مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کیلئے بھارتی سیناپتی اور گریھ منتری کا اتفاق.... مہاراج! اب کشمیر کو آزادی دے دیں

ـ 27 اگست ، 2010
بھارتی وزیر داخلہ چدم برم نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری پرتشدد واقعات کو روکنے میں ناکام رہا ہے‘ اس لئے مسئلہ کشمیر کا کوئی سیاسی حل نکالنا ہو گا۔ گزشتہ روز نئی دہلی میں آئی جیز اور ڈی آئی جیز پولیس کی دو روزہ کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملک میں داخلی سیکورٹی صورتحال اطمینان بخش رہی‘ تاہم مقبوضہ کشمیر میں سرحد پار دراندازی میں کوئی کمی نہیں ہوئی جسکے باعث وہاں امن و امان کی صورتحال خراب ہے۔ انہوں نے ریاستی عوام کو یقین دلایا کہ حکومت انکے حقوق کی بحالی کی خواہاں ہے اور کشمیر میں قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا کشمیری عوام اور دیگر متعلقہ فریقین کیلئے قابل قبول سیاسی حل نکالنا ہو گا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت بھارت آئندہ چند روز میں ایک ایسے عمل کا آغاز کریگی جسکے تحت کشمیر میں احتجاجی مظاہرین تک رسائی حاصل کی جا سکے گی اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکراتی عمل شروع کیا جائیگا۔
یہ طے شدہ امر ہے کہ آزادی کی جدوجہد میں مصروف کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کیلئے بھارت اپنی فوجوں اور دیگر سیکورٹی فورسز کے ذریعہ چاہے جو بھی حربہ اختیار کرلے‘ انکی آواز اور بھی ابھرے گی اور انکی جدوجہد اور بھی تیز ہو گی اور بالآخر بھارت کو جبر و تشدد کے بجائے مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی جانب ہی آنا پڑیگا کیونکہ گزشتہ 60 برس سے زائد عرصہ سے جاری کٹھن اور صبرآزما جدوجہد میں ڈیڑھ لاکھ انسانی جانوں کی قربانیاں دینے اور ہر قسم کی سختیاں برداشت کرنے کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست ہوئے ہیں‘ نہ انکے پائے استقلال میں لغزش آئی ہے۔ اب جبکہ اپنی بے مثال جدوجہد کے نتیجہ میں انہیں آزادی کی منزل قریب نظر آرہی ہے‘ وہ کسی بھارتی ٹریپ میں کیسے آسکتے ہیں یا بھارتی افواج کے مظالم سے خوفزدہ کیسے ہو سکتے ہیں؟
یہ انکی صبر آزما جدوجہد ہی کا نتیجہ ہے کہ پہلے بھارتی آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام اور حریت پسندوں کی مزاحمت کے آگے پسپا ہوتی بھارتی فوج کی ناکامی کا اعتراف کیا اور بھارتی حکومت کو باور کرایا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہمارا جنگ جیتنا ممکن نہیں رہا کیونکہ سارے کشمیری عوام اپنے حریت پسند بھائیوں کے کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ مقبوضہ کشمیر سے بھارتی افواج واپس بلوا کر اس مسئلہ کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جائے‘ اسکے بعد بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سرینگر مقبوضہ کشمیر کے دورے پر گئے تو سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات اور کرفیو جیسی کیفیت میں بھی وہ کشمیری عوام کو سڑکوں پر آکر احتجاج کرتے دیکھ کر پریشان ہو گئے اور سنگینوں کے سائے میں سرینگر میں منعقد کی گئی تقریب میں وہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی میں انکی قربانیوں کا اعتراف کرنے پر بھی مجبور ہو گئے جن کے بقول گزشتہ پانچ سال کے عرصہ کے دوران 60 ہزار سے زائد کشمیری عوام بھارتی فوجوں کی فائرنگ کے نتیجہ میں جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سروے رپورٹ کے مطابق جہاد کشمیر میں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد کشمیری باشندے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم بھی اسی نتیجے پر پہنچے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکالا جا سکتا ہے چنانچہ بھوٹان کے دارالحکومت تھمپو میں منعقدہ سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر اپنے ہم منصب وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی سے ون آن ون ملاقات کے دوران انہوں نے کشمیر سمیت تمام ایشوز پر پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کردیا اور اس کا اعلان بھی انہوں نے خود ہی کیا۔ اسی کے تسلسل میں بھارت کی سیکرٹری خارجہ نروپمارائو کی قیادت میں بھارتی دفتر خارجہ کے ایک وفد نے اسلام آباد آکر اپنے ہم منصب سیکرٹری خارجہ پاکستان سلمان بشیر سے مذاکرات کئے اور دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کے اسلام آباد میں مذاکرات کی راہ ہموار کرکے اپنے ملک واپس روانہ ہوئیں اور پھر بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا بھی مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے ایک ماہ بعد اسلام آباد آپہنچے۔ یہ تو مکار ہندو بنیاء والا ان کا خبث باطن تھا کہ وہ وزیر خارجہ پاکستان مخدوم شاہ محمود قریشی سے مذاکرات کے طے شدہ ایجنڈے کے باوجود کشمیر ایشو پر بات کرنے سے گریز کرتے اور تاثر دیتے رہے کہ انہیں اس معاملہ میں مذاکرات کا مینڈیٹ نہیں دیا گیا چنانچہ یہ مذاکرات بھی پہلے کی طرح ہندو بنیاء کی ہٹ دھرمی کی نذر ہو گئے مگر کشمیر پر اٹوٹ انگ کی رٹ لگانے والے ہمارے اس شاطر اور مکار دشمن کو بالآخر مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی جانب ہی آنا ہے‘ جس کی جانب اب بھارتی وزیر داخلہ چدم برم نے بھی واضح اشارہ دے دیا ہے۔
بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی جدوجہد کو دبانے اور ٹریک سے ہٹانے کیلئے ہر حربہ اختیار کرکے دیکھ لیا ہے‘ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ دو ہفتے قبل نئی دہلی میں منعقدہ آل پارٹیز کشمیر کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر کو خودمختاری دینے کا دانا بھی پھینک چکے ہیں مگر بھارتی حکومت کے حاشیہ بردار کشمیری لیڈران بھی اس راہ پر نہیں آئے اور بزرگ کشمیری لیڈر سید علی گیلانی نے تو کشمیر پر بھارتی فوجوں کے تسلط کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور خرابی ٔ صحت کے باوجود وہ جدوجہد آزادی کی قیادت کرتے ہوئے اپنے جوش و جذبہ میں کبھی کمی نہیں آنے دیتے جبکہ میرواعظ عمر فاروق سمیت دوسرے کشمیری لیڈران بھی اب بیک آواز کشمیر سے بھارتی افواج کو نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں بھارت کے پاس مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کے سوا اور کوئی چارۂ کار نہیں رہے گا جبکہ کشمیری عوام کو اپنی آزادی کے سوا مسئلہ کشمیر کا کوئی دوسرا سیاسی حل قابل قبول نہیں ہو سکتا اور اگر بھارت یو این قراردادوں کی روشنی میں انہیں استصواب کا حق دینے پر آمادہ نہیں ہو گا تو انکی جدوجہد آزادی بہرصورت رنگ لائے گی اور جلد یا بدیر انہیں بھارتی تسلط سے آزادی حاصل ہو کر رہے گی۔ انہوں نے ’’بھارتیو! کشمیر چھوڑ دو‘‘ کی تحریک جس پرجوش انداز میں جاری رکھی ہوئی ہے جس کی صدائے بازگشت اب دنیا کے کونے کونے میں سنائی دے رہی ہے اور امریکی وائٹ ہائوس کے سامنے مسلسل پانچ گھنٹے تک دھرنا دینے والے کشمیری اور کشمیری نژاد امریکی عوام نے اوبامہ انتظامیہ پر بھی مسئلہ کشمیر کی حقانیت آشکار کر دی ہے اس لئے اب کشمیری عوام کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے‘ نہ انہیں کسی ترغیب و تحریص سے مرعوب کرکے اپنے مشن سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ یقیناً اس حقیقت کا ادراک کرکے ہی بھارتی ’’ سیناپتی سے گریھ منتری‘‘ تک مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی بات کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ مگر انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق یو این قراردادوں کی روشنی میں استصواب ہی مسئلہ کشمیر کا واحد قابل قبول سیاسی حل ہے اور یہی حل علاقائی اور عالمی امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اگر ہندو بنیاء اس حل کی جانب آجائے تو اس خطہ میں بدامنی کا بھی مستقل خاتمہ ہو جائیگا اور پاکستان بھارت دونوں ممالک پرامن بقائے باہمی کے آفاقی اصول کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ مراسم اختیار کرکے ملک اور عوام کی ترقی کی راہ پر بھی گامزن ہو جائیں گے اور اگر مکار ہندو بنیاء مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی آڑ میں کسی چالبازی کے تحت کشمیری عوام کی جدوجہد کو ٹریک سے ہٹانے کی کوشش کریگا تو پھر مذاکرات کی میز پر نہیں‘ طاقت کے زور پر کشمیر آزاد کرایا جائیگا جس کیلئے اس وقت لوہا گرم ہے اور آزادی کشمیر عوام کا مقدر بن چکی ہے۔ ہم نے ایٹم بم شوکیس میں سجانے کیلئے نہیں بلکہ اپنی آزادی کے تحفظ اور مکار ہندو بنیاء کے تسلط سے کشمیر کو آزادی دلانے کیلئے ہی حاصل کیا ہے‘ وہ ہمیں اپنے ایٹمی بٹن پر انگلی رکھنے پر مجبور نہ کرے۔
حکومت ہر متاثرہ خاندان کو 20 ہزار روپے فوری فراہم کرے
سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو 20ہزار روپے کی فراہمی کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے اجلاس میں طے ہوا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت ملکر فی متاثرہ خاندان کو 20ہزار روپے ادا کریگی۔ متاثرین سیلاب اس وقت کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں۔ مکانات منہدم کاروبار تباہ اور فصلیں پانی کی نذر ہو چکی ہیں۔ متاثرین کھلے آسمان تلے بے یارومدگار پڑے ہیں۔ وبائی امراض پھوٹ چکے ہیں۔ اس عالم میں ان کو جلد از جلد خوراک کیساتھ ساتھ مالی امداد کی فوری ضرورت ہے۔
حکومت نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے20 ہزار روپے کی فوری امداد کا اعلان کیا تھا‘ جو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے لیکن وہ حقیر امداد بھی اس وقت کھٹائی میں پڑھ چکی ہے۔ بیرون ممالک سے بے شمار امداد پہنچ چکی ہے‘ اگر اب بھی وہ مستحقین تک نہیں پہنچے گی تو پھر ڈونر ممالک کا حکومت پاکستان پر امداد کے حوالے سے عدم اعتماد درست ثابت ہو گا اور پھر کبھی کسی ناگہانی آفت میں کوئی بھی ملک یا اقوام متحدہ، ہماری مدد کیلئے نہیں آئیگی۔ حکومت کو اس وقت ہنگامی بنیادوں پر امداد مستحقین تک پہنچانا چاہئے تھی لیکن وزیر خزانہ بیرون ممالک سیر سپاٹے میں مصروف ہیں‘ اگر امداد اس وقت متاثرین تک نہ پہنچی تو پھر محروم ہاتھ حکمرانوں کے گریبانوں تک پہنچیں گے جو خونیں انقلاب کی راہ ہموار کرینگے۔ حکمرانوں کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ متاثرین کی بحالی کے جلد از جلد اقدامات کریں اور 20 ہزار روپے کی فراہمی کے معاملے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔اس کیلئے ضروری ہے کہ بیرون ملک سے آنیوالے فنڈز تمام صوبوں میں انکے نقصانات کے تناسب سے تقسیم کر دیئے جائیں تاکہ وہ یہ فنڈز متاثرین سیلاب کی امداد بحالی کیلئے بروئے کار لا سکیں۔
ایل پی جی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ
ایل پی جی مافیا نے گیس کی قیمت میں 15 دنوں میں پانچویں مرتبہ اضافہ کرکے وزارت پٹرولیم کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے۔ گیس مافیا کی بدمعاشی اور صارفین کی بدحالی پر اوگرا بھی خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ ملک میں حکومت کی اشیاء خورد و نوش میں رٹ ہر جگہ چیلنج ہو چکی ہے‘ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں نے اپنے ریٹ خود مقرر کئے ہوئے ہیں۔ چیک اینڈ بیلنس سسٹم نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ پندرہ دنوں میں پانچ مرتبہ ایل پی جی گیس کی قیمت میں اضافہ اسکی ایک واضح دلیل ہے۔ دوسری جانب عوام کو زندہ درگور کرنے کیلئے حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کو 33 فیصد بجلی مہنگی کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت روٹی‘ کپڑا‘ مکان کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آتی ہے‘ لیکن جب واپس جاتی ہے تو روٹی‘ کپڑا اور مکان عوام سے چھین کر لے جاتی ہے۔ اب بھی پیپلز پارٹی کی حکومت کے دو برسوں میں بجلی کی قیمت میں مجموعی طور پر 64 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ اب مزید 33 فیصد اضافہ سے یہ اضافہ 97 فیصد تک جا پہنچے گا۔ یہ عوام سے سب کچھ چھیننے کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے؟ لوڈشیڈنگ کے باعث کاروبار تو پہلے ہی تباہ ہو چکے ہیں‘ اب رہی سہی کسر سیلاب نے نکال دی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے انڈسٹری تباہ ہو چکی ہے اور اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے ہماری مصنوعات کو عالمی منڈی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی پالیسیوں کو جب تک مسترد نہیں کریگی‘ اس وقت تک ہماری معیشت اپنے پائوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ غریب آدمی دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے‘ اب ایل پی جی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ان کا جینامزید محال کر دیگا۔ حکومت کو عوام سے انکے جینے کا حق تو نہیں چھیننا چاہیے۔
بھارت کیساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ ہمیں قبول نہیں
صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے‘ چار ملکی گیس منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر جلد شروع کیا جائے‘ پاکستان ترکمانستان کمیشن کے اجلاس میں صدر وزیراعظم سے ملاقات میں صدر نے مزید کہا ہے کہ منصوبے کی سٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس فوری بلایا جائے۔
بہتر یہی ہے کہ حکومت پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر ہی اکتفاء کرے اور اسے پایۂ تکمیل کو پہنچائے اور ترکمانستان کے تجویز کردہ چار ملکی گیس پائپ منصوبہ میں ہرگز شامل نہ ہو کیونکہ اس میں ہمارا دشمن بھارت بھی شامل ہے جو اس منصوبے کی آڑ میں بھی ہماری سالمیت کو نقصان پہنچائے گا۔ جب بھارت کے خبث باطن کی وجہ سے پاکستان بھارت ایران سہ ملکی گیس پائپ لائن معاہدے کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی اور بھارت خود ہی اس معاہدے سے باہر نکل گیا تو اب اسکی موجودگی میں متذکرہ چار ملکی منصوبہ کیسے قابل عمل ہو سکتا ہے؟ اب ہمارا یہ دشمن ہمارے اشتراک سے شروع ہونیوالے قومی ترقی کے کسی منصوبے سے دور ہی رہے تو بہتر ہے۔ ایران کے ساتھ طے پانے والے گیس پائپ لائن منصوبے سے ہی ہماری توانائی کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے جبکہ ترکمانستان کے ساتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے کا سارا فائدہ بھارت اٹھائے گا اور اس منصوبے کی بنیاد پر اسے خطے میں اپنی تھانیداری قائم کرنے کا بھی موقع مل جائیگا‘ اس لئے دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے کے بجائے اس خطے میں اسلامک بلاک کی بنیاد بننے والے پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کو غنیمت جانا جائے۔ ہمیں پاکستان بھارت افغانستان اور ترکمانستان کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter