دریائے چناب پر بھارتی ڈیمز کی تعمیر کی سازش اور وزیراعظم آزاد کشمیر کی تشویش

ـ 27 فروری ، 2011
پاکستان کو آبی حقوق پر یقینا کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے
وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خاں نے کہا ہے کہ مضبوط اور مستحکم پاکستان تحریک آزادیٔ کشمیر کی کامیابی کی ضمانت ہے جبکہ بھارت دریائے چناب پر ڈیمز تعمیر کرکے پاکستان کو بنجر بنانے کی سازش کررہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو آبی حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ گزشتہ روز گوجرانوالہ میں کشمیری مہاجرین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت آبی جنگ ایٹمی جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہوگی۔ پاکستانی ملت کو چاہئے کہ قومیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی حکمرانوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرینگے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مسلم کانفرنس نے قیام پاکستان سے قبل ہی الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کرکے پاکستان کو اپنی منزل قرار دیا تھا۔
یہ حقیقت ہے کہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق سے ہی تقسیم ہند کے ایجنڈے کی تکمیل ہوگی جو بھارتی ہندو بنیاء کی ہٹ دھرمی کے باعث تقسیم ہند کے 64 سال بعد بھی ہنوز تشنۂ تکمیل ہے جبکہ اس ایجنڈے کی تکمیل تو کجا، مکار ہندو بنیاء پاکستان کے آزاد وجود کو ہی گوارا نہیں کررہا اور شروع دن سے اسکی سالمیت کیخلاف گھنائونی سازشوں میں مصروف ہے۔ وادیٔ کشمیر پر بھی اس نے اسی بدنیتی کے تحت غاصبانہ تسلط جمایا اور تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق آبادی اور جغرافیائی حیثیت کی روشنی میں کشمیریوں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق کو تسلیم کرنے کے بجائے کشمیر کا تنازعہ کھڑا کیا اور تصفیہ کیلئے اپنا کیس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لے گیا۔ جب یو این جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے یکے بعد دیگرے اپنی قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا اور بھارت کو کشمیر میں رائے شماری کا اہتمام کرانے کیلئے کہا تو وہ یو این قراردادوں سے منحرف ہوگیا اور کشمیر کو بزور طاقت اپنے ساتھ شامل رکھنے کیلئے بھارتی فوجوں اور پولیس کے ذریعے کشمیری عوام پر ظلم اور جبر کا لامتناہی سلسلہ شروع کردیا۔
کشمیری عوام چونکہ ہندو بنیاء کی نیت اور ذہنیت کو بھانپ کر تقسیم ہند سے پہلے ہی پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرچکے تھے اسلئے انہوں نے کشمیر پر بھارتی فوجوں کا غاصبانہ قبضہ ختم کرانے کیلئے 1949ء میں اپنی عملی جدوجہد کا آغاز کیا جو قربانیوں کی عظیم داستانیں رقم کرتے اور صبر و استقامت کی قابل قدر مثال قائم کرتے ہوئے آج بھی جاری ہے اور بھارتی بنیاء حکمرانوں کا ترغیب و تخوّف سمیت کوئی حربہ انکے پائے استقلال میں ہلکی سی بھی لرزش یا لغزش پیدا نہیں کرپایا۔
کشمیری عوام کے جذبۂ آزادی کو دبانے کی ناکام کوششوں کے ساتھ ساتھ شاطر ہندو بنیاء نے پاکستان کی سالمیت اور آزادی و خودمختاری کیخلاف بھی اپنی سازشوں کے جال بچھانے اور پھیلانے شروع کردئیے۔ کشمیر پر پاکستان کا کلیم کمزور کرنے کیلئے 1955ء میں بھارتی آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کی ایک ریاست کا درجہ دیدیا اور اس پر اپنی اٹوٹ انگ کی رٹ لگانا شروع کردی جبکہ اسکے ساتھ ہی اس نے کشمیر کی جانب سے آنیوالے دریائے چناب، جہلم، نیلم پر ڈیموں کی تعمیر کا سلسلہ شروع کردیا تاکہ پاکستان کی جانب ان دریائوں کے پانی کا بہائو کم ہوجائے اور پانی کی کمیابی کے نتیجہ میں پاکستان کی زرخیز دھرتی بنجر بن جائے، نتیجتاً خشک سالی اور قحط کا شکار ایک کمزور پاکستان مکار ہندو بنیاء کیلئے تر نوالہ بن سکے۔
یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ ہمارے سول اور فوجی حکمرانوں نے پاکستان کی سالمیت کیخلاف بھارتی عزائم کو بھانپ کر بھی اسکی مکروہ سازشوں کے توڑ کی کوئی موثر حکمت عملی اختیار نہ کی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کا تنازعہ طے کرنے کیلئے ایوب کے دور حکومت میں سندھ طاس معاہدہ ہوا تو اس میں بھی بھارت کو آبی وسائل پر غالب ہونے کا موقع دیدیا گیا جبکہ بھارت نے اس معاہدے سے بھی تجاوز کرتے ہوئے جہلم، چناب اور نیلم کے دریائوں پر مجوزہ ڈیزائنوں کے برعکس اپنے ڈیمز کے پہاڑ کھڑے کرنے شروع کردئیے۔ بگلیہار ڈیم کی تعمیر کا تنازعہ پیدا ہوا تو پاکستان اپنا انتہائی کمزور کیس لیکر عالمی عدالت انصاف گیا اور وہاں یہ کیس ہار کر آگیا جس سے بھارت کو مزید شہ ملی اور اس نے ڈیموں کے انبار لگانا شروع کردئیے۔ وہ کشمیر سے پاکستان آنیوالے دریائوں پر اب تک 62 سے زائد ڈیم تعمیر کرچکا ہے جو سندھ طاس معاہدے کی سراسر خلاف ورزی اور پاکستان کو بھوکا پیاسا مارنے کیلئے اسے ریگستان میں تبدیل کرنے کی گھنائونی سازش ہے مگر مکار ہندو بنیاء کی یہ سازشیں دیکھ کر بھی ہمارے حکمران خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے اور ہمارے واٹر کمشنر سید جماعت علی شاہ تو پانی کے تنازعہ پر پاک بھارت مذاکرات میں شرکت کیلئے دہلی پہنچ کر بھارت کیلئے رطب اللسان ہوگئے اور بیان داغ دیا کہ بھارت نے پاکستان کے حصے کا پانی ہرگز نہیں روکا۔ اسکے برعکس بھارتی واٹر کمشنر پاکستان آئے تو یہاں دریائوں، نہروں اور ندی نالوں کو ریگستان بنا دیکھ کر یہ اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے کہ پاکستان کو اسکے حصے سے کم پانی مل رہا ہے۔
بھارت نے تو اپنے علاقے میں زیادہ سے زیادہ ڈیم اور انکے وسیع و عریض پونڈ تیار کرکے پاکستان کیخلاف دہری سازش کی ہے۔ اس نے پاکستان کے حصے کا پانی اپنے ڈیموں کے پونڈز میں سٹور کرکے پہلے پاکستان کو خشک سالی کا شکار کیا اور پھر گزشتہ سال برسات کے موسم میں ان پونڈز میں جمع شدہ سارا پانی پاکستان کی جانب چھوڑ کر تین چوتھائی پاکستان کو سیلاب میں ڈبو دیا۔ اگر ہمارے حکمرانوں کو بھی عقل آئی ہوتی اور انہیں ملک کی سالمیت کے تقاضوں کا احساس ہوتا تو وہ سندھ طاس معاہدے میں ڈیمز کی تعمیر کیلئے پاکستان کو دئیے گئے پہلے حق کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ ڈیمز تعمیر کرلیتے اور بھارت کی جانب سے ڈیمز کی تعمیر کی نوبت ہی نہ آنے دیتے مگر منگلا اور تربیلا ڈیم کے بعد ہمارے کسی حکمران کو کوئی نیا ڈیم تعمیر کرنے کی توفیق نہ ہوئی جبکہ قومی تعمیر و ترقی کے ضامن کالا باغ ڈیم کو شروع دن سے ہی سیاست کی نذر کردیا گیا۔
بھارت نے تو اپنی جبلّت کے تحت ہمارے ساتھ دشمنی کرنی ہی کرنی ہے اور وہ اس ملک خداداد کو دولخت کرنے کے بعد باقیماندہ پاکستان کی سالمیت کے بھی درپے ہے جس کیلئے وہ امریکی سرپرستی میں اپنی جنگی صلاحیتوں میں بھی ہم سے تین گنا اضافہ کرچکا ہے اور ہمارے آبی وسائل پر قابض ہو کر وہ ہمیں صومالیہ اور ایتھوپیا جیسے قحط اور خشک سالی کا بھی شکار کرنا چاہتا ہے جبکہ ہمارے حکمران اس ظالم دشمن کے ساتھ دوستی کے جنون میں ہمیشہ اسکی شرائط پر اسکے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کیلئے تیار رہتے ہیں جبکہ ان مذاکرات کا آج تک پاکستان اور کشمیری عوام کو فائدہ نہیں ہوا بلکہ بھارت نے ان مذاکرات کو ہمیشہ وقت گزارنے اور پاکستان پر دہشت گردی اور کشمیر میں دراندازی کے الزامات عائد کرنے کیلئے ہی استعمال کیا ہے۔ نتیجتاً کشمیری عوام کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا جذبہ بھی ماند پڑتا نظر آرہا ہے جس کی کشمیر امریکن کونسل اور کشمیر سنٹر واشنگٹن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام نبی فائی نے بھی گزشتہ روز لاہور میں اخبار نویسوں کے ساتھ بات چیت کے دوران نشاندہی کی ہے۔ انکے بقول کشمیر کی جدوجہد فیصلہ کن موڑ پر ہے مگر پاکستانی حکومتوں کے کردار کے باعث الحاق پاکستان کی تحریک ماند پڑ رہی ہے اور علی گیلانی جیسی بزرگ شخصیت بھی مایوس ہورہی ہے۔
یہ طے شدہ امر ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر اور پانی کا تنازعہ طے نہ ہوا تو اگلی عالمی جنگ جو لازماً ایٹمی جنگ ہوگی، پانی پر ہی ہوگی، جس کی مغربی دنیا کو تشویش بھی ہے اسلئے اگر عالمی اور علاقائی امن و سلامتی مقصود ہے تو بھارت سے کشمیریوں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق کو تسلیم کرانا ہوگا جس کیلئے ضرورت ہے کہ پاکستان کے حکمران اپنا مضبوط کیس عالمی فورموں پر پیش کریں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر بھی حالات کی سنگینی کو بھانپ کر پاکستان کے حکمرانوں کو یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ اس وقت پاکستان کی جانب سے اپنی آزادی و خودمختاری کے تحفظ کیلئے آبرومندانہ موقف اختیار کرنے کی ہی ضرورت ہے جس کیلئے سید علی گیلانی کی اس تشویش کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ بھارتیوں کو صرف ہماری سرزمین سے غرض ہے، کشمیریوں سے کوئی ہمدردی نہیں۔
اس تناظر میں ہمارے حکمرانوں کو جدوجہد آزادی کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے اپنی منزل کی جانب تیزی سے گامزن کشمیری عوام کا بھرپور ساتھ دینا چاہئے اور انہیں بھارتی تسلط سے نجات دلانے کیلئے ہرممکنہ راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ بلاشبہ کشمیر کی آزادی ہی ہماری آزادی کے تحفظ اور بقاء کی ضمانت ہے اور بھارت سے یہ ضمانت ہم کسی بیک چینل ڈپلومیسی یا نام نہاد جامع مذاکرات کے ذریعے قطعاً حاصل نہیں کرسکتے۔
بابر اعوان صدر زرداری سے تحمل سیکھیں
صدر زرداری نے راجہ ریاض کو فون کیا ہے کہ وہ ہرگز پنجاب حکومت کوغیر مستحکم نہ کریں، پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن اور اس کے اتحادیوں کے 226ارکان کے ساتھ واضح اکثریت حاصل ہے،دوسری جانب بابر اعوان کہتے ہیں کہ چھانگا مانگا گینگ کو آئین کی خلاف ورزی نہیں کرنے دینگے پنجاب فتح کرنے کا وقت آگیا۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ من چہ سرایم و طنبورۂ من چہ سراید (میں کیا کہہ رہاں ہوں اور میرا وزیر بابر اعوان کیا فرما رہا ہے)آصف زرداری نے راجہ ریاض کو ہدایت دی ہے کہ وہ پنجاب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی کوشش نہ کریں، ہماری نظر میں صدر کی یہ ہدایت سراپا ہدایت ہے اور ہم اُن کی تحسین کرتے ہیں مگر اُن کو چاہئے کہ وہ اپنے ظہیر الدین بابر کو بھی تو لگام دیں جو اپنے ہی ملک کو فتح کرنے چلے ہیں اور فرماتے ہیں کہ پنجاب فتح کرنے کا وقت آگیا ہے، وزیر قانون ہوتے ہوئے اسقدر غیر ذمہ دارانہ بیان پر صدر اُن کی گو شمالی کریں اور اُن کو واضح بتا دیں کہ پنجاب سب پاکستانیوں کا ہے اُسے فتح کرنے کی ضرورت نہیں اور یہ بھی اُن کو باور کرادیں کہ پنجاب پر مسلم لیگ نون کی حکومت کافی مستحکم ہے،226 ارکان اسمبلی اس کے ساتھ کھڑے ہیں اور وزیراعلیٰ نے اگر پیپلز پارٹی کے وزراء کو فارغ کردیا ہے تو یہ قانون کے دائرے میں ہے، باہر نہیں، اسلئے وزیر قانون غور سے بس دیکھتے رہیں کہ لاقانونیت کہاں ہوتی ہے،موجودہ حکومت چھانگا مانگا سے نہیں اُٹھ کر آئی، ووٹ لیکر آئی ہے بہرصورت توقع کہ صدر کی ہدایت پر راجہ صاحب عمل کرینگے اور بابر اعوان کو بھی کہہ دیا جائیگا کہ وہ اسلام آباد میں اپنی وزارت کی کرسی پر مطمئن ہوکر بیٹھیں وہ پنجابی ہیں جب چاہیں پنجاب آئیں مگر پنجاب حکومت کو فتح کرنے کا عندیہ ترک کردیں، ملک کسی دما دم مست قلند کا متحمل نہیں ہوسکتا،انہیں چاہئے کہ صدر سے تحمل سیکھیں۔
امریکہ خفیہ کنٹریکٹرز کی فہرست آئی ایس آئی کو فراہم کرے
امریکی سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے ہفتہ کو ٹیلی فون پر رابطہ کرکے دونوں اداروں کے درمیان ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری اور بعض دیگر معاملات پر سرد مہری سے دوچار تعلقات کی بہتری اور باہمی رابطوں کو بڑھانے کیلئے بات چیت کی ۔شجاع پاشا نے کہا کہ آئی ایس آئی کے علم میں لائے بغیر سی آئی اے کے آپریشنز پر تحفظات ہیں۔ نان الیون کے بعد امریکی سی آئی اے کے اہلکاروں نے پاک افغان سرحد اور پاکستان کے قبائلی منصوبوں میں ڈیرے جمائے ۔جاسوسی کے ساتھ ساتھ تخریب کاروں کو ملک میں افراتفری پھیلانے پر مامور کیا گیا،حساس مقامات کی تصویر کشی کی جاتی رہی ریمنڈ ڈیوس کے واقعہ کے بعد امریکیوں نے پاکستان سے بھاگنا شروع کیا ،لیکن خفیہ طورپر اب بھی سی آئی اے کے ایجنٹ پاکستان کی سلامتی کے خلاف اپنے مشن میں مگن ہیں۔شجاع پاشا کا امریکی سی آئی اے کے سربراہ سے درست مطالبہ ہے کہ وہ امریکی خفیہ کنٹریکٹرز کی فہرست مہیا کرے اور پاکستان میں خفیہ طورپر جو آپریشنز سی آئی اے کر رہی ہے ان کو فی الفور بند کیا جائے، جب تک آپریشنز بند نہیں ہوتے اور خفیہ نیٹ ورک کو بے نقاب نہیں کیاجاتا اس وقت تک دونوں اداروں میں بہتر تعلقات قائم نہیں ہوسکتے، حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق اب بھی سی آئی اے کے 364 اہلکار اپنے مشن میں مصروف ہیں۔ جواب پاکستان سے بھاگتے ہوئے مقامی جاسوس تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔امریکی سی آئی اے اگر آئی ایس آئی سے بہتر تعلقات قائم رکھناچاہتی ہے تو اپنے خفیہ آپریشن اور اہلکاروں کی فہرست مہیا کرے،اس کے بغیر اچھے تعلقات قائم رہنا مشکل ہیں کیونکہ امریکی دہشت گرد طالبان کا روپ دھار کر پاک آرمی اور ملکی سلامتی کیخلاف مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
پاکستانی ٹیم کی حوصلہ افزا کارکردگی
آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2011 کے اہم اور سنسنی خیز میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو 11رنز سے شکست دیدی اور اپنے پُول میں سر فہرست آگیا۔ پاکستانی ٹیم نے کولمبو سٹیڈیم میں پہلے کھیلتے ہوئے سری لنکن ٹیم کو 278 کا ہدف دیا جو یقینا ایک حوصلہ افزا ٹارگٹ تھا، پاکستانی ٹیم کے کپتان شاہد خان آفریدی نے اچھی بولنگ کی نائب کپتان مصباح الحق نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 83 رنز بنائے، قوم کی دعائوں اور کھلاڑیوں کی سخت محنت نے ایک مضبوط حریف کو ہرایا ہے۔اس پر قومی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے لیکن میچ میں کافی غلطیاں ہوئیں جنہیں نظر انداز کرنا مستقبل کیلئے انتہائی خطرناک ہوگا،مجموعی طورپر لنکن ٹیم کو سنبھلنے کیلئے پاکستانی کھلاڑیوں نے 9مواقع فراہم کیے۔ اعصاب شکن مقابلے کے دوران پاکستان کی فیلڈنگ بھی کئی مواقع پر کمزور رہی کئی کیچز ڈراپ ہوئے امید کی جاتی ہے کہ آئندہ میچز میں ان خامیوں پر قابو پایا جائیگا، سری لنکن ٹیم سے جیت ہمارے کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافے کی بنیاد بنے گی اور یہ اعتماد ٹیم کو فائنل تک پہنچا کر ورلڈ کپ دوسری بار اپنے ملک لانے کا جذبہ پیدا کریگا۔ حریف ٹیموں اور مخالفین کیلئے پاکستان کی جیت ایک پیغام ہے اُمید کی جاتی ہے کہ پاکستانی ٹیم اس اعزاز کو برقرار رکھنے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتی رہیگی پوری قوم کی دعائیں ٹیم کے ساتھ ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں