چین کی امریکہ کو وارننگ اور ہماری سلامتی کے تقاضے

ـ 27 جنوری ، 2010
چین نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور بھارت‘ پاکستان اور کشمیر پر اسے سبق پڑھانے سے گریز کرے۔ اس سلسلہ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان مسٹر مندھانگ نے گزشتہ روز بیجنگ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چین اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کو یقینی بنانے کیلئے اپنی پالیسی پر گامزن ہے اور اسے اپنے مفاد کا خود ادراک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت سے مسئلہ کشمیر کو سلجھانے کیلئے چین کی ثالثی قبول کرنے کیلئے تیار ہوں تو ہم انکی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک خودمختار ملک کی حیثیت سے چین کو امریکہ سمیت کوئی ملک دبا سکتا ہے‘ نہ جھکا سکتا ہے بلکہ ہمیں اپنے مفادات کی تکمیل اچھی طرح آتی ہے۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے حالیہ بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے معاملہ میں چین نے جو مؤقف اختیار کیا ہے‘ وہ کسی ملک کو خوش کرنے کیلئے نہیں‘ بلکہ وہ چین کی پالیسی ہے اور ہم جس مسئلہ کو متنازعہ سمجھتے ہیں‘ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ کشمیر کے مسئلہ پر چین کا مؤقف اٹل ہے۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ چین ہمارا قابل بھروسہ ہمسایہ اور قابل فخر دوست ملک ہے جس نے ہر مشکل وقت میں ہمارا بے لوث ساتھ دیا۔ ہمارے ساتھ اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں پرخلوص تعاون کیا اور پاک بھارت جنگوں میں ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر ہمارے دشمن بھارت کو واضح پیغام دیا کہ وہ پاکستان کو تنہا نہ سمجھے۔ اسی طرح مسئلہ کشمیر پر بھی عوامی جمہوریہ چین نے اصولوں کی بنیاد پر ہمیشہ ہمارے مؤقف کی تائید کی ہے اور کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کی بھارتی ہٹ دھرمی کا جواب دیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اسی بنیاد پر چین نے اپنی سرحد سے ملحق مقبوضہ کشمیر کے علاقہ میں بھارت کو سڑک تعمیر کرنے سے روک دیا تھا۔ چین کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے پاکستان اور بھارت کے مابین ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی یقیناً خلوص پر مبنی ہے اور وہ اس خطہ میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے اور پرامن بقائے باہمی کے اصول کی بنیاد پر خطہ کے تمام ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خاطر ہی پاکستان بھارت کے مابین تنازعہ کے باعث بننے والے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کا متمنی ہے جس کیلئے وہ یو این قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے سے متعلق پاکستان کے اصولی مؤقف کو ہی درست سمجھتا ہے اور اسی بنیاد پر وہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرتا ہے جبکہ اسکے برعکس امریکہ نہ صرف ہم پر مسئلہ کشمیر کا بھارتی حل ٹھونسنا چاہتا ہے‘ جس کیلئے وہ ہمیں بھارت کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا درس دیتا ہے بلکہ وہ ہمارے اس شاطر دشمن کی سرپرستی کرکے اور اسکے ساتھ دفاعی اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے معاہدے کرکے اسکے توسیع پسندانہ جنگی جنون کو بڑھاوا دے رہا ہے اور یقیناً اسی زعم میں بھارتی آرمی چیف جنرل دیپک کپور نے بڑ ماری تھی کہ وہ اپنی دفاعی برتری کی بنیاد پر پاکستان اور چین دونوں کو بیک وقت 96 گھنٹے میں مفلوج کر سکتا ہے۔
بھارت درحقیقت کشمیر پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کیلئے ہی شروع دن سے ہماری سالمیت کے درپے ہے اور اسی تناظر میں وہ امریکہ، روس اور اسرائیل کی معاونت سے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور جدید اسلحہ کے ڈھیر لگا رہا ہے۔ وہ تین بار ہم پر جنگ مسلط کر چکا ہے۔ مکتی باہنی کی گھنائونی سازش کے تحت مشرقی پاکستان کو ہمارے وجود سے کاٹ چکا ہے اور باقی ماندہ پاکستان کی سالمیت کیخلاف بھی سازشوں میں مصروف ہے‘ اگر ہم ایٹمی قوت نہ بنے ہوتے تو ہمارا یہ ازلی دشمن ہمیں کب کا ہڑپ کر چکا ہوتا۔ وہ اب بھی حیلے بہانے سے ہم پر ضربِ کاری لگانے کے موقع کی تاک میں ہے اور سمجھتا ہے کہ پاکستان کو ہڑپ کرنے کی اسکی سازش کی راہ میں چین ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یقیناً اسی بنا پر بھارتی آرمی چیف نے ہمارے ساتھ ساتھ چین کو بھی اپنے جارحانہ عزائم کی لپیٹ میں لیا۔
چین کو بھی اس کا بخوبی احساس ہے کہ بھارت امریکی شہہ پر اور اس کی سرپرستی میں ہی خود کو اس خطے کا بدمست ہاتھی سمجھ رہا ہے ورنہ چہ پدی چہ پدی کا شوربہ۔ وہ چین سے ایک بار اپنے دانت کھٹے کرا چکا ہے تو اب اسے ہمارے ساتھ ساتھ چین کیخلاف بھی جارحیت کے ارتکاب کی کیسے جرأت ہو سکتی ہے۔ اس کا مقصد صرف چین کو ہماری حمائت سے باز رکھنے کا ہے جبکہ چین بخوبی سمجھتا ہے کہ امریکہ اس خطہ میں بھی بھارت کے ذریعے اپنی بالاتری قائم کرکے اپنے مقاصد اور مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے چنانچہ اس نے کشمیر پر اپنے اصولی موقف کے اعادہ کے ساتھ امریکہ کو واشگاف الفاظ میں وارننگ دینا ضروری سمجھا ہے تاکہ وہ اپنے جارحانہ عزائم سے باز آ جائے۔
امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں اس خطہ میں درحقیقت اپنے مفادات کے تحفظ کی جنگ شروع کی ہوئی ہے جس میں اسے علاقائی اور عالمی امن سے کوئی سروکار نہیں بلکہ اسکی ہلہ شیری سے بھارت اپنے جارحانہ عزائم میں جتنا آگے بڑھے گا‘ اس سے پیدا ہونیوالی بدامنی کی فضا سے امریکہ اتنا ہی فائدہ اٹھائے گا اس سلسلہ میں ایک امریکی ویب سائٹ نے امریکی عزائم کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے جس کے مطابق امریکہ ہتھیاروں اور بارود کی مجموعی اپنی تجارت میں 47 فیصد اسلحہ بارود پاکستان اور بھارت کو فروخت کر رہا ہے۔ اگر اس خطہ کے ساتھ امریکہ کا اپنے ہتھیاروں کی فروخت والا مفاد وابستہ ہے تو وہ بھلا یہاں امن کیوں قائم ہونے دیگا اور پاکستان بھارت کے مابین کشمیر اور پانی کے بنیادی تنازعات حل کرانے میں کیوں دلچسپی لے گا۔ اسکی تو کوشش ہو گی کہ ان دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہو اور چین پر بھی اس کشیدگی کے اثرات مرتب ہوں تاکہ اسکی اسلحہ کی تجارت اس خطہ میں پھلتی پھولتی رہے۔ اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے چین نے امریکہ کیخلاف اپنا مضبوط اور جرات مندانہ موقف اختیار کیا ہے جسے تقویت پہنچانے کیلئے ہمارے حکمرانوں کو بھی چین کا کھل کر ساتھ دینا چاہئے اور امریکہ پر واضح کرنا چاہئے کہ جب تک یو این قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا حل سامنے نہیں آتا، پاک بھارت دوستانہ تعلقات اور علاقائی امن کے قیام کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ کشمیری عوام کی جانب سے بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منانا اس کی واضح دلیل ہے۔ اگر امریکہ علاقائی اور عالمی امن کی خواہاں ہے اور اس مقصد کیلئے وہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی میز پز بٹھانا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے اپنے دفاعی اتحادی بھارت کو یو این قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کی راہ پر لائے۔ اس کے توسیع پسندانہ جنگی جنونی عزائم کو لگام دے اور پرامن بقائے باہمی کے عالمی اصولوں کی بنیاد پر اسے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن و سکون سے رہنا سکھائے‘ ورنہ آج روایتی ہتھیاروں کی اور عددی برتری کی کوئی وقعت نہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور اپنے دفاع و سلامتی کی خاطر وہ اپنے اس ہتھیار کو استعمال کرنے کا پورا حق رکھتا ہے۔ اگر امریکی جارحانہ عزائم اور بھارتی جنونیت کی وجہ سے اس خطہ میں جنگ کی نوبت آئی تو وہ اس پورے خطے میں انسانی تباہی پر ہی منتج ہو گی۔ چین نے بھی یقیناً اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے امریکہ کو وارننگ دی ہے اس لئے امریکہ اور بھارت کو اپنے باہمی مفادات کی جنگ کو بچوں کا کھیل نہیں بنانا چاہئے‘ انہوں نے جارحیت کا ارتکاب کیا تو بھارتی آرمی چیف کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔
مذاکرات کیلئے کوئی شرط نہ لگائیں
پاکستان افغانستان اور ترکی نے افغانستان میں قیامِ امن اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے سہہ فریقی تعاون کو مزید فعال اور موثر بنانے پر اتفاق کیا ہے پاکستان اور افغانستان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی حمایت نہ کرنے اور ہتھیار ڈالنے والے شدت پسندوں سے مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے کانفرنس میں خود کہا ہے کہ کوئی بھی جمہوری حکومت صرف طاقت کے استعمال کی حمایت جاری نہیں رکھ سکتی بلکہ وہ پائیدار امن اور ترقی کیلئے مذاکرات کو ترجیح دیتی ہے اور نیٹو فورسز کے کمانڈر بھی کہہ رہے ہیں کہ بہت لڑائی ہو چکی اب اس کا کوئی سیاسی حل ہونا چاہئے۔ پاکستان کے صدر زرداری اور نیٹو کمانڈر یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ اِس لڑائی کا نتیجہ مذاکرات کی صورت میں ہی برآمد ہو سکتا ہے تو پھر صدر پاکستان انتہا پسندوں پر ہتھیار ڈالنے کی شرط کیوں عائد کر رہے ہیں۔ بہتر یہی ہو گا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جو لوگ بھی کِسی نہ کِسی وجہ سے ناراض ہیں‘ امریکی ڈرون حملوں اور فوجی اپریشن کے ردعمل میں ہتھیار اُٹھائے ہوئے ہیں‘ اِن سب گروپوں کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی جائے۔
جب امریکہ اور اسکے اتحادی گزشتہ نو سال سے جاری رکھی گئی افغان جنگ کے حوالے سے اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ جنگ جیتنا ان کیلئے آسان کام نہیں اور اب وہ غیور افغان باشندوں اور جنگجو طالبان کے ہاتھوں اپنے مزید جانی اور مالی نقصان سے بچنے کیلئے افغانستان سے واپسی کے راستے تلاش کر رہے ہیں جس کیلئے وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے اور مسئلہ کا سیاسی حل نکالنے پر آمادہ ہیں‘ تو پھر ہم امن و امان کی بحالی کی خاطر طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کیوں اختیار نہیں کر سکتے اور مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے کے ساتھ کیوں مشروط کررہے ہیں۔ جنہوں نے اپنے وطن عزیز کو غیرملکی فوجوں کے تسلط سے نجات دلانے کیلئے ہتھیار اٹھائے ہیں‘ وہ بھلا ہتھیار ڈالنے پر کیوں آمادہ ہونگے؟ اور ویسے بھی طالبان کے کسی گروہ یا انتہا پسندوں سے ہماری کوئی جنگ یا لڑائی نہیں ہے۔ لڑنے والوں سے مذاکرات کرکے اُنہیں قومی سیاست کی مین سٹریم میں لانا بہت ضروری ہے۔
بھارت کی ثقافتی یلغار
پاکستان دو قومی نظریے پر معرض وجود میں آیا۔ بھارت نے سازشوں کے تانے بانے بُن کر جب مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے الگ کر دیا تو وزیراعظم اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے لیکن کسی کے کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پاکستان دو قومی نظریہ کے ہی مرہون منت تھا اور اسی نظریے پر انشاء اللہ آباد رہے گا۔ اس نظریے کی ہندو بنیے کو ازل سے تکلیف ہے۔ وہ پاکستانیوں کا اسلامی تشخص مجروح کرنے کیلئے اپنی سازشوں سے کبھی باز نہیں آیا اور اس میں خود ہمارے بھی کچھ نادان دوست اس کا آلہ کار بن رہے ہیں۔ آجکل پاکستان کے سنیما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش جاری ہے اور کیبل کے ذریعے گھر گھر میں بھارتی خباثت پہنچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اگر پاکستان میں معیاری فلمیں بن سکتیں تو فلم انڈسٹری کی ڈوبتی ناؤ کو بھارت کی پاکستان دشمنی پر بنی فلمیں بھی سہارا نہیں دے سکتیں۔ بھارتی فلموں اور بھارتی کیبل چینلز سے نوجوانوں اور نئی نسل کی اخلاقیات بُری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ بھارت میں کسی بھی پاکستانی چینل کی نشریات دکھانے پر پابندی ہے اگر نہ بھی ہو تب بھی پاکستان میں کسی بھارتی فلم کی نمائش ہونی چاہیے نہ کیبل پر کوئی انڈین چلانے کی اجازت۔ قومی غیرت کا تقاضا ہے کہ پیمرا دونوں پر پابندی لگائے۔
حکومت کاغذ کی قیمتوں کو کنٹرول کرے
پنجاب میں کاغذ کی قیمتیں بڑھتے ہی پرائمری اور سیکنڈری کی سطح پر نصابی کتب کے پبلشرز نے اگلے سیشن کیلئے قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے اِن کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران دو مرتبہ کاغذ کی قیمتیں بڑھنے سے پبلشرز متاثر ہوئے ہیں۔ تعلیمی کتب کے پبلشرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر کاغذ کی قیمتوں پر کنٹرول نہیں کیا تو اگلے تعلیمی سیشن کیلئے ہم کتابوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دینگے۔ تعلیم‘ پاکستان کے عوام کا خصوصی مسئلہ ہے۔ آج دُنیا میں شرح خواندگی شاید پاکستان میں سب سے کم ہے اور ہمارے ہاں جو خواندگی کی شرح بتائی جاتی ہے اِس میں صرف دستخط کر سکنے والوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے چھوٹے اور کم وسائل والے ممالک میں شرح خواندگی سو فیصد ہے اور وہاں کم از کم تعلیم کا معیار میٹرک بیان کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں شرح خواندگی کی کمی انتہائی شرمناک ہے اور اس میں سب سے زیادہ قصوروار پاکستان کا حکمران طبقہ ہے جوکہ تعلیم کے شعبہ کو بھی تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اور پاکستان میں کوئی ایک نظامِ تعلیم نافذ کرنے کی بجائے ملک میں آٹھ دس نظامِ تعلیم کو مروج کئے ہوئے ہے اور کتابوں کی اشاعت پر بھی ٹیکس عائد کیا جاتا ہے اور تعلیمی کتب کیلئے کاغذ پر بھی بھاری ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ تعلیمی کتب کے پبلشرز کا یہ مطالبہ بالکل جائز اور درست ہے کہ گذشتہ تین ماہ میں کاغذوں کی قیمت میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ واپس لیا جائے اور آئندہ کیلئے پبلشرز کو یقین دہانی کرائی جائے کہ کاغذ کی قیمت کو کنٹرول کیا جائیگا تاکہ پاکستان میں غریب عوام پر حصولِ تعلیم کیلئے کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter