امریکی کمپنی کی ویب سائٹ وکی لیکس نے امریکی ایجنسی سی آئی اے سے متعلق پندرہ ہزار دستاویزات میں سے پہلی دستاویز جاری کردی ہے‘ جس میں بیرونی دنیا کو امریکہ کا دہشت گرد برآمد کرنے والا چہرہ دکھایا گیا ہے‘ اس دستاویز کے مطابق امریکی سی آئی اے عرصہ دراز سے پاکستان‘ بھارت اور دوسرے ممالک میں دہشت گردی کرا رہی ہے‘ نائن الیون کے واقعہ کے بعد سی آئی اے نے ’’ریڈسیل تھنک ٹینک‘‘ قائم کیا تھا‘ جو سی آئی اے کے ڈائریکٹر جارج جے ٹنٹ کے بقول تفصیلی حالات کے بارے میں درست تصویر پیش کرنے کے بجائے جذباتی تجزیہ کرتا ہے‘ دستاویز کے مطابق ڈیوڈ ہیڈلی کے معاملہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ دوسرے ممالک میں دہشت گردی کرانے میں ملوث ہے‘ اس امریکی باشندے نے ہی نومبر 2008ء میں ممبئی حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جبکہ امریکہ کا دوسرے ممالک میں دہشت گردی کرانے کا یہ واقعہ نیا نہیں بلکہ 1994ء میں بھی امریکی یہودی ڈاکٹر ہاروچ گولڈ سٹین نے انتہاء پسند گروپ ’’کچ‘‘ میں شمولیت اختیار کی اور مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے 29 فلسطینیوں کو شہید کیا۔ ویب سائٹ کے مطابق میمو نام کی اس خفیہ دستاویز سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکہ عرصہ دراز سے دنیا بھر میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے اور دہشت گردوں کو برآمد کر رہا ہے اس لئے غیرملکی حکومتیں اس قسم کی دستاویزات منظر عام پر آنے کے بعد امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں تعاون کم کر سکتی ہیں۔ سی آئی اے کے ترجمان ماری ہازف کے بقول یہ دستاویزات اشتعال انگیزی کے فروغ کیلئے ڈیزائن کی گئی ہیں۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں سابق بش انتظامیہ نے اس خطے میں اپنی کروسیڈ کا آغاز کرتے ہوئے عراق اور افغانستان کو تہس نہس کردیا اور ہمارے سابق جرنیلی آمر مشرف کو ایک ٹیلی فون کال کے ذریعہ پتھر کے زمانے کی جانب لوٹانے کی دھمکی دیکر اپنا فرنٹ لائن اتحادی بنایا اور پھر پاکستان سے ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے کرتے کرتے اس وطن عزیز کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا جبکہ امریکہ اور بھارت نے باہم گٹھ جوڑ کرکے عالمی برادری میں پاکستان پر دہشت گرد کا لیبل لگوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اب وکی لیکس کی ویب سائٹ کے ذریعہ اصل حقیقت سامنے آئی ہے تو خود امریکہ سب سے بڑا دہشت گرد ملک ثابت ہو رہا ہے اور ’’ہم الزام ان کو دیتے تھے‘ قصور اپنا نکل آیا‘‘ کے مصداق دنیا میں جہاں بھی دہشت گردی کی کوئی واردات ہوئی ہے‘ اس میں امریکی سی آئی اے کے ملوث ہونے کے ہی شواہد مل رہے ہیں۔
وکی لیکس امریکہ کی معروف ویب کمپنی ہے جو امریکہ میں بیٹھ کر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے امریکہ پر اتنا بڑا الزام عائد کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی اس لئے اس ویب سائٹ پر جاری کردہ سی آئی اے کی دستاویز پر یقین نہ کرنے کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور اگر یہ دستاویز حقائق پر مبنی ہے جس میں امریکہ کا چہرہ دہشت گرد برآمد کرنے والے ملک کا دکھایا گیا ہے تو پاکستان کیلئے اب امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بن کر اسکے مفادات کی جنگ جاری رکھنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا جبکہ عالمی برادری کو بھی اب امریکہ کے معاملہ میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
دہشت گردی کو پروان چڑھانے والے امریکہ کے اس کردار کی بنیاد پر تو نائن الیون کے واقعہ کے بارے میں بھی مختلف حلقوں کے ذریعے منظر عام پر آنیوالی داستانیں درست نظر آتی ہیں جن میں ایک مضبوط مؤقف یہ بھی تھا کہ یہ واقعہ خود ساختہ ہے اور یہودی لابی کی جانب سے مسلم امہ کیخلاف کروسیڈ شروع کرانے کیلئے ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں خود ہی دہشت گردی کا ارتکاب کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کی آڑ میں جس طرح عراق اور افغانستان میں مبینہ دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کیلئے نیٹو ممالک کا اتحاد ہوا‘ اس سے بھی ’’نائن الیون‘‘ کے خود ساختہ ہونے کا ہی تاثر ملتا ہے جبکہ وکی لیکس کی جاری کردہ دستاویز کی بنیاد پر اب یہ بھی ثابت ہو رہا ہے کہ ممبئی حملوں کا ڈرامہ بھی امریکہ اور بھارت کی ملی بھگت سے رچایا گیا تھا تاکہ پاکستان پر دہشت گردی کا ملبہ ڈال کر اسکی افواج کو راسخ العقیدہ مسلمانوں کیخلاف اپریشن کیلئے استعمال کیا جا سکے۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان سے سب سے زیادہ ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے ممبئی حملوں کے بعد ہی ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوجی اپریشن کی شروعات بھی اسی واقعہ کی آڑ میں ہوئیں اور اسکے ساتھ ساتھ امریکہ نے ہماری سرزمین پر ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا جس کی اب کوئی انتہاء نہیں رہی۔
اس خطہ میں امریکی جنونیت کی تسکین کیلئے اب تک جتنا انسانی خون بہایا جا چکا ہے‘ اقوام عالم میں جنگ و جدل کے کسی بھی واقعہ میں اسکی مثال نہیں ملتی جبکہ زیادہ تر کلمہ گو مسلمانوں کا خون ہی بہا ہے۔ عراق‘ افغانستان اور پاکستان کو اپنے جنگی جنون کی بھینٹ چڑھانے کے بعد اب امریکہ کا اگلا ہدف ایران ہے جس کیلئے پاکستان میں قائم امریکی ایئر بیسز کو استعمال کرنے کی امریکی منصوبہ بندیوں سے متعلق افواہیں زیر گردش ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ پاکستان پر اس وقت بدترین سیلاب کی آفت ٹوٹی ہوئی ہے مگر امریکہ سیلاب سے متاثرہ مظلوم اور بے بس انسانوں کو سہارا دینے کے بجائے اپنے ایئر بیس بچانے کی فکر میں غلطاں ہے جس کیلئے ہمارے حکمرانوں کو روزانہ ڈکٹیشن دی جاتی ہے جبکہ انہی ایئر بیسز سے امریکی ڈرون اڑ کر پاکستان کے علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اس بات کا بھی خیال نہیں کیا جا رہا کہ جن علاقوں میں ڈرون حملے کئے جا رہے ہیں‘ وہ تو پہلے ہی سیلاب کے ریلوں سے تباہ و برباد ہو چکے ہیں‘ صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کیا جاتا‘ حکومت پاکستان کو بھی ہدایات جاری کی جاتی ہیں کہ وہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ مبینہ دہشت گردوں کیخلاف اپریشن بھی مزید تیز کرے جس کی ہمارے حکمرانوں کی جانب سے امریکہ کو یقین دہانی بھی کرادی گئی ہے۔
اس سے زیادہ بے حمیتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ سیلاب میں برباد ہونیوالے اپنے شہریوں کو سہارا دینے کے بجائے امریکی احکام کی تعمیل میں انہیں فوجی اپریشن کی بھی زد میں لایا جائے تاکہ ان میں زندہ رہنے کی سکت ہی نہ رہے۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ پاکستان میں اب تک جتنے بھی خودکش حملے اور دہشت گردی کی وارداتیں ہوئی ہیں‘ وہ سب فوجی اپریشن اور امریکی ڈرون حملوں کے ردعمل میں ہوتے رہے‘ جبکہ امریکہ اور بھارت باہم گٹھ جوڑ کرکے خود بھی اپنے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے ذریعے ہمارے ملک میں وحشت و دہشت کا بازار گرم رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری دھرتی پر آزادانہ دندناتے نظر آنیوالے امریکی میرینز اور بلیک واٹر کے ارکان بھی دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث نظر آتے ہیں‘ جن کی سرگرمیوں کے بارے میں ٹھوس ثبوت بھی ہماری ایجنسیوں کے پاس موجود ہیں‘ جبکہ اب وکی لیکس کی ویب سائٹ کے ذریعے امریکی سی آئی اے کی دستاویز سامنے آنے کے بعد تو انکے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں رہی۔
اس صورتحال میں دوسرے ممالک تو جو کرینگے سو کرینگے‘ ہمارے حکمرانوں کو اب امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار فی الفور ترک کر دینا چاہیے‘ اسکے ڈومور کے تقاضے بھی رد کرتے ہوئے اب فوجی اپریشن ختم کر دیا جائے اور امریکہ پر واضح کر دیا جائے کہ اب اس کا کوئی ڈرون جہاز ہماری فضائی حدود میں آیا تو اس کو مار گرایا جائیگا۔ جب امریکہ کا دہشت گرد برآمد کرنے والا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے تو دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر اس کے مفادات کی جنگ میں شامل رہنے اور اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بنانے کا کیا جواز بنتا ہے؟
بھارت کیخلاف مقدمہ!
پاکستان اچھے وکلاء بھیجے
پاکستان نے ڈیموں کے تنازعہ پر بھارت کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جانے کا فیصلہ کرلیا پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید جماعت علی شاہ نے بتایا کہ بگلیہاڑ اور کشن گنگا ڈیموںکے تنازعہ پرپاکستان نے بھارت کیخلاف عالمی عدالتِ انصاف میں مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی حکومت پاکستان کی طرف آنیوالے تمام دریائوں ندی نالوں پر ڈیم تعمیر کر رہی ہے۔ بھارت نے پاکستان کو بنجر اور صحرا بنانے کیلئے62 ڈیم مقبوضہ کشمیر میں تعمیر کئے ہیں۔ جب بھارت کے پاس پانی زائد ہوتا ہے تو وہ پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ سیلاب میں بھارت کی اس سازش کا بھی بہت زیادہ عمل دخل ہے۔ اب بھارت دریائے ستلج میں پانی چھوڑ رہا ہے اور شبہ ہے کہ لاہور پنجاب کے دیگر حصوں کو ڈبونے کیلئے بھارت دریائے راوی میں بھی پانی چھوڑنے والا ہے۔
حکومت پاکستان کئی برس سے بھارت کیخلاف عالمی عدالت میںمقدمہ دائر کرنے کیلئے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔اس سے قبل ہم ورلڈ بنک کی ثالثی میں اپنا مقدمہ ہار چکے ہیں جہاں سے انصاف ملنے کی اُمید نہ ہو۔ وہاں ہمیں جا کر اپنا کیس کمزور نہیں کرناچاہئے تھا۔ اب وفاقی حکومت عالمی عدالتِ انصاف سے بھرپور تیاری کے ساتھ مضبوط کیس لے جا کر رجوع کرے اور وکلاء کی کسی اچھی ٹیم کو منتخب کیاجائے جو بھارت کیخلاف ہمارے مقدمات کو اچھی طرح لڑ سکے۔ پاکستانی اچھے وکلاء کو بھی اپنی خدمات پیش کرنے ے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ غیر ملکی وکلا پر بھروسہ نہیں کیاجاسکتا، بھارت تو ویسے بھی مسلمانوں کا دشمن اور پاکستان کا خونخوار ہمسایہ ہے۔
عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں
نیا ٹیکس کہاں سے دینگے…؟
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے مختلف مدات میں ٹیکس میں پر دو گنا اضافہ کردینے کی تجویز مسترد کردی ہے اور کہا ہے کہ ایسی تجاویز سامنے لائی جائیں جن سے عام شہریوں پربوجھ نہ پڑے۔
وفاقی حکومت کی طرف سے عوام پر دس برسوں کیلئے سیلاب ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی گئی ہے وفاقی حکومت تو عوام دشمنی کی علامت بن گئی ہے اورملک کے عوام کوزیادہ سے زیادہ تکلیف دینے کے مواقع کی تلاش میں رہتی ہے۔ ایک تو سیلاب کی وجہ سے عوام بے شمار مسائل کا شکار ہیں۔ مہنگائی روز بروز بڑی تیزرفتاری سے بڑھ رہی ہے اشیائے ضروریہ کی قلت ہورہی ہے حکومت ملک میں انرجی کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے کمشن اورکک بیکس کے چکر میں رینٹل پاور پلانٹس کے ذریعہ مہنگی بجلی پیدا کر رہی ہے جس سے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا عذاب بڑھ رہا ہے۔ فیکٹریاں اور کارخانے بند پڑے ہیں بیروزگاری روز بروز بڑھ رہی ہے۔ عوام دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں اور وفاقی حکومت بجلی کے نرخ بھی بڑھا رہی ہے ٹیکس بھی بڑھا رہی ہے گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر رہی ہے۔ پورے ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان برپا ہے مگر حکمرانوں کی بے حسی اور عوام کے مسائل سے لا تعلقی قابلِ داد ہے۔ وہ عوام کی چیخ و پکار کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عوام کی زندگی تلخ تر بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ملک بھر کے عوام کا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں اپنے اخراجات کم کریں۔ صدر وزیراعظم تمام وفاقی و صوبائی وزراء اپنی عیاشیاں بند کریں۔ بیورو کریسی کے اخراجات کم ہیں۔ ملک میں پانی کے ذخائر تعمیر کریں۔ سستی بجلی پیدا کریں اور عوام کو بھی جینے کا حق دیں۔ عوام کسی قسم کا کوئی بھی نیا ٹیکس ادا کرنے کے قابل نہیں ‘ اس لئے کوئی بھی نیا ٹیکس لگانے کی کسی تجویز پر غور نہ کیاجائے۔
وبائی امرا ض کے انسداد
کیلئے کام شروع کریں
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے تباہ کاری انتہائی شدید نوعیت کی ہے جو کہ مختلف جہتوں میں ہوئی۔ صوبائی اور ضلعی سطح پر مربوط نظام بنایا جائیگا‘ 35 لاکھ سیلاب زدہ بچوں میں وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ ہے۔ وزیراعظم نے صحت کے بارے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد ان خیالات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اس سے قبل بھی کئی دفعہ وزیر رہے ہیں‘ انہیں تجربہ ہے کہ پاکستان میں انتظامی مشینری کا اوپر سے نیچے تک مربوط نظام موجود ہے۔ اس نظام کو استعمال نہ کیا جائے یا اس میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے تو اسے حکمران درست کر سکتے ہیں۔ صحت کے مسائل کے بارے میں بھی مربوط نظام موجود ہے‘ اسلام آباد سے لیکر ہر ٹائون کمیٹی تک ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا سسٹم موجود ہے‘ کوئی نیا نظام بنانے کے بجائے آپکے پاس ملکی وسائل سے اور جو غیرملکی امداد آچکی ہے‘ اس سے سیلاب زدگان کے کیمپوں اور دیہی علاقوں میں بچوں کو وبائی امراض سے محفوظ کرنے کیلئے دوائیں اور فنڈز ریلیز کریں‘ تمام صوبوں میں اور وفاقی حکومت محکمہ صحت کو حکم دے کہ وہ اس سلسلہ میں ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کریں۔ وزیراعظم پتہ نہیں کونسا مربوط نظام بنانا چاہتے ہیں مگر سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض شروع ہو چکے ہیں اور گیسٹرو‘ ہیضہ‘ ٹائیفائیڈ وغیرہ کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور یقیناً بچے بھی اس خطرے سے دور نہیں۔ بس حکومت کام شروع کرے تاکہ وبائی امراض کو ابتداء ہی میں روک لیا جائے۔ حکومت کو اقوام متحدہ کی وساطت سے عالمی برادری سے سیلاب زدگان کیلئے اربوں ڈالر وصول ہو رہے ہیں مگر اسکے باوجود سیلاب زدگان کی امداد و بحالی کیلئے حکومت کی سطح پر اب تک کوئی ٹھوس حکمت عملی سامنے نہیں آئی اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے بقول اس وقت بھی سیلاب سے متاثرہ پچاس لاکھ افراد کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔