’’آغاز حقوق بلوچستان پیکیج‘‘ مثبت پیش رفت یا بے فائدہ مشق؟
ـ 26 نومبر ، 2009
بلوچستان پر پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے پارلیمنٹ میں 39 نکاتی ’’آغاز حقوق بلوچستان پیکیج‘‘ پیش کردیا ہے جس کے تحت صوبائی خودمختاری کا ازسرنو تعین کیا جائیگا‘ آئین کے شیڈول سے کنکرنٹ لسٹ ختم کر دی جائیگی‘ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے قومی مالی وسائل کی صوبوں میں تقسیم کا فارمولا نئے رہنما خطوط پر وضع کیا جائیگا‘ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی مشاورت سے سیاسی کارکنوں کو فوری طور پر رہا کریگی‘ صوبے کی تمام سیاسی قوتوں سے سیاسی مذاکرات شروع کئے جائیں گے‘ سیاسی جلاوطنی ختم کرکے پاکستان واپس آنے والے افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائیگی۔ اسی طرح وفاقی حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کمشن قائم کریگی‘ جس کے سربراہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ عدلیہ کے جج ہونگے۔ وفاقی حکومت سوئی کے مقام سے فوج واپس بلالے گی‘ فوجی چھائونیاں سرحدی علاقوں کے سوا کہیں تعمیر نہیں کی جائیں گی اور نواب اکبر بگتی کے قتل کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمشن قائم کیا جائیگا۔ بلوچستان پیکیج کی سفارشات چار حصوں پر مشتمل ہیں اور پہلا حصہ آئینی اصلاحات سے متعلق ہے جبکہ دوسرے حصے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ہیں جو وزیر اعلیٰ بلوچستان کی منظوری سے شروع کئے جائیں گے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اس پیکیج کے ساتھ ہی بلوچستان کی قومی دھارے سے باہر سیاسی قوتوں کو بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے تمام ناراض بھائیوں کی طرف صلح اور بات چیت کیلئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور ان کی جانب سے مثبت اور حوصلہ افزاء جواب کی توقع ہے۔
بلوچستان کے حقوق اور صوبائی خودمختاری سے متعلق بلوچ قوم پرست لیڈروں کی جانب سے پہلی بار مطالبات پیش نہیں کئے گئے بلکہ یہ مطالبات 1973ء کے آئین کے نفاذ کے وقت سے جاری ہیں جس میں صوبائی خودمختاری کو یقینی بنانے کیلئے کنکرنٹ لسٹ کے خاتمہ کی باقاعدہ میعاد مقرر کی گئی مگر بدقسمتی سے پہلے جنرل ضیاء اور پھر مشرف کی جرنیلی آمریت کے دور میں اس آئین کا حلیہ ہی بگاڑ دیا گیا جبکہ ان ادوار میں آئین معلق ہونے کے باعث کنکرنٹ لسٹ کے خاتمہ کا آئینی تقاضہ بھی پورا نہ ہو سکا جس کے باعث بلوچستان کے قوم پرست لیڈروں کو بلوچستان کی محرومیوں کو اجاگر کرنے اور صوبائی خودمختاری کے ایشو پر اپنی سیاست کو فروغ دینے کا موقع ملا جو بدقسمتی سے وفاق کے ساتھ اسکی اکائیوں کو برگشتہ کرنے کی سیاست میں تبدیل ہو گیا اور جرنیلی آمریت کے پس منظر میں صوبائی منافرت کا رخ پنجاب کی جانب ہو گیا‘ پھر جنرل مشرف نے بلوچستان میں فوجی اپریشن شروع کراکے نفرتوں کی اس سیاست کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور نواب اکبر بگتی کی ہلاکت کے سانحہ نے اس سیاست کو اور بھی آگے بڑھایا جس سے فائدہ اٹھا کر ہمارے ازلی اور مکار دشمن بھارت نے وہاں انتہا پسند عناصر کی سرپرستی شروع کر دی۔ بلوچستان کے عوام کی محرومیاں اپنی جگہ مگر جرنیلی آمریت کے پیدا کردہ مسائل نے ملک کی سالمیت کیلئے بھی سنگین خطرات پیدا کر دیئے جن سے نمٹنے کیلئے ضروری تھا کہ حکومت بلوچستان کے تمام قوم پرست لیڈروں اور منتخب نمائندگان کو اعتماد میں لے کر بلوچستان کی ترقی اور آئینی اصلاحات کے پیکیج کا اعلان کرتی‘ جس کا حکومت کو مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے علاوہ اسکے حکومتی حلیفوں نے بھی مشورہ دیا تھا۔ میاں نواز شریف نے تو بلوچستان کے ناراض قوم پرست لیڈروں کو سیاست کے قومی دھارے میں لانے کی خاطر وزیراعظم کو غیرمشروط تعاون پیش کش بھی کی جبکہ قومی مالیاتی کمشن کے اجلاس میں پنجاب نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کے فارمولے سے دستبرداری کا اعلان بھی کر دیا اور آبادی کے علاوہ رقبے کو وسائل کی تقسیم کی بنیاد بنانے کے مجوزہ فارمولے پر اتفاق کیا تاکہ بلوچستان کو قومی وسائل میں زیادہ سے زیادہ حصہ مل سکے۔
اس بنیاد پر اگر حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام بلوچ قوم پرست قائدین کی مشاورت سے اور انہیں اعتماد میں لے کر بلوچستان پیکیج لایا جاتا تو اسکے دوررس اور مثبت نتائج برآمد ہوتے مگر حکومت کے عالی دماغوں نے ان صائب مشوروں پر کان دھرنے کے بجائے اپنی من مرضی سے بلوچستان کیلئے ایک ایسے پیکیج کا اعلان کر دیا ہے جو خوشنما وعدوں کے غلاف میں لپٹا ہوا ہے اور اس میں جرنیلی آمریت کی پیدا کردہ بلوچستان کی محرومیوں کے فوری ازالہ کی کوئی بنیاد نہیں رکھی گئی اس لئے حکمران پارٹی کے اپنے وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی اس پیکیج پر کسی تبصرہ سے انکار کر دیا ہے جبکہ شاہ زین بگتی‘ میر حاصل بزنجو‘ خدائے نور‘ حئی بلوچ‘ حبیب جالب اور جمیل بگتی سمیت بلوچستان کی کم و بیش تمام قوم پرست جماعتوں کے قائدین نے اس پیکیج کو بے فائدہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اس پیکیج کو ’’آغاز حقوق بلوچستان پیکیج‘‘ کا نام دیا گیا ہے گویا گزشتہ 62 سال سے بلوچستان اور اسکے عوام کو کسی قسم کے حقوق حاصل نہیں تھے اور اب حکومت انہیں حقوق دینے کا آغاز کر رہی ہے۔ یہ تو محرومیوں کا تذکرہ کرنیوالے بلوچستان کے عوام اور انکے لیڈران کا مذاق اڑانے اور انہیں مزید مشتعل کرکے وفاق گریز پالیسی برقرار رکھنے کی راہ پر چلانے کے مترادف ہے جبکہ انکی فوری تشفی جنرل (ر) مشرف کو انٹرپول کے ذریعہ ملک واپس لانے کے عملی اقدامات کا آغاز کرکے بھی کی جا سکتی تھی جن کیخلاف بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر نواب اکبر بگتی کے قتل کی باقاعدہ ایف آئی آر درج ہو چکی ہے مگر پیکیج میں نواب اکبر بگتی کے قتل کی عدالتی کمشن کے ذریعے ازسرنو تحقیقات کی شق ڈال کر اس معاملہ کو مزید الجھانے کی کوشش کی گئی ہے حالانکہ ایف آئی آر کی بنیاد پر جنرل (ر) مشرف کیخلاف سیدھا سیدھا قتل کا مقدمہ چلایا جانا چاہئے تھا۔ اسی طرح پیکیج میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بھی کمیشن کی تشکیل کا حکم دیا گیا ہے اور صوبائی خودمختاری کے ازسرنو تعین کی بات کرکے اسے آئینی ترمیم کیساتھ مشروط کردیا گیا ہے جو ’’نہ نومن تیل ہو گا‘ نہ رادھا ناچے گی‘‘ کے مترادف ہے جبکہ آئینی تقاضے کے تحت کنکرنٹ لسٹ ختم کرکے بلوچستان کے عوام کا صوبائی خودمختاری کا مطالبہ فوری طور پر پورا کیا جا سکتا تھا‘ اسی طرح پیکیج میں مشرف دور کے شروع کردہ فوجی اپریشن کے مکمل خاتمہ کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ سوئی کے مقام سے فوج واپس بلانے اور وہاں ایف سی کے اہلکاروں کو تعین کی بات کی گئی ہے جس سے مشرف دور کی پیدا کردہ نفرتیں دور کرنے میں ہرگز مدد نہیں ملے گی۔
جہاں تک پیکیج میں شامل بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کا معاملہ ہے‘ وہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی منظوری سے شروع کرانے کا عندیہ دیا گیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان خود اس پیکیج پر مطمئن نظر نہیں آتے چنانچہ وہ حکمران پارٹی کے وزراء کی طرح اس پیکیج کی ستائش کی مہم میں شامل نہیں ہوئے۔
اندریں حالات اگر حکومت فی الواقع بلوچستان کی محرومیوں کا ازالہ اور بلوچ قوم پرست لیڈروں کو قومی دھارے میں لانا چاہتی ہے تو بلوچستان پیکیج کا محض کریڈٹ نہ لے بلکہ اس کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں زیر بحث لانے سے پہلے اس پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بیٹھی تمام بلوچ قیادتوں کا اعتماد حاصل کرے۔ اس میں جو کمی اور کوتاہی رہ گئی ہے‘ وزیراعلیٰ بلوچستان اور بلوچ قوم پرست لیڈروں کے ساتھ باہمی مشاورت سے انہیں دور کیا جائے اور اسے فی الواقع بلوچستان کی ترقی اور عوام کے حقوق کا ضامن بنایا جائے ورنہ نمود و نمائش پر مبنی یہ پیکیج بلوچ قائدین کے بقول بے فائدہ مشق ہی ثابت ہو گا۔
امریکہ بھارت فطری اتحادی
پاکستان جنگ میں کیوں جلے؟
واشنگٹن میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کے بعد امریکی صدر اوبامہ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو فطری اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں اہم پارٹنر اور 21ویں صدی کے کلیدی شراکت دار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون بھی اہمیت کا حامل ہے اور دونوں دہشت گردی کا شکار ہیں۔ اوبامہ نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کشیدگی کم کریں‘ تاہم امریکہ پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعات حل کرانے کا ذمہ دار نہیں ہے۔
دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی ہے‘ بھارت اس جنگ سے کہیں دور ہے‘ رواں سال بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے اعتراف کیا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو 36 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے‘ سوات اور جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن اور نہ ختم ہونیوالے دھماکوں اور خودکش حملوں میں اس نقصان میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس نقصان کا امریکہ مداوا کر سکتا ہے جو وہ کرنے پر تیار نہیں۔ کہاں 36 ارب ڈالر کا نقصان اور کہاں صرف ڈیڑھ ارب سالانہ مشروط امداد۔ امریکہ کا ساتھ دینے پر ہر سال نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو رہا ہے لیکن جانی نقصان کا کوئی مداوہ ہو سکتا ہے نہ قیمت ادا کی جا سکتی ہے۔ امریکہ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کیمطابق افغانستان میں اب تک اسکے 857 فوجی مارے گئے ہیں دیگر اتحادی ممالک کے فوجیوں کو ملا کر بھی کل تعداد 1464 بنتی ہے جبکہ پاکستان میں دہشت گردی کے نام پر لڑتے ہوئے شہید ہونیوالے فوجیوں کی تعداد دو ہزار سے زائد ہے۔ جنگ کسی کی‘ فریق کوئی اور لیکن یہ لڑی تیسری جگہ پر پاکستان میں جارہی ہے صرف امریکہ کے کہنے پر۔ امریکہ کا رویہ یہ ہے کہ وہ بھارت کو فطری اتحادی قرار دیتا ہے اسکے ساتھ وہ سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے معاہدے کرتا ہے اور ایسے ہی معاہدے بھارت روس‘ فرانس‘ آسٹریلیا اور اسرائیل سے بھی کر چکا ہے۔ اس پر امریکہ خاموش ہے۔ پاکستان کے ساتھ سویلین نیوکلیئر انرجی کے معاہدے کرنے پر تیار ہے نہ اسے دوسرے ملکوں کے ساتھ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ بھارت اسلحہ جمع کرنے کے جنون میں مبتلا ہے‘ آخر یہ اسلحہ استعمال کس کیخلاف ہو گا۔ ایک پاکستان ہی اسکی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ اسکی تمام جنگی تیاریاں پاکستان کیخلاف ہیں۔ بھارتی آرمی چیف محدود ایٹمی جنگ کی دھمکیاں دیتے ہیں‘ الزام پاکستان میں بھارت کیخلاف دہشت گردی کے منصوبے بنائے جانے کا لگایا جا رہا ہے۔ اب ان کو اڑھائی ہزار عسکریت پسند بھی نظر آگئے ہیں جو سرحد عبور کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اسلحہ جمع کرنا بھارت کی طرف سے جنگی تیاریوں کا حصہ اور ایسے الزامات جنگ برپا کرنے کا بہانہ اور جواز ہیں‘ بہرحال جنگ مسلط ہوئی تو پاکستان نے چوڑیاں نہیں پہن رکھی ہیں‘ ایٹم بم اسی مقصد کیلئے بنایا ہے۔ ایک طرف امریکہ پاکستان کو فوج کی بڑی تعداد مغربی سرحد پر لانے پر مجبور کرتا ہے تو دوسری طرف بھارت کو جنگ کی شہ بھی دیتا ہے۔ اس خطے میں مسئلہ کشمیر سلگتا ہوا مسئلہ ہے‘ اسکی وجہ سے پاکستان اور بھارت تین جنگیں لڑ چکے ہیں‘ چوتھی ہوئی تو اسی تنازعہ پر ہو گی۔ اوبامہ نے بڑی بے تکلفی سے کہہ دیا ہے کہ وہ پاکستان بھارت تنازعات حل کرانے کا ذمہ دار نہیں‘ اگر امریکہ ہمارا سب سے بڑا تنازعہ ختم کرانے میں دلچسپی نہیں لے رہا اور بھارت کو اپنا فطری اتحادی قرار دیتا ہے اور اس کو دفاعی اور معاشی طور پر مضبوط بنا رہا ہے تو پاکستان کو بھی دہشت گردی کیخلاف جاری نام نہاد جنگ سے معذرت کرلینی چاہئے اور بھارت کی جنگی تیاریوں کے جواب میں اپنے گھوڑے تیار کرنے میں مزید سرگرم ہو جانا چاہئے۔ یہی وقت کا تقاضہ اور قوم کی آواز ہے۔
پورا لاہور بکر منڈی بن گیا
جیسے جیسے عید قریب آ رہی ہے شہر کے گلی محلے بکر منڈیوں میں تبدیل ہو رہے۔ جس طرف دیکھو بیوپاری گائے، بکرے اور دنبے لئے گھوم رہے ہیں جس سے ایک طرف گندگی پھیل رہی ہے دوسری طرف بیوپاریوں کی آڑ میں چور اور وارداتیے اپنا کام دکھا رہے ہیں۔ حکومت نے قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کیلئے سیل پوائنٹ قائم رکھے ہیں ان سنٹروں میں ہی خرید و فروخت ہونی چاہئے لیکن حکومت کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ عملدرآمد کرنیوالے شعبہ کے لوگ رشوت لیکر بیوپاریوں کو کہیں بھی سیل پوائنٹ بنانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ متعلقہ عملہ اگر کہیں آپریشن کرتا ہے تو بغیر کسی منصوبہ بندی کے۔ ایسا ہی واقعہ داتا گنج بخش ٹائون میں پیش آیا جہاں ٹائون کا عملہ پولیس لیکر بکر منڈی ختم کرانے پہنچ گیا جہاں عملے اور پولیس دونوں کو جوتے، ڈنڈے اور پتھر پڑے۔ لڑائی میں بیوپاری بھی زخمی اور جانوروں کے بھاگ جانے کے باعث لاکھوں کے نقصان سے دوچار ہوئے۔ حکومت اگر سیل پوائنٹ پر ہی خرید و فروخت کا اہتمام نہیں کر سکتی تو ایسے سیل پوائنٹ بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ شہر بھر میں پھرتے بیوپاریوں کو سیل پوائنٹس تک محدود رکھنا آسان ہے اس طرف عملے کی توجہ نہیں اگر آپریشن کا دورہ پڑتا بھی ہے تو جہاں بیوپاری رکھنے ہوتے ہیں وہاں چند پولیس والے لاٹھی چارج کر دیتے ہیں لاٹھی چارج اول ہونا ہی نہیں چاہئے۔ بیوپاریوں کو سمجھا بجھا کر سیل پوائنٹس تک لایا جانا چاہئے، اگر لاٹھی چارج ناگریز بھی ہو تو آخری آپشن کے طور پر ہونا چاہئے۔ جہاں پہلے آپشن کے طور پر ہوگا تو مخالف فریق کا مشتعل ہونا فطری امر ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں