عمران خان کا 90 روز میں کرپشن ختم کرنے اور پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کااعلان .... واضح منشور اور ٹھوس پروگرام کے بغیر یہ منزل کیسے حاصل کی جا سکتی ہے

ـ 27 دسمبر ، 2011
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا میرا خواب ہے۔ صدر آصف زرداری کے دن گنے جا چکے ہیں‘ میاں نواز شریف کا دس اوورز کے میچ کا چیلنج قبول کرتا ہوں۔ برسراقتدار آکر 90 روز میں بڑی کرپشن ختم کر دینگے۔ پہلے اپنا اور پھر دوسروں کا احتساب کرینگے اور ساری ترقی کا رخ بلوچستان کی طرف موڑ دینگے۔ اتوار کی شب کراچی میں مزار قائد پر ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج مزار قائد کے سامنے کھڑے ہو کر وہ نئے پاکستان کا آغاز کرنا چاہتے ہیں‘ وہ اسلامی فلاحی ریاست کی تشکیل کے قائداعظم کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے‘ ان کا خواب ہے کہ پاکستان ایسا ملک بنے جہاں انسانیت کی قدر ہو اور سب کو انصاف ملے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں چوری پر لوگ جیل جاتے ہیں مگر پاکستان میں چوری کرنیوالا صدر بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچپن سے اب تک انکے سب خواب پورے ہوئے ہیں‘ اس لئے اب پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کا ان کا خواب بھی ضرور پورا ہو گا۔ انہوں نے پارٹی کے منشور اور لائحہ عمل کی تیاری کیلئے جہانگیر ترین کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دینے اور تحریک انصاف کا اگلا پبلک جلسہ 23 مارچ 2012ءکو کوئٹہ میں منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا۔
انتخابی سیاست کے ماہر جغادری سیاست دان جس تیز رفتاری کے ساتھ اپنی پارٹی‘ وزارتوں اور اسمبلیوں کی رکنیت سے مستعفی ہو کر عمران خان کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں‘ اس سے بادی النظر میں یہی تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ مقتدر حلقوں نے اپنے مقاصد کے تحت عمران خان کی قیادت میں ایک نئی کنگز پارٹی تشکیل دے کر مقبول سیاسی جماعتوں کو اقتدار کی منزل سے دور لے جانے کی پالیسی طے کرلی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکمران طبقہ نے عوام کے مہنگائی کے حوالے سے روزمرہ کے مسائل میں اضافہ کرکے‘ بجلی اور گیس کے سنگین بحران کی بنیاد پر ملک کو اندھیروں کی جانب دھکیل کر‘ میرٹ اور انصاف کا جنازہ نکال کر‘ اقرباپروری اور قومی خزانے کی لوٹ مار کرکے‘ آئینی اداروں کے ساتھ ٹکراﺅ کی پالیسی اختیار کرکے اور کرپشن کلچر کو فروغ دیکر عوام کو منتخب حکومت اور جمہوری نظام سے بدظن کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جبکہ اپوزیشن کے قائد میاں نواز شریف نے بھی سسٹم کو بچانے کے نام پر کرپٹ حکمرانوں کے اقتدار کو پہلے فرینڈلی اپوزیشن بن کر اور پھر بار بار سہارا دیکر اور ملکی و قومی مسائل کے حل کے معاملہ میں کوئی ٹھوس متبادل پالیسی نہ دیکر قوم کو مایوس کیا ہے اس لئے اپنے مسائل سے عاجز آئے عوام کا کسی تیسری قوت سے توقعات وابستہ کرنا فطری امر تھا جو انہیں عمران خان کی شکل میں نظر آئی جبکہ عوامی جذبات کو محسوس کرکے عمران خان نے بھی تبدیلی کا دل خوش کن نعرہ لگایا جس میں عوام کیلئے اس تناظر میں دلکشی پیدا ہوئی کہ روایتی سیاست کے اسیر حکمران طبقات ”سٹیٹس کو“ توڑنے پر کسی صورت آمادہ نہیں جبکہ ملکی سلامتی اور قومی غیرت کے تقاضوں کے منافی مشرف حکومت کی پالیسیوں کو تسلسل اور امریکی فرنٹ لائن اتحادی کے کردار کو وسعت دیکر حکومت نے ملک کی سالمیت کیلئے بھی سنگین خطرات پیدا کئے اور دیرینہ مکار دشمن ملک بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی راہ اختیار کرکے ملکی سلامتی کے علاوہ قومی حمیت کو بھی بٹہ لگایا۔ نتیجتاً ملک کی سالمیت کیلئے فکرمند حلقوں میں یہ سوچ مستحکم ہوئی کہ موجودہ حکمرانوں کے ہاتھوں عوام کا مستقبل محفوظ ہے‘ نہ ملک کا‘ اس لئے ان حکمرانوں سے جلد از جلد خلاصی حاصل کرنا ہی ملک کے مفاد میں بہتر ہے۔
یقیناً ایسی فضا ہی اسٹیبلشمنٹ کیلئے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی خاطر کنگز پارٹی تشکیل دینے کے معاملہ میں سازگار ہوتی ہے۔ ممکن ہے عمران خان کی نیت صاف ہو اور وہ خود اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال نہ ہونا چاہتے ہوں مگر آئندہ اقتدار کیلئے عمران خان سے وابستہ جس روشن امید کو بھانپ کر اقتدار سے کسی صورت باہر نہ رہنے والے سیاست دانوں کا عمران خان کے گرد میلہ لگ رہا ہے اس سے عمران خان کو مقبول لیڈر بنانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کے عمل دخل کی ہی عکاسی ہوتی ہے۔ خدا کرے کہ عمران خان اسلامی فلاحی معاشرے کی تشکیل‘ قائداعظم کے مشن کی تکمیل اور اقتدار کو روایتی سیاسی خاندانوں سے چھٹکارا دلا کر عوام کی جانب منتقل کرنے کے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوں مگر تبدیلی کا نعرہ لگا کر وہ انہی سارے روایتی سیاسی‘ جاگیردار‘ سرمایہ دار خاندانوں کو اپنی پارٹی میں جمع کر رہے ہیں جن سے خلاصی دلانے کا وہ پبلک جلسوں میں عوام سے وعدہ کرتے ہیں۔ اس صورت میں جبکہ انکے پاس ابھی کوئی ٹھوس پروگرام اور منشور بھی نہیں ہے‘ وہ اسلامی فلاحی ریاست کی تشکیل میں کیسے کامیاب ہونگے؟ عوام کو جاگیردارانہ‘ وراثتی سیاست سے کیسے نجات دلا پائیں گے اور کرپشن کلچر پر اپنے اعلان کے مطابق 90 دن کے اندر کیسے قابو پا سکیں گے؟
پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے بھی اقتدار سنبھالنے کے بعد بلند بانگ دعوے اور وعدے کئے تھے اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے تو اپنا سو دن کا ترجیحاتی پروگرام بھی پیش کردیا تھا جس پر ہنوز عملدرآمد کی نوبت آنا تو کجا‘ عوام کو مسائل کے دلدل میں دھکیلنا حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل ہو گیا اس لئے سہانے اعلانات اور حسین وعدوں کے فریب بار بار کھانے والے عوام اب مزید کوئی فریب کھانے کو تیار نہیں اور اگر کسی نے اپنے اقتدار کی خاطر عوام کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی تو اسے پہلے سے بھی زیادہ سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اپنے ایک ”سونامی“ کو اپنے ہی دوسرے ”سونامی“ کے ذریعے مات دے رہے ہیں اور پبلک جلسوں کی کامیابی کی شکل میں اپنی کامرانیاں دیکھ کر خود کو ابھی سے مستقبل کا حکمران سمجھ بیٹھے ہیں مگر وہ اپنے مسائل کے حل کیلئے بپھرے ہوئے عوام کی توقعات پر پورے نہ اتر سکے تو ایک نوآموز سیات دان کی حیثیت سے حالات پر قابو پانا ان کیلئے انتہائی مشکل ہی نہیں‘ ناممکن بھی ہو جائیگا کیونکہ عوام اب محض نعرے نہیں‘ عملی اقدامات بھی چاہتے ہیں جس کےلئے عمران خان ابھی اپنا پارٹی منشور بھی تیار نہیں کر پائے۔ اس صورتحال میں انہیں بغیر ”ماٹو“ اور بغیر پارٹی منشور کے اچانک انتخابی میدان میں اترنا پڑا تو اقتدار کی خاطر انکے ساتھ نتھی ہونےوالے گھاک سیاست دان ہی انکی سیاست کی بساط لپیٹ دینگے۔ انکے ساتھ شامل ہونیوالے مسلم لیگ (ن) کے مخدوم جاوید ہاشمی اگرچہ اپنی پارٹی قیادت کی بے اعتنائی اور اپنے بے وقعت ہونے کے باعث پارٹی قیادت سے بغاوت کرنے میں حق بجانب تھے مگر اپنی 40 سالہ سیاسی زندگی میں وہ اسٹیبلشمنٹ کے جن مہروں کےخلاف کلمہ حق بلند کرتے رہے‘ اب تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر وہ انہی کے ساتھ بیٹھ کر اپنے سیاسی اصولوں کی کیسے پاسداری کر پائیں گے؟ جبکہ عمران خان بذات خود اصولی سیاست کے نعرے لگاتے‘ اب مصلحتوں کے اسیر ہوتے نظر آرہے ہیں جنہوں نے ایم کیو ایم (متحدہ) کی قیادت و سیاست کا سخت ناقد ہونے کے باوجود کراچی کے جلسہ میں ان کیلئے ایک لفظ بھی ادا نہ کیا اور جواباً الطاف حسین سے اپنے جلسہ کی کامیابی کی مبارکباد وصول کی۔ اگر مستقبل کی سیاست میں عمران خان اسی طرح دوسرے ملکی اور قومی ایشوز پر بھی مفاہمتوں کے اسیر نظر آئے تو ان میں اور اقتدار میں باریاں لگانے والے دوسرے روایتی سیاست دانوں میں کیا فرق رہ جائیگا؟ خدا کرے کہ عمران خان ملک و قوم کی بہتری کیلئے امید کی کرن بن پائیں اور تبدیلی کے نعرے کو عملی جامہ پہنا کر کرپشن کلچر اور حکمران طبقات کی لاحق کردہ دیگر تمام اخلاقی‘ سماجی بیماریوں سے ملک اور عوام کو نجات دلا سکیں تاہم ٹھوس پروگرام‘ واضح منشور اور نیت کے خلوص کے بغیر ”سٹیٹس کو“ توڑنا ان کیلئے آسان نہیں ہو گا۔ ہماری نیک تمنائیں انکے ساتھ ہیں‘ تاہم نیک و بد حضور کو سمجھانا بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ وہ روایتی اقتداری سیاست پر تکیہ کرینگے تو عوام بھی ایک ہی تھالی کے انہی سارے چٹے بٹوں میں سے اپنی اگلی قیادت کا انتخاب کرنے پر مجبور ہونگے جبکہ روایتی سیاست سے کسی انقلاب کی توقع ہرگز وابستہ نہیں کی جا سکتی۔
آج بے نظیر کے قاتلوں کے نام بتائے جائیں
ناہید خان کہتی ہیں‘ آج بینظیر کے قاتلوں کے نام نہ بتائے تو پارٹی قیادت کیخلاف سونامی نہیں رک سکے گا۔ زرداری کی پالیسیوں سے جمہوریت کو خطرہ ہے۔
یہ بات غلط نہیں کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ایک سے زائد مرتبہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسے بینظیر کے قاتلوں کا پتہ ہے‘ بلکہ رحمان ملک نے تو یہ بھی کہہ ڈالا کہ کچھ قاتل تو انہوں نے گرفتار بھی کرلئے ہیں۔ اگر یہ صورتحال ہے تو پھر بےنظیر بھٹو کی چوتھی برسی کے موقع پر آج آصف علی زرداری کو اپنی تقریر اور رحمان ملک کوپریس کانفرنس میں ناہید خان کی خواہش پوری کر دینی چاہیے کیونکہ انہوں نے نہ رکنے والی سونامی کی دھمکی بھی دیدی ہے۔ ہمارے ہاں یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ حکمرانوں کے ساتھ ہونیوالے مہلک واقعات کی تحقیقات تو کی جاتی ہے مگر نتائج چھپالئے جاتے ہیں۔ جس سے کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ کوئی بھی واقعہ یا سانحہ ہو اسکی مکمل تحقیقات میں تاخیرنہ کی جائے اور نہ ہی نتائج کو پوشیدہ رکھا جائے۔ ناہید خان‘ زرداری کو جمہوریت کیلئے خطرہ سمجھتی ہیں تو یہ انکی سیاست ہو گی۔ البتہ پیپلز پارٹی کی گورننس سے ناہید خان کے خدشات کو تقویت ملی ہے۔ ناہید خان‘ پیپلز پارٹی کی پرانی کارکن اور بینظیر بھٹو کی سیکرٹری بھی رہ چکی ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ بی بی سے نہایت محبت کرتی تھیں اور ان کو بی بی کی موت کا شدید صدمہ ہوا جسے وہ بھلا نہیں سکتیں۔ زرداری صاحب کو ناہید خان کے بیان پر توجہ دینی چاہیے۔ بینظیر کے قاتل اگر رحمان ملک کے علم میں ہیں جیسا کہ وہ دعویٰ کر چکے ہیں تو انکے نام ظاہر کیوں نہیں کئے جاتے؟ ناہید خان نے جس سونامی کی بات کی ہے۔ پیپلز پارٹی نے موجودہ پالیسیاں برقرار رکھیں تو اسکی صفوں میں وہ سونامی آکر رہے گا۔ پیپلز پارٹی کے قائدین آج گڑھی خدا بخش میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے اپنی غلطیوں کے ازالہ کا بھی عہد کرلیں اور بھٹو کی پارٹی کو بھٹو کی پارٹی ہی رہنے دیں تو انکی مستقبل کی سیاست محفوظ ہو سکتی ہے۔
پاکستان کو ایٹمی پروگرام سے محروم کرنے کی سازش!
پلاننگ کمشن کے ڈپٹی چیئرمین ندیم الحق نے اپنی گفتگو میں کہا ہے کہ ایٹمی پروگرام کو جاری رکھنے سے ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے ایک جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تمسخر انہ لہجے میں کہا کہ تم لوگ ملک میں ترقی نہیں چاہتے۔ تم ایٹمی پروگرام جاری رکھنا چاہتے ہو۔ ماشاءاللہ اس پروگرام کو جاری رکھیں اور ملکی ترقی کو بھول جائیں۔
میمو کس نے لکھا کس نے لکھوایا۔ یہ کیس عدالت عظمیٰ میں ہے۔ فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔ تاہم جو کچھ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ نے کہا وہ میمو کے مندرجات سے مماثلت رکھتا ہے۔ بعض مقتدر حلقے بھی بوجوہ ایٹمی پروگرام کو سمیٹنا چاہتے ہیں جس کی نشاندہی گزشتہ روز مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی تحریک انصاف کے کراچی کے جلسہ میں اپنی تقریر میں کی ہے۔ بہانہ ترقی کا بتایا جا رہا ہے۔ ایٹمی پروگرام کا ملکی ترقی سے کیا تعلق ہے؟ پاکستان دنیا کی واحد ایٹمی قوت نہیں۔ دیگر ممالک بھی ایٹمی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بھارت کے سوا تمام ترقی یافتہ ہیں۔ پاکستان میں ایٹمی پروگرام کو جاری رکھنا ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔ حکمرانوں کی نااہلی اور کرپشن ہے‘ جس میں سالانہ کھربوں کھربوں ڈالر کی خورد برد ہوتی ہو۔ وسائل قوم و ملک کی ترقی کے بجائے لوٹ مار کی نذر ہو رہے ہوں وہاں غربت و افلاس کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ویسے بھی ملکی دفاع ترجیح اول اور ناقابل تسخیر ہونا چاہئے۔ اس کےلئے کوئی بھی قربانی دی جا سکتی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمشن اور انکی پشت پناہی کرنےوالے اپنے پیٹ سے نہ سوچیں۔ آپ کو عیار اور مکار دشمن کا سامنا ہے۔ جو پاکستان کو دو لخت کر چکا ہے۔ وہ موجودہ پاکستان کو بھی نظر بد سے دیکھتا ہے۔ پاکستان ایٹمی قوت نہ ہوتا تو وہ پاکستان پر کئی کاری وار کر چکا ہوتا۔ آپ ترقی کے خواب دیکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی پروگرام سے محروم کرکے اسے خونخوار دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑنا چاہتے ہیں۔ آج ایٹمی پروگرام کےخلاف جو باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ نہ صرف ملک بلکہ ملت کےخلاف بھی ایک سازش ہے جسے ناکام بنانے کےلئے ہر سطح پر کوشش جاری رہنی چاہئے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں