چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ جس معاشرے میں قانون، آئین اور انصاف کی بالادستی نہ ہو وہ مہذب معاشرہ نہیں کہلا سکتا۔ ہم قانون کی بالادستی کے سوا کوئی اور نظریہ تسلیم نہیں کرسکتے۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ اسلام آباد میں 12 ویں رول سائننگ کی تقریب اور مختلف بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام ریاستی ادارے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔ ملک میں عدالتوں کا کام بہت اہم ہے ہمیں اداروں کے استحکام کیلئے کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہم سب کو اب عہد کرنا ہوگا کہ ملک میں کرپشن نہیں ہوگی اور صرف میرٹ اور ٹرانسپرنسی ہوگی۔ ان کے بقول اچھی گورننس کیلئے ضروری ہے کہ قانون کی حکمران پر عمل کیا جائے۔
اس وقت جبکہ وفاقی حکومت بالخصوص ایوان صدر کی جانب سے سپریم کورٹ میں خالی آسامی پر تقرر کے معاملہ میں پاکستان کے چیف جسٹس کی سفارشات کو قبول نہ کرکے اور سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کے تقررکیلئے بھی چیف جسٹس کی سمری واپس بھجوا کر عدلیہ کے ساتھ براہ راست ٹکرائو کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے، چیف جسٹس پاکستان نے بجا طور پر حکومتی ریاستی اتھارٹی کو باور کرایا ہے کہ اچھی گورننس کیلئے قانون کی حکمرانی پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کے عوام نے مشرف کی جرنیلی آمریت کی پیدا کردہ لاقانونیت کے خاتمہ اور قانون و آئین کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کیلئے ہی 18 فروری کے انتخابات کے ذریعہ موجودہ حکمرانوں کو سلطانی ٔ جمہور کا مینڈیٹ تھا اس لئے عوام اب بجا طور پر اپنے حکمرانوں سے توقع رکھتے ہیں کہ معاشرے میں سرائت کر جانے والے کرپشن کلچر کا قانون و انصاف کی عملداری کے ذریعہ خاتمہ کیا جائے، عام آدمی کو بھی انصاف کے یکساں مواقع حاصل ہوں اور تمام آئینی ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں۔ اگر آج آزاد عدلیہ کو وکلاء اور سول سوسائٹی کی سرکردگی میں عوام کی تحریک کے ذریعہ ملک میں قانون و آئین کی حکمرانی کو یقینی بنانے کا مینڈیٹ ملا ہے اور یہ اس کے آئینی فرائض میں بھی شامل ہے تو عدلیہ کی جانب سے ان فرائض کی بجاآوری میں کسی کو جزبز نہیں ہونا چاہئے بلکہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے قانون و آئین کی حکمرانی کو مستحکم بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جبکہ اس سے سسٹم کی بقاء و استحکام کی بھی ضمانت مل سکتی ہے مگر محسوس یہی ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے ماضی کے تلخ تجربات سے ابھی تک کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور وہ دانستہ طور پر عدلیہ کے ساتھ ٹکرائو کا راستہ اختیار کرکے جمہوری نظام کو پھر سے پٹڑی سے اتارنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
آئین کی دفعہ 260 کی روشنی میں اعلیٰ عدلیہ کے سابق ججوں اور ملک کے نامور آئینی اور قانونی ماہرین کی یہ مصدقہ رائے سامنے آچکی ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے تقرر کیلئے چیف جسٹس پاکستان کی سفارشات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور حکومت ان سفارشات کی روشنی میں ہی تقرر عمل میں لانے کی پابند ہے مگر عدلیہ کے احترام کے دعوے کرنے کے باوجود حکومت چیف جسٹس پاکستان کی سفارشات پر نہ صرف عملدرآمد کرنے سے گریزاں ہے بلکہ صدر مملکت کی جانب سے سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کیلئے جسٹس خلیل رمدے اور مستقل جج کیلئے لاہور ہائیکورٹ کے سینئر جج مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کے تقرر کے سلسلہ میں چیف جسٹس پاکستان کی سفارشات انہیں واپس بھجوا کر درحقیقت ان کے ساتھ محاذ آرائی کا پیغام بھجوایا گیاہے۔ اس تناظر میں اگر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری یہ باور کرا رہے ہیں کہ آئین و قانون کی بالادستی کے سوا کوئی دوسرا نظریہ تسلیم نہیں کیا جائے گا تو حکمران طبقہ کو عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کے ممکنہ نتائج سے بھی آگاہ ہونا چاہئے، جبکہ ججز کیس کے فیصلہ پر بہرصورت آئین کو فوقیت حاصل ہے۔ اگر چیف جسٹس اپنے آئینی اختیار کی بناء پر سپریم کورٹ کے ججوں کے تقرر کیلئے صدرمملکت کو سفارشات بھجواتے ہیں تو ان پر عملدرآمد سے انکار کرکے آئین کی خلاف ورزی کی جائے گی، سینئر قانون دان عبدالحفیظ پیرزادہ نے یقینا اسی تناظر میں حکمرانوں کو باور کرایا ہے کہ آئین کی دفعہ 190 کے تحت چیف جسٹس پاکستان اپنے احکام پر عملدرآمد کیلئے ملک کی مسلح افواج کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔
اب چونکہ 90ء کی دہائی والے حالات نہیں ہیں کہ انصاف و قانون کی عملداری کیلئے چیف جسٹس کے جاری کردہ احکام روبہ عمل نہ آسکیں اس لئے عدلیہ کے ساتھ ٹکرائو کا راستہ اختیار کرنا اب حکمرانوں کو بہت مہنگا پڑے گا۔ جبکہ قانون و آئین کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کیلئے عوام بھی عدلیہ کی پشت پر کھڑے ہیں، وہ ملک میں قانون و آئین کی حکمرانی کیلئے کاربند اور کرپشن کے خاتمہ کیلئے پُرعزم عدلیہ کے ساتھ حکومتی ریاستی محاذ آرائی کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف بھی ملک واپس آ کر حکومت پر واضح کر چکے ہیں کہ آئین سے متصادم کسی حکومتی فیصلے کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ این آر او کیس کے فیصلہ کے پس منظر میں حکومت سپریم کورٹ کے ججوں کے تقرر کیلئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بھجوائی گئی سفارشات کو اپنے لئے انا کا مسئلہ نہ بنائے اور ان سفارشات کی روشنی میں ہی متعلقہ نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے۔
یقینا اب چیف جسٹس کی جانب سے مزید استدلال کے ساتھ صدر کو دوبارہ سفارشات بھجوائی جائیں گی جنہیں صدرمملکت کی جانب سے مسترد کئے جانے کی صورت میں چیف جسٹس کے آئینی احکام پر عملدرآمد کے پابند ریاستی ادارے خاموش نہیں رہیں گے اور ملک میں قانون و آئین کی حکمرانی کیلئے اپنا کردار بروئے کار لائیں گے۔ اگر اس صورت میں سسٹم کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کی راہ اختیار کرنے والی حکومت پر ہی اس کی ذمہ داری عائد ہوگی۔ پھر اس ایکشن کو جان بوجھ کر دہرانے کی کیا ضرورت ہے جو پہلے بھی جمہوریت کی بساط لپیٹے جانے پر منتج ہو چکا ہے۔
امریکہ کو اب یہ خون آشامی بند کرنا ہو گی
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پاک فوج کی طرف سے ایک سال تک کسی نئے آپریشن کے نہ کرنے کے اعلان کے بعد امکان ہے کہ امریکی سی آئی اے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون حملوں کو دوگنا کر سکتی ہے۔ سی آئی اے نے پہلے سے زیادہ جدید ڈرون طیارے اپنے فلیٹ میں شامل کر لئے ہیں پاک فوج کے جواب سے سی آئی اے کے مزاج میں تلخی آئے گی۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکومت پاکستان افغانستان میں مفاہمت کے لئے افغان حکومت کی مدد کر رہی ہے اور افغان طالبان سے ہر سطح پر رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان نے امریکہ سے ڈرون طیاروں کا مطالبہ کیا ہے تاہم افغانستان میں طالبان کی ہر سطح پر لیڈر شپ سے بات چیت کے لئے کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان باتوں سے امریکہ اور امریکہ کے دیگر اداروں کو تلخی محسوس ہو گی مگر امریکی وزیر دفاع نے بھارت کی ہمنوائی کرتے ہوئے جو زبان استعمال کی ہے پاکستان اِس پر خوش نہیں ہے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا یہ غیر سفارتی بیان ہے۔ افغان طالبان سے پاکستانی حکومت کے رابطے ہیں اور اسے افغانستان کی مدد کے لئے استعمال کر رہا ہے اور اب یہ طے ہے کہ پاکستانی فوج آئندہ سال کے لئے کوئی نیا آپریشن نہیں کرے گی کیونکہ طالبان سے بات چیت کا عمل جاری رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے۔ حکومت قبائلی علاقوں میں جس حد تک آپریشن کلین اپ کرنے کی ضرورت تھی کر چکی ہے اور اب اگر طالبان بات چیت کے ذریعے پاکستانی علاقوں میں امن کی بات چیت کے لئے تیار ہیں تو رابطے اور مذاکرات بہت ضروری ہیں۔ امریکہ کو افغانستان میں امن چاہیے تو وہ اپنی فوجوں کو افغانستان سے انخلا کا حکم دے‘ امریکی اپنے ملک میں جائیں‘ افغانستان کو یہاں افغان عوام کے لئے چھوڑ دیں۔ حکومتِ پاکستان افغان طالبان سے مذاکرات کا پورا حق رکھتی ہے۔ امریکی حکام کو آئندہ صورتحال کے بارے میں اپنی راہِ عمل اختیار کرتے ہوئے پاکستان کی خود مختاری اور افغان عوام کے حقِ خود اختیاری اور اس خطہ میں جمہوریت کے استحکام کے تمام پہلوؤں کو بھی زیر نظر رکھنا چاہیے۔ پاکستان دیر سے باور کرا رہا ہے کہ ڈرون حملے کر کے امریکہ پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرات پیدا کر رہا ہے۔ ڈرون حملوں کے ردعمل میں پاکستان میں خودکش حملے ہو رہے ہیں۔ اگر ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا تو لازمی طور پر خودکش حملوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ ڈرون حملوں اور اس وجہ سے پاکستان کے عوام بے پناہ مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں امریکہ اپنے مفادات کی حفاظت کے لے مزید کتنے مسلمانوں کو تاخت و تاراج کرے گا کہیں نہ کہیں اُسے اپنا ہاتھ روکنا ہے وگرنہ امریکہ کو علم ہے کہ ویت نام میں بھی امریکہ کی خوں آشامی کی وجہ سے ہی امریکہ کو عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا اور افغانستان میں بھی یہی لمحہ آنے والا ہے۔
’’پاکستانی سیاستدان ہوش کے ناخن لیں‘‘
پاکستان اور بھارت میں مغربی دریائوں کے پانی کے زرعی استعمال پر نیا تنازعہ پیدا ہوگیا ہے اور پاکستان نے دریائے چناب سے پمپس کے ذریعہ براہ راست پانی چوری کرنے کا عمل فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ پاکستانی کمشنر برائے سندھ طاس سید جماعت علی شاہ نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بھارت نے چناب کا پانی زرعی مقاصد کیلئے استعمال کیا تو پاکستان کی طرف پانی کا بہائو ساڑھے تین لاکھ ایکڑ فٹ مزید کم ہو جائے گا۔
بھارت پاکستانی دریائوں کا پانی مسلسل استعمال کر رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی طرف سے آنے والے تمام دریائوں ندی نالوں پر ڈیم بنا رہا ہے اور پاکستانی پانی کو روک رہا ہے اور جہاں ابھی ڈیم نہیں بنے وہاں پمپس کے ذریعہ دریائوں کا پانی زرعی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ بھارتی لیڈر پاکستان پر الزامات لگا کر عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں جبکہ بھارت پاکستان کا پانی روک کر پاکستان کو بنجر کرنے کی سازش بھی کر رہا ہے مگر پاکستانی سیاستدان اور حکمران آپس کے جھگڑوں اور اقتدار کی بندر بانٹ پر ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو رہے ہیں اور یہ اتنا شعور بھی نہیں رکھتے کہ جس خطے پر حکومت کیلئے یہ لوگ پاکستان کے 17 کروڑ عوام کے ساتھ دھوکے اور مکاری کی سیاست کر رہے ہیں اور بھارت کے ساتھ دوستی اور نام نہاد ’’امن کی آشا‘‘ کے راگ الاپ رہے ہیں۔ بھارت پاکستان کے عوام کو صحرائوں اور ریگستانوں میں دھکیل رہا ہے۔ ایک طرف فوجی حملے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور دوسری طرف اس کا پانی بند کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے تمام سیاستدانوں اور حکمرانوں کو چاہئے کہ بھارت کی طرف سے خطرہ کی اس گھنٹی پرکان دھریں۔ بھارت پرمسئلہ کشمیر یو این قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زوردیا جائے پانی اور دیگر سرحدی مسائل پر بات چیت کی جائے۔ حکمران امریکہ کی حمایت کرتے کرتے پاکستان کو صحرا اور بنجرخطہ میں تبدیل کرالیں گے۔ بھارت کے ساتھ دوستی کرنے کی تلقین سانپ کے بل میں انگلیاں ڈالے رکھنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو عقل و ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ایسانہ ہو کہ اتنی قربانیوں اور جدوجہد سے جو پاکستان بنایا گیا تھا وہ ہمارے سیاستدانوں کی لڑائی کی وجہ سے خطرہ میں پڑ جائے۔
’’امن کی آشا‘‘ ڈرامہ ہے!
مسلح افواج کے سابق چیف جنرل اسلم بیگ نے ’’امن کی آشا‘‘ کوبے وقت کی راگنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سپانسرڈ مہم ہماری آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے اور اپنے سنگین جرائم پر پردہ ڈالنے کی منظم کوشش ہے۔ امن ڈھونڈنا ہے تو آئیں کشمیر پر بات کریں۔ افغانستان پر تسلط ختم کریں‘ جگہ جگہ آگ اور خون کے بھیانک کھیل کا سلسلہ بند کریں۔
جنرل اسلم بیگ کا کہنا ہے کہ ’’امن کی آشا‘‘ ڈرامہ کا فوکس پاکستان ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ پاکستان افغانستان کی دہشت گردی میں ملوث ہے اور بھارت کہتا ہے کہ ہمارے ہاں دہشت گردی میں پاکستان ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل (ر) مشرف کے دور میں ہر وہ کام ہوا جو امریکہ اور بھارت کے مفاد میں تھا یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ یہ کام آجکل بھی بالکل اسی طرح جاری ہے حکومت پاکستان کو چاہئے کہ اس معاملہ کو جلد از جلد دیکھا جائے اور اس کیلئے تمام معاملات کو کھل کر سامنے آنے دیں۔ پاکستان میں مداخلت کے جو بھی ثبوت ہیں یہ سب عالمی میڈیا کے سامنے لائے جائیں اور ساری دنیا کو بھارت کی نام نہاد جمہوری حکومت کی اصل حقیقت بتائی جائے۔ ’’امن کی آشا‘‘ واقعی ایک مکارانہ ڈرامہ ہے جو سادہ لوح پاکستانیوں کو ورغلانے کیلئے رچایا گیا اور چند افراد پر بھارتی حکومت بھاری سرمایہ کاری کرکے اس ڈرامہ سے پاکستان میں اپنی لابی بنانے کی کوشش کرر ہی ہے۔