وزراء کو پنجاب کابینہ سے الگ کرنے پر پیپلز پارٹی کا بلاجواز اشتعال

ـ 26 فروری ، 2011
مسلم لیگ (ن) یونیفکیشن گروپ ہی نہیں‘ (ق) لیگ کو بھی ساتھ ملائے
مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کے پیپلز پارٹی پنجاب کے وزراء کو فارغ کرنے کے جواب میں وفاقی وزیر قانون بابر اعوان اور وزیر صوبائی رابطہ رضا ربانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے جو 10 نکات پیش کئے ہیں‘ وہ پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہیں اور اب بھی اس میں شامل ہیں۔ پھر بھی ہم نے اناپرستی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس پر ہم نے کافی پیشرفت کی اور اس کا فیصلہ عوام پر چھوڑتے ہیں۔
میاں نواز شریف نے پیپلز پارٹی کو پنجاب حکومت سے الگ کرنے کے اعلان سے قبل اس ناخوشگوار فیصلے تک پہنچنے کے محرکات سے تفصیلات کے ساتھ آگاہ کیا‘ انکی خاص بات یہ تھی کہ حکومت دس نکاتی ایجنڈے پر 30 فیصد بھی عمل کرکے دکھا دیتی تو نوبت پنجاب حکومت سے پیپلز پارٹی کو فارغ کرنے تک نہ پہنچتی۔ مسلم لیگ (ن) کی دی گئی 45 روزہ مہلت کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے درمیان 24 فروری کو ملاقات میں یہ طے پایا کہ اگر مفاہمت کی کوئی صورت نہیں نکلتی تو ایک دوسرے کی حکومت گرانے میں فریق نہیں بنیں گے۔
پیپلز پارٹی نے ججوں کی بحالی کیلئے مسلم لیگ (ن) سے کئے گئے وعدوں اور معاہدوں پر عملدرآمد نہ کیا تو مسلم لیگ (ن) نے مرکز سے اپنے وزیر واپس بلا لئے تھے اور اصولی طور پر اس موقع پر پیپلز پارٹی کو بھی پنجاب حکومت سے الگ ہو جانا چاہیے تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے تین سال پیپلزپارٹی کی حکومت میں شامل رکھا‘ افسوس کہ خود پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر 45 دن میں 10 نکاتی ایجنڈے کو تسلیم کیا۔ اس پر عمل کی یقین دہانی کرائی اور حسب سابق اس وعدے سے بھی مکر گئی جس پر مسلم لیگ (ن) نے اس سے راہیں الگ کیں تو پیپلز پارٹی کو چاہیے تھا کہ یہ فیصلہ خندہ پیشانی سے قبول کرتی لیکن نواز شریف کی پریس کانفرنس کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کا پریس کانفرنس یا بیانات کی صورت میں اشتعال انگیز ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی ملاقات میں معاملات راست سمت کی طرف بڑھ سکتے تھے لیکن وزیراعظم کو پارٹی سربراہ کی طرف سے جو مینڈیٹ دیا گیا تھا‘ وہ شاید اسی کے اندر رہ کر یقین دہانیاں کراتے رہے اور انہوں نے اس سے ایک روز قبل یہ بھی کہا تھا کہ مفاہمت کو ٹائم فریم کا یرغمال بنانے کے منفی اثرات مرتب ہونگے اور اس سے بھی قبل 21 فروری کو کہا تھا کہ نواز شریف کے چھ نکات پر عمل کر دیا‘ باقی چار پر عمل کیلئے مزید وقت چاہیے۔ ایجنڈے پر عملدرآمد کے حوالے سے یہی بات بابر اعوان اور رضا ربانی نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کی ہے لیکن جو بظاہر نظر آتا ہے‘ صرف کابینہ کا سائز چھوٹا کرنے کے آدھے نکتے پر ہی عمل ہوا‘ باقی مہنگائی‘ بیروزگاری‘ بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ‘ معاف کئے گئے قرضوں کی وصولی‘ خسارے میں جانے اور دیوالیہ ہونیوالے اداروں کی اصلاح سرکاری اخراجات میں 30 فیصد کمی‘ این آر او سمیت عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کرپٹ لوگوں کے احتساب جیسے نکات کو درخور اعتنا نہ سمجھا۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ نواز شریف کے نکات اسکے منشور کا حصہ ہیں‘ تو ان پر عملدرآمد تو مزید آسان ہو جانا چاہیے تھا‘ پھر معاملہ لٹکائے رکھنے کا اور وہ بھی اگلے الیکشن تک‘ کیا جواز بنتا ہے؟
وزیر اعلیٰ پنجاب نے کابینہ تحلیل کرنے کی سمری گورنر کو بھجوا دی ہے‘ اس پر آئین کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔ مین میخ نکالنے کے حکومتی بزرجمہروں کے پاس کئی طریقے ہونگے‘ ایسے طریقے آزمائے گئے تو قومی سیاست پھر سے 90ء کی دہائی والی ناپسندیدہ اور نفرت انگیز دلدل میں پھنس جائیگی جس کا خمیازہ آج کی انہی دو بڑی پارٹیوں نے بھگتا تھا۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی وزراء کو چاہیے تھا کہ باوقار طریقے سے مستعفی ہو جاتے لیکن پارٹی فیصلے کے مطابق انہوں نے استعفے دینے کا آپشن یکسر مسترد کردیا جس سے عمومی تاثر یہی ملتا ہے کہ پیپلز پارٹی نہ صرف پنجاب میں اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتی ہے بلکہ مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت کے راستے میں بھی ہر ممکنہ رکاوٹ کھڑی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حالانکہ سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض نے کہا تھا کہ ان کو صوبائی کابینہ سے فارغ کیا گیا تو داتا دربار جا کر شکرانے کے نفل ادا کرینگے‘ اب وہ داتا صاحب جا کر اپنا قول نبھائیں اور جس اقدام پر وہ شکرانہ ادا کرنا چاہتے ہیں‘ اس پر انکے قائدین کا ترش رویہ اختیار کرنا سمجھ سے بالا ہے۔
پیپلز پارٹی والے بڑی دور کی کوڑی لائے ہیں‘ فرماتے ہیں کہ یونیفکیشن گروپ کے ارکان لوٹے ہیں‘ ڈیفیکشن کلاز کا اطلاق اگلے الیکشن سے ہونا تھا‘ لیکن جس طرح وفاقی حکومت نے کابینہ کا سائز کم کردیا حالانکہ اس قانون پر اگلے سال عمل ہونا تھا‘ اسی طرح پنجاب حکومت سے مطالبہ کرینگے‘ وہ بھی ڈیفکیشن کلاز پر آج سے ہی عمل کرے۔ لوٹا کریسی اور وفا داریاں بدلنے کی حمایت کی جا سکتی ہے‘ نہ حمایت‘ پیپلز پارٹی نے جن لوگوں کو لوٹے قرار دیا‘ یہ بھی تسلیم کرلیا کہ ان پر مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دینے پر فی الوقت ڈیفکیشن کلاز کا اطلاق نہیں ہوتا۔
اب پنجاب میں معاملات اعتماد اور عدم اعتماد کے ووٹ کی طرف بڑھ رہے ہیں‘ جس میں فیصلہ کن کردار یونیفکیشن گروپ کے 47 ارکان کا ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے کہ جن ارکان کو جبراً انکی پارٹی سے الگ کیا گیا‘ ان کو ساتھ ملا لیں گے۔ نواز شریف کی جلاوطنی کے موقع پر ساتھ چھوڑنے والوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے۔ قانونی صورتحال جو بھی بنے‘ یونیفکیشن گروپ کی حمایت حاصل کرنے پر مسلم لیگ (ن) کی اصولی سیاست پر انگلیاں ضرور اٹھیں گے۔ بہتر ہوتا کہ مسلم لیگ (ن)‘ مسلم لیگ (ق) کے مذکورہ ارکان کو ساتھ ملانے کے ساتھ ساتھ پوری پارٹی کو بھی اپنا ساتھی بنالیتی؟ اس کیلئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بڑے پن اور حوصلے کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ انا کے خول سے نکلنا ہو گا‘ جب ہر قیادت اپنی پارٹی کو قائداعظم کی مسلم لیگ قرار دیتی اور خود قائداعظم کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتی ہے تو اتحاد کے راستے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے۔ اگر شرائط لگاتے رہیں گے‘ یوں سمجھئے حال تو بحرانوں سے بھرپور ہے‘ سیاسی مستقبل بھی تاریک ہو گا‘ ملک کو دو جماعتی سسٹم کی طرف لے جانے میں مسلم لیگ (ن) کا کردار اہم ہے اور معاملات دو جماعتی سسٹم کی طرف تبھی بڑھیں گے‘ جب مسلم لیگ متحد ہو کر قائدؒ و اقبالؒ کی مسلم لیگ بن جائیگی اور پاکستان کو قائدؒ و اقبالؒ کا پاکستان‘ ایک جمہوری فلاحی اسلامی پاکستان بنا سکے گی‘ ق لیگ کو بھی مونس الٰہی کا واقعہ فراموش کر دینا چاہیے۔
امریکہ طالبان سے غیرمشروط مذاکرات کر سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت ہتھیار پھینکنے والے پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کر سکتی ہے مگر بیرونی ایجنڈے پر کام کرنیوالوں کے ساتھ قطعاً بات نہیں ہو گی۔ ڈائیلاگ‘ ڈویلپمنٹ اور ڈیٹرنس پالیسی پر قائم ہیں۔
امریکہ کے افغانستان پر 2001ء میں حملے سے قبل اس خطہ میں امن و سکون تھا‘ خودکش حملے‘ بم دھماکے ہوتے تھے‘ نہ ہی ڈرون حملوں کا کوئی خوف و خطرہ ہوتا تھا۔ نائن الیون کے یہودیوں کے ڈرامے اور بش کی مسلم امہ کیخلاف صلیبی جنگ شروع کرنے سے لیکر آج تک افغانستان‘ پاکستان اور عراق میں امن و سکون قائم نہیں ہو سکا۔ امریکہ نے افغانستان میں طالبان حکومت کو ختم کیا لیکن عرصہ دس سال گزرنے کے باوجود امریکہ افغان سرزمین پر اپنے پنجے مضبوط نہیں کر سکا۔ بالآخر مجبور ہو کر امریکہ بہادر نے انکے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور بلامشروط مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تاکہ واپسی کا محفوظ راستہ اختیار کیا جا سکے۔
امریکہ بلامشروط مذاکرات شروع کرنے کی منت سماجت کر رہا ہے جبکہ وزیراعظم گیلانی کہتے ہیں کہ ہتھیار پھینکنے والوں سے مذاکرات کئے جائیں اور طالبان کی شرط ہے کہ پہلے فوج کو علاقے سے واپس بلالیا جائے‘ تب بات چیت کی جائیگی۔ امریکہ بلامشروط مذاکرات کے ذریعے محفوظ راستہ لیکر واپس چلا جائیگا اور پاکستانی حکومت ہتھیار پھینکنے کی رٹ لگائے رکھے گی۔ امریکہ کے جانے کے بعد مقامی طالبان حکومت کیلئے درد سر بن جائینگے اور انکے ذہن میں ہو گا کہ ہم نے ایک سپرپاور کو بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے‘ اب مذاکرات نہیں ہونگے۔ اس لئے حکومت پاکستان اپنے روٹھے نوجوانوں کو معزز شہری بنانے اور انہیں واپس اپنے گھروں میں لانے کیلئے شرطیں عائد نہ کرے اور نہ ہی طالبان لیڈر شپ کوئی شرط رکھے بلکہ بلاشرط ملک کی سلامتی‘ مضبوطی اور داخلی خودمختاری کیلئے آمنے سامنے بیٹھیں تاکہ دشمن عناصر قوتیں جو طالبان کے روپ میں افراتفری پھیلانے میں مگن ہیں۔ انکی حوصلہ شکنی ہو اور ملک میں امن کا دور دوبارہ لوٹ آئیگا۔
امریکیوں کو پاکستان میں میر جعفروں کی تلاش
ہمارے رپورٹر کے ذرائع کے مطابق امریکہ نے اپنے جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد حکمت عملی تبدیلی کرتے ہوئے پاکستان میں مقامی افراد پر مشتمل جاسوسی نیٹ ورک لانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں حساس وقانون نافذ کرنیوالے اداروں میں تعینات افسران کو پُرکشش معاوضے پر جاسوس بھرتی کیا جائے گا۔
سابق آمر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں امریکیوں نے بلا روک ٹوک پاکستان میں آنا شروع کیا، وہ بلا جھجک حساس مقامات کی تصویر کشی کرتے، جدید ترین اسلحہ لیکر اسلام آباد کی سڑکوں پر گھومتے، نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہمارے پولیس اہلکاروں پر بندوقیں تانی جانے لگیں، پہلے بلیک واٹر بعد ازاں XE کے نام سے سیکورٹی ایجنسی کے ذریعے امریکی سر عام پھرتے تھے، لیکن ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری اور پاکستانی قوم کے جاگ اٹھنے کی بعد امریکی اب آہستہ آہستہ پاکستان سے اپنا بوریا بستر گول کر رہے ہیں لیکن جاتے جاتے میر جعفروں اور میر صادقوں پر مشتمل جاسوسی نیٹ ورک قائم کر رہا ہے، امریکیوں کیلئے پاک سرزمین غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز پشاور سے ایک اعلیٰ افسر کی گاڑی سے غیر قانونی مقیم امریکی شہری کو گرفتار کیا گیا، اسے بہت سارے اعلیٰ افسر پاکستان کی سلامتی اور وفاداری کا حلف دیکر تیس چالیس ہزار ڈالر کے عوض اپنا ایمان بیچ رہے ہیں۔ اکتوبر2010ء سے لیکر فروری2011ء تک امریکی باشندہ پشاور میں کیا کرتا رہا؟ قانون نافذ کرنیوالے ادارے کیا کرتے رہے؟ اسی طرح سینکڑوں امریکی خفیہ طور پر جاسوسی میں لگے ہوئے ہیں۔
قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ایک اپنے فرائض منصبی کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کیخلاف ہر سازش کا توڑ کرنا دوسرے امریکی مفادات کیلئے کام کرنے پر تیار ہونیوالے غداروں کو قانون کے شکنجے پر لانا، جس طرح اعلیٰ افسر کی گاڑی میں امریکی شہری پکڑا گیا، اس طرح اور افسران بھی امریکی ویزے اور ڈالروں کی خاطر ملک سے غداری کر سکتے ہیں، ہر پاکستانی شہری پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ امریکہ کی اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے، ہر محب وطن شہری سے بھی امید کی جاتی ہے کہ وہ امریکہ کے کسی جھانسے میں نہیں آئیگا۔
صدر زرداری کا دورۂ کویت
صدر زرداری دو روزہ سرکاری دورے پر کویت پہنچ گئے‘ امیر کویت شیخ صباح سے ملاقات کی‘ تجارت میں بڑھتے ہوئے تعاون اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے تعلقات مزید مستحکم کرنے پر اتفاق ہوا۔
یہ ایک بہتر اقدام ہے کہ صدر زرداری کو کویت کے دو روزہ دورے پر کویت پہنچ گئے اور دونوں مسلم ملکوں کے درمیان باہمی تجارتی و دوستانہ تعلقات کو مزید استحکام ملے گا۔ اگر یہ سلسلہ مزید آگے چلے اور صدر دوسرے اسلامی ممالک سے بھی اسی طرح تعلقات اور تجارتی روابط قائم کرنے کی کوشش کریں تو اسلامی ملکوں سے پاکستان کا ربط بڑھے گا‘ بلکہ روزگار کے موقع بھی وطن عزیز کو حاصل ہونگے۔ اگر دیگر اسلامی ریاستیں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور صدر ان کو تمام تر ضروری سہولیات و مراعات کی یقین دہانی کرا دیں تو یہ سونے پر سہاگہ ہو گا۔ کویت ایک امیر عرب ریاست ہے جو تیل کی دولت سے مالامال ہے۔ پاکستان اپنی تیل کی ضرورت پوری کرنے کیلئے بھی اس سے ایسا معاہدہ کرے کہ پاکستان میں تیل آسان نرخوں پر دستیاب ہو سکے۔ اسی طرح اگر کویت کی حکومت اور سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری پر رضامند ہو جائیں تو یہ صدر زرداری کا کامیاب دورہ ہو گا۔ ہمارے پاس لیبر فورس کافی ہے‘ اسے کھپانے کیلئے بھی کویت سے معاہدہ کیا جائے تاکہ زرمبادلہ میں اضافہ ہو اور بیروزگاری میں بھی کمی آئے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں