قول و فعل میں تضاد ختم کرکے ہی قائدو اقبال کا پاکستان بنایا جا سکتا ہے
نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے 136ویں یوم ولادت کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب میں منظور کی گئی ایک قرارداد میں اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ کچھ سیاست دان اپنی سیاسی دکانداری چمکانے کی خاطر قائداعظم کی کردار کشی کی جسارت کر رہے ہیں۔ قرارداد میں سیاسی قائدین کو باور کرایا گیا کہ قائداعظم کی ذات پاکستانی قوم کیلئے وحدت اور یکجہتی کی علامت ہے اس لئے قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے اجتناب کیا جائے۔ قرارداد میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ بعض نام نہاد دانشور مختلف ٹی وی چینلز اور پرنٹ میڈیا میں اپنی دانشوری جھاڑنے کے دوران بانی پاکستان کی ذات اور انکی سیاسی حکمت عملی کے بارے میں انتہائی گستاخانہ گفتگو کر رہے ہیں جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ایسے نام نہاد دانشوروں کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر بلیک لسٹ کردیا جائے۔ ایک اور قرارداد میں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی شائع کردہ آٹھویں جماعت کی معاشرتی علوم کی کتاب میں قائداعظم کے مشہور عالم چودہ نکات کے بارہویں نکتہ کی اختصار کے نام پر تحریف پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اور کتاب کے مولفین کی اس کوتاہی کا فوری نوٹس لے اور بارہویں نکتہ کو مکمل طور پر کتاب میں شامل کیا جائے۔ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مقررین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں ایسے اہل اور باکردار لوگوں کو منتخب کریں‘ جو پاکستان کو قائداعظم اور علامہ اقبال کے افکار و خیالات کےمطابق ایک جدید اسلامی‘ فلاحی‘ جمہوری ملک بنا سکیں۔
یہ آفاقی اصول ہے کہ جو قومیں اپنے ہیروز کا احترام نہیں کرتیں اور انکی قدر و منزلت کی پہچان بھول جاتی ہیں‘ وہ مشیتِ ایزدی سے صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتی ہیں اور اس اٹل حقیقت میں بھی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ اس خطہ میں مملکتِ خداداد پاکستان کی تشکیل بانیانِ پاکستان قائداعظم اور علامہ محمد اقبال کی سیاسی دوربینی‘ فہم و بصیرت‘ حقائق شناسی اور برصغیر کے مسلمانوں کی قیادت کیلئے ان میں موجود خداداد صلاحیتوں کی بدولت ہی ممکن ہوئی تھی جبکہ یہ بھی دنیا کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ قائداعظم نے 23 مارچ 1940ءکی قرارداد لاہور کی بنیاد پر تشکیل پاکستان کی جس منزل کا تعین کیا‘ وہ انہوں نے جیل جائے اور گولی چلائے بغیر برصغیر کے مسلمانوں کی پرجوش مگر پرامن جدوجہد کی بنیاد پر سات سال کے مختصر عرصہ میں حاصل کرلی جبکہ شاعر مشرق علامہ اقبال نے ہندو اور انگریز کی غلامی میں جکڑے اس خطہ کے مسلمانوں کی حالت بہتر بنانے اور انکی مذہبی اور اقتصادی آزادی کی راہ اپنی فہم و بصیرت سے ہموار کرنے کیلئے اپنے خطبہ الٰہ آباد میں مسلمانوں کیلئے جس الگ مملکت کا تصور پیش کیا‘ اسکے حصول کیلئے انہیں قائداعظم کی ذات میں ہی قیادت کی جھلک نظر آئی تھی چنانچہ انہوں نے قائداعظم کو خط لکھ کر انگلستان سے ملک واپس آنے اور برصغیر کے مسلمانوں کی قیادت کرنے پر قائل کیا جبکہ قائد نے انکے اعتبار اور اعتماد پر پورا اترتے ہوئے انکی وفات کے بعد انکے تصورِ پاکستان کو حقیقت پاکستان میں بدل کر نظریاتی بنیادوں پر ایک نئی مملکت کی تشکیل کا انوکھا کارنامہ سرانجام دیا۔ یقیناً اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں کو اقبال اور قائداعظم کی شکل میں باصلاحیت و پرعزم قیادت میسر نہ آتی تو ان کیلئے نظریاتی بنیادوں پر ایک الگ مملکت کی تشکیل کا خواب ادھورا ہی رہتا۔ انگریز کی چالبازیوں اور شاطر و متعصب ہندو بنیا لیڈر شپ کے مقابلے میں اپنے اصولوں کو منوانا اور انہیں مسلمانوں کیلئے الگ مملکت کی تشکیل پر مجبور کرنا قائداعظم کے تدبر‘ وسعتِ نظر اور انکی غیرمتزلزل قیادت کی بدولت ہی ممکن ہوا تھا چنانچہ جغادری انگریز اور ہندو لیڈران بھی قائداعظم کی خداداد قائدانہ صلاحیتوں کے قائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکے تھے۔ آج اگر تاریخ سے نابلد اور تنقید کے مرض میں مبتلا ہمارے بعض سیاست دانوں‘ نام نہاد دانشوروں اور اپنے تئیں مورخ بننے والے کج فہموں کو قائداعظم کی ذات‘ کردار‘ اصولوں اور نظریے میں کوئی کمزور پہلو نظر آرہا ہے تو یہ محض انکے ذہن کا فتور ہے اور وہ اس مملکت خداداد کی نظریاتی بنیادوں کو کمزور کرنے کے دشمن کے ایجنڈہ پر دانستگی یا نادانستگی میں عمل پیرا ہو کر نئی نسل کو بہکانے اور بھٹکانے کی مذموم سازشوں کا حصہ بن رہے ہیں۔
جن سیاست دانوں نے ہندو بنیا کے مفادات اور ذہنیت کے تابع تشکیل پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا تھا‘ انکے ذہنوں میں پاکستان‘ نظریہ پاکستان اور بانیانِ پاکستان کے بارے میں خناس پیدا ہونا تو انکی سرشت کا حصہ ہے جس کا قیام پاکستان سے اب تک وہ کسی نہ کسی حیلے بہانے سے اظہار بھی کرتے رہتے ہیں اور گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہیں ہوتے کہ نظریہ پاکستان اور بانیانِ پاکستان پر تنقید انکے آقاﺅں کے سونپے گئے مشن میں شامل ہے جبکہ ہمارے بعض نووارد سیاست دانوں اور عقل و خرد سے عاری دانشور حضرات نے بھی بطور فیشن بانیانِ پاکستان قائد و اقبال اور نظریہ پاکستان کی تضحیک و تحقیر کو اپنا شعار بنا رکھا ہے۔ ان میں سے اکثر سیاست دانوں اور دانشوروں کے ڈانڈے تو نظریاتی مملکت پاکستان کو کمزور کرنے اور اسکی سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کا ایجنڈہ رکھنے والے دشمنانِ پاکستان کے ساتھ جا ملتے ہیں جبکہ بعض اپنی مغرب زدگی کے شوق میں نظریہ پاکستان اور بانیانِ پاکستان پر انگلی اٹھا کر غیرارادی طور پر ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ ان ”نووارداتیوں“ میں عمران خان اور دو ایسے مکروہ جعلی دانشور بھی شامل ہیں جن کا نام سن کر ہی گھن آتی ہے‘ ان کا چاند پر تھوکا تو یقیناً انکے منہ پر ہی آرہا ہے مگر ایسے بگڑے دہنوں کے مزاج درست کرنا بھی ضروری ہے اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی یوم قائد کے موقع پر منعقدہ تقریب میں اسی تناظر میں قرارداد منظور کرکے حکومت سے قائد کی شان میں گستاخی کرنیوالے بدبختوں کو لگام دینے کا تقاضہ کیا گیا ہے جس کیلئے عملی اقدامات بروئے کار لانا حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہے۔
اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان کو قائد و اقبال کے پاکستان کے سانچے میں ڈھالنے کا ڈھنڈورا پیٹنے والے حکمران اور سیاست دان زبانی جمع خرچ سے نکل کر حقیقی معنوں میں قائد و اقبال کے پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے عملی اقدامات بھی بروئے کار لائیں کیونکہ انکے قول و فعل کے تضاد سے ہی بدخواہوں کو نظریہ پاکستان اور بانیانِ پاکستان کی جانب انگلی اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ یوم ولادت قائداعظم کے موقع پر اپنے پیغامات میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے یہ کہہ کر کہ قائداعظم گولی نہیں‘ ووٹ پر یقین رکھتے تھے‘ طاقت کے ذریعے تبدیلی نہ آنے دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے بھی اسی تناظر میں باور کرایا ہے کہ کسی کو آئین اور پارلیمنٹ نہیں توڑنے دینگے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی گاہے بگاہے پاکستان کو قائد و اقبال کے پاکستان سے ہمکنار کرنے کی باتیں کرتے رہتے ہیں مگر حکومتی اور قومی قائدین کی جانب سے عملاً ایسا کوئی اقدام اٹھایا جاتا نظر نہیں آتا جو پاکستان کو قائد و اقبال کے پاکستان کی منزل سے سرفراز کرنے کی راہ ہموار کرنے کا باعث بنے۔ اس وقت وطن عزیز کی سلامتی کو چاروں جانب سے جن سنگین اور گھمبیر خطرات کا سامنا ہے اور جس طرح اغیار اسلامی دنیا کی اس پہلی ایٹمی قوت کو منتشر کرنے کے ایجنڈے پر متحد ہو چکا ہے‘ اسکے پیش نظر بانیانِ پاکستان قائد و اقبال کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور انکے وضع کردہ اصولوں پر گامزن ہو کر ملکی استحکام اور قومی اتحاد و یکجہتی کی فضا پیدا کرنے کی آج زیادہ ضرورت ہے۔ اگر ملک کی سالمیت کو درپیش موجودہ خطرات میں نظریہ پاکستان اور بانیانِ پاکستان پر انگلی اٹھانے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائیگی تو یہ صورتحال ملک کی نظریاتی اساس پر دشمن کو آسانی سے حملہ آور ہونے کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہو گی۔ اس وقت ہمیں ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی دونوں سرحدوں کے تحفظ و استحکام کی ضرورت ہے جس میں کسی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دینا چاہیے۔ ورنہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں قائد و اقبال کا پاکستان بنانے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا استعفیٰ
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فردوس عاشق نے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کے دوران وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔
پیپلز پارٹی کی حکومت مےں تیسری وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے لڑکھڑاتی زبان سے استعفیٰ پیش کر دیا۔ انکے کراچی مےں ہونے کے ناطے چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہےں کہ وہ تحریک انصاف مےں جا رہی ہےں جبکہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ون ٹو ون ملاقات مےں انہیں تحفظات دور کرنے کا یقین دلایا اور ان کا استعفیٰ پھاڑ دیا مگر وہ یہ سطور لکھے جانے تک اپنا استعفیٰ واپس لینے پر آمادہ نہیں تھیں جنہیں وفاقی کابینہ مےں اپنے بے اختیار ہونے کا شکوہ ہے اور انہوں نے باور کرایا ہے کہ وہ لولے لنگڑے منسٹر کی حیثیت مےں کام نہیں کر سکتیں۔ شیری رحمن پی پی پی حکومت کی پہلی وزیر اطلاعات تھیں، جنہوں نے اس بنا پر استعفیٰ دیا تھا کہ حکومت میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے پر زور دے رہی تھی، اسکے بعد قمر الزمان کائرہ کو قلمدان سونپا گیا لیکن ان کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہونے پر ان سے استعفیٰ لیا گیا، یوں ڈاکٹر فردوس تیسری وزیر اطلاعات تھیں، وزیراطلاعات کا منصب حکومت مےں اہم حیثیت کا حامل ہے جس نے حکومت کی کارکردگی اور اس کا موقف سے اندرن اور بیرون دنیا کو اجاگر کرنا ہوتا ہے، لیکن گذشتہ چار سال سے حکومت کا یہ شعبہ انتہائی کمزور ہے، حکومت یہ ذمہ داری کسی بھی رکن کے سپرد کرتے ہوئے تذبذب کا شکار ہوتی ہے۔ فردوس عاشق اعوان کی بحیثیت وزیر اطلاعات و نشریات اچھی کارکردگی رہی ہے۔ انہوں نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات استوار رکھے، وزیراعظم کو چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناطے حکومت کےلئے پریشانی کا سبب بننے والی چیزوں کا سدباب کرنا چاہئے، حکومت کی اپنی صفوں مےں ہی جب اتحاد نہیں تو وہ عوام کی فلاح کےلئے خاک کام کرےگی، وزیراعظم وزراءاور دیگر اداروں مےں ہم آہنگی ضروری ہے، وزراءکے اپنے محکموں کے افسران سے خوشگوار تعلقات کا قائم رہنا بہت ضروری ہے، جب تک ایسا نہیں ہوگا تب تک عوام کو جمہوریت کے ثمرات سے مستفید ہونے کا کماحقہ موقع نہیں ملے گا۔
بھارت سے کسی بھی قسم کی تجارت نہ کی جائے
پاکستانی حکومت نے بھارت کو ”موسٹ فیورڈ نیشن“ قرار دئیے بغیر ہی اپنی سرحدوں کو بھارتی اشیاءکیلئے مکمل کھول دیا۔ بھارت سے ایسی ” آف سیزن“ سبزیاں بھی منگوائی جارہی ہیں جن کے نہ منگوانے سے انکی کمی بازار میں محسوس نہیں ہوگی۔
بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔16 دسمبر1971 کے زخم ابھی تازہ ہیں، بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی طرف آنےوالے دریاﺅ ں پر ڈیم بنا کر پاکستان پر قحط اور خشک سالی کا بم گرانے کے درپے ہے پاکستان کی شہ رگ میں قتل و غارت کا بازار گرم کئے ہوئے ہے ان حالات میں پاکستان کا بھارت کو موسٹ فیورڈ نیشن قرار دینے کا سوچ کر تجارت کیلئے سرحدوں کو کھول دینا انتہائی احمقانہ فیصلہ ہے۔ اس وقت پاکستان اور بھارت کے مابین جو تجارت کی جارہی ہے پاکستان اس میں خسارے میں جارہا ہے بھارت سے تجارت کو پاکستانی تاجروں اور کسٹم عملے نے ذاتی منفعت کیلئے استعمال کرنا شروع کررکھا ہے جو سامان بھارت سے پاکستان آتا ہے اس پر باقی ٹیکس کے علاوہ کسٹم حکام ذاتی ٹیکس بھی لگاتے ہیں جس کے بعد سامان کو کلیئرنس دی جاتی ہے۔ اسی لالچ میں بعض آف سیزن ایسی سبزیاں بھی منگوائی جارہی ہیں جو پاکستان میں پہلے ہی وافر مقدار میں موجود ہیں انکے نہ منگوانے سے بازار میں کسی قسم کا کوئی بحران پیدانہیں ہوگا ایسی سبزیاں تو مکان کی چھت پر اور صحن یا لان میں بھی اُگائی جاسکتی ہیں،پاکستان ایک زرعی ملک ہے ہمیں تو ایسی اشیاءبرآمد کرنی چاہئیں تھیں لیکن ہم الٹا درآمد کر رہے ہیں ،حکمران ہوش کے ناخن لیں ایسی نوبت مت آنے دیں کہ عوام چوک و چوراہوں پر نکل آئیں اور بزور بازو حکومت کو فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کریں بھارت پاکستان کا دشمن ہے اسکے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہیں رکھناچاہئے۔
مسیحی برادری کو کرسمس مبارک ہو
مسیحی برادری نے گزشتہ روز روایتی جوش و جذبے سے اپنی مذہبی تقریب کرسمس منائی۔
جب کوئی پاکستانی خوش ہوتا ہے تو دوسرے پاکستانی کا دل بلیوں اچھلتا ہے اور خوب خوش ہوتا۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف، شجاعت حسین اور پرویز الٰہی نے دل کی گہرائیوں سے کرسمس کے خوش کن موقع پر مسیحیوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔ کرسمس مسیحیوں کیلئے خوشی کا پیغام لانے والا تہوار ہے‘ اس موقع پر چرچ آراستہ کئے جاتے ہیں، رنگ و آہنگ کی تقریبات سجائی جاتی ہیں اور ”کرسمس ٹری“ تو اس تقریب کی جان ہے۔ ہم جملہ مسلمانانِ پاکستان اپنے مسیحی ہم وطنوں کو کرسمس کے خوشیوں بھرے موقع پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ اس پاک دھرتی کی حفاظت، تزئین اور خوشحالی میں برابر کے شریک ہیں۔ ہماری خوشیاں اور درد ایک ہیں اس لئے ہم انہیں مل جل کر گزاریں گے اور زیادہ سے زیادہ خوشیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ مسیحی برادری کی ہر شب شبِ کرسمس ہر روز روزِ کرسمس ہو۔ ادارہ نوائے وقت کی جانب سے مسیحی برادری کو ڈھیروں دعاﺅں اور نیک تمناﺅں کے ساتھ کرسمس کی خوشیاں مبارک ہوں۔