حکومتی سیاسی اور عسکری قیادتوں کی میٹنگ میں امریکہ کےساتھ تعاون جاری رکھنے کا عندیہ ....قوم کسی کو ملکی سلامتی کا سودا کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دیگی

ـ 26 جنوری ، 2012
حکومتی‘ سیاسی اور عسکری قیادتوں نے پاکستان کی حدود میں ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کا احترام کرے‘ کیونکہ ڈرون حملوں جیسے اقدامات دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب کر سکتے ہیں۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی‘ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی مشترکہ ملاقات کے موقع پر پاکستان امریکہ تعلقات‘ مہمند ایجنسی میں حملے کے بارے میں امریکی سینٹ کام کی رپورٹ‘ امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں کی دوبارہ کارروائی‘ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات اور افغان پالیسی سمیت ملک کی سیکورٹی سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے بعض اہم فیصلے کئے گئے۔ اس مشترکہ ملاقات کے حوالے سے وزیراعظم ہاﺅس سے جاری کئے گئے اعلامیہ کےمطابق وزیراعظم نے وزیر خارجہ کو افغانستان کا دورہ کرنے کی ہدایت کی جبکہ میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ نیٹو‘ ایساف اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کار میں قومی مفادات کا تحفظ کیا جائیگا۔ میٹنگ میں اس موقف کا اعادہ کیا گیا کہ جب تک امریکہ پاکستان سے معافی نہیں مانگے گا‘ اس وقت تک تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔ میٹنگ میں نیٹو کی سپلائی کی بحالی کو پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اگرچہ میمو گیٹ ایشو اور اس تناظر میں وزیراعظم گیلانی کی جانب سے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے سپریم کورٹ میں داخل کئے گئے جوابات کیخلاف جارحانہ ردعمل کے اظہار سے حکومتی اور عسکری قیادتوں میں سرد مہری کی فضا قائم ہے تاہم اسکے باوجود حکومتی اور عسکری قیادتیں مبینہ دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی پالیسی پر یکسو نظر آتی ہیں اور انکی گزشتہ روز کی ملاقات کے حوالے سے جاری ہونیوالے بیانات اور اعلانات سے بادی النظر میں یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین پہلے جیسا تعاون جاری رکھنے کے معاملات طے پا چکے ہیں۔ اب صرف قوم کو اپنا ”شملہ“ اونچا ہونے کا تاثر دینے کیلئے امریکہ کو سلالہ چیک پوسٹوں پر نیٹو فورسز کے حملے کیخلاف رسمی الفاظ میں معافی مانگنے پر قائل کیا گیا ہے جبکہ معافی کے اس ایک لفظ سے نیٹو فورسز کو ہماری جانب سے پھر من و سلویٰ ملنا شروع ہو جائیگا۔ اگرچہ حکومتی اور عسکری قیادتوں کی میٹنگ میں رسماً امریکہ کو ڈرون حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر تعلقات مزید خراب ہونے کا پیغام دیا گیا ہے تاہم اس ماہ کے ڈیڑھ ہفتے کے دوران یکے بعد دیگرے ہونیوالے چار ڈرون حملوں سے یہی حقیقت منکشف ہو رہی ہے کہ امریکی جنگ میں اسکے ساتھ فدویانہ تعاون کا سلسلہ پھر سے شروع کیا جا چکا ہے اور برطانوی نیوز ایجنسی ”رائٹرز“ نے بھی اسی تناظر میں پاکستان کے سیکورٹی ذرائع سے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حالیہ ڈرون حملے پاکستان اور امریکہ کے مابین انٹیلی جنس تعاون برقرار رکھنے کے سلسلہ کی ہی ایک کڑی ہے۔
قوم کیلئے تو یہ صورتحال کسی صدمے اور مایوسی سے کم نہیں کہ ڈرون حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے پر پہلے دو ڈرون حملوں کے معاملہ میں تو حکومتی عسکری قیادتوں کی جانب سے رسمی مذمت کرنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی گئی جس کے بعد دو روز قبل امریکہ نے پھر دو ڈرون حملے کئے تو سخت تشویش میں مبتلا قوم کے جذبات وقتی طور پر ٹھنڈے کرنے کیلئے حکومتی عسکری قیادتوں کی جانب سے مشترکہ ملاقات کا اہتمام کرکے ان حملوں پر رسمی تشویش کا اظہار کردیا گیا اور ساتھ ہی امریکہ کو تعلقات مزید خراب ہونے کا رسمی پیغام بھی پہنچا دیا گیا۔ اس ملفوف پیغام کے اندر بھی یہ اصل پیغام موجود ہے کہ آپ پاکستانی قوم کا بس دل رکھنے کیلئے سلالہ چیک پوسٹوں پر نیٹو کے حملوں پر پاکستان سے رسمی معافی مانگ لیں‘ اسکے ساتھ ہی گزشتہ تقریباً دو ماہ سے رکی ہوئی نیٹو کی سپلائی کی بحالی کیلئے آپ کو گرین سگنل مل جائیگا۔ اب تو وزیراعظم گیلانی بون طرز کی ڈیووس کانفرنس میں شرکت کیلئے سوئٹزرلینڈ بھی روانہ ہو گئے ہیں‘ جہاں ورلڈ اکنامک فورم پر امریکہ اور اسکے اتحادی یورپی ممالک کے زعما کثیر تعداد میں موجود ہونگے‘ چنانچہ زبان ہلنے سے دل ملنے تک کئی مراحل بھی طے ہو جائینگے۔
کیا تصور کیا جا سکتا ہے کہ پاک فضائیہ کے پاس ڈرون گرانے کی مکمل صلاحیت اور استعداد بھی ہو جس کا عسکری قیادتوں کی جانب سے کھلم کھلا اعلان و اظہار بھی کیا جا چکا ہو اور امریکہ کو سخت الفاظ میں پیغام بھی دیا جا چکا ہو کہ اب کوئی ڈرون حملہ برداشت نہیں کیا جائیگا‘ اسکے باوجود ڈرون حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے ۔ اسے نرم سے نرم الفاظ میں بھی کسی مفاہمت کا نتیجہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے جس کا عندیہ اب حکومتی سیاسی اور عسکری قیادتوں کی ملاقات میں طے پانے والے معاملات سے بھی مل رہا ہے۔ اگر عزم اور ارادہ فی الواقع امریکی جارحانہ عزائم کا جواب دینے اور اسے سبق سکھانے کا ہو تو ایران کی طرح ہماری سرزمین سے بھی حملے کی نیت سے آنیوالا کوئی ڈرون بھلا بچ کر کیسے جا سکتا ہے؟ جبکہ غیور افغان باشندے تو بے سروسامانی کے عالم میں بھی ڈرون اور نیٹو کے جنگی ہیلی کاپٹر گرانے کے کارنامے متعدد مواقع سرانجام دے چکے ہیں۔ جہاں تک ملکی اور قومی مفادات کے تحفظ کا معاملہ ہے‘ اس کیلئے ہمارے حکمرانوں کو فرانس کی حالیہ مثال ہی سامنے رکھنی چاہیے کہ نیٹو فورسز میں شامل فرانسیسی فوج کے چار اہلکار گزشتہ ہفتے ایک افغان فوجی کی فائرنگ سے قتل ہوئے تو وزیراعظم فرانس سرکوزی نے سٹپٹاتے ہوئے افغان دھرتی پر جاری امریکی جنگ سے خود کو نکالنے اور اپنے فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلوانے کا اعلان کر دیا جبکہ فرانسیسی وزیر دفاع احتجاجی جھنڈا اٹھائے جھٹ پٹ افغانستان پہنچ گئے اور اعلان کر دیا کہ ہم اپنے فوجیوں کی ہلاکت برداشت نہیں کر سکتے۔ اسکے برعکس امریکی مفادات کی اس جنگ میں ہماری سیکورٹی فورسز کے چھ ہزار کے قریب ارکان سمیت ملک کے 35 ہزار شہریوں کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں مگر ہمارے حکمران فرانس جیسا ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے اس پرائی جنگ کو بھی اپنی جنگ قرار دیئے جا رہے ہیں اور اس تناظر میں سلالہ چیک پوسٹوں پر پاک فوج کے دو درجن جوانوں کی شہادتوں کے بعد بھی امریکی جنگ میں اسکے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے جس کیلئے ہمارے حکمران ڈرون حملے بھی دوبارہ قبول کر رہے ہیں اور نیٹو کی سپلائی بحال کرنے پر بھی آمادگی کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ ویسے تو حکمرانوں کو دوسرے آئینی اداروں کے مقابل پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرانے کی ہمہ وقت فکر لاحق ہوتی ہے مگر ڈرون حملوں کیخلاف پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کرانے والی قراردادوں کو پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں دی جاتی۔ چنانچہ کردار و عمل کے اس تضاد سے ڈرون حملوں کے معاملہ میں حکومتی نیت کی جھلک بھی نظر آجاتی ہے۔
امریکی جنگ میں شریک ہونے کی مشرف آمریت کی پالیسیوں کو برقرار رکھنے اور امریکی تعاون کو مزید بڑھانے کیلئے ہمارے حکمرانوں کی جو بھی مجبوریاں اور مفادات ہونگے‘ اس سے قطع نظر قوم اور قومی سیاسی قیادتیں اب ڈرون حملوں کو قبول کرنے کیلئے قطعاً تیار نہیں ہیں۔ دفاع پاکستان کونسل کی جانب سے پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے کہ اگر نیٹو کی سپلائی بحال کی گئی اور ڈرون گرانے کا سلسلہ شروع نہ کیا گیا تو حکومت اور پارلیمنٹ کا گھیراﺅ کیا جائیگا۔ جماعت اسلامی کی جانب سے نیٹو کی سپلائی بحال کرنے کی صورت میں پاک افغان بارڈر پر جا کر مزاحمت کرنے اور نیٹو کی سپلائی بزور روکنے کا بھی اعلان کیا جا چکا ہے جبکہ گزشتہ روز سینٹ کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے علاوہ جمعیت علماءاسلام فضل الرحمان گروپ نے بھی ڈرون گرانے کے فیصلہ پر عملدرآمد نہ کرنے کیخلاف سخت احتجاج کیا اور ان دونوں جماعتوں کے سینیٹر واک آﺅٹ کرکے باہر آگئے۔ اس وقت قوم میں ڈرون حملے دوبارہ شروع ہونے پر ملکی سلامتی کے حوالے سے سخت تشویش کی فضا قائم ہو چکی ہے‘ اس لئے اس مرحلہ پر اگر حکمرانوں نے امریکہ کے ساتھ تعاون برقرار رکھتے ہوئے نیٹو کی سپلائی بحال کرنے کی حماقت کی اور ڈرون حملوں کا سلسلہ بلاروک ٹوک جاری رہا تو پھر حکمرانوں کو سخت عوامی عتاب کا سامنا کرنا پڑیگا کیونکہ قوم کسی کو ملکی سلامتی کا سودا کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دے سکتی۔
منصور اعجاز کے تحفظات دور کئے جائیں
میمو کیس کی تحقیقات کرنےوالے جوڈیشل کمیشن نے منصور اعجاز کے وکیل کی بیرون ملک بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اسے 9فروری کو پیشی کی آخری مہلت دی ہے۔ کمیشن نے منصور اعجاز کی آمد اور قیام کو خفیہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اسکی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔
امریکی قادیانی شہری منصور اعجاز کے برپا کردہ ہنگامے کو پیپلز پارٹی اپنی حکومت کےخلاف اور فوج قومی سلامتی کےخلاف سازش قرار دیتی ہے۔ منصور اعجاز کا دعویٰ ہے کہ اس نے میمو مائیک مولن کو حسین حقانی کے کہنے پر جنرل (ر) جیمز جونز کے ذریعے پہنچایا تھا۔ میمو کے مندرجات نے ہر پاکستانی کو چونکا دیا، حکومت اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتی رہی، حقائق سامنے لانے کیلئے میاں نواز شریف یہ معاملہ سپریم کورٹ لے گئے، حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے خلاف ہونےوالی سازش کو بے نقاب کرتی لیکن اس نے معاملہ دبانے کیلئے سپریم کورٹ میں اسکے ناقابل سماعت ہونے کا موقف اختیار کیا، ساتھ ہی اپنی توپوں کا رُخ میاں نواز شریف‘ فوج اور عدلیہ کی طرف کر لیا۔منصور اعجاز کیس کا اہم گواہ ہے، اس کےخلاف بھی محاذ کھولا، جوڈیشل کمیشن نے اسے طلب کیا تو اس کےخلاف دھمکی آمیز بیان بازی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ شاید امریکہ کے دباﺅ پر بھی پاکستان نہ آنا چاہتا ہو لیکن اس نے انکار کیلئے حکومتی بزرجمہروں کی دھمکیوں کو جواز بنایا، کل تک وزیر داخلہ رحمن ملک حیلے بہانے سے منصور اعجاز کا نام ای سی ایل میںڈالنے کی بات کرتے تھے اب کمیشن کو اسکی حفاظت کا یقین دلا رہے ہیں۔ حکومتی رویے سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ میمو کس کےخلاف کس کی سازش ہے، تاہم معاملہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آنا چاہیے جو منصور اعجاز کے بیان کے بغیر ممکن نہیں۔ جوڈیشل کمیشن نے منصور اعجاز کو فوج اور پولیس کی سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایت اس وقت تک موثر نہیں ہو سکتی جب تک فوج کی طرف سے سیکورٹی کا یقین نہ دلایا جائے، شاید منصور اعجاز بھی اسکے بغیر پاکستان آکر دھمکانے والوں کے ہتھے چڑھنے کیلئے تیار نہیں ہو گا۔ عدلیہ کے اپنے فیصلوں پر حکومت کی طرف سے یقین دہانیوں کے باوجود عملدرآمد نہ ہونے پر انصاف کی عملداری کی بے بسی قوم کے سامنے ہے۔ ان لوگوں نے کمیشن کو بھی بے بس کر دیا تو پھر کیا ہو سکتا ہے؟ حقائق سے پردہ اٹھانے اور سازش بے نقاب کرنے کیلئے منصور اعجاز کا بیان اہم ہے جوڈیشل کمیشن اسے فوج کی سیکورٹی فراہم کرے جو اس کا مطالبہ ہے اگر فوج سیکورٹی کی یقین دہانی نہیں کراتی تو کمیشن منصور اعجاز کے پاس چلا جائے یا ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اس کا بیان حاصل کرلے‘ جو مروجہ عدالتی طریقہ ہے۔
روسی ایٹمی آبدوز بھارت کے حوالے
روس نے تباہ کن ایٹمی آبدوز 10 سالہ لیز پر بھارت کے حوالے کر دی، اس سے بھارت کی زیر سمندر حملہ کرنے کی قوت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔
روسی آبدوز بھارت کے حوالے ہونے سے قبل صرف پانچ ممالک امریکہ، چین، روس، فرانس اور برطانیہ کے پاس ایٹمی آبدوزیں تھیں، اب بھارت بھی ایٹمی آبدوز رکھنے والے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا، روس اور بھارت کے مابین دس سالہ معاہدے کی مالیت 900 ملین ڈالر ہے، بھارت کی کروڑوں کی آبادی افلاس زدہ اور ایک وقت کے کھانے پر قناعت کرنے پر مجبور ہے۔ آخر اسے اتنی بڑی مالیت کی قیمتی آبدوز حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ خطے میں سوائے پاکستان کے اسکی کسی سے دشمنی نہیں۔ وہ روایتی اور غیر روایتی اسلحہ کے ڈھیر صرف اور صرف پاکستان دشمنی میں لگا رہا ہے اور اوپر سے اسے امریکہ جیسے تھانیدار کی پشت پناہی بھی حاصل ہے جسے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی اہمیت گوارا نہیں، وہ بھارت کو چین کے مقابل لانا چاہتا ہے، اس لیے اسے بھارت کے کہیں سے بھی روایتی اور غیر روایتی اسلحہ جمع کرنے پر اعتراض نہیں۔ جبکہ امریکہ نہ صرف پاکستان کے سول نیوکلیئر انرجی کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ڈالتا ہے بلکہ وہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی رول بیک کرنے کیلئے سرگرداں ہے، چین اور پاکستان کو شیطانی اتحاد کی سازش کو سمجھتے ہوئے اس کا مقابلہ کرنے کیلئے باہم متحد ہونا چاہیے، چین نے ہمیشہ کڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، اب جبکہ بھارت کی بحری قوت میں اضافہ ہوا ہے پاکستان کو اپنے دشمن کے مقابل آنے کیلئے چین سے ایٹمی آبدوزوں کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔
میوزیکل کنسرٹس پر پابندی اچھا اقدام ہے
پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں میوزیکل کنسرٹس پر پابندی سمیت پانچ قرار دادیں منظور کر لی گئیں جبکہ پنجاب حکومت نے کنسرٹس پر پابندی کی قرار داد سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔چند روز قبل ایک پرائیوٹ کالج کے میوزیکل کنسرٹس میں جس طرح کی بدمزگی ہوئی، اور اسکے نتیجے میں اموات واقع ہوئیں، وہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ایسے پروگرامز پر پابندی کی قرار دادیں خوش آئند ہیں تاکہ تعلیمی اداروں کا تقدس پامال نہ ہو، وہ تعلیمی سرگرمیاں بہتر انداز سے جاری رکھی جا سکیں۔ پنجاب حکومت کو اسے تمام پروگرام کو بند کرنے میں ان قراردادوں کی حمایت کرنی چاہیے کیونکہ تعلیمی اداروں میں ڈانس گانا ہماری ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کو قائد اعظم کے اصولوں اور علامہ اقبال کے خوابوں کو سامنے رکھ کر کرنی چاہیے تاکہ جس مقصدکیلئے علیحدہ ریاست حاصل کی گئی تھی، وہ مقصد پورا ہو سکے۔ اس سے قبل گرلز کالجز اور سکولز میں موبائل فون پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن ہنوز اس پر عمل نہیں ہو سکا۔ حکومت کو پنجاب اسمبلی کی منظور شدہ تمام قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ قانون کی صحیح معنوں میں حکمرانی قائم ہو سکے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں