وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ این آر او پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کیلئے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ صدر کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت تحفظ حاصل ہے‘ جو پارلیمنٹ کی جانب سے ہے‘ اس میں صرف پارلیمنٹ ہی ترمیم کر سکتی ہے۔ لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کا معاملہ آئین اور قانون کے مطابق حل کر دیا جائیگا۔ دریں اثناء صدر آصف علی زرداری نے اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں یقین دہانی کرائی کہ این آر او کے بارے میں عدلیہ کے فیصلے پر آئین اور قانون کے مطابق عمل کیا جائیگا۔ علاوہ ازیں آصف علی زرداری مبینہ کرپشن کے حوالے سے فرانسیسی جج نے سوئٹزر لینڈ اور برطانیہ سے رپورٹ مانگ لی ہے۔
حکومت پاکستان کی طرف سے این آر او کے فیصلے پر عملدرآمد کے اعلانات‘ احکامات‘ ہدایات اور فیصلے بڑے خوش کن ہیں‘ لیکن ان پر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آتا‘ بلکہ عدلیہ کے ساتھ ایک تصادم کی سی کیفیت نظر آرہی ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سفارش پر ججوں کی تعیناتی کا معاملہ التواء میں پڑا ہے۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کو ایڈہاک جج مقرر کرنے کے حوالے سے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی تجویز مسترد کردی گئی ہے۔
ایک طرف وزیراعظم نے این آر او فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے‘ دوسری طرف صدر کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ کی بھی بات کررہے ہیں‘ جبکہ خالد انور اور حامد خان جیسے آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کو سول مقدمات میں تو استثنیٰ ہے‘ فوجداری مقدمات میں نہیں۔ اس معاملے میں آئینی شق میں کوئی ابہام نہیں‘ اسکی رو سے صدر مملکت کو صرف اپنے منصب کے دوران سرکاری فرائض کی انجام دہی سے استثنیٰ حاصل ہے‘ ماضی کے اقدامات پر کسی قسم کا آئینی تحفظ حاصل نہیں۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں بھی اب کسی قسم کا ابہام نہیں رہا‘ صدر مملکت اور دیگر شخصیات کیخلاف جو بھی فوجداری مقدمات این آر او کی بنیاد پر ختم ہوئے تھے‘ وہ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بحال ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم کے احکامات اور خود صدر آصف علی زرداری کی اپنے اتحادیوں کو کرائی گئی یقین دہانی کیمطابق ان کیسز کے حوالے سے قانون اور انصاف کی عملداری کو یقینی بنانا اب ریاستی اتھارٹی کی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے حکومت کا پورا زور صدر صاحب کے استثنیٰ پر ہے۔ سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ 16 دسمبر کو سنایا جس میں این آر او کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام مقدمات 5 اکتوبر 2007ء کی پوزیشن پر بحال کر دیئے گئے تھے لیکن اس پر کہیں عمل ہوتا دکھائی نہ دیا‘ جو لوگ 5 اکتوبر 2007ء تک جیل میں تھے‘ این آر او کی برکت سے رہا ہوئے‘ 16 دسمبر 2009ء کے فیصلے کیمطابق ان کو تو جیل میں ہونا چاہئے تھا لیکن وہ بھی صدر مملکت کی طرح آئین کے آرٹیکل 248 سے بدستور مستفید ہو رہے ہیں۔
حکمران طبقہ صدر کیلئے آئین کے آرٹیکل سے استثنیٰ کی بات کرتا ہے‘ اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ یہ استثنیٰ قابل عمل بھی ہے۔ کراچی شیرٹن ہوٹل میں بم حملے کی تحقیقات کرنے والے فرانسیسی جج نے سوئٹزر لینڈ اور برطانیہ سے تفصیلات طلب کی ہیں۔ 2002ء میں اس حملے میں گیارہ فرانسیسی ہلاک ہوئے تھے‘ حملے کے حوالے سے مبینہ طور پر زرداری صاحب کا نام بھی آتا ہے۔ یورپی یونین کے آئین کے مطابق جب کسی بھی ملک کی عدالت دوسرے ملک سے کوئی تفصیلات طلب کرتی ہے تو وہ ملک مطلوبہ تفصیلات طلب کرنے والی عدالت کو فراہم کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ وہ اپنے آئین کے مطابق کام کریں گے‘ ہمارے ادھورے آئینی استثنیٰ کو نہیں دیکھیں‘ اگر زرداری صاحب اس کیس کی پیروی نہیں کرتے اور انکی غیرموجودگی میں ان کو سزا ہو جاتی ہے تو انکی سبکی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی بھی ہو گی۔ پاکستان میں ان پر کئی فوجداری مقدمات ایسے بھی ہیں جن میں وہ شریک ملزم ہیں‘ دوسرے ملزموں کو استنثیٰ حاصل نہیں‘ ان کو سزا ہوئی تومنصب صدارت کے دوران وہ خود کو استثنیٰ کا کیسے دلاسہ دے سکتے ہیں۔ قائداعظم کے پاکستان کے سب سے بڑے منصب کی بے توقیری قوم کیلئے رستا ہوا زخم بن جائیگی۔ این آر او کے فیصلے پر عملدرآمد صرف صدر مملکت کی شخصیت کے ہی کے ہی گرد گھوم رہا ہے‘ وہ خود کو بے قصور سمجھتے اور قرار بھی دیتے ہیں‘ تو دل کشادہ کرکے ان مقدمات کا سامنا کریں۔ آج عدلیہ کسی بھی دور کی نسبت زیادہ آزاد ہے‘ فیصلے مبنی برحق سرعت سے ہو رہے ہیں۔ صدر مملکت استثنیٰ کی بحث سے بالاتر ہو کر سوچیں کہ انکے منصب صدارت پر فائز رہتے ہوئے این آر او فیصلے کے حوالے سے کیا انصاف کے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں؟ صدر اور انکے ساتھیوں کو اپنے ضمیر کی روشنی میں ازخود فیصلہ کرنا چاہئے کہ مقدمات انصاف کے تقاضوں کے مطابق سماعت کیلئے انہیں اپنے عہدوں سے چمٹے رہنا چاہئے؟ خود انکی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی نیک نامی اسی میں ہے کہ صدر صاحب اپنے منصب سے الگ ہو کر عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کریں۔ عدالتیں فوری انصاف کیلئے تیار ہیں‘ وہاں سے سرخرو ہو کر پھر اپنے منصب پر باعزت آسکتے ہیں۔ صدر صاحب ان مقدمات کی پیروی کرکے ملک میں ایک اچھی مثال قائم کر سکتے ہیں جو آنے والوں اور موجودہ سیاست دانوں کیلئے بہترین روایت ہوگی۔
این آر او پر فیصلے پر عملدرآمد کے حوالے سے صدر اور وزیراعظم نے جو کہا‘ اس کا مطلب بھی وہی ہونا چاہئے‘ اگر استثنیٰ کا راگ الاپا جاتا رہا تو معاملات سدھرنے کے بجائے دن بدن بگڑتے چلے جائیں گے۔ موجودہ حالات میں انصاف تو ہر صورت ہونا ہے‘ وہ کسی بھی طریقے سے ہو‘ اسکے راستے میں رکاوٹیں ڈالنا ممکن نہیں۔ اگر رکاوٹیں ڈالنے اور معاملات اپنی مرضی سے چلانے کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو سب کچھ خش و خاشاک کی طرح بہہ سکتا ہے‘ جو ان حالات میں وطن عزیز کیلئے کسی طرح بھی مناسب نہیں ہوگا۔
رینٹل پاور پراجیکٹ نہیں‘ ڈیم تعمیر کریں
ایشیائی ترقیاتی بنک کے رینٹل پاور پراجیکٹ پر اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے‘ بنک نے 14 میں سے چھ منصوبوں کو ناقابل عمل قرار دیا ہے۔ بنک حکام نے اپنی رپورٹ گزشتہ روز اسلام آباد میں وزیر خزانہ شوکت ترین کو پیش کی‘ ناقابل عمل قرار دیئے گئے منصوبوں میں سے دو تو صدر زرداری کے گائوں نوڈیرو میں لگے ہیں۔ بنک نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ صرف آٹھ منصوبوں پر کام کرے اور مہنگے ٹیرف والے منصوبوں سے گریز کرے۔
ایشیائی ترقیاتی بنک کی رپورٹ سے قبل دیگر ماہرین بھی ان پراجیکٹس کے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ رینٹل پاور پراجیکٹس سے بجلی کی محدود مقدار پیدا ہوگی اور انکی وجہ سے بجلی کے نرخ بہت زیادہ ہو جائیں گے۔ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی طرح صرف ڈنگ ٹپائو پالیسی پر کام کررہی ہے‘ رینٹل پاور پراجیکٹس لگانے کے بعد بجلی کے نرخ بے تحاشہ بڑھ جائیں گے‘ ایسی مہنگی بجلی سے امراء اور وزراء کے محلات تو روشن ہو جائینگے مگر اس ملک کے 17 کروڑ غریب عوام کیلئے سستی اور کم خرچ بجلی کہاں سے آئیگی؟ اگرچہ دنیا بھر کے بجلی کے ماہرین‘ ورلڈ بنک اور اس کے متعلقہ ادارے بھی پاکستان کو بارہا پیشکش کر چکے ہیں کہ پاکستان میں بڑے ڈیموں کو تعمیر کرکے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے‘ ورلڈ بنک نے کالاباغ ڈیم اور دیگر ڈیموں کیلئے حکومت پاکستان کو قرض دینے کی پیشکش بھی کی تھی۔ صحیح صورتحال بھی یہی ہے کہ بجلی کی پیداوارسے پاکستان کی حکومت کو فائدہ ہو گا۔ حکومت بند پڑی فیکٹریوں اور صنعتوں کو چلانے کے قابل ہو گی۔ صنعتوں میں کام ہو گا تو ملک سے بیروزگاری ختم ہو گی اور غربت و مفلسی کا تناسب بھی کم ہو گا۔ ملک سے مہنگائی کم ہو گی‘ ڈیموں کے بننے کے بعد دور دراز علاقوں میں زرعی سرگرمیاں ہونگی اس لئے حکومت اس تمام ایڈہاک ازم پر خرچ ہونیوالی رقومات کو اکٹھا کرکے ان سے کم از کم ایک ڈیم کی تعمیر تو فوری طور پر شروع کی جائے اور باقی ڈیموں کی تعمیر کے انتظامات کئے جائیں۔ پاکستان کی بقاء کیلئے یہ ڈیم بالخصوص ڈالاباغ ڈیم بہت ضروری ہے۔
چینی کی قیمتوں میں اضافہ
شوگر ملوں اور یوٹیلٹی سٹورز نے چینی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ یوٹیلٹی سٹورز نے چینی کی فی کلو 38 سے بڑھا کر 47 روپے کر دی ہے۔ دوسری طرف مارکیٹ میں فروخت ہونے والی چینی کی قیمت کے حوالے سے صوبائی وزر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث اب چینی 40 سے 50 روپے فروخت کرنا ممکن نہیں رہا‘ لوگوں کو اب چینی 60 روپے فی کلو سے زائد نرخوں پر ہی ملے گی۔ صوبائی وزیر خوراک ملک ندیم کامران کا کہنا ہے کہ ہمیں 10 لاکھ ٹن چینی کی قلت کا سامنا ہے‘ فی کلو چینی پر 61 روپے لاگت آتی ہے‘ اسی چینی کو 40 روپے کلو میں فروخت نہیں کر سکتے۔
سپریم کورٹ نے چینی کی فی کلو قیمت 40 روپے مقرر کی تو حکومت پنجاب نے اس پر عملدرآمد کیلئے بظاہر بڑے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور بعض مقامات پر اسی ریٹ پرچینی عام آدمی کو دستیاب بھی تھی لیکن بلیک کا سلسلہ بھی جاری رہا اور ذخیرہ اندوز بھی من مانی کرتے رہے‘ جنہوں نے چینی کی قلت پیدا کئے رکھی۔ جونہی مرضی کی قیمتیں مقرر کرنے کا موقع ملا تو شوگر ملز ایسوسی ایشن اور ڈیلروں نے اگلی پچھلی کسریں نکال لیں۔ آج چینی وافر مقدار میں تو موجود ہے لیکن غریب آدمی کی پہنچ سے دور۔ قیمتوں پر حکومت کا قطعی کنٹرول نہیں‘ کہیں 80 روپے میں دستیاب ہے تو کہیں 75, 70 میں‘ اس کم قیمت پر کہیں سے دستیاب نہیں ہے۔ چینی گھریلو استعمال کی ایک آئٹم ضرور ہے لیکن ناگزیر نہیں‘ ڈاکٹر اسے سفید زہر بھی قرار دیتے ہیں‘ اس کے استعمال سے شوگر کے مریضوں کی تعداد کروڑوں میں ہو چکی ہے‘ تاہم لو شوگر کے مریضوں کیلئے اس کا استعمال ضروری ہے۔ اسکے استعمال سے جہاں ہائی شوگر کے مریض اپنے مرض میں اضافہ محسوس کرتے ہیں‘ وہیں عام آدمی لو شوگر جیسے مرض میں مبتلا ہونے سے بھی بچ سکتا ہے۔ اس کیلئے دس لاکھ ٹن درآمد کرنے کی ضرورت نہیں‘ ملک میں پیدا ہونے والی چینی سے بآسانی گزارہ ہو سکتا ہے۔ صرف لوگوں کو اس کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے‘ یہ کام حکومت اور متعلقہ این جی اوز کے کرنے کا ہے۔
دوسری اہم بات یہ کہ مرکزی حکومت اگر یوٹیلٹی سٹورز پر عوام کو 47 روپے فی کلو چینی فراہم کر رہی ہے تو پنجاب حکومت کیوں ایسا نہیں کر سکتی۔ شوگر ملز مالکان کا مفاد تو حکومت کے پیش نظر ہو گا ہی‘ ان لوگوں کا بھی خیال کرے‘ جو ووٹ کی طاقت سے ان کو حکومت میں لائے ہیں۔ شوگر ملز مالکان کے مفادات کا تحفظ اور عوامی مسئلے کا بیک وقت حل چینی کی قیمت پر سبسڈی ہے۔ اس معاملے میں اگر شوگر ملز ایسوسی ایشن حکومت کی درخواست پر تعاون کرے تو عام آدمی کو چینی 40 روپے فی کلو دستیاب ہو سکتی ہے۔
بے گناہ قیدیوں کو رہا کیا جائے
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف نے کہا ہے کہ تکنیکی پیچیدگیوں کو بالائے طاق رکھ کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مشکلات کم کی جائیں۔ اس سلسلہ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام تین ہفتے کا تربیتی کورس مکمل کرنیوالے جیل خانہ جات کے افسروں سے کہا کہ وہ حق اور سچ کا ساتھ دیں اور جھوٹ کے کلچر کو ختم کریں۔
اُنہوں نے اپنے خطاب میں انکشاف کیا کہ جیلوں میں 50 فیصد سے زائد لوگ بے گناہ ہوتے ہیں‘ بے گناہ لوگوں کو جیل میں نہیں ہونا چاہیے جو کہ افسوسناک امر ہے۔ انہوں نے جیلوں میں ہونے والی بے قاعدگیوں ‘ منشیات فروشی اور کرپشن کا بھی ذکر کیا۔ موبائل اور اسلحہ بھی جیلوں میں لوگوں کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ فاضل چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ اگر سپرنٹنڈنٹ جیل چاہے تو جیل میں ایسی بے قاعدگیوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے بالکل بجا ارشاد کیا ہے کہ بے گناہ لوگوں کو جیل میں نہیں ہونا چاہیے اس کیلئے عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور وکلا کیلئے بھی لازم ہے کہ وہ فیصلوں کیلئے عدالتوں کی درست رہنمائی کریں‘ انصاف کی فراہمی کیلئے عدالتوں کے معاون ہوتے ہیں‘ اُنہیں عدالت میں لاء آفیسر کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ فاضل عدالتیں وکلا کا نظام بھی تبدیل کر سکتی ہیں کہ بے گناہ افراد کو پولیس کیساتھ ملکر مقدمات میں ملوث نہ کیا جائے اور جب بھی فاضل جج صاحبان کے علم میں آ جائے کہ بے گناہ افراد جیل میں موجود ہیں تو فوری کارروائی کے ذریعے انہیں رہا کر دیا جائے اور اب بھی فاضل چیف جسٹس کے نوٹس میں جب یہ بات آ گئی ہے تو پھر اُنہیں چاہیے کہ ہر جیل کیلئے ایک ریویو کمیٹی بنائی جائے جو مقامی سیشن جج اور معزز شہریوں پر مشتمل ہو تمام قیدیوں میں جو لوگ درخواستیں تحریر کر کے اپنی بے گناہی کا ثبوت فراہم کریں اور یہ ریویو بورڈ ان بے گناہ قیدیوں کا جائزہ لیکر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھجوا دیں اور چیف جسٹس ہر ماہ ان قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کریں‘ اس طرح نہ صرف بے گناہ قیدی جلد چھوٹ جایا کرینگے بلکہ جیلوں میں بے جا رش کی کیفیت بھی بہتر ہو جائیگی۔ اس سلسلہ میں مسلمان قاضیوں کی روایت رہی ہے کہ وہ قید کرنے کی بجائے زیادہ تر جرمانے کی سزائیں دیتے تھے تاکہ معمولی جرائم میں ملوث افراد کی فیملی لائف زیادہ متاثر نہ ہو۔