تازہ ترین:

جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیعملک کا دفاع حکومتی اور عسکری قیادتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے

ـ 24 جولائی ، 2010
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے صوابدیدی اختیارات میں نرمی کرتے ہوئے اور صدر مملکت آصف علی زرداری سے مشاورت کے بعد دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کیخلاف جاری اپریشن میں کامیابیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں 29 نومبر 2010ء سے تین سال کی توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے گذشتہ شب ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے اپنے اچانک اور مختصر ترین خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز ان دنوں انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ حکومت دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مصروف ہے اور سول انتظامیہ اور مسلح افواج نے ایسے عناصر کے خلاف جو دہشت گردی کا راستہ اختیار کرکے اپنی مرضی کا نظام مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ سوات، مالاکنڈ اور جنوبی وزیرستان میں کامیاب اپریشن کئے ہیں جو آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی قیادت میں ہی ممکن ہوا ہے‘ وہ اپریشنز کی منصوبہ بندی اور نگرانی میں شامل رہے ہیں اس لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ ان اپریشنز کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے عسکری قیادت کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔ وزیراعظم نے بطور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری منظور کرکے گذشتہ روز وزارت دفاع کو واپس بھجوا دی۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی منتخب جمہوری دور میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہے جبکہ اس سے قبل جمہوری ادوار میں آرمی چیف مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائر ہوتے رہے یا فوجی آمریتوں کے دور میں آرمی چیف صدر مملکت کی حیثیت سے اپنی مدت ملازمت میں خود ہی توسیع کرتے رہے۔
بعض سیاسی اور عسکری حلقوں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو خوش آئند اور قومی مفادات میں بہتر فیصلہ قرار دیا ہے جبکہ بعض نے اس فیصلہ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ غیر ملکی سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ برطانیہ اور چین نے جنرل کیانی کی بطور آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کی باقاعدہ خواہش ظاہر کی تھی چنانچہ امریکی اور بھارتی وزراء خارجہ کی پاکستان آمد سے قبل وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جنرل کیانی سے ملاقات کرکے انہیں مدت ملازمت میں توسیع دینے کے فیصلہ سے آگاہ کر دیا تھا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ایک قطعی پروفیشنل جرنیل ہیں جو افواج پاکستان کو سیاست سے دور رکھ کر اسکے پیشہ ورانہ فرائض تک محدود رکھنے کے خواہش مند ہی نہیں، اس کیلئے سرگرم عمل بھی ہیں اور آرمی چیف کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد اس کیلئے عملی اقدامات بھی کر چکے ہیں جن میں متعدد سول اداروں میں تعینات فوجی افسران کی اپنے محکمہ میں واپسی کا اقدام بھی شامل ہے۔ اسی طرح جنرل کیانی وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کو مستحکم بنانے کیلئے بھی آئین کے تقاضوں کیمطابق خود کو سول حکومت کے احکام کے تابع رکھنے کا عندیہ دے چکے ہیں جس کا عملی مظاہرہ مسلح افواج کی سوات، مالاکنڈ اور جنوبی وزیرستان کے فوجی اپریشن میں شمولیت کا ہے۔
اگرچہ بعض حلقوں کی یہ رائے ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے میرٹ پر ترقی کے منتظر فوجی افسران کی ترقی کا راستہ رک جاتا ہے اس لئے آرمی چیف کو خود ہی اپنے منصب میں توسیع قبول نہیں کرنی چاہئے تھی تاہم اس وقت ملک کو جن اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، بالخصوص آئندہ سال افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ہونے کے بعد پاکستان کی دفاعی اور اقتصادی صورتحال پر جومثبت یا منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے اس کے پیش نظر ہی وزیراعظم نے جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کا فیصلہ کیا ہوگا تاکہ خطے میں رونما ہونیوالی تبدیلیوں سے پاکستان کے مفادات کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ چونکہ واشنگٹن انتظامیہ دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر اس خطہ میں شروع کی گئی اپنے مفادات کی جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن اتحادی کے کردار کے تناظر میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کیلئے سافٹ کارنر رکھتی ہے جس کا عندیہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر حکومتی سیاسی قائدین کے ساتھ ساتھ جنرل کیانی سے بھی ملاقات کرکے اور پھر پاکستان سے کابل روانگی کے وقت دہشت گردی کیخلاف جنگ میں انکے کردار کی ستائش کرکے بھی دیا ہے اس لئے اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ جنرل کیانی کی زیر کمان اب امریکی ’’ڈومور‘‘ کے تقاضوں کے مطابق فوجی اپریشن کا دائرہ شمالی وزیرستان اور پھر جنوبی پنجاب تک بھی پھیلا دیا جائے۔ یہ معاملہ جنرل کیانی کیلئے بلاشبہ ایک کڑی آزمائش ہے کیونکہ قوم تو امریکی مفادات کی جنگ میں پاکستان کے فرنٹ لائن اتحادی کے کردار کو ملکی اور قومی مفادات کے منافی سمجھتی ہے اور اس تناظر میں وہ قبائلی علاقوں میں جاری فوجی اپریشن کے بارے میں بھی سخت تحفظات رکھتی ہے۔ قوم کی یہ اولین خواہش ہے کہ ملک کی مسلح افواج اپنی ہی سرزمین پر اپنے ہی شہریوں کیخلاف فوجی اپریشن سے جتنی جلدی خلاصی پا لے اتنا ہی ملک و قوم کیلئے بہتر ہو گا کیونکہ اس اپریشن اور امریکی ڈرون حملوںکے ردعمل میں ہی ملک میں خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے اگر تو جنرل کیانی اپنی مدت ملازمت میں توسیع پانے کے بعد قومی خواہشات اور امنگوں کے مطابق فوجی اپریشن کا دائرہ بڑھانے کے بجائے اسکی بساط لپیٹ لیتے ہیں تو وہ قوم کے ہیرو بن جائینگے بصورت دیگر قومی ردعمل اسکے الٹ بھی ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم نے جنرل کیانی کو تین سال کی توسیع دیکر یقیناً موجودہ سسٹم کے حوالے سے جاری چہ میگوئیوں اور پیدا شدہ غلط فہمیوں بالخصوص مڈٹرم انتخابات کی افواہوں کو زائل کرنے کی کوشش کی ہو گی اور وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہونگے کہ صدر مملکت چیف جسٹس پاکستان اور آرمی چیف کے مناصب اور موجودہ اسمبلیوں کی میعاد 2013ء تک کی ہے اس لئے حکومت مخالفین مطمئن رہیں کہ موجودہ سسٹم کو 2013ء تک کوئی گزند نہیں پہنچے گی اور آئندہ انتخابات بھی جنرل کیانی کی موجودگی میں ہی ہونگے تاہم ان قومی سیاسی معاملات سے تو حکومت کو خود ہی عہدہ برا ہونا چاہیے جن میں آرمی چیف کا کوئی آئینی اور قانونی کردار سے نہ انکی مداخلت کا کوئی جواز بنتا ہے جبکہ وہ خود بھی فوج کو سیاست سے الگ تھلگ رکھنے کے عزم پر کاربند ہیں۔ انہیں بطور آرمی چیف جن چیلنجوں کا سامنا ہے‘ ان میں سب سے اہم ملک کے دفاع کا معاملہ ہے کیونکہ اس خطہ میں امریکی بھارتی گٹھ جوڑ نے پاکستان کی سلامتی کیلئے انتہائی سخت خطرات پیدا کر دیئے ہیں‘ بھارت امریکہ کے سہارے حاصل کی گئی اپنی فوجی و دفاعی برتری کے زعم میں جس طرح بدمست ہاتھی کی طرح ہمیں روندنے کی منصوبہ بندی کئے بیٹھا ہے اور امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کے بقول شدت پسندوں کیخلاف کارروائی سے پاک بھارت جنگ چھڑ سکتی ہے جس کیلئے بھارت ممبئی طرز کے کسی نئے حملے کا بہانہ تلاش کر رہا ہے جبکہ کشمیری مجاہدین کی فیصلہ کن مراحل میں داخل ہونیوالی آزادی کی جدوجہد بھی بھارت کی جانب سے جنگ کے امکانات پیدا کر سکتی ہیں‘ جنرل کیانی کو بطور آرمی چیف نہ صرف مسلح افواج کو دشمن کی کسی بھی قسم کی جارحیت کے مقابلہ اور ملک کے دفاع کیلئے تیار اور چوکس رکھنا ہے بلکہ انہیں قوم کا مورال بھی بلند کرنا ہے جو اس خطہ میں امریکی مفادات کی جنگ میں شریک رہنے سے بہرصورت بلند نہیں ہو سکے گا۔
اس تناظر میں جنرل کیانی پر بہت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوگئی ہیں‘ قوم اپنے عسکری کمانڈر سے دشمن کے آگے سینہ سپر ہونے اور قومی تائید و حمایت سے ملکی سالمیت کیخلاف اغیار کی ہر سازش کو ناکام بنانے کی توقعات وابستہ کئے ہوئے ہے اسلئے انکی مدت ملازمت میں توسیع کسی نئے تنازعہ کا باعث بننے کے بجائے قومی اتحاد و یکجہتی کی ضمانت بننی چاہیے۔ موجودہ درپیش چیلنجوں میں ملک و قوم کا دفاع و سلامتی ہی ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
مقبوضہ کشمیر
بھارتی حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف احتجاجی ریلیاں اور ہڑتال جاری ہے جس سے کاروبار زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا کشمیری حریت پسندوں کی جدوجہدِ آزادی میں استقلال کے سامنے بھارتی حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ نظر آتا ہے کہ بھارتی حکومت بے گناہ کشمیریوں پر مظالم ڈھا ڈھا کر تھک گئی ہے یا بھارتی فوج نے مزید مظالم اور سفاکانہ اقدامات کرنے سے انکار کردیا ہے۔صورتحال پر قابو پانے کیلئے بھارتی حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے بتایا گیا ہے کہ ضلع کپواڑ میں شدید جھڑپ ہوئی جس میں مزید دو مجاہدین کو شہید کردیا گیا پولیس تشدد سے درجنوں کشمیری مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔ نیز بھارتی فوج کے مظالم وحشیانہ فائرنگ اور لاٹھی چارج کی فلمیں یو ٹیوب پر جاری کردی گئی ہیں۔ جس پر بھارتی فوج کے حکام اور بھارت کے سیاسی لیڈر سخت برافروختہ ہیں۔ فوج پر اسکا بہت اثر پڑا ہے اور بے شمار فوجی نفسیاتی مریض بن گئے ہیں۔ نوجوانوں میں بھارتی فوج اور حکومت کیخلاف نفرت شدید تر ہوگئی ہے۔انٹر نیٹ پر جاری ویڈیوز میں بھارتی فوج کے کشمیریوں پر تشدد جنازے کے شرکاء پر لاٹھی چارج اور میت کی توہین و بے حُرمتی جیسے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بزرگ قائدِ تحریک آزادی سید علی گیلانی کی شروع کی ہوئی تحریک ’’بھارتیو! جموں و کشمیر چھوڑدو‘‘ نے پورے کشمیری عوام میں جذبۂ آزادی کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔انہوں نے پوری دُنیا کی نظریں کشمیر کی طرف مبذول کرادی ہیں مگر پاکستان کے حکمران کشمیریوں کی حُریت پسندی اور اُنکے جذبۂ آزادی سے متاثر ہونے کی بجائے اپنی پُر اسرار مصروفیات میں اُلجھے ہوئے ہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام ہی نہیں پاکستان کے 18کروڑ عوام یہ توقع کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان کشمیر کی تحریکِ آزادی کی مدد کرے۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی قوتوں کو متوجہ کیاجائے کہ یہ حقِ خود ارادیت کی جنگ ہے۔ کشمیری دہشت گرد نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے عالمی فورم پر کشمیریوں کی حمایت میں زیادہ جوش و خروش پیدا ہو۔
تحریک صوبہ ہزارہ
تحریک صوبہ ہزارہ کے قائد سردار بابا حیدر زمان خان نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ عوامی جذبات کا خیال کرتے ہوئے فوری طور پر ہزارہ کو صوبہ بنانے کا اعلان کرے اور سانحہ بارہ اپریل کے ذمہ داران کیخلاف بھی ایف آئی آر کا اندرا ج عمل میں لایا جائے۔ باباسردار حیدر زمان خان کا مطالبہ بالکل حق بجانب ہے‘ حکومت نے صوبہ کے عوام سے دریافت کئے بغیر صوبے کا نام تبدیل کردیا ہے‘ صوبہ سرحد کا نام جن لوگوں نے تبدیل کرایا ہے‘ اگر ریفرنڈم کرایا جاتا تو شاید ان لوگوں کو انکے اپنے گھروں میں بھی شکست ہو جاتی مگر حکومت نے عوام تو کیا‘ پارلیمنٹ سے بھی اس امر کی اجازت نہیں لی۔ اب صوبہ ہزارہ کے عوام کا مطالبہ بالکل درست ہے۔ وہ خیبر پختونخواہ کے نام سے متفق نہیں ہیں اور بقول بابا حیدر زمان ہزارہ کے عوام کی آبادی ایک کروڑ سے متجاوز ہے ویسے بھی خیبر پی کے میں پشاور‘ ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں اضلاع کی آبادی کی اکثریت پختونخواہ کیخلاف ہے۔ تحریک صوبہ ہزارہ کے پلیٹ فارم پر ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کیلئے پرجوش کارواں شروع کردیا گیا ہے اور قائدین تحریک نے ہر مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں لانگ مارچ کی دھمکی بھی دیدی ہے۔ ہزارہ صوبہ کے حامیوں کو اپنے صوبہ کی حدود کا تعین کرنے کیلئے مختلف اضلاع اور علاقوں میں کمیٹیاں بنانی چاہئیں اور صوبہ سرحد میں رابطہ عوام کی مہم چلائی جائے جو علاقے صوبہ ہزارہ میں شامل ہونا چاہتے ہیں‘ وہ بھی اپنی آبادی وغیرہ کی تفصیلات ایک جگہ جمع کریں اور اپنی تحریک اور مطالبات کو جلسوں جلوسوں تک ہی محدودنہ رکھیں بلکہ صوبائی اور قومی اسمبلی و سینٹ میں تحاریک بھی جمع کرائیں۔
بھارتی نیمو باز پاور پلانٹ
انڈس واٹر کمشنرز کے اجلاس میں بھارت نے نیموبازگو پاور پلانٹ پر بات کرنے سے انکار کردیا‘ نیموبازگو پاور پلانٹ پر مذاکرات ایجنڈے میں شامل نہیں‘ پاکستان کے واٹر کمشنر جماعت علی شاہ نے کہا ہے‘ نیموبازگو پاور پلانٹ پر بھارتی حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔ بھارت پانی پر قبضے کی ہوس میں اندھا ہو چکا ہے‘ اب یہ نیموبازگو پاور پلانٹ کا تنازعہ نیا معاملہ ہے‘ جو بھارت نے اپنی ہٹ دھرمی سے بنا ڈالا ہے۔ ہمارے واٹر کمشنر جو پانی کے معاملے میں بڑے فیاض ہیں‘ انہوں نے فوری بھارتی واٹر کمشنر کی یہ بات مان لی کہ وہ اپنی حکومت سے پوچھ کر بتائیں گے۔ سندھ طاس معاہدہ بھارت کو بڑا راس آیا اس لئے کہ ہم نے کسی زمانے میں اپنے دریا اس معاہدے کے تحت گویا بھارت کو سونپ دیئے‘ مگر یہ نیموباز پاور پلانٹ تو سندھ طاس معاہدے سے باہر کی چیز ہے اور بھارت دریائوں کے علاوہ بھی ندی نالوں کے پانی کو دریائوں میں جانے سے پہلے یکجا کرکے ان پر پاور پلانٹ لگا رہا ہے جو درحقیقت پانی کی چوری ہے‘ جس کا بھارت مرتکب ہے۔ ہمارے واٹر کمشنر کو بھارت سے پانی پر مذاکرات کو فقط اپنی مصروفیت نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ پہلے سے ہوم ورک کرکے اس پر ٹھوس بات چیت کرنی چاہیے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter