک امریکن پروگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی کامیابی کا انتہا پسندی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے عزم و تعاون پر انحصارہے‘ پاکستان کو انتہا پسندی کیخلاف جنگ میں مزید تیزی لانا ہو گی‘ پاکستان کے افغانستان سرحدی علاقے انتہا پسند تنظیموں کے اب بھی مرکز ہیں۔
امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز اگرچہ امریکی سلامتی کے مشیر ہیں مگر وہ پاکستان کے بارے میں زیادہ فکرمند نظر آتے ہیں۔ نیٹو افواج کے کمانڈر اور امریکی برطانوی افواج کے کمانڈر تو برملا کہہ رہے ہیں کہ افغانستان میں انکی افواج ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہی ہیں۔ افغانستان میں امریکی حکام صدر حامد کرزئی کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ طالبان اور انتہا پسند گروپس کے ساتھ بات چیت کریں اور ان سے لڑائی ترک کرنے کی پیشکش کریں۔ مگر امریکی حکام پاکستان پر زور دے رہے ہیں کہ انتہا پسندوں کیخلاف کام میں مزید تیزی کریں‘ خوب مار دھاڑ کریں‘ وہ پاکستان سے دوستی اور امداد کا بہت پروپیگنڈہ کرتے ہیں مگر عملاً صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اپنے سٹریٹجک پارٹنر اور نان نیٹو الائی کیلئے معمولی امداد دے سکا ہے مگر پاکستان کے دشمن ملک بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدے بھی کر چکا ہے اور پاکستان سے زیادہ مالی و ہتھیاروں کی امداد بھی دے چکا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کیلئے مشترکہ ایلچی بھی پاکستان میں وائسرائے کی طرح گھومتے اور دورے کرتے پھرتے ہیں۔ وہ بھی حکم چلانے میں زیادہ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کی خواہش ہے کہ حکومت پاکستان قبائلی پٹھانوں کے ساتھ بات چیت کرے۔ امریکہ پاکستان کے قبائلیوں کو حکومت کے ساتھ لڑا رہا ہے‘ اسکے مقاصد کچھ اور ہیں۔ امریکہ کا سیٹلائٹ جو زمین پرپڑی سوئی کی نشاندہی کر سکتا ہے‘ اب تک اسامہ بن لادن کا پتہ نہیں چلا سکا‘ کبھی امریکیوں کو وہ کوئٹہ میں نظر آتا ہے‘ کبھی پاک افغان بارڈر پر قبائلی علاقہ میں‘ حالانکہ اسامہ بن لادن نہ معلوم امریکہ ہی میں ہو یا کسی اور ملک میں‘ مگر پاکستان میں اسکی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں۔
افواج پاکستان نے درست فیصلہ کیا ہے کہ ایک سال تک کوئی نیا آپریشن نہیں کیا جائیگا‘ حکومت پاکستان قبائلی علاقوں اور یہاں کے رہنے والوں سے قومی مفادات کے تحت رابطہ قائم رکھے‘ اس سلسلہ میں امریکہ کا دبائو قبول کرنے کے بجائے پاکستان کے مفادات کو ترجیح دی جائے اور بھارتی حکومت پاکستان کو آنکھیں دکھا رہی ہے‘ ہمیں اس کا بھی اہتمام کرنا چاہئے کہ بھارت کو اسکی زبان میں جواب دیا جائے۔ امریکی حکام بھارت جا کر بھارتی لیڈروں کی زبان بولنے لگتے ہیں‘ جیسا کہ رابرٹ گیٹس امریکی وزیر دفاع کے بجائے بھارتی وزیر دفاع بن کر پاکستان کو دھمکیاں دے رہا تھا۔ پاکستان کو یہ تمام معاملات سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا چاہئے کہ امریکہ نے پاکستان کی جمہوری حکومت کو عوامی ایجنڈا سے ہٹا کر غیرجمہوری ایجنڈا پر لگا دیا ہے۔ حکومت کو عوام کی بدحالی کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔ امریکہ اپنے مسائل افغانستان میں خود حل کرے‘ پاکستان میں موجود تیس لاکھ افغان مہاجرین کو واپس افغانستان میں بھجوانے کا راستہ ہموار کرے‘ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کا بڑا سبب یہی مہاجرین ہیں۔
وکلاء قانون ہاتھ میں نہ لیں
13 سالہ گھریلو ملازمہ شازیہ کی ہلاکت کیس میں ملزم لاہور بار کے سابق صدر چودھری نعیم کو پولیس نے ریمانڈ کیلئے عدالت پیش کیا تو اس موقع پر سینکڑوں وکلاء جمع تھے جو میڈیا کے نمائندوںکو دیکھ کر مشتعل ہو گئے اور ان کیخلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ اس سے قبل میڈیا اور سائلوں کو احاطہ عدالت سے بھی نکال دیا گیا وکلاء کا کہنا ہے کہ چودھری نعیم کیخلاف درج مقدمہ قتل میں میڈیا نے جانبدارانہ رپورٹنگ کی۔ معاشرے میں وکلاء کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی بحالی کی تحریک میں وکلاء کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اس تحریک کی کامیابی کے باعث قوم کی نظر میں وکلاء کے احترام میں مزید اضافہ ہوا اس طبقے کے سو فیصد لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں لیکن کبھی وہ ہوش کے بجائے جوش سے کام لیتے ہیں جس سے معاملات بگڑ اور الجھ جاتے ہیں‘ انکی جانب سے میڈیا اور پولیس پر تشدد تو تقریباً معمول بنتا جا رہا ہے‘ اس میں یقیناً تمام وکلاء شریک نہیں لیکن جو بھی یہ کام کرتے ہیں وکلاء ہی ہیں۔ کسی بھی ایونٹ کی کوریج میڈیا کے فرائض میں شامل ہے شازیہ کی ہلاکت کے بارے میں میڈیا کو جو معلومات دستیاب ہو سکیں‘ وہ اس نے نشر اور شائع کر دیں‘ اس میں ملزم پارٹی کا مؤقف لینے کی بھی کوشش کی گئی۔ اگر کسی ایک آدھ چینل نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تو پورے میڈیا کو انتقام کا نشانہ بنانا قرین انصاف نہیں جیسا کہ عدالت کے اندر اور باہر بنایا گیا۔ جہاں تک غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کا تعلق ہے تو گذشتہ روز کی نوائے وقت کی غیر جانبدارانہ رپورٹنگ اسکی بہت بڑی مثال ہے‘ کئی دیگر اخبارات نے بھی اس نہج پر غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کی قانون کا احترام تو ہر شہری کا فرض ہے۔ عام شہری کو شاید قانونی پیچیدگیوں کی مکمل شدھ بدھ نہ ہو‘ وکلاء کو قانون کی تمام تر جزئیات ازبر ہیں ان سے قانون ہاتھ میں لینے کی توقع ہر گز نہیں کی جا سکتی۔ عدالتیں آزاد ہیں اگر وکلاء کے محبوب رہنما پر غلط الزامات ہیں تو ان کو سزا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میڈیا تو خود انکی کوریج کیلئے گیا تھا جسے ناجائز طور پر ہراساں کیا گیا۔ اس سے وکلاء کی نیک نامی نہیں ہو سکتی۔ اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام ہو تو احترام بھی باقی رہتا ہے اور مسائل بھی پیدا نہیں ہوتے۔ میڈیا اور وکلاء ایک دوسرے کیلئے اہم ہیں‘ اس لئے انکے مابین یکجہتی اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ وکلاء میڈیا نمائندوں کے فرائض کی بجا آوری میں نہ صرف مداخلت نہیں کرینگے بلکہ انکے معاون بھی ہونگے۔