سینٹ میں مشرف کیخلاف غداری کے مقدمہ کیلئے قرارداد کی متفقہ منظوری اور سسٹم کی بقا کے تقاضے .... اب حکومت کا امتحان ہے کہ وہ مشرف کیخلاف کارروائی میں کتنی مخلص ہے

ـ 25 جنوری ، 2012
سینٹ نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کےخلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت غداری کا مقدمہ درج کرنے کی قرارداد گزشتہ روز متفقہ طور پر منظور کرلی اور سفارش کی ہے کہ اس سابق ڈکٹیٹر کو ملک واپسی پر فوری گرفتار کرلیا جائے۔ یہ قرارداد پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے تمام جماعتوں کی جانب سے پیش کی‘ جس کی کسی ایک رکن نے بھی مخالفت نہیں کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مشرف نے اپنے دور اقتدار میں امریکہ سے زبانی معاہدے کرکے وفاق کو نقصان پہنچایا‘ بے نظیر بھٹو اور نواب اکبر بگتی کے قتل میں معاونت کی‘ ملک کو عدم استحکام کا شکار کیا اور وفاق پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ دو مرتبہ آئین پاکستان کو توڑا‘ عدلیہ کی تضحیک کی اور ججوں کو حراست میں لیا‘ بہت سے افراد کو لاپتہ کیا اور ریاستی ڈھانچے کو تباہ و برباد کیا۔ قرارداد میں مشرف پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کردیا جس سے ملک میں انتشار پیدا ہوا۔ اس تناظر میں ان کیخلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت مقدمہ درج کرکے ملک واپسی پر انکی گرفتاری ضروری ہے۔ اس قرارداد پر اب حکومتی اتحادی ایم کیو ایم کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ اگر آئین کی دفعہ 6 کی کارروائی کرنی ہے تو آئین توڑنے والے تمام سابقہ جرنیلوں کےخلاف کی جائے۔ ایم کیو ایم کے سینیٹر طاہر مشہدی کے بقول ایم کیو ایم نے مشرف کیخلاف قرارداد پر دستخط نہیں کئے۔
قرارداد میں جن الزامات کی بنیاد پر سابق جرنیلی آمر مشرف کو چارج شیٹ کیا گیا ہے‘ یہی وہ سارے الزامات ہیں جن کی بنیاد پر قوم تو شروع دن سے ہی مشرف کیخلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت کارروائی عمل میں لانے کا تقاضہ کررہی تھی مگر پیپلز پارٹی نے مشرف کیخلاف اس کارروائی کےلئے 18 فروری 2008ءکے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کے باوجود مشرف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے مابین طے پانے والے این آر او کی بنیاد پر نہ صرف مشرف کو بطور صدر مملکت قبول کئے رکھا بلکہ انکے استعفیٰ کے بعد انہیں مارچ پاسٹ کی سلامی اور پروٹوکول دیکر ایوان صدر سے رخصت کیا اور پھر انہیں ملک سے فرار ہونے کا محفوظ راستہ بھی فراہم کیا۔ مشرف کیخلاف اندراج مقدمہ کیلئے قوم اور اسکی نمائندہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے کئے جانیوالے تقاضے پر حکمران پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے دوٹوک انداز میں دفعہ 6 کی کارروائی عمل میں لانے سے انکار کیا گیا اور یہ جواز پیش کیا گیا کہ ان کیلئے جمہوریت ہی سب سے بڑا انتقام ہے۔ حد تو یہ ہے کہ مشرف کو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمہ میں بطور شریک ملزم نامزد کرانے سے بھی گریز کیا گیا حالانکہ محترمہ بے نظیر بھٹو خود اپنے ایک خط میں باور کرا چکی تھیں کہ اگر انکی جان کو کوئی نقصان پہنچا تو اسکے ذمہ دار مشرف اور انکے ساتھی ہونگے۔ اس سلسلہ میں انکی جانب سے باقاعدہ چار افراد کو نامزد کیا گیا جس کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے مسلم لیگ (ق) کو قاتل لیگ قرار دیا مگر بعدازاں اپنے اقتدار کے تحفظ و تسلسل کی خاطر اس قاتل لیگ کے ساتھ مفاہمت کرتے ہوئے محترمہ کے نامزد کردہ اس پارٹی کے لیڈر چودھری پرویز الٰہی کو سینئر وفاقی وزیر بنا دیا گیا۔ اسی طرح مشرف کے گناہوں پر بلوچستان کے عوام سے معافی مانگنے کے باوجود مشرف کو نواب اکبر بگتی کے قتل کے مقدمہ میں نامزد کرانے سے بھی گریز کیا گیا جس سے بلوچ قوم کی بدگمانیوں میں مزید اضافہ ہوا۔ بعدازاں محترمہ بے نظیر بھٹو کے سانحہ قتل پر یو این انکوائری کمیشن کی رپورٹ آنے پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت محترمہ کے قتل کے مقدمہ میں عدالتی حکم پر مشرف کو ملزم نامزد کیا گیا جبکہ بلوچستان میں بھی نواب طلال بگتی کی درخواست پر بلوچستان ہائیکورٹ کے احکام کے تحت مشرف کیخلاف نواب اکبر بگتی کے قتل کا مقدمہ درج ہوا‘ اسکے باوجود حکومت کی جانب سے مشرف کو قانون و انصاف کے کٹہرے میں لانے سے گریز کیا گیا حالانکہ حکومت کے پاس مشرف کو انٹرپول کے ذریعے ملک واپس لانے کا آپشن موجود تھا۔
جہاں تک مشرف کیخلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت کارروائی کا معاملہ ہے‘ یہ کارروائی بھی ریفرنس کی شکل میں وفاقی حکومت کی جانب سے ہی عمل میں لائی جا سکتی ہے جس کیلئے سپریم کورٹ کی فل کورٹ نے مشرف کے 3نومبر 2007ءکے ماورائے آئین اقدام کو‘ جس کے تحت ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے آزاد عدلیہ کو گھر بھجوایا گیا‘ ججوں کو گرفتار کیا گیا اور اپنے من پسند ججوں سے پی سی او کے تحت حلف اٹھوایا گیا۔ باطل اور کالعدم قرار دیکر مشرف کیخلاف آئین کی دفعہ 6 کی کارروائی کا جواز بھی فراہم کردیا تھا مگر اس وقت حکومت کی جانب سے کوئی کوشش کی گئی تو مشرف کو بچانے اور ان کا دفاع کرنے کی ہی کی گئی جبکہ اب این آر او کیس کے فیصلہ پر عملدرآمد کا تقاضہ بڑھا ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم توہین عدالت کے الزام کی زد میں آئے ہیں تو انکی جانب سے مشرف کیخلاف عدم کارروائی پر عدلیہ کو مطعون کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے جبکہ عدلیہ نے ازخود تو دفعہ 6 کی کارروائی نہیں کرنی‘ اس کیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں ریفرنس آنا ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے تو مشرف کیخلاف اس ریفرنس کیلئے اپنے 31 جولائی 2009ءکے فیصلہ کی صورت میں مواد بھی فراہم کردیا تھا۔
اگر مشرف کو انکے قومی جرائم کی بنیاد پر قانون و انصاف کے کٹہرے میں لانے کے اقدامات اٹھائے گئے ہوتے تو ایوان صدر سے نکل کر وہ سیدھے جیل جاتے‘ انہیں ملک سے فرار ہونے کی سہولت ملتی‘ نہ ملک سے باہر بیٹھ کر جمہوریت کیخلاف بڑھکیں لگانے اور اپنی اہمیت کا احساس دلانے کا موقع ملتا اور اب تک وہ اپنے جرائم پر کیفر کردار تک پہنچ کر عبرت کا نشان بن چکے ہوتے۔ اب مشرف کےخلاف غداری کے مقدمہ کے اندراج کیلئے سینٹ میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی معاونت سے قرارداد لانے کا چاہے جو بھی پس منظر ہے اور حکومت اسکے ذریعے جو بھی سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے‘ اسکے باوصف مشرف کےخلاف دفعہ 6 کی کارروائی کرکے انہیں انکے جرائم کی سزا دلوانے کے ساتھ ساتھ آئندہ کے ممکنہ طالع آزماﺅں کیلئے انہیں عبرت کی مثال بنانے کا حکومت کو بہترین موقع حاصل ہو گیا ہے کیونکہ ماسوائے ایم کیو ایم کے جمہوریت کا درد رکھنے والی اور سسٹم کی بقاءکیلئے فکرمند تمام سیاسی جماعتیں مشرف کیخلاف دفعہ 6 کی کارروائی پر متفق ہیں۔ اگر اس مرحلہ پر ایم کیو ایم مشرف کیخلاف دفعہ 6 کی کارروائی کی مخالفت کریگی تو خود پر جرنیلی آمر کی باقیات کا لیبل لگوانے سے نہیں بچ پائے گی جبکہ انتخابی میدان میں اترنے والی کوئی جماعت اس وقت ایسا لیبل لگوانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اب تو مشرف کو مزید دس بار وردی سمیت صدر منتخب کرانے کا اعلان کرنے والوں نے بھی اپنے اس اعلان سے رجوع کرلیا ہے اور چودھری شجاعت حسین اب سانحہ جامعہ حفصہ اور نواب اکبر بگتی کی ہلاکت کے سانحہ کے حوالے سے مشرف کو کوسنے دیتے بھی نظر آتے ہیں۔
اس تناظر میں اگر اب مشرف کیخلاف دفعہ 6 کی کارروائی کی صورت میں جرنیلی آمروں کو عبرت کا نشان بنانے اور آئندہ کیلئے ماورائے آئین اقدامات کی طالع آزما جرنیلوں کی سوچ کے آگے مستقل بند باندھنے کا آج بہترین موقع ملا ہے تو جرنیلی طالع آزماﺅں سے ڈسے جانے والے سیاسی قائدین ہی نہیں‘ مشرف کیخلاف دفعہ 6 کی کارروائی کیلئے پوری قوم حکومت کا ساتھ دیگی جبکہ اس سے حکومت کو لامحالہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا بھی موقع ملے گا اور بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کیخلاف کوئی کارروائی نہ ہونے پر ناراض ہونیوالے پیپلز پارٹی کے جیالے کارکن بھی پھر سے پیپلز پارٹی کا قیمتی اثاثہ بن جائینگے‘ اس طرح مشرف کے جرائم پر ان کیخلاف کارروائی کے قانونی اور آئینی تقاضے بھی پورے ہو جائینگے اور پیپلز پارٹی کی زرداری قیادت اپنی مستقبل کی سیاست کو محفوظ بنانے کے بھی قابل ہو جائیگی اس لئے بال اب حکمران پیپلز پارٹی کی ہی کورٹ میں ہے؟ اگر اس پارٹی کے قائدین نے سینٹ کی متفقہ قرارداد کے باوجود اپنے کسی حکومتی اتحادی کے دباﺅ پر مصلحت سے کام لیا اور مشرف کیخلاف دفعہ 6 کی کارروائی سے گریز کیا تو پھر وہ تاریخ کے جبر سے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے اور جمہوریت کے انتقام سے بھی خود کو نہیں بچا پائیں گے۔ حکومت کو اب اولین اقدام کے طور پر مشرف کو انٹرپول کے ذریعے ملک واپس لانے کیلئے پیش رفت کرنی چاہیے اور ان کیخلاف دفعہ 6 کی کارروائی کیلئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دینا چاہیے جو اس وقت سسٹم کے استحکام کا بھی تقاضہ ہے۔
الیکشن کمیشن بھی سپریم کورٹ کے سامنے کھڑا ہو گیا؟
چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ حامد علی مرزا نے سپریم کورٹ کی طرف سے 23فروری 2012ءتک کمپیوٹررائزڈ ووٹر لسٹوں کی تیاری کیلئے دی گئی مہلت کے دوران لسٹوں کی تیاری سے معذوری کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ووٹر لسٹوں پر انتخابات کرانے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر حامد مرزا ریٹائرڈ چیف جسٹس ہیں وہ عام آدمی کے مقابلے میں بہتر جا نتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے احکامات سے اطمینان نہ ہو تو کیا طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔ احترام کےساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ احسن طریقے سے اجلاس کے دوران اور انکے سیکرٹری پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ پر برسے ہیں وہ کسی کی انگیخت کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 89 اور 190 میں واضح طور پر کہا ہے کہ تمام ادارے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدآمد کرنے اور کروانے کے پابند ہیں۔ الیکشن کمیشن عجب استدلال دے رہا ہے کہ 60روز میں الیکشن کرانا ضروری ہے، سپریم کورٹ نے ایسا کرنے سے روک کر آئین کی خلاف ورزی کی ہے، سپریم کورٹ نے ضمنی انتخابات کرنے کا حکم نہیں دیا جس کی وضاحت ترجمانی سپریم کورٹ نے بھی کر دی ہے۔ سپریم کورٹ نے مصدقہ لسٹوں پر الیکشن کروانے کو کہا ہے۔ صرف 60 روز کے اندر ہی ضمنی الیکشن کرانے کی شرط پوری نہیں کرنی ۔ مصدقہ ووٹر لسٹیں بھی ناگزیر ہیں۔ غیر معمولی حالات میں ضمنی الیکشن میں تاخیر ہوتی رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کا عجب استدلال ہے ایک طرف سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن کےمطابق ووٹر لسٹوں کی تیاری سے انکار دوسری طرف بوگس ووٹر لسٹوں پر ہی ضمنی الیکشن کے انعقاد پر اصرار، چیف الیکشن کمشنر کا اجلاس کے دوران یہ کہنا بھی افسوس ناک ہے کہ کسی ادارے کی دوسرے میں مداخلت انارگی کا سبب بن سکتی ہے۔اگر ادارے اپنی ذمہ داری آئین کےمطابق پوری نہ کر رہے ہیں تو اسکے سدھار میں عدلیہ کے سوا کون ادارہ ہے جو نوٹس لے گا؟ سپریم کورٹ پر الزام دھر کر کسی کو بھی اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ مذکورہ اجلاس میں متعدد سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے سپریم کورٹ کے احکامات کےمطابق ووٹر لسٹوں کی تیاری پر زور دیا ہے۔ اگر یہ ناممکنات میں سے ہے تو الیکشن کمشن سپریم کورٹ میں جا کر مزید وقت لینے کی کوشش کرے نہ کہ پریس کانفرنسوں میں سپریم کورٹ پر برتری یا اسکی برابری کا دعویٰ کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے بارے میں حکومتی رویہ عیاں ہے، اب الیکشن کمیشن جس طرح سپریم کورٹ کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے، جس سے اسکے حکومتی پارٹی کا آلہ کار بننے کا تاثر ابھرتا ہے۔ ضروری ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور سیکرٹری الیکشن کمیشن اپنے کردار و عمل سے اس تاثر کو دور کریںکیونکہ ووٹر لسٹیں فی الحال ضمنی انتخابات کے حلقوں کی درست کرنی ہیں‘ سارے پاکستان کی نہیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں کہ الیکشن کمیشن اس قسم کا موقف اختیار کرے۔ بہرحال سپریم کورٹ اپنے سابق بھائی سے نبٹ لے گی۔
متحدہ مسلم لیگ کیلئے پیرپگاڑا سید صبغت اللہ راشدی کی کوششیں
نئے پیرپگاڑا مسلم لیگی دھڑوں کے اتحاد کیلئے میدان میں آ گئے، فنکشنل لیگ کی کمیٹی کو رابطوں کی ہدایت دےدی۔ مرحوم پیرپگاڑاکی شخصیت کثیر الجہات تھی لیکن یہ خوش کن بات ہے کہ نئے سجادہ نشین پیرپگاڑا سید صبغت اللہ راشدی نے انکے مشن کو جاری رکھنے کا آغاز کر دیا ہے اور توقع ہے کہ وہ پاکستان مسلم لیگ کو ایک بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے، کیونکہ اس ضمن میں پہلے مرحوم پیرپگاڑا شاہ مردان شاہ کافی پیش رفت کر چکے تھے، میاں نواز شریف کو پیغام بھیجا جا رہا ہے، ممکن ہے قدرت کو یہی منظور ہو کہ پہلے والے پیرپگاڑاکی کوششیں، پیر صبغت اللہ راشدی کے ہاتھوں رنگ لائیں، اور میاں صاحب پگھل جائیں، نہ صرف یہ بلکہ تمام لیگوں کو ایک جھنڈے تلے کھڑا کرکے روح قائد کو تسکین پہنچائیں۔ اس ملک کو قائد کی مسلم لیگ نے بنایا اور وہ ایک تھی، آج یہ جو کئی طرح کی کئی مسلم لیگیں وجود میں آ گئی ہیں، اور قائد کے راستے کو بھلا بیٹھی ہیں تو ملک کا یہ حال ہو گیا ہے کہ سارا جسم داغ داغ ہے، اب مرہم کہاں کہاں رکھیں، چودھری شجاعت حسین چاہتے ہیں کہ ایک متحدہ مسلم لیگ وجود میں آئے، لیکن پھر ذات، اَنا، آڑے آ جاتی ہے، قائد اعظم اقبال کی ہدایت پر اپنی ذاتی خواہش کےخلاف سیاست میںآئے، مسلم لیگ بنائی، ملک حاصل کیا اور گڈ گورننس کی شروعات کی، لیکن پاکستان دشمنوں نے انکی آنکھ بند ہوتے ہی سازشیں شروع کر دیں، آج بھی اگر سب سے بڑی مسلم لیگ کے سربراہ اپنی خواہش یا ناپسندیدگی کو ترک کرکے ذرا سی قربانی دیں اور ان کو بھی گلے لگا لیں جنہیں وہ نہیں چاہتے تو یہ موجودہ لیگیں ایک اتحاد بنا کر آنےوالے انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔ پیر سید صبغت اللہ راشدی کو مسلم لیگ متحد کرنے میں اللہ تعالیٰ کامیابی عطا فرمائے۔ بصورت دیگر مسلم لیگ بالخصوص (ن) کو مسلم لیگ (ق) پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ پھر کیا حشر ہو سکتا ہے‘ قائد مسلم لیگ (ن) لندن سے پلٹ کر اپنے ساتھیوں کےساتھ مشورہ کرکے اس کا اندازہ لگا لیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں