افغانستان میں نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل میک کرسٹل نے خطہ میں قیام امن کیلئے افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ افغان ایشو پر جمعرات کو ہونیوالی لندن کانفرنس میں اس بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہئے اور ایک نئے عہد کے ساتھ اس خطہ میں جاری خونریزی کو روکنے کیلئے پیشرفت کرنی چاہئے۔ گذشتہ روز ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کو اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایک فوجی کی حیثیت سے وہ ذاتی طور پر یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب کافی جنگ ہو چکی ہے اس لئے اب ہمیں افغان تنازعہ کے سیاسی حل کی جانب آنا چاہئے اور یہ حل افغان باشندوں کی بہتری کیلئے ہونا چاہئے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک لاکھ امریکی افواج کے ساتھ ساتھ اتحادی ممالک کے دیگر ایک لاکھ 13 ہزار فوجی بھی نیٹو کی کمان میں 2001ء سے طالبان کے ساتھ لڑ رہے ہیں اور کم و بیش روزانہ اپنی جانیں ضائع کر رہے ہیں۔ اس لئے اب یہ خونریزی بند ہونی چاہئے۔
یہ حقیقت ہے‘ جس کا اعتراف جنرل میک کرسٹل ہی نہیں‘ دوسرے امریکی فوجی حکام اور اتحادی افواج کے برطانوی اور فرانسیسی کمانڈرز بھی متعدد مواقع پر کر چکے ہیں کہ غیور افغان باشندوں کے ساتھ وہ چاہے جتنا بھی عرصہ برسر پیکار رہیں انہیں ہزیمتوں اور اپنے جانی و مالی نقصان کے سوا یہاں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ گذشتہ 9 سال کے دوران امریکی برطانوی فوجیوں کی جتنی تابوت بند لاشیں ان کے ممالک واپس گئی ہیں ان کی صحیح تعداد سامنے آ گئی تو ان دونوں ممالک کے حکمرانوں کو اپنے عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ وہاں کے عوام اب بھی دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں افغانستان اور عراق میں شروع کی گئی بش کی جنونی کروسیڈی جنگ سے نالاں ہیں اور علاقائی و عالمی امن کی خاطر امن مارچ کر کے اپنے حکمرانوں پر پہلے ہی دبائو ڈال رہے ہیں۔ اسی طرح افغانستان میں پھنسے امریکی اتحادی فوجی خود بھی اس بے مقصد جنگ سے نالاں ہیں اور حالات کی سختیاں اور طالبان کی مزاحمت کا سامنا کرتے کرتے وہ نیم پاگل اور پاگل ہو چکے ہیں اور انہی حالات کی بنیاد پر بالخصوص امریکی برطانوی فوجیوں میں خودکشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
اب اوبامہ انتظامیہ کی نئی افغان پالیسی کے ردعمل میں طالبان کی مزاحمت اور اتحادی افواج پر گوریلہ حملوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے جس کے نتیجہ میں نیٹو افواج کو پہلے سے بھی زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یقیناً ان حالات کو بھانپ کر ہی جنرل میک کرسٹل نے ایک فوجی کی حیثیت سے اندازہ لگا لیا ہے کہ افغان دھرتی پر ان کیلئے جنگ جیتنا اور عسکریت پسند طالبان کی مزاحمت کو روکنا ناممکن ہے‘ اس لئے وہ اب اتحادی ممالک کے حکمرانوں پر افغان ایشو کا کوئی سیاسی حل نکالنے اور اس کیلئے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔
یہ طے شدہ امر ہے کہ غیور افغان باشندوں کو جدید اسلحہ اور عددی برتری کے زور پر بذریعہ طاقت شکست نہیں دی جا سکتی۔ افغانستان کی تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ سکندراعظم سے سپر پاور روس تک سب کو کابل فتح کرنے کی حسرت لئے وہاں سے رسوا ہو کر بھاگنا پڑا اس لئے افغان دھرتی پر امریکی اتحادی افواج کی شکست بھی ان کا مقدر بن چکی ہے اور مزید جانی و مالی نقصان سے بچنے کیلئے جلد یا بدیر انہیں افغانستان کو خالی کر کے اپنے گھروں کو نامراد واپس لوٹنا پڑیگا۔ اس تناظر میں نیٹو افواج کے کمانڈر کا مشورہ بھاگتے چور کو اپنی لنگوٹی بچانے کی ترغیب دینے والا ہے اور بالآخر نیٹو ممالک کو اسی راہ پر آنا پڑیگا تاہم یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ نیٹو کمانڈر اپنے فوجیوں کی جانیں بچانے کیلئے تو طالبان کے ساتھ مذاکرات کی راہ دکھا رہے ہیں جبکہ اپنے مفادات کی اس جنگ میں امریکہ ہمیں مسلسل الجھائے اور پھنسائے رکھنا چاہتا ہے اور باجود اسکے کہ اس پرائی جنگ میں اب تک ہمارے ہزاروں شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے ارکان کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور 35 ارب ڈالر سے زائد کا قومی معیشت کو نقصان ہو چکا ہے۔ امریکہ ہماری کارکردگی سے مطمئن نہیں ہو رہا اور ہم سے ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے بڑھانے کے ساتھ ساتھ خود بھی ڈرون حملوں کی تعداد اور دائرہ کار بڑھا کر ہمارے شہریوں کا خون ناحق بہا رہا ہے۔
جب آخرکار یہ مسئلہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعہ ہی حل ہونا ہے تو پھر ہمارے حکمرانوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ امریکی مفادات کی اس جنگ میں کود کر اپنے ملک کو تباہی کی جانب کیوں دھکیلے جا رہے ہیں جبکہ فوجی اپریشن اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں ہی یہاں خودکش حملوں کی راہ ہموار ہوئی ہے کیونکہ قبائلی باشندے ڈرون حملوں اور فوجی اپریشن میں اپنے بچوں اور عزیز و اقارب کی ہلاکتوں کا انتقام ملک کی شہری آبادیوں پر خودکش حملوں کے ذریعے لیتے ہیں۔ اس صورتحال میں ملک کی معیشت ہی تباہ نہیں ہو رہی‘ بدامنی کی وجہ سے ہمارے شاطر دشمن بھارت کو بھی ہماری سالمیت سے کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ اب اس نے ایک منظم سازش کے تحت یہاں دہشت گردی کا بازار گرم کر دیا ہے‘ اگر ہم اسی طرح امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی بن کر خود کو اس پرائی آگ میں جھلساتے رہے تو خدا نہ کرے‘ ہماری سالمیت اور آزادی و خودمختاری سخت خطرات میں گھر جائیگی۔ امن و امان کی ابتر صورتحال کی وجہ سے قومی معیشت کی ترقی کا پہیہ پہلے ہی جامد ہو چکا ہے‘ اگر فوجی اپریشن‘ ڈرون حملوں‘ دہشت گردی اور ردعمل میں ہونے والے خودکش حملوں کا سلسلہ مزید کچھ عرصہ تک جاری رہا تو اپنی آزادی و خودمختاری کے حوالے سے ہمارے پاس کچھ نہیں بچے گا۔ اگر امریکہ خود اس جنگ سے بھاگ رہا ہے اور طالبان سے امن مذاکرات کی راہ پر آرہا ہے تو پھر ہمارے لئے یہ راستہ اختیار کرنے اور خود کو امریکی مفادات کی جنگ سے نکالنے میں کیا امر مانع ہے۔ اگر ہم فدویانہ طرز عمل برقرار رکھیں گے اور امریکی ڈرون حملوں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرینگے تو امریکہ کے ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے رکیں گے‘ نہ ڈرون حملے۔
اس صورتحال میں بہتر یہی ہے کہ امریکی فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ترک کرکے فوجی اپریشن فی الفور بند کردیا جائے اور امریکی ڈرون حملوں کا توڑ کیا جائے۔ اگر قبائلی باشندے ڈرون گرا سکتے ہیں تو ہماری فضائیہ کے پاس تو ڈرون گرانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ ہماری سالمیت کیخلاف امریکی عزائم کا اس کے لہجے میں جواب دیا جائیگا اور افغانستان میں نیٹو افواج کی مزاحمت مزید تیز ہو گی تو امریکہ کے پاس اس سرزمین کو چھوڑ کر واپس بھاگنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہے گا‘ اگر اب امریکی اتحادی افواج کے پائوں اکھڑ رہے ہیں توہمارے حکمرانوں کو انہیں پائوں جمانے میں مدد فراہم نہیں کرنی چاہئے اور اپنے ملکی و قومی مفادات کی بہرصورت نگہداشت کرنی چاہئے‘ جس کیلئے یہ بہترین موقع ہے۔
بھارتی آبی دہشتگردی میں مزید اضافہ
بھارت کی جانب سے پاکستان کے اہم دریا چناب کے پچاس ہزار کیوسک پانی کو پمپوں کے ذریعے چوری کرنے کے باعث ایک کروڑ ایکڑ پر کاشت فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ بھارت پہلے ہی غیر قانونی ڈیموں کے ذریعے پاکستان کو پانی کی شدید کمی سے دوچار کر چکا ہے صرف دریائے چناب کے پانی میں 48 ہزار کیوسک کی کمی کی جا چکی تھی کہ اب پمپس کے ذریعے مزید کر دی گئی۔ دریائے جہلم اور سندھ کے پانی کی چوری بھی جاری ہے۔ بھارت کی طرف سے دریائے چناب کے پانی کی نئے طریقے سے چوری کے باعث گندم، گنا، سرسوں، سورج مکھی، سبزیوں، دالوں اور چارہ جات کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ یہی صورتحال برقرار رہی تو قحط سالی کا سماں ہو گا‘ خوراک کے حصول کیلئے لوگ لڑتے جھگڑتے نظر آئیں گے۔ بھارت یہی چاہتا ہے اگر اس کو پہلے ڈیم کی تعمیر سے روک دیا جاتا تو دوسرا بنتا نہ تیسرا، پاکستان کی خاموشی کی وجہ سے بھارت درجنوں ڈیم مکمل کر چکا ہے اور پچاس سے زائد کی تعمیر جاری ہے۔ آج جب بھارت کی آبی دہشت گردی عروج پر ہے‘ پاکستانی انڈس واٹر کمشنر کا رویہ معذرت خواہانہ اور مجرمانہ ہے۔ جب ان پر پاکستان کے اندرونی حلقوں کی طرف سے دباؤ پڑتا ہے تو وہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان دونوں اداروں نے بھارت کے غیر قانونی طور پر تعمیر ہونے والے بگلیہار ڈیم، کشن گنگا ڈیم اور وولر بیراج کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ وہ پاکستان کے برمبنی حقیقت موقف کو تسلیم بھی کر لیں تو اپنے سرمائے کے ضائع ہونے کے خدشے کے باعث وہ کبھی پاکستان کے حق میں فیصلہ کرینگے نہ اس حوالے سے پاکستان کی حمایت۔ موجودہ حالات میں بھارت کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھانے کی ضرورت ہے نہ امن کی آشا کا راگ الاپنے کی۔ پاکستان کو پانی کی شدید قلت سے بچانے کیلئے ٹھوس موقف اپناتے ہوئے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ بھی سخت رویہ اپنایا جانا چاہیے اور اگر کوئی غیر روایتی اقدام کی ضرورت ہو تو اس سے بھی گریزنہیں کرنا چاہیے کیونکہ کشمیر سے آنے والا پانی ہی ہماری زندگی ہے جو لہو بن کر ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔
پاک‘ ترک‘ایران ‘ افغان دفاعی بلاک بنالیں
گزشتہ روز انقرہ میں ترکی‘ پاکستان اور افغانستان کے صدور کا اجلاس ہوا‘ جس کی صدارت ترک صدر عبداللہ گل نے کی‘ جس میں دیگر امور کے علاوہ پاکستان افغانستان مصالحت اور باہمی تعاون کے میکانزم کو مضبوط بنانے پر غور و خوض کیا گیا۔ اس سے قبل صدر آصف زرداری نے ترک وزیراعظم طیب اردگان سے ملاقات کے دوران دو طرفہ تجارت اور دفاع کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور دہشت گردی کیخلاف جنگ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان ترکی اور افغانستان کے مابین تجارت اور دفاعی معاملات پر پیشرفت خوش آئند ہے‘ لیکن خطے کے معاملات پیش نظر ایک اسلامی بلاک کی اشد ضرورت ہے۔ ایک اسلامی دنیا کے خصوصاً دہشت گردی کیخلاف امریکہ کی نام نہاد جنگ کے حوالے سے پاکستان ترکی افغانستان اور ایران کو قریب قریب ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے‘ چاروں ممالک کی خطے کی اپنی ایک حیثیت اور اہمیت ہے۔ او آئی سی اسلامی ممالک کی بھرپور نمائندگی کرتی نظر نہیں آتی‘ اس صورتحال میں چاروں ممالک کے ایک دفاعی اور تجارتی بلاک کی تشکیل ناگزیر ہو جاتی ہے اور ان حالات میں جب امریکہ نہ صرف اس خطے میں بدامنی کی آگ بھڑکا رہا ہے‘ بلکہ بھارت جیسے اسلام اور پاکستان دشمن کی پشت پناہی بھی آرہا ہے۔ شیعہ سنی مسئلہ بھی اس بلاک کے اندر حل ہو سکتا ہے۔
شانِ رسالتؐ میں گستاخی ناقابل برداشت
آزادی اظہار پر پابندی نہیں ہونی چاہئے اور آج دنیا جب گلوبل ویلج بن چکی ہے ایسی پابندی نظر بھی نہیں آتی ہے لیکن مادر پدر آزادی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ آپکی آزادی دوسرے کی ناک شروع ہونے تک ہے اسکے بعد ختم ہو جاتی ہے۔ آزادی اظہار کے نام پر تو کسی ایک شخص کی بھی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے چہ جائیکہ سوا ارب سے زائد مسلمانوں کے دل نبی کریمؐ کی شان میں گستاخی کرکے زخمی کر دیئے جائیں۔ ناروے اور ڈنمارک کے جرائد نے ایک بار پھر حضور ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کئے ہیں جس پر مسلمان شدید کرب میں مبتلا ہیں وہ احتجاج کر رہے ہیں مظاہرے کر رہے ہیں لیکن ڈنمارک اور ناروے کی حکومتیں اس کا کوئی نوٹس لینے پر تیار نہیں بلکہ اسکے برعکس وہ قابل مذمت اور نفرت انگیز اقدام کو آزادی اظہار کا نام دے رہے ہیں‘ مغربی میڈیا بھی اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہوئے ہے۔ گزشتہ روز پاکستان بھر کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین‘ علماء کرام‘ وکلا‘ تاجر اور طلبہ رہنماؤں نے مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں جس میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے۔ شانِ رسالت مآبؐ میں گستاخی ناقابل برداشت ہے۔ قوم نے تو جہاں تک ہو سکا اپنا حق ادا کرنے کی کوشش کی اور آئندہ بھی ایسا کرنے کا عزم ظاہر کیا لیکن اس پر حکومت پاکستان کی طرف سے خاموشی قابل مذمت ہے۔ حرمتِ رسالتؐ پر نثار ہو جانا ہر مسلمان کی حسرت اور دلی تمنا ہے۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے۔ شعائر اسلامی کیخلاف دنیا میں کہیں بھی بات ہو پاکستان کو تو سب سے آگے ہونا چاہیے اور پہلے اقدام کے طور پر ڈنمارک اور ناروے جیسی حکومتوں سے ملعون خاکہ نگاروں کیخلاف کارروائی تک تعلقات ختم کرتے ہوئے سفارت خانے بند کر دینے چاہئیں۔ اس معاملے میں او آئی سی ’’تیسری مخلوق‘‘ بنی نظر آتی ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ اس کو بھی جگائے۔ ملعون کیخلاف جلسے جلوس اور مظاہرے اچھا اقدام ہے لیکن صرف اسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے مذکورہ ممالک کی مصنوعات کے کامیاب بائیکاٹ کیلئے بھی ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے۔