دہشت گردی اور ڈرون حملوں میں 81 انسانی جانوں کا ضیاع ... ہوش کے ناخن لیں اور خود کو امریکی مفادات کی جنگ سے نکالیں

ـ 25 اگست ، 2010
وانا میں سابق رکن قومی اسمبلی مولانا نورمحمد کے مدرسے اور ملحقہ مسجد میں خودکش حملے اور کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی پشاور میں تین بم دھماکوں میں مولانا نورمحمد سمیت 51 افراد جاں بحق اور 56 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ وانا میں خودکش حملہ آور نے مسجد کے اندر مولانا نورمحمد سے ہاتھ ملاتے ہوئے خودکو دھماکے سے اڑایا۔ دہشت گردی کے ان واقعات میں ایک سکول اور متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ صدر آصف علی زرداری‘ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی‘ سپیکر قومی اسمبلی‘ چیئرمین سینٹ‘ وفاقی وزراء اور دونوں ایوانوں کے اپوزیشن لیڈران نے دہشت گردی کے ان واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وطن عزیز سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرکے ہی دم لیا جائیگا۔
دوسری جانب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ اور درگئی میں امریکی ڈرون حملوں میں 13 شدت پسندوں اور خواتین اور بچوں سمیت 28 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ نجی ٹی وی چینلز کی رپورٹ کیمطابق امریکی جاسوس طیاروں نے میرانشاہ کے نواحی علاقے ڈانڈے ڈرپہ خیل میں ایک گھر پر تین میزائل فائر کئے جسکے نتیجہ میں 20 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے‘ جبکہ درگئی کے مقام پر دوسرا ڈرون حملہ کیا گیا جس میں آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے‘ ان حملوں میں زخمی ہونیوالے متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہے اور مزید ہلاکتوں کا اندیشہ ہے‘ اسی طرح لنڈی کوتل میں فوجی چھائونی کے عقب میں نیٹو کو تیل سپلائی کرنے والے آئل ٹینکر میں بھی گزشتہ روز بم کا زور دار دھماکہ ہوا جس سے دو ٹینکر تباہ اور دو افراد ہلاک ہو گئے۔
پشاور سمیت قبائلی علاقوں میں رونما ہونیوالے ان مختلف واقعات میں ایک ہی روز مجموعی 81 افراد جاں بحق اور بیسیوں زخمی ہوئے ہیں اور دہشت گردی اور ڈرون حملوں کے یہ افسوسناک واقعات اس وقت رونما ہوئے ہیں‘ جب یہ علاقے پہلے ہی بدترین سیلاب کی زد میں آکر انسانی تباہی کی عبرتناک مثال بنے ہوئے ہیں جبکہ ماہ رمضان المبارک کے دوران ایسے واقعات کا رونما ہونا اور بھی المناک ہے۔ ان واقعات میں جاں بحق ہونیوالوں میں اکثریت یقیناً روزہ داروں کی ہو گی اور کئی اپنے خاندانوں کے واحد کفیل ہونگے جن کے جاں بحق ہونے کے بعد انکے خاندانوں کو جن کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑیگا‘ وہ ایک دوسرا المیہ ہوگا۔ خواتین اور بچوں سمیت جو معصوم و بے گناہ شہری دہشت گردی اور ڈرون حملوں کی بھینٹ چڑھے‘ انکے خاندان بھی سراپا سوال ہونگے کہ انہیں کس جرم کی سزا دی گئی ہے؟ پہلے کی طرح دہشت گردی کے ان واقعات میں بھی صدر‘ وزیراعظم اور دیگر حکومتی شخصیات نے اپنے ردعمل میں اسی عزم کا اظہار کیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے مارے جانے تک دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری رہے گی لیکن جب سیلاب میں گھری قوم پر بھی پے در پے ڈرون حملے کئے جا رہے ہوں تو یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ اسکے ردعمل میں خودکش حملے یا دہشت گردی کی کوئی واردات نہیں ہو گی۔ ان حملوں میں جتنے خاندان متاثر ہوتے ہیں‘ وہ ردعمل میں دہشت گرد اور خودکش حملہ آور ہی پیدا کرتے ہیں اس لئے اگر دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں اسی طرح شہریوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جاتا رہا تو آخری دہشت گرد کے مارے جانے کی خواہش تو شاید ہی پوری ہو پائے گی‘ ملک کا آخری شہری ضرور دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ جائیگا۔
ایک ہی روز دہشت گردی اور ڈرون حملوں کے واقعات میں 81 افراد کی جانیں ضائع ہونا اور لاتعداد زخمی کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے‘ ان واقعات میں جتنے بھی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے‘ اتنے ہی خاندان ان واقعات سے متاثر ہوئے ہیں اور ردعمل میں اتنے ہی مزید دہشت گرد اور خودکش حملہ آور پیدا ہو جائینگے‘ اس لئے امریکی مفادات کی جنگ میں ملک اور شہریوں کو برباد کرنیوالے حکمرانوں کا آخری دہشت گرد کو مارنے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو پائے گا‘ جبکہ یہ پالیسی دہشت گردی کے خاتمہ کے بجائے اسکے فروغ کا باعث بن رہی ہے اور اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی بے دریغ انسانی خون بہہ رہا ہے۔ ایک جانب سیلاب کی تباہ کاریاں جان لیوا ثابت ہو رہی ہیں‘ ملک کی معیشت کو اجاڑ رہی ہیں اور دوسری جانب دہشت گردی کی وارداتوںاور خودکش حملوں کے ذریعہ ملک و قوم کی بربادی کا اہتمام کیا جا رہا ہے‘ مگر ہمارے حکمرانوں کو اب بھی عقل نہیں آرہی کہ ملک اور قوم کو امریکی مفادات کی جنگ میں جھونک کر اپنا ہی کتنا ناقابل تلافی نقصان کیا جا رہا ہے۔
یہ کوئی مذاق تو نہیں ہے کہ امریکی احکامات کی تعمیل اور اسکے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ہم اپنی سیکورٹی فورسز کے افسران‘ اہلکاروں‘ سیاسی‘ دینی اور سماجی شخصیات اور دیگر مکاتب زندگی کے لوگوں سمیت اب تک اپنے ملک کی ہزاروں قیمتی جانیں ضائع کر بیٹھے ہیں اور 40 ارب ڈالر سے بھی زائد کا ملکی معیشت کا نقصان کرا چکے ہیں‘ جس کی تلافی پہلے بھی ممکن نظر نہیں آرہی تھی‘ جبکہ اب سیلاب کی تباہ کاریوں نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے‘ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خدانخواستہ یہ وطن عزیز قبرستان میں تبدیل ہو جائیگا اس لئے جو ہو چکا‘ سو ہو چکا‘ حکمرانوں کو اب ہی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور دہشت گردی کے لگائے گئے اصل مرض کا درست علاج کرنا چاہیے۔
یہ طے شدہ امر ہے کہ اس خطے میں دہشت گردی کو امریکی نائن الیون کے واقعہ کے بعد ہی فروغ حاصل ہوا ہے‘ جب امریکی نیٹو افواج نے دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر افغانستان میں ڈیرے ڈالے اور طالبان اور القاعدہ کے خاتمہ کی آڑ میں بیگناہ انسانوں کا خون بہانا شروع کیا تو اسکے ردعمل میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی وارداتوں کو بھی فروغ حاصل ہوا جبکہ فوجی اپریشن اور ڈرون حملوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا‘ چنانچہ آج یہ صورتحال بن گئی ہے کہ ملک کا کوئی بھی شہری کسی بھی جگہ پر محفوظ نہیں اور انسانی خون بالخصوص کلمہ گو مسلمانوں کے خون کی اتنی ارزانی ہو گئی ہے کہ پانی کی طرح اس دھرتی پر انسانی خون کا بھی سیلاب آیا ہوا نظر آتا ہے‘ اس لئے جب تک امریکی مفادات کی جنگ کو اپنی جنگ قرار دے کر فوجی اپریشن اور اپنی اجازت سے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھوایا جائیگا‘ اس خطے میں امن و سکون خواب ہی بنا رہے گا اور اس ملک کے معصوم و بے گناہ شہری اپنی ناکردنیوں کی سزا بھگتتے ہی رہیں گے‘ اس لئے اب بھی وقت ہے کہ خود کو امریکی مفادات کی جنگ سے باہر نکال کر مقامی طالبان اور عسکریت پسند تنظیموں کیساتھ امن مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے اور ڈرون حملے بند کراکے اس خطہ سے امریکی نیٹو افواج کی واپسی کی راہ ہموار کی جائے جس کیلئے افغانستان کی کرزئی حکومت کو بھی اس خطہ کے بہترین مفاد میں قائل کیا جا سکتا ہے۔ حامد کرزئی تو پہلے ہی حقانی گروپ اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کیساتھ مذاکرات کے راستے کھول رہے ہیں جبکہ نیٹو افواج بھی اپنی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کیلئے عسکریت پسندوں کیساتھ مذاکرات کے بہانے تلاش کر رہی ہیں‘ اس لئے اس آگ میں ہم ہی کیوں خود کو جھلساتے رہیں۔ امریکہ کی تو یہ کوشش ہے کہ وہ افغانستان سے واپس جاتے ہوئے ہمیں انتہا پسندوں کیساتھ الجھا جائے تاکہ ہم ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے سر اٹھا کر زندہ نہ رہ سکیں۔ اس صورتحال میں مناسب یہی ہے کہ اب امریکہ کو خدا حافظ کہہ دیا جائے اور ایک نئے جذبے کیساتھ ملک و قوم کی تعمیرنو کی جائے‘ اگر دہشت گردی کے خاتمہ کی موجودہ پالیسیاں ہی برقرار رکھی گئیں تو ہم اپنے آخری شہری کو بھی کھو بیٹھیں گے۔
چیئرمین واپڈا کی کالاباغ ڈیم دشمنی
چیئرمین واپڈا شکیل درانی نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم ہوتا تو نوشہرہ کو زیادہ نقصان پہنچتا۔
چیئرمین واپڈا نے جو درفنطنی چھوڑی ہے‘ اس کا تقاضہ تو یہ ہے کہ انہیں خیبر پی کے بھیج دیا جائے‘ کیا انہیں اس کا بھی احساس نہیں کہ وہ مرکزی حکومت کے اعلیٰ افسر ہوتے ہوئے ایک صوبے کی وکالتِ بے جا کر رہے ہیں۔ یہ بات پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کے دبائو پر کالاباغ ڈیم منصوبہ سیاست کی نذر ہو گیا اور منصوبہ ختم کرنے کا اصل مقصد آئی پی پیز اور رینٹل پاور پلانٹس کو پاکستان میں زیادہ متحرک کرنا تھا‘ اگر شکیل درانی کو خدا توفیق دے تو وہ اپنے پیشرو اور نوشہرہ کے باسی شمس الملک سے پوچھ لیں کہ نوشہرہ کو کیسے کالاباغ ڈیم سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ وہ انہیں سمجھا تو دینگے مگر وہ سمجھیں گے نہیں اس لئے کہ وہ پہلے سے سمجھے سمجھائے ہوئے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے طرز عمل سے صاف ظاہر ہے کہ وہ پاکستان کو قرضے دے کر اس سے دراصل اپنا کاروبار چلا رہے ہیں‘ کالاباغ ڈیم کی ضرورت اس ہولناک سیلاب نے اور واضح کر دی ہے۔ چیئرمین واپڈا سے توقع تھی کہ وہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر زور دینگے‘ مگر وہ شاید کسی اور کی شاخ پر بیٹھے چہچہا رہے ہیں۔ موجودہ خوفناک سیلابی آفت نے ثابت کر دیا ہے کہ اب کالاباغ ڈیم ہر قیمت پر بن کر رہے گا‘ حکومت شکیل درانی سے پوچھے کہ وہ کسی صوبے کے نمائندے نہیں‘ مرکزی حکومت کے افسر ہیں‘ اس لئے وہ اپنے جامے سے باہر نکل کر ایسا بیان نہ دیں‘ جس سے غیرملکی مفادات اور ملکی نقصانات وابستہ ہوں۔
سود کم کرائیں‘ مزید قرضے نہ لئے جائیں
آئی ایم ایف اور پاکستان کی وزارتِ خزانہ کے متعلقہ شعبوں کے حکام پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے ہونیوالے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کی مزید معاونت کے بارے میں بھی مختلف پہلوئوں پر غور کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ایک افسر نے اس سلسلہ میں ہونیوالی بات چیت کی تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ہیڈکوارٹرز میں اس موضوع پر بحث جاری ہے اور پاکستان کے بجٹ اور میکرو اکنامک پہلوئوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں نے میکرو اکنامک سٹرکچر کو جس طرح تباہ کیا ہے‘ اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مڈل ایسٹ اور سنٹرل ایشیاء ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر مسٹر مسعود احمد نے بتایا ہے کہ پاکستان کے جن پروگراموں میں آئی ایم ایف کی معاونت شامل ہے اور یہ تباہ کن سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں‘ انکے بارے میں دیکھا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف اس سلسلہ میں کیا معاونت کر سکتی ہے؟ نیز پاکستان کی اقتصادی بحالی کیلئے مزید کیا کیا جا سکتا ہے؟ ایسے خوفناک سیلاب کے بعد حکومت پاکستان کو مزید قرضے لینے کے بجائے‘ جن اداروں یا ممالک سے قرضے لئے گئے ہیں اور حکومت پاکستان بھاری سود اور قسطیں ادا کر رہی ہے‘ ان قرضوں کی شرائط نرم کرانے اور سود در سود ختم کرانے کیلئے آئی ایم ایف‘ ورلڈ بنک اور متعلقہ ممالک سے بات چیت کرنی چاہیے۔ سود کم ہو جائے اور قسطوں کی ادائیگی میں سہولت مل جائے تو یقیناً اس رقم سے حکومت سیلاب کے نقصانات کا ازالہ کر سکے گی۔ پاکستان کے عوام کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ موجودہ پریشان کن حالات میں نئے قرضے نہ لئے جائیں‘ پاکستان کے اندرونی وسائل اور بیرونی ذرائع سے سیلاب زدگان کی مدد اور تعمیرنو کیلئے جو مدد بھی میسر ہے‘ اسے ایمانداری‘ دیانت اور شفاف انداز میں خرچ کیا جائے۔ موجودہ حکومت اور سابقہ حکومت نے پاکستان کے ذمہ اس قدر بھاری قرضے جمع کرلئے ہیں کہ آئندہ کئی نسلیں بھی اسکی ادائیگی نہیں کر سکیں گی‘ اس لئے مزید قرضے بند کئے جائیں اور حکومت آج کی معیشت کو آسودہ بنانے کیلئے مستقبل میں آنیوالے وقتوں کو تلخ تر نہ بنائے۔
ایرانی دفاعی تیاری۔ قابل تحسین ہے
ایرانی صدر احمدی نژاد نے گزشتہ روز نئے دور مار ڈرون طیارے ’’کرار‘‘ کا افتتاح کیا جو انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ اہداف پر بمباری اور ایک ہزار کلو میٹر تک پرواز کر سکتا ہے جبکہ اب ایران میں میزائلوں سے لیس کشتیوں کی تیاری بھی شروع کر دی گئی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی نے وزیر دفاع احمد واحدی کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ روز ’’یوم دفاع صنعت‘‘ کے حوالے سے خصوصی تقریب ہوئی جس میں مقامی طور پر تیار کردہ ڈرون طیارے ’’کرار‘‘ کی نمائش کی گئی جو زمینی اہداف پر بمباری کے مشنز کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے راکٹ اور میزائلز لے جانے‘ انتہائی بلندی پر طویل فاصلے تک اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی صدر نے عالمی طاقتوں کی طرف سے منظور کی گئی قراردادوں اور دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کی پیش قدمی کو روکا نہیں جا سکتا۔ ایرانی صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے ایرانی قوم کو ناقابل تسخیر حوصلہ اور جذبہ دیا ہے‘ ایران ایک برادر اسلامی ملک ہے‘ پاکستان کے عوام ایرانی عوام کی ترقی اور انکے قومی دفاعی استحکام کو انتہائی مسرت اور فخر سے دیکھتے ہیں اور اہل پاکستان کو خوشی ہے کہ ایرانی قوم نے عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بہادری اور مردانگی کا جو مظاہرہ کیا ہے‘ وہ بے حد قابل تحسین ہے۔ پاکستان کے عوام حکومت پاکستان سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے انتہائی ذہین لائق اور قابل فخر سائنس دانوں کو بے کار بٹھانے کے بجائے انہیں اپنا میزائل سسٹم زیادہ موثر اور بہتر بنانے پر مامور کریں کیونکہ پاکستان کا دشمن بھارت ہر ماہ دو تین نئے میزائلوں کا تجربہ کرتا ہے‘ بھارت نے دور مار میزائلوں کی ایک بھاری رینج تیار کر رکھی ہے‘ اسکے علاوہ بھارت‘ کینیڈا روس اور امریکہ سے بھی میزائل ٹیکنالوجی اور ایٹمی سول ٹیکنالوجی کے معاہدے کر چکا ہے اور پچھلے دنوں برطانوی وزیراعظم بھی بھارت نیوکلیئر سول ٹیکنالوجی فروخت کرنے ہی آئے تھے۔ پاکستانی حکومت کو سیلاب کے ان مشکل دنوں میں بھی قومی دفاعی اہداف سے نظریں ہٹانی نہیں چاہئیں اور نہ ہی کسی بھارتی چال میں آنا چاہیے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter