وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والوںکا احتساب ہوگا این آر او پر صدر سے کوئی اختلاف نہیں، میڈیا سیاستدانوں کے علاوہ دیگر مستفید غیر سیاستدانوں پر بھی توجہ دے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں سیاستدانوں کی تعداد صرف 34ہے۔دریں اثناء صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی ملاقات میں طے پایا ہے کہ این آر او سے استفادہ کرنے والے وزراء اپنے آپ کو عدالتوں سے کلیر کرائیں البتہ ان سے استعفے طلب نہیں کئے جائیں گے اگر کوئی وزیر ازخود رضا کارانہ طور پر استعفیٰ دیتا ہے تو اسے منظور کرلیا جائیگا۔
این آر او سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی طرف سے جاری کردہ ایک ایسا مکروہ آرڈیننس ہے جس نے ہماری سیاست اور معیشت کو اژدھے کی طرح جکڑ رکھا ہے اس آرڈیننس کے اجراء کے بعد اربوں ڈالر کی کرپشن کو سند جواز مل گئی اور قومی خزانے سے لوٹا ہوا پیسہ بیرونی بنکوں میں جائز رقوم کے طور پرمحفوظ ہوگیا یہ رقم کیری لوگر بل کے ذریعے ہماری قومی خودمختاری کو گروی رکھ کر ملنے والی امداد کے برابر ہے اگر صرف یہی دولت دوبارہ قومی خزانے میں واپس آجائے تو ملک کو یہ توہین آمیز امداد وصول کرنے کی ضروت نہیں رہے گی، اس این آر او سے مستفید ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد سرکاری افسروں اور ملازمین کی ہے اور معروف معنوں میں سیاستدانوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے یعنی ساڑھے آٹھ ہزار افراد میں سے صرف 34 ،لیکن اس حقیقت سے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور این آر او کے حق میںدھواں دھار تقریریںکرنے والے سیاسی و ابلاغی ماہرین بھی انکارنہیں کرسکتے کہ این آر او کسی بیورو کریٹ کی درخواست پر یا کسی سرکاری ملازم کو فائدہ پہنچانے کیلئے نہیں بلکہ سابق فوجی آمر اور امریکہ کے گماشتہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی باوردی صدارتی انتخاب کو آئینی، قانونی اور سیاسی جواز فراہم کرنے کے عوض پیپلز پارٹی کے قائدین بالخصوص محترمہ بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور ان کے جہانگیر بدر جیسے ساتھیوں کے علاوہ الطاف حسین سمیت ایم کیو ایم کے رہنمائوں کے خلاف عرصہ دراز سے زیر سماعت اندرون و بیرون ملک مقدمات کی واپسی کیلئے جاری ہوا اور ان کے طفیل سرکاری ملازمین کی کثیرتعداد بھی مستفید ہوئی۔
اگر میڈیا سیاستدانوں کوفوکس کررہا ہے تو اس کی جائز اور معقول وجہ موجود ہے کہ جب تک سیاستدان اور منتخب حکمران دیانت و امانت کو اپنا شعار نہیں بنائیں گے، حکمرانوںکے معاملات شفاف نہیں ہوں گے اور ان کے کردار پر انگلی اٹھانا ممکن ہوگا اس وقت تک نہ تو ملکی نظام میں بہتری آسکتی ہے اور نہ منہ زور بیوروکریسی کی بے ضابطگی، کرپشن اور خورد برد پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں کی کرپشن کے نتیجے میں معاشرہ بدعنوانی اور بے ضابطگی کی دلدل میں دھنستا ہے اور دوسروں کو ترغیب ملتی ہے۔ وزیراعظم ایک طرف این آر او سے استفادہ کرنے والوں کے احتساب کی بات کرتے ہیں دوسری طرف این آر او زدہ وزراء سے استعفیٰ طلب نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی میڈیا کو این آر او سے مستفید غیر سیاستدانوں پر توجہ دینے کی تلقین کر رہے ہیں۔ اگر حکومت واقعی ملک میں کرپشن کا خاتمہ چاہتی ہے اور سیاسی و جمہوری نظام کو شفاف انداز میں چلانے کا ارادہ رکھتی ہے تو پھر اسے گو مگو اور تذبذب کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ان تمام وزراء کرام کو اپنی بے گناہی ثابت ہونے تک مستعفی ہو جانے کی ہدایت کرنا چاہئے جن کے نام فہرست میں آ چکے ہیں اگر شفاف اور آزادانہ، عدالتی عمل کے ذریعے وہ بے گناہ ثابت ہوتے ہیں تو انہیں دوبارہ یہ اعلیٰ ترین مناصب سونپے جاسکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر سعید مہدی نے اس ضمن میں ایک عمدہ مثال قائم کی ہے جس کی تقلید وفاقی حکومت اور کابینہ کے ارکان کو کرنی چاہئے اس سے حکومت کی ساکھ بہتر ہوگی۔
ملک میں آزاد اور ذمہ دار عدلیہ وجود میں آچکی ہے اگر حکومت خود ہی این آر او کو دفن کرکے سابقہ مقدمات ان عدالتوں کے سامنے پیش کرتی ہے تو اس سے نہ صرف بے قصور افراد کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع ملے گا بلکہ حکومت جنرل پرویز مشرف اور ان کے قرضے معاف کرانے، قومی خزانے کو لوٹنے اور اپنے اختیارات و مناصب سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے ساتھیوں پر بھی آسانی سے ہاتھ ڈال سکے گی اور کوئی اسے سیاسی انتقام قرار نہیں دے سکے گا۔ اپنے عہدوں پربرقرار رہتے ہوئے اگر ان لوگوں نے قانون و عدالتی عمل کا سامنا کیا تو یہ الزام لگتا رہے گا کہ یہ اپنے حکومتی اثر و رسوخ کو بروئے کار لا کر بری ہوئے ہیں اور اس سے قانونی عمل کی ساکھ بھی مجروح ہوگی۔ لہٰذا احتساب کا بے لاگ اہتمام کرکے حکومت اپنی نیک نامی میں اضافہ کرسکتی ہے اس کے ساتھ حکومت اب اپوزیشن کے مشورے اور تعاون سے احتساب کا ایسا شفاف انتظام بھی کرے کہ ماضی اور حال میں ہونے والی کرپشن کا قلع قمع کرنے میں مدد مل سکے۔ احتساب کاایسا آزاد، خود مختار اور شفاف ادارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے جو بڑے سے بڑے حکومتی عہدیداروں اور اداروںکے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہو اور جس کی کریڈیبلٹی پر کوئی انگلی اٹھانے کی جرأت نہ کرسکے۔ یہ ادارہ کسی دیانتدار، بااصول، منصف مزاج اور ہر طرح کے دبائو کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال بہادر سابق جج سپریم کورٹ کی سربراہی میں قائم کیا جائے اور پھر اوپر سے نیچے تک احتساب کا ایسا عمل شروع کیا جائے جو معاشرے کو ناانصافی، بے ضابطگی اور کرپشن سے پاک کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ صرف اسی طرح موجودہ جمہوری نظام ہر طرح کے خطرات سے محفوظ ہو کر پروان چڑھ سکتا ہے یہ وقت، قوم اور ملک کی اولین ضرورت ہے۔
بابری مسجدکی شہادت کی رپورٹ،
دو قومی نظریہ کی حقانیت
بھارت کے لیبرہان عدالتی کمشن نے بابری مسجد کی شہادت کے واقعہ کی 17 سال بعد رپورٹ جاری کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور بی جے پی کے دیگر سینئر رہنمائوں ایل کے ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ کمشن کی رپورٹ کے مطابق 1992ء میں بابری مسجد کو شہید کرنے کی منصوبہ بندی سوچ سمجھ کر کی گئی تھی، عدالتی کمشن کے سربراہ جسٹس منموہن سنگھ لیبرہان نے بی جے پی کے متذکرہ لیڈروں کو دکھاوے کے اعتدال پسند قرار دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس کے کوئی شواہد نہیں کہ ان لیڈران کو مسجد کی شہادت کے منصوبہ کا علم نہیں تھا یا وہ اس سازش میں شامل نہیں تھے۔ ایل کے ایڈوانی نے ایک بھارتی اخبار میں اس رپورٹ کی اشاعت پر لوک سبھا کے اجلاس میں سخت احتجاج بھی کیا، اس رپورٹ کو بے بنیاد بھی قرار دیا اور ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا کہ یہ ان کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر ہو جس کیلئے وہ زندگی بھر کوشش جاری رکھیں گے۔
یہ ہے نام نہاد سیکولر بھارت کا اصل چہرہ جس سے بھارتی عدالتی کمشن نے بابری مسجد کی شہادت کے 17 سال بعد پردہ اٹھایا ہے تو بھی متعصب ہندو لیڈر شپ کی جانب سے اسی عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کیلئے زندگی بھر جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس رپورٹ کے بعد تو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر تقسیم ہند اور تخلیق پاکستان کی حقیقت اور بھی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ متعصب ہندو اپنی ’’دھرتی ماتا‘‘ پرمسلمانوں کا وجود برداشت نہیں کرتے اور ’’ہندتا‘‘ کا پرچار کرتے ہوئے اکھنڈ بھارت کے شوق میں مبتلا ہیں۔
بابری مسجد کی قیادت کا سانحہ ہی نہیں، ریاست حیدر آباد دکن میں بدترین ہندو مسلم فسادات اور گودھرا میں ٹرین کے اندر مسلمانوں کو جلا کر خاکستر کرنے کی وارداتوں میں بھی مکار ہندو بنیاء کی حکومتی لیڈر شپ کا ملوث ہونا ثابت ہو چکا ہے، گودھرا ٹرین کے سانحہ میں بھی بھارتی عدالتی کمشن نے ہی اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو ملزم قراردیا جبکہ اس سانحہ میں ایک سرونگ کرنل پروہت بھی ملوث پائے گئے جن کے اس جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے بھارتی پولیس کے تفتیشی افسر کرکرے کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اسی طرح ممبئی کے حالیہ نام نہاد دھماکوں میں بھی بھارتی آئی جی کی رپورٹ کے مطابق انتہا پسند ہندو ملوث ہیں۔ ان شواہد کے بعد بھارت کے کٹڑ انتہا پسند ہندو ریاست کے ثبوت کیلئے اور کس چیزکی ضرورت ہے جبکہ منہ میں رام رام کرنے والا یہ جنونی ہندو مسلمانوں اور دیگر بھارتی اقلیتوں کیلئے ہمیشہ بغل میں چھری دبائے رکھتا ہے اس لئے بھارت کے ساتھ دوستی کے شوق میں مبتلا ہمارے آزاد خیال عناصر کواب بابری مسجد کی شہادت کے بارے میں بھارتی لیبر ہان کمشن کی رپورٹ کی روشنی میں دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کی حقانیت کو تسلیم کرلینا چاہئے اور سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری آزادی و خودمختاری کے درپے ہندو بنیاء کبھی ہمارا مخلص نہیں ہوسکتا۔
مکمل یا محدود ایٹمی جنگ …
ذمہ دار بھارت ہے
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دیپک کپور نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا خطے میں عدم استحکام اور تنازعات کا مرکز بن کر ابھر رہا ہے دنیا اس خطے میں پہلے ہی دو جنگیں دیکھ چکی ہیں اب محدود ایٹمی جنگ کا خدشہ ہے۔ دیپک کپور نے مزید کہا کہ اس جنگ کو تعاون‘ سیاسی طریقے اور سفارتکاری سے نہ روکا گیا تو مستقبل میں بھیانک تصویر سامنے آئے گی۔ جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے باعث مذہبی انتہا پسندی ‘ فرقہ ورانہ فسادات‘ سماجی اور معاشی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
دہشت گردی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل واقعی جان لیوا ہیں اور جنگ تو قوموں اور معاشروں کو تباہ کر دیتی ہے۔ بعض اوقات جنگ کی وجہ سے ملکوں کی جغرافیائی ہئیت بھی بدل جاتی ہے لیکن جب جنگ مسلط کر دی جائے تو دوسرے فریق کے لئے اس کا مقابلہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ بھارت نے 65ء اور 71ء کی جنگیں پاکستان پر مسلط کیں۔ 71ء میں تو پاکستان کو دولخت بھی کر دیا گیا۔ اب بھارتی آرمی چیف کو اگر تیسری اور محدود ایٹمی جنگ کا خطرہ نظر آ رہا ہے تو اس کا ذمہ دار بھی بھارت ہی ہے۔ جنوبی ایشیا واقعی آج بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ بھارت کا جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ہے۔ بھارت جس کو دہشت گردی قرار دیتا ہے پاکستانیوں اور کشمیریوں کی نظر میں وہ تحریک آزادیٔ کشمیر ہے‘ بھارت کی نظر میں جو دہشت گرد ہیں وہ ہمارے لئے حریت پسند ہیں۔ اگر آج آزادی کا نام لینے اور جدوجہد کرنے والے دہشت گرد ہیں تو انگریز سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کرنے والوں کو کیا نام دیا جائے گا۔ کیا نہرو‘ گاندھی اور پٹیل جیسے لوگ بھی دہشت گرد تھے؟
جنوبی ایشیا میں مسائل‘ تنازعات اور فسادات کی اصل جڑ تنازع کشمیر ہے۔ یہ مسئلہ آج حل ہو جائے تو خطہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے لیکن بھارت اس مسئلے کے حل کے لئے سنجیدہ نہیں۔ نہتے کشمیریوں کو مطیع بنانے کے لئے سات لاکھ فوجی وہاں داخل کئے ہوئے۔ دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اسی وادی میں ہوتی ہیں۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر سے پاکستان آنے والے دریاؤں کا پانی 62 ڈیم تعمیر کر کے روکا جا رہا ہے۔ 1948ء میں بھارت خود مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لے گیا۔ جس نے اس مسئلے کا احسن حل تجویز کرتے ہوئے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کی قراردادیں منظور کیں۔ اس کے بعد بھارت ان قراردادوں سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد سے مذاکرات کا دھوکہ دے رہا ہے۔اول تو مذاکرات کی میز پر آتا نہیں، آتا ہے تو وقت گزاری اور ٹال مٹول کے لئے۔61 سال سے یہی سلسلہ جاری ہے۔تنگ آمد بجنگ آمد‘ پاکستان مسئلہ کشمیر کب تک مذاکرات کے ذریعے حل ہونے کا انتظار کرے گا؟ بھارت پاکستان کوریگستان میں تبدیل کرنے کیلئے اسکے حصے کا پانی روک رہا ہے۔ پاکستان اس پر کب تک خاموش رہے گا ؟ جنگ ایٹمی ہو یا غیر ایٹمی اس کے حالات بھارت نے پیدا کئے ہیں‘ جنگ ہونی ہے تو پھر اس سے کیا ڈرنا کہ ایٹمی ہو گی یا غیر ایٹمی‘ مکمل ایٹمی ہو گی یا محدود ۔ بھارت اپنی اداؤں پر غور کرے‘ خطے کو آگ کی لپیٹ میں آنے سے بچانا ہے تو کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت دے۔