امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو بھارت اور افغانستان کے ساتھ مثبت اور مفید تعلقات رکھنا ہونگے‘ اس سلسلے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان پی جے کرولی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جنوبی ایشیائی خطے کے ممالک کو ہٹ دھرمی ترک کرکے باہمی تعلقات مستحکم کرنا ہونگے جس کیلئے رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سمجھتا ہے‘ دہشت گردی کے تدارک کیلئے خطے کے ممالک مل کر زیادہ موثر کردار ادا کر سکیں گے اس لئے امریکہ ان ممالک کو مل کر کام کرنے کیلئے آمادہ کریگا اور انکی حوصلہ افزائی کریگا۔
درحقیقت امریکہ‘ بھارت‘ اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ کے گٹھ جوڑ سے ہی اس خطے کا امن و سکون غارت ہوا ہے اور یہاں دہشت گردی کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ بھارت نے تو شروع دن سے ہی پاکستان کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر قبول نہیں کیا‘ چنانچہ وہ پاکستان کی سالمیت کیخلاف ہمہ وقت سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔ وہ پاکستان پر تین جنگیں مسلط کرنے کے بعد ایک گھنائونی سازش کے تحت اسے دولخت کرنے کی نوبت بھی لا چکا ہے اور اب وہ باقیماندہ پاکستان کے درپے ہے۔ اسکی ساری جنگی تیاریاں اور جنونیت پاکستان کی سالمیت ہی کیخلاف ہے اور شہ رگِ پاکستان کشمیر پر بھی اس نے اسی نیت سے اپنا خونیں پنجہ جما رکھا ہے کہ کشمیر کے راستے پاکستان آنیوالے دریائوں پر اپنا کنٹرول جما کر پانی کی قلت یا افراط کے ذریعے ہر دو صورتوں میں پاکستان کی معیشت کو تباہ و برباد کیا جا سکے۔
28 مئی 1998ء کو پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد ہمارے اس مکار دشمن کو پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں میں تو جارحیت کے ارتکاب کی جرأت نہیں ہو پا رہی مگر اس نے پانی کا حربہ اختیار کرکے ہم پر آبی دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ پہلے اس نے دریائے سندھ‘ جہلم اور چناب میں ہمارے حصے کا پانی روک کر ہمیں قحط اور خشک سالی سے دوچار کرنے کی سازش کی جس کا اعتراف خود بھارتی واٹر کمشنر نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران ہمارے خشک دریائوں اور ندی نالوں کا جائزہ لے کر کیا جبکہ اب وہ ہماری جانب پانی کی افراط کرکے ہمیں ڈبونے پر تلا ہوا ہے اس لئے جو بھارت ہمیں صفحۂ ہستی سے مٹانے کی منصوبہ بندی کئے بیٹھا ہے اور کشمیر پر بزور اپنا تسلط جما کر اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے رہا ہے‘ اسکے ساتھ ہمارے مثبت اور مفید تعلقات کس بنیاد پر استوار ہو سکتے ہیں اور پھر ہمیں یہ درس دینے والا امریکہ کون ہوتا ہے جبکہ وہ خود بھارت کو اپنا فطری اتحادی قرار دیکر ہماری سالمیت کیخلاف اسکے جنگی جنونی عزائم کی سرپرستی کر رہا ہے اور اسکے ساتھ بے شمار دفاعی اور ایٹمی تعاون کے معاہدے کرکے اسے ہر قسم کا جدید اسلحہ وافر مقدار میں فراہم کر چکا ہے۔ امریکہ درحقیقت بھارت کو اس خطہ کا تھانیدار بنا کر اسکے ذریعے اپنے مفادات کی تکمیل چاہتا ہے اور یہ مفادات دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں پوری مسلم امہ کو ختم کرنے کی بدنیتی میں لپٹے ہوئے ہیں جس میں بھارت اور اسرائیل اسکے شریک کار ہیں۔ اس شیطانی اتحاد ثلاثہ کا اصل ہدف پاکستان کی ایٹمی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کو ناکارہ بنانے کا ہے‘ جس کیلئے اسرائیل بھارتی تعاون سے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر فضائی حملہ کرنے کی ایک بار ناکام کوشش بھی کر چکا ہے جبکہ خود امریکہ ہمارے ایٹمی ہتھیار انتہاء پسندوں کے ہاتھ لگنے کا پروپیگنڈا کرکے انکی نگرانی کے بہانے ان پر اپنا کنٹرول مسلط کرنا چاہتا ہے اور امریکی میرینز اور دہشت گرد تنظیم بلیک واٹر کے اہلکار اسی بدنیتی کے تحت پاکستان کے حساس علاقوں میں مٹرگشت کرتے پائے جاتے ہیں۔
اگر امریکہ کی نیت اس خطہ میں قیام امن کی ہوتی تو وہ سب سے پہلے اپنے فطری حلیف بھارت کو پٹہ ڈالتا اور اسے ہماری سالمیت کیخلاف جارحانہ عزائم سے باز رکھتا مگر وہ تو خود بھارت کی سرپرستی کر رہا ہے اور دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر اس خطہ میں شروع کی گئی اپنے مفادات کے تحفظ کی جنگ میں ہمیں اپنا فرنٹ لائن اتحادی قرار دینے کے باوجود دہشت گردی کا ملبہ ہم پر ڈالنے کی بھارتی سازشوں میں خود بھی شامل ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر ہی بنیادی تنازعہ ہے‘ جس کے حل کے بغیر علاقائی اور عالمی امن کی کسی صورت ضمانت نہیں دی جا سکتی جبکہ کشمیر کا تنازعہ صرف یو این قراردادوں کے تحت کشمیری عوام کو استصواب کا حق دیکر ہی طے ہو سکتا ہے جس سے بھارت نہ صرف بدکتا ہے بلکہ اس نے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے اپنی فوجوں کے ذریعہ ظلم و جبر کی انتہاء کر رکھی ہے اور وہ پاکستان پر دہشت گردی کا ملبہ بھی جہاد کشمیر کو دہشت گردی کے زمرے میں شامل کرانے کیلئے ڈال رہا ہے۔ اس وقت جبکہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد آزادی کو بھارتی افواج کے مظالم کے باوجود آگے بڑھاتے ہوئے اپنی منزل کے قریب پہنچ چکے ہیں‘ ہندو بنیاء اس جدوجہد کو ڈی ٹریک کرنے اور کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کے مختلف حربے اختیار کر رہا ہے۔ اسکی فوجیں مقبوضہ وادی میں اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے پسپائی کے راستے ڈھونڈ رہی ہیں مگر وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔
انٹرنیٹ کے معروف عالمی سرچ انجن گوگل نے آزاد کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا تو بھارت نے نہ صرف گوگل کو قانونی نوٹس بھجوایا بلکہ اسے دنیا کے نقشے میں جموں و کشمیر کی پوری ریاست کو بھارت کا حصہ ظاہر کرنے پر بھی مجبور کیا۔ چنانچہ اب گوگل پر جموں و کشمیر کی پوری وادی دنیا کو بھارت میں شامل نظر آئیگی۔ صد افسوس! ہماری وزارت خارجہ نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔ اس بدنیت بھارت کے ساتھ جو ہماری سلامتی کے درپے ہے‘ اس وقت تک ہمارے دوستانہ خوشگوار تعلقات کیسے استوار ہو سکتے ہیں جب تک وہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق یو این قراردادوں کی روشنی میں کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کر دیتا۔ اگر امریکہ خطے کی امن و سلامتی کی خاطر پاکستان بھارت مثبت تعلقات کا خواہاں ہے تو اسے پہلے بھارت کو یو این قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر حل کی راہ پر لانا چاہیے مگر وہ تو اس معاملہ میں بھی بھارت کے حق میں ڈنڈی مارتا ہے اور کشمیری عوام پر جاری بھارتی فوجوں کے مظالم کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیکر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اور اب تو پوری دنیا ہمیں سیلاب میں ڈبونے کی بھارتی مکارانہ سازشوں کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ اگر بھارت دریائے سندھ‘ چناب اور جہلم میں فالتو پانی نہ چھوڑتا تو اس وقت ملک کے تمام صوبوں کو سیلاب کی جس نوعیت کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘ اسکی کبھی نوبت نہ آتی۔ ہمارے اس مکار دشمن نے اس پر ہی اکتفا نہیں کیا‘ دریائے راوی میں بھی پانی چھوڑ کر اس نے وسطی پنجاب کو بھی ڈبونے کی سازش کی جبکہ اب وہ دریائے ستلج میں بھی اضافی پانی چھوڑنے کی سازش تیار کئے بیٹھا ہے تاکہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہمارے ملک کا کوئی حصہ بچ نہ پائے۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ بھارت ہمیں ہر صورت مارنے پر تلا بیٹھا ہے اور امریکہ ہمیں اسی کمینے دشمن کے ساتھ مثبت اور مفید تعلقات استوار کرنے کی ڈکٹیشن دے رہا ہے‘ گویا ہم سانپ کو دودھ پلا کر اسے مزید ڈنک مارنے کیلئے خود ہی مستعد کرینگے۔ ایسی ہی صورتحال ہمارے ساتھ افغانستان کی ہے جو اگرچہ ہمارا مسلمان ہمسایہ ملک ہے مگر سوائے طالبان کے دور حکومت کے اس کی جانب سے ہمیں آج تک ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا نہیں ملا بلکہ وہ ہماری سالمیت پر وار کرنے کی گھنائونی بھارتی سازشوں میں برابر کا شریک رہا ہے۔ اب بھی بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ اپنے دہشت گردوں کو افغانستان میں تربیت دیتی ہے اور وہ افغان سرحد سے ہی ہمارے ملک میں داخل ہو کر یہاں وحشت و بربریت کا بازار گرم کرتے ہیں۔ افغانستان کے امریکی کٹھ پتلی صدر حامد کرزئی کو اس خطہ میں طاغوتی سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلم امہ کے اتحاد کی تو کبھی سوچ نہیں آئی جبکہ وہ امریکی پٹھو بن کر ہماری سالمیت کیخلاف جاری بھارتی سازشوں میں ضرور شریک رہتے ہیں اس لئے جب تک افغانستان میں امریکی بیساکھیوں پر کرزئی کی حکومت قائم ہے اور جب تک امریکی نیٹو افواج افغانستان میں موجود ہیں‘ پاکستان افغانستان مثبت اور مفید تعلقات کے استوار ہونے کی بھی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔
اس تناظر میں امریکہ کو اس خطہ میں قیام امن کی خاطر پہلے اپنی بھارت نواز پالیسی پر نظرثانی کرنا ہو گی‘ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کی فوری واپسی کو یقینی بنانا ہو گا‘ اپنے فطری اتحادی بھارت کو ہماری سالمیت کیخلاف جارحانہ عزائم سے باز رکھنا ہو گا اور کشمیری عوام کو حق خودارادیت دلانا ہو گا‘ بصورت دیگر کشمیر اور پانی پر پاکستان اور بھارت میں ایٹمی جنگ شروع ہوئی تو یہ علاقائی ہی نہیں‘ عالمی تباہی پر بھی منتج ہو گی اور شیطانی اتحاد ثلاثہ کی سازشیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔
نیت ایک طرف نہیں‘ دونوں طرف اچھی ہونی چاہیے
صدر آصف علی زردری نے کہا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے‘ اس لئے ملک میں فوجی بغاوت کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اچھی نیت کا حامل کوئی شخص حکومت گرانے کا نہیں سوچ سکتا‘ موجودہ بحران سے صرف جمہوری حکومت ہی نمٹ سکتی ہے۔
برطانوی اخبار گارجین سے انٹرویو اور امریکی کمان کے کمانڈر جنرل جیمس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا۔
اگر زرداری صاحب نے صدر پاکستان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرلیا ہے تو ٹھیک ہے وگرنہ پاکستان میں تو عوام کبھی مارشل لاء یا فوجی حکومت کو پسند نہیں کرتے‘ وہ ہمیشہ جمہوریت اور جمہوری حکمرانوں کو پسند کرتے ہیں اگر حکمران لوٹ مار جاری رکھیں گے تو پھر انہیں عوام کی ناراضگی سے ہر وقت ڈرنا چاہیے۔ جہاں تک نیت کا مسئلہ ہے‘ حکمرانوں کی اپنی نیت اگر درست نہ ہو اور وہ عوام سے جو کچھ ملا ہے‘ اس پر خوش نہیں تو عوام اپنے حکمرانوں سے نجات حاصل کرنا بھی جانتے ہیں۔ حکمرانوں کو اس سلسلہ میں اپنی بداعمالیوں کا خود بھی جائزہ لینا چاہیے۔ اب پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب کے بعد ملک کے بہت سے علاقوں میں ابھی تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں امدادی کارروائی ہی شروع نہیں کر سکیں‘ لوگ پانی میں گھرے ہوئے ہیں‘ سیلاب کے بعد پرتعفن کیچڑ اور مرے ہوئے جانوروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بیرون ملک اور اندرون ملک سے بھی بے شمار امداد آچکی ہے مگر حکومت کس کا انتظار کر رہی ہے؟ عوام کو یہ امداد پہنچائی کیوں نہیں جا رہی؟ جو کچھ آچکا ہے یہ عوام تک پہنچایا جائے تاکہ وہ سکھ کا سانس لے سکیں۔ حکومت اس آنیوالی غیرملکی امداد کو سنبھال کر کیا کریگی؟ اور حکومت تو امدادی سرگرمیوں کیلئے ایک شفاف فلڈ ریلیف کمشن بھی نہیں بنا اور نہ ہی وہ باڈی بن سکی ہے جس کا حکومت نے خود اعلان کیا تھا۔ ایسے میں عوام میں بداعتمادی یقیناً بڑھ سکتی ہے جو کہ ایک فطری عمل ہے۔ عوام کی بدگمانیوں میں اضافہ ہو جائیگا اور اس کا نتیجہ حکمرانوں کیلئے پسندیدہ نہیں ہو گا۔
کالاباغ ڈیم ملکی سلامتی کا منصوبہ
واپڈا کے سابق چیئرمین جنرل (ر) ذوالفقار علی خان نے کہا ہے کہ ملکی ترقی و خوشحالی اور بقا و سلامتی کے لئے ڈیمز خصوصاً کالاباغ ڈیم اور منڈا ڈیم موجود ہوتے تو اتنی بڑی تباہی نہ ہوتی۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں نے وقت کی ضرورت قرار دلا دیاہے۔ ہرذی عقل انسان اب اس کی تعمیر پر زور دے رہا ہے لیکن وطن دشمن قوتیں اس کو انا کا مسئلہ بنا کر سیاست کی بھینٹ چڑھا رہی ہیں۔ ذوالفقار علی خاں نے انکشاف کیا ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر مذاکرات میں خان عبدالولی خاں، ان کی اہلیہ اور اسفند یار ولی نے تسلیم کیا تھا کہ یہ سیاسی مسئلہ ہے لہٰذا سرحد اسمبلی سے قرارداد پاس کروا لیں ہمیں اعتراض نہیں ہو گا۔ اسی طرح مشرف نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی کوشش کی تو ایم کیو ایم اپنی مزاحمت سے دستبردار ہو گئی۔
سیاستدان انفرادی طور پر تو کالاباغ ڈیم کے بارے میں اب باتیں کر رہے ہیں لیکن اجتماعی طور پر وہ تعمیر کی مہم کیوں نہیں چلاتے؟ سندھ اور سرحد کے اعتراضات دور کرنے کے لئے پہلے کی طرح اب بھی ان کو مذاکرات کی طرف لایا جا سکتا ہے۔ یہ کام سیاستدان کر سکتے ہیں لیکن نہ جانے وہ کس مصلحت کا شکار ہیں۔ سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک نے ایک دفعہ پھر ان تمام بیانات کو مسترد کر دیا ہے، جن میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے باعث نوشہرہ کے ڈوبنے کا واویلا موجود ہے۔ ذوالفقار علی خان نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے میڈیا اپنا کردار ادا کرے۔ اس سلسلے میں نوائے وقت کالاباغ ڈیم پر قومی ریفرنڈم کروا رہا ہے جس میں عوام بڑی تعداد میں حصہ لے رہے ہیں اسی طرح دیگر محب وطن میڈیا کو بھی اس کی افادیت عوام کے سامنے بیان کرنی چاہئے تاکہ ملکی مفاد کا یہ بہترین منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچے۔