سردار جی! سرحدوں کا دوبارہ تعین تو ہوگا!!

ـ 24 نومبر ، 2009
بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ آزاد تجارت اور دیگر امور پر بات ہو سکتی ہے مگر ہم کشمیر کی سرحد کا دوبارہ تعین نہیں کر سکتے کشمیر کی سرحد کا جو تعین ہو چکا ہے وہی کافی ہے دورہ امریکہ کے موقع پر ایک انٹرویو میں بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امریکی مقاصد پورے نہیں کر رہا وہ کابل پر کنٹرول کرکے امریکہ کو نکالنا چاہتا ہے امریکہ گیا تو خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔
پاکستان اور بھارت کے تعلقات مسئلہ کشمیر کے علاوہ انتہاپسند برہمن قیادت کے سیاسی و فوجی عزائم کی وجہ سے ہمیشہ کشیدگی کا شکار رہے ہیں اس کشیدگی کو برقرار رکھ کر بھارت نے ہمیشہ اپنے آپ کو فوجی لحاظ سے مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے وہ ماضی میں سوویت یونین سے اسلحہ خریدتا تھا اب امریکہ اور یورپ کو چین کا ہوا دکھا کر اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے جبکہ اس کی اپنی فیکٹریاں بھی ہر قسم کا اسلحہ تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ 9/11 کے بعد اس نے جہاد کشمیر کو دہشت گردی کا رنگ دے کر پاکستان سے مذاکرات بھی معطل کر دئیے ہیں۔ مسئلہ کشمیر بھارت نے خود پیدا کیا اگر وہ تقسیم برصغیر کے اصول کے تحت کشمیری عوام کی طرف سے 19 جولائی کو منظور کی گئی الحاق پاکستان کی قرارداد مان کر پاکستان سے اچھے تعلقات کا آغاز کرتا اور 1948ءمیں فوج بھیج کر جموں و کشمیر پر قبضے کی غلطی نہ کرتا تو دونوںممالک تعمیر و ترقی کی راہیں خوش اسلوبی سے طے کر سکتے تھے اگر اس کے بعد بھی جواہر لال نہرو یو این سلامتی کونسل میں اپنے عہد کے مطابق منظور کردہ قراردادوں کی روشنی میں رائے شماری کا اہتمام کرتے تو اچھی ہمسائیگی اور بہتر تعلقات کا آغاز ہو سکتا تھا مگر چونکہ بھارتی قیادت نے خواہ اس کا تعلق کانگریس سے ہے یا کسی دوسری جماعت سے تقسیم برصغیر کو دل سے قبول نہیں کیا، پاکستان کے قیام پر بھی تاحال برہم اور کشمیری عوام کی جدوجہد سے خائف ہے اس لئے آج تک یہ مسئلہ لاینحل چلا آ رہا ہے اور اب جبکہ بھارت کے خلاف مسئلہ کشمیر حل نہ کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا وہ مذاکرات کی میز پر نہیں آنا چاہتا مبادا اسے عالمی برادری کے دباﺅ پر یہ مسئلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور یو این قراردادوں کے مطابق حل نہ کرنا پڑے۔
ان دنوں بھارت کو چونکہ امریکی اشیرباد حاصل ہے اور پاکستان امریکہ کی جنگ میں الجھ کر جن سیاسی، اقتصادی اور دفاعی مشکلات سے دوچار ہے اس کی وجہ سے وہ بھارت پر دباﺅ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں اس لئے اب بھارت نے کھل کر یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین وجہ نزاع مسئلہ کشمیر نہیں بلکہ دہشت گردی ہے اور جب تک پاکستان دہشت گردی ختم نہیں کرتا مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ من موہن سنگھ کا حالیہ دورہ واشنگٹن اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ افغانستان کے بارے میں نئی پالیسی کی تشکیل میں مصروف ہے اور نئے افغان سیناریو میں پاکستان کے ساتھ بھارت کے کردار کا خواہاں ہے پاکستان امریکہ کو اپنے تجربات اور مفادات کی روشنی میں یہ باور کرانے میں مصروف ہے کہ جب تک بھارت افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت کر رہا ہے وہ مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کرکے یواین قراردادوں کے مطابق یہ دیرینہ تنازع حل نہیں کرسکتا اور امریکہ طاقت کا توازن بگاڑنے کی بھارتی کوششوں میں تعاون کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے نہ تو خطے میں امن بحال ہو سکتا ہے اور نہ افغانستان کا مسئلہ حل ہونے کی امید ہے۔
بھارت کی یہ کوشش نظر آتی ہے کہ امریکہ افغانستان میں الجھا رہے تاکہ اسے موثر کردار ادا کرنے کا موقع ملے اور وہ افغانستان کے راستے بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں مداخلت کرکے پاکستان پر دہرا وار کرے اس طرح مشرقی سرحدوں پر پاک فوج دباﺅ برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہو گی جبکہ وہ 62 ڈیم بنا کر پانی بند کرکے پاکستان کو بنجر ریگستان میں تبدیل کرنے کی اپنی پالیسی جاری رکھ سکے گا پاکستان بھارتی مداخلت کے ثبوت امریکہ کے سامنے پیش کر چکا ہے اور اب سی آئی اے کی مداخلت کا مسئلہ بھی اٹھا چکا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ، بھارت اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے درپے ہے۔ بھارتی وزیراعظم کا بیان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے مناسب ردعمل ظاہر کیا ہے لیکن جب تک بھارت کی خواہش کے مطابق تجارت جاری ہے۔ ہم بار بار جامع مذاکرات کی بھیک مانگتے اور جہاد کشمیر کو دہشت گردی کے زمرے میں شامل کرکے اپنے کشمیری بھائیوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے رہیں گے بھارت اٹوٹ انگ کی رٹ لگائے رکھے گا اور من موہن سنگھ کو یہ کہنے کی جرات ہو گی کہ کشمیر کی سرحدوں کا دوبارہ تعین نہیں ہو گا اگرچہ ان دنوں صدر، وزیراعظم اور وزیر خارجہ بار بار مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی بات کر رہے ہیں لیکن کشمیری عوام کی حمایت اور یواین قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی خواہش مند کشمیری قیادت کی حوصلہ افزائی کہیں نظر نہیں آتی بار بار جامع مذاکرات شروع کرنے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ امریکہ بھی اب کھل کر کہنے لگا ہے کہ دونوں ممالک یہ مسئلہ خود حل کریں امریکہ بھارت پر کوئی دباﺅ نہیں ڈالے گا لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ ہم امریکہ کی جنگ سے پیچھا چھڑا کر پوری توجہ بھارت پر دیں جس کے حوصلے روز بروز بلند ہو رہے ہیں من موہن سنگھ کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ جس طرح ہندوستان کی سرحدوں کا 1947ءمیں ازسر نو تعین ہوا اسی طرح انشاءاللہ کشمیر کی سرحدوں کا تعین بھی ازسر نو کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق الحاق پاکستان کی صورت میں ہو گا تب تک تجارت بند کرکے بھارت سے آخری معرکے کی تیاری کی جائے کیونکہ بنیاءقیادت صرف اسی طرح ہی کشمیر کی آزادی کا فارمولا تسلیم کرے گی۔سردار شاید اسی موقع پر آپ کے سکھ بھائی سکھستان بنانے میں بھی کامیاب ہو جائیں۔
32 چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کا فیصلہ
ایک رپورٹ کے مطابق واپڈا پانی اور پن بجلی کے میگا پراجیکٹس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں دو مراحل میں 32 چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم تعمیر کرے گا‘ پہلے مرحلے میں 12 ڈیم تین سال کی قلیل مدت میں مکمل کئے جائیں گے جن کی تعمیر سے 25 لاکھ ایکڑ فٹ سے زیادہ پانی ذخیرہ کیا جائے گا اور 21 میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ ان میں پانچ ڈیم بلوچستان‘ تین سندھ‘ دو سرحد اور دو پنجاب میں تعمیر کئے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں 20 ڈیم بنائے جائیں گے جن سے مجموعی 26 میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ رپورٹ کے مطابق ان چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کا پہلا مرحلہ 2012ءاور دوسرا مرحلہ 2013ءتک مکمل ہو جائے گا۔ پہلے مرحلہ کے ڈیمز کی تعمیر وفاقی حکومت خود کرائے گی جبکہ دوسرے مرحلہ کے ڈیمز کے اخراجات متعلقہ صوبے برداشت کریں گے۔
بھارتی آبی دہشت گردی کے باعث اس وقت پاکستان کو پانی کی قلت کے جن سنگین مسائل کا سامنا ہے اس کے پیش نظر فوری طور پر 32 چھوٹے ڈیم تعمیر کرنے کا فیصلہ مستحسن ہے تاہم ملک کی اصل ضرورت کالاباغ ڈیم کی تعمیر ہے جسے سیاست کی نذر کر کے اس سے ہاتھ کھینچ لیا گیا ہے اور حکمران پیپلز پارٹی کے وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کالاباغ ڈیم کا باب بند ہونے کا قوم کو جھٹکا لگایا تو کالاباغ ڈیم کی وکالت کرنے والی مسلم لیگ (ن) کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی اس معاملہ میں قوم کو مایوس کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جن کے بقول کالاباغ ڈیم کا منصوبہ اب قابلِ عمل نہیں رہا۔ چنانچہ اب اصل ضرورت ”دی ڈیم“ کے بجائے چھوٹے ڈیمز پر تکیہ کیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ چھوٹے ڈیمز کی تعمیر بھی ہماری ضرورت ہے کہ جنرل ایوب کے دور کے بعد سے اب تک ملک میں کوئی نیا ڈیم تعمیر ہی نہیں ہوا جبکہ تربیلا‘ منگلا اور ورسک ڈیمز کی تہوں میں سلٹ جمنے کے باعث ان میں پانی کے سٹوریج کی استعداد بھی کم ہو چکی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک گھناﺅنی سازش کے تحت بھارت نے بھی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کے راستے ہماری جانب آنے والے دریاﺅں پر 62 سے زائد ڈیم تعمیر کر کے اور بگلیہار ڈیم کو اپنی مرضی کے مطابق ڈیزائن کر کے ہمارے حصے کا پانی روک لیا ہے جس کے نتیجہ میں ہماری نہروں کا پانی عملاً خشک ہو گیا ہے اور بالخصوص پنجاب کی زرخیز زمین پانی کی بوند بوند کو ترس گئی ہے چنانچہ خشک سالی ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے اور ہمیں صومالیہ‘ ایتھوپیا والے انجام کا دھڑکا لگا ہوا ہے کیونکہ ہمارا ازلی مکار دشمن بھارت ہمیں اسی انجام کی جانب دھکیلنے میں لگا ہوا ہے۔
اس صورت حال میں جہاں ہمیں جغرافیائی حدود میں بھارتی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے خود کو تیار رکھنا ہے وہاں اس کی آبی دہشت گردی کا بھی توڑ کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں زیادہ ضروری اور مناسب تو یہی ہے کہ قومی معیشت کی ترقی کے ضامن کالاباغ ڈیم کی فی الفور تعمیر شروع کر دی جائے جس کی فزیبلٹی رپورٹ کی تیاری پر اب تک اربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ صوبوں کے وسائل بروئے کار لا کر چھوٹے ڈیم بھی تعمیر کر لئے جائیں جس سے نہ صرف ہم آبپاشی کے شعبے میں خودکفیل ہو جائیں گے بلکہ زیادہ سے زیادہ ہائیڈل بجلی پیدا کر کے ہم مہنگی تھرمل بجلی اور رینٹل پاور پلانٹس سے بھی گلوخلاصی کرا لیں گے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے بھی بچ جائیں گے اور عوام کو سستی بجلی بھی فراہم کر سکیں گے۔ اس تناظر میں بے شک چھوٹے ڈیم بھی تعمیر کریں مگر ”دی ڈیم“ سے توجہ ہرگز نہ ہٹائیں کیونکہ بھارتی آبی دہشت گردی کا توڑ اسی ڈیم کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔
عدلیہ کرپشن ریکارڈ ضائع ہونے سے بچائے!
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق قومی مفاہمتی آرڈیننس سے مستفید ہونے والے سیاستدانوں، حکمرانوں اور افسران کے مقدمات پر مشتمل دوسرے ریکارڈ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جسے بنیاد بناتے ہوئے 28 نومبر کے بعد مذکورہ عناصر کے گرد شکنجہ کسا جا سکتا ہے۔ مشرف دور میں مذکورہ آرڈیننس آنے کے بعد لاہور کے -3کلب روڈ سمیت چاروں صوبوں کے ریجنل ہیڈ کوارٹرز سے فوجداری دیوانی اور کرپشن کے دیگر مقدمات پر مشتمل حساس ریکارڈ مشرف کی ہدایت پر مخصوص گاڑیوں کے ذریعے اسلام آباد منگوا کر تلف کر دیا گیا تھا۔
جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے دوام کے لئے این آر او کا ڈول ڈالا، مشرف کی جن کے ساتھ ڈیل ہوئی وہ ان کو دل و جان سے معاف اور پاک و صاف کرنے پر تیار تھے۔ کرپشن کا ریکارڈ ضائع کرنا اس کا ایک ثبوت ہے۔ لیکن دوسرے ادارے کے پاس ریکارڈ کی نقل محفوظ رہ گئی۔ آج این آر او سے مستفید ہونے والوں کے ہاتھوں میں زمامِ اقتدار ہے۔ بچھا کھچا ریکارڈ ان کے ہتھے چڑھ گیا تو وہ ضائع کرانے سے دریغ نہیں کریں گے۔ این آر او سے استفادہ کرنیوالے ایسے بھی سادہ نہیں ہیں کہ این آر او ختم ہو تو وہ لٹکے ہوئے نظر آئیں۔ فروری 2009ءکے بعد اپنے بچا¶ کے لئے نیب کو بے اثر بنانے کے لئے مذکورہ ریکارڈ اور تحقیقات کرنے والے حکام اور مقدمات بنانے والے 30 پراسیکیوٹرز کو فارغ کر کے ان کی جگہ حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے پراسیکیوٹرز بھرتی کئے تاکہ این آر او کی قانونی حیثیت نہ بننے پر یہ پراسیکیوٹر ”ٹھنڈ“ رکھیں اور عدالتوں میں مناسب پیروی نہ ہونے کے باعث اتنی کرپشن کے مقدمات خود بخود ختم ہو جائیں۔ اب جبکہ این آ او کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہی۔ 28 نومبر کے بعد مقدمات نئے سرے سے کھلنے کی توقع ہے تو سفارشی پراسیکیوٹر اپنا وہ کردار ادا کرنے پر تیار ہونگے جس کی خاطر ان کو بھرتی کیا گیا ہے۔ یوں قومی مجرم ایک بار پھر احتساب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ این آر او سے استفادہ کرنیوالوں کے خلاف مقدمات صاف اور شفاف طریقے سے چلائے جائیں۔ سابق صدر مشرف کی طرف سے ریکارڈ ضائع کرنے کے بارے میں تحقیقات کی جائیں اور جن لوگوں نے اس میں معاونت کی ان کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔ موجودہ حکومت تو یہ کارنامہ انجام دینے سے رہی۔ اب پھر یہ ذمہ داری عدلیہ پر عائد ہوتی ہے کہ شفاف تحقیقات اور احتساب کا اہتمام کرے اور بچے ہوئے ریکارڈ کو تلف ہونے سے بچانے کے لئے فوری قبضہ میں لے لے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter