بھارتیہ جنتا پارٹی نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کی بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور کانگرس حکومت پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کو کسی قسم کی خودمختاری دینا اسے آزادی کا پوسٹ ڈیٹڈ چیک دینے کے مترادف ہے۔ اس سلسلہ میں بی جے پی کے راجیا سبھا میں اپوزیشن لیڈر ارون جٹیلی نے کہا کہ بھارت کی مرکزی حکومت اور وزیراعظم کمزور ہیں اور وہ کشمیر کے معاملہ میں کوئی بات بھی سوچ سکتے ہیں‘ مگر بی جے پی کشمیر کو بھارت سے الگ کرنے کے کسی بھی منصوبے کی ڈٹ کر مخالفت کریگی۔ ہم مرکز کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اسے ملک کو تقسیم کرنے کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کشمیر کی صورتحال کو گزشتہ 63 برسوں میں سب سے تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ حکومت ایسے کسی راستے پر چلنے کی کوشش نہ کرے جو کشمیر کو اٹانومی کی جانب لے جاتا ہو۔
کشمیری عوام نے مکار ہندو بنیاء کی نیت کو بھانپ کر ہی اپنی آزادی کی تحریک شروع کی تھی اور گزشتہ ساٹھ سال سے زائد عرصہ سے جاری اس تحریک میں کشمیری عوام اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ انسانی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ کشمیر پر غاصبانہ تسلط جمانے والی ظالم بھارتی فوجوں نے ایسا کوئی ہتھکنڈا نہیں چھوڑا جو کشمیری عوام کی آواز اور جدوجہد کے دبانے کیلئے استعمال نہ کیا گیا ہو مگر آزادی کے متوالے کشمیری عوام کے نہ جذبے سرد ہوئے‘ نہ انکے پائے استقلال میں کبھی لغزش آئی۔ مکار ہندو بنیاء نے انکے حقِ خودارادیت سے انکار کرکے خود ہی انہیں آزادی کی جدوجہد شروع کرنے پر مجبور کیا تھا‘ اگر بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو اپنی ہی درخواست پر یو این جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل سے منظور کرائی گئی قراردادوں کی روشنی میں مقبوضہ کشمیر میں استصواب کا اہتمام کرکے کشمیری عوام کی مرضی و منشاء کے مطابق انکے مستقبل کا فیصلہ کر دیتے تو نہ کشمیر کا تنازعہ پیدا ہوتا اور نہ کشمیری عوام کو تحریک آزادی کی ضرورت پیش آتی مگر ہندو بنیاء قیادت نے یو این قراردادوں سے منحرف ہونے کے بعد کشمیر میں سات لاکھ بھارتی افواج داخل کرکے وہاں جبراً اپنا تسلط قائم کرلیا اور پھر 1955ء میں بھارتی آئین میں ترمیم کرکے کشمیر کو باقاعدہ بھارتی ریاست کا درجہ دے دیا تاکہ وہاں بھارتی فوجوں کے تسلط کا جواز نکالا جا سکے۔ ہندو بنیاء کی اس ہٹ دھرمی نے ہی کشمیری عوام کو ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنی آزادی کی جدوجہد شروع کرنے پر مجبور کیا‘ جو درحقیقت پاکستان کے ساتھ الحاق کی تحریک ہے کیونکہ کشمیری عوام کو احساس و ادراک ہے کہ ان کا ہندو بنیاء کے ساتھ کسی صورت گزارا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے تقسیم ہند کے وقت ہی پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرلیا ہوا تھا اور قائداعظم نے بھی کشمیر کی نظریاتی اور جغرافیائی حیثیت کی بنیاد پر اسے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔
چونکہ ہندو بنیاء قیادت نے ایک آزاد اور خودمختار مملکت کی حیثیت سے پاکستان کے قیام کو شروع دن سے ہی تسلیم و قبول نہیں کیا تھا‘ اس لئے اس نے قیام پاکستان کے بعد اسکی شہ رگ کشمیر کو اپنے خونیں پنجوں میں دبوچ لیا تاکہ اسے ترقی کرنے اور پھلنے پھولنے کا موقع نہ دیا جائے اور اسے کمزور کرکے دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے۔ پاکستان پر تین جنگیں مسلط کرنے اور ایک گھنائونی سازش کے ساتھ اسکے مشرقی حصے کو کاٹ کر الگ کرنے کے باوجود پاکستان کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کی اسکی مذموم خواہش آج تک پوری نہیں ہو سکی‘ نہ ہی بنگلہ دیش بھارت کا حصہ بنا سکے جبکہ کشمیری عوام نے اپنی آزادی کی جدوجہد میں قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کرتے ہوئے کشمیر پر اس کا غاصبانہ تسلط جمائے رکھنے کا خواب بھی چکنا چور کر دیا ہے اور بالخصوص گزشتہ تین ماہ سے انہوں نے اپنی جدوجہد کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب کشمیر کی آزادی کی منزل یعنی کشمیر بنے گا پاکستان بہت قریب آچکی ہے اور وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام ظالم بھارتی فوجوں کے چنگل سے آزادی حاصل کرکے اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرتے ہوئے انشاء اللہ پاکستان کا حصہ ہونگے۔ چنانچہ بھارتی حکومت ابھی اس حقیقت کو بھانپ کر کشمیری عوام کی اس جدوجہد کو دبانے اور ٹریک سے ہٹانے کیلئے ہر حربہ اختیار کر رہی ہے۔ گزشتہ دو ماہ سے کشمیری عوام بھارتی فوجوں کے آگے سینہ سپر ہیں اور ان کی لاٹھی‘ گولی اور شیلنگ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ ’’بھارتیو! کشمیر چھوڑ دو‘‘ کی تحریک کو ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں روزانہ کشمیری عوام کی بھارتی فوجوں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوتی ہیں اور کرفیو اور دوسری سختیوں کی بھی پروا نہ کرتے ہوئے وہ سڑکوں پر آکر بھارتی فوجوں کی مزاحمت کرتے ہیں اور پامردی کے ساتھ اپنی جدوجہد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
کشمیری عوام کی اس ثابت قدمی نے ہی بھارتی افواج کے حوصلے پست کئے ہیں اور خود بھارتی سیناپتی اعتراف کر رہے ہیں کہ کشمیر کی جنگ جیتنا ان کیلئے ممکن نہیں رہا۔ اس بنیاد پر وہ اپنی حکومت کو مشورے دے رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوجیں نکال کر مسئلہ کشمیر کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ اس مسئلہ کا سیاسی حل تو یو این قراردادوں پر عملدرآمد کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا‘ جس میں مکار ہندو بنیاء کو کشمیر ہاتھ سے جاتا نظر آتا ہے تو اسکی جانب سے کشمیری عوام کیلئے ترغیب و تحریض کے حربے اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ گزشتہ ہفتے اسی تناظر میں بھارتی وزیراعظم نے نئی دہلی میں کشمیری لیڈران کی آل پارٹیز کانفرنس طلب کی جس میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سرکردہ لیڈروں سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق سمیت کسی بھی بڑے کشمیری لیڈر نے شرکت نہیں کی جبکہ کانفرنس میں شریک ہونیوالے کشمیری لیڈران نے بھی پہلا تقاضہ مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوجیں نکالنے کا کیا۔ چنانچہ بھارتی وزیراعظم نے کشمیری عوام کی جدوجہد کو ٹریک سے ہٹانے اور انہیں ٹریپ میں لانے کیلئے کشمیر کی خودمختاری کا شوشہ چھوڑا جسے تمام کشمیری لیڈران نے یک زبان مسترد کر دیا۔
اس وقت کشمیری عوام کی جدوجہد کامیابی کے زینے چڑھتے ہوئے بہت تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب گامزن ہے اور پوری وادی کشمیر ہی نہیں‘ دنیا بھر میں کشمیری عوام کے احتجاجی مظاہرے اور ’’بھارتیو! کشمیر چھوڑ دو‘‘ کی پرعزم تحریک چل رہی ہے۔ گزشتہ روز واشنگٹن میں سینکڑوں کشمیری اور کشمیری نژاد امریکی باشندوں نے بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیر سے واپسی کیلئے ریلی نکالی اور فریڈم پلازہ میں کئی گھنٹے تک دھرنا دیا۔ بعدازاں انہوں نے وائٹ ہائوس کی جانب بھی مارچ پاسٹ کیا۔ اس موقع پر کشمیری امریکن کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام نبی فائی نے امریکی صدر باراک اوبامہ سے توقع ظاہر کی کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کیلئے اپنا کردارادا کرینگے۔ اسی طرح گزشتہ روز کینیڈا میں بھی کشمیریوں نے ٹورنٹو کے بھارتی قونصلیٹ کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جس پر قونصلیٹ میں موجود بھارتی سفارت کار رفوچکر ہو گئے‘ اس مظاہرے میں کینیڈا میں مقیم سکھوں اور کینیڈا کے شہریوں نے بھی شرکت کی۔
یقیناً اسی صورتحال میں شاطر ہندو بنیاء کو کشمیر کی آزادی دیوار پر لکھی نظر آرہی ہے کیونکہ اب پوری دنیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے آگاہ ہو چکی ہے اور کشمیری عوام کی ’’بھارتیو! کشمیر چھوڑ دو‘‘ کی تحریک کی قائل ہو رہی ہے‘ اب بھارت ظلم و جبر کے چاہے جتنے مرضی بازار گرم کرلے‘ کشمیر کی آزادی کو نہیں روکا جا سکے گا۔ چنانچہ متعصب اور مکار ہندو بنیاء کی ترجمان بی جے پی کے لیڈران کشمیر کو ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر سٹپٹا رہے ہیں کیونکہ ان کا اکھنڈ بھارت کا منصوبہ خاک میں ملتا نظر آرہا ہے۔ بے شک بی جے پی حکمران کانگرس کو مطعون کر رہی ہے مگر کانگرس ہو یا بی جے پی‘ کشمیر پر تسلط جمائے رکھنے کے معاملہ میں انکی نیت اور مقاصد یکساں ہیں‘ بھارتی وزیراعظم نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو ٹریک سے ہٹانے کیلئے ہی تو خودمختار کشمیر کا دانا پھینکا ہے‘ مگر اب نہ کانگرس اور نہ ہی بی جے پی کو اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل ہو گی۔ انکی عافیت اسی میں ہے کہ وہ کشمیری عوام کو حق خودارادیت دے دیں‘ ورنہ کشمیر کی آزادی کا ’’پوسٹ ڈیٹڈ چیک‘‘ ان کیلئے ’’بیرر‘‘ چیک میں تبدیل ہو کر فوراً کیش ہو جائیگا‘ بھلا آزادی کے متوالوں کا راستہ کسی جبر‘ کسی ظلم اور کسی مکرو فریب سے روکا جا سکتا ہے؟ پاکستان کو بھی یہ چیک کیش کروانے کیلئے متحرک ہونا چاہیے۔
الطاف بھائی خود پاکستان آکر اپنی تجویز پر عوام سے مشورہ کریں
متحدہ قومی موومنٹ نے پاک فوج سے کرپٹ سیاست دانوں کیخلاف مارشل لاء طرز کا اقدام کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک آئی سی یو میں ہے‘ جسے بچانے کیلئے غیرمعمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سیاسی اکابرین ایک بار پھر ملک کے ٹکڑے کرنے پر تلے ہیں‘ انقلاب فرانس کی طرح جاگیرداروں اور وڈیروں کو نشانِ عبرت بنایا جائے‘ نظام تبدیل کئے بغیر ملک قائم نہیں رہ سکتا۔
ان خیالات کا اظہار متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے اپنے جنرل ورکرز کے اجلاس سے ٹیلی فونک خطاب کے دوران کیا‘ جن خرابیوں کا اظہار الطاف بھائی نے کیا ہے‘ یہ خرابیاں یقیناً ہمارے معاشرے میں موجود ہیں اور انکی وجہ سے عام شہری کو بہت سی پریشانیاں اور مسائل ہیں۔ ہمارے ملک میں فوجی جرنیلوں نے چار دفعہ ’’مواقع‘‘ حاصل کئے ہیں اور انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہوئے تقریباً وہی مسائل پیدا کئے تھے‘ جن کی طرف الطاف بھائی نے کھل کر بات کی ہے‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ مسائل حل کرنا انکے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ مسائل جمہوری جدوجہد سے ہی حل ہو سکتے ہیں‘ اس کیلئے سیاسی پارٹیوں کو باہم اکٹھا ہو کر ایک ایسا لائحہ عمل طے کرنا چاہیے جس سے جاگیرداری‘ وڈیرہ ازم اور سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت کمزور ہو سکے۔
الطاف بھائی ایک جمہوری سیاسی اور سماجی پارٹی کے قائد ہیں اور گزشتہ اٹھارہ برس سے وہ لندن میں بیٹھے ہیں اور پاکستان میں انکی پارٹی کام کر رہی ہے‘ وہ خود پاکستان تشریف لائیں اور ملک کے حالات کو دیکھیں‘ یہاں دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے ملاقاتیں کریں‘ ہم خیال سیاسی پارٹیوں کو باہم اکٹھا کریں‘ جو سیاسی کارکن اور سیاسی جماعتیں ان سے متفق ہوں‘ انہیں لے کر وہ ملک کا دورہ کریں اور عوام کو اپنا پروگرام دیں اور جن جرنیلوں کو وہ پیغام دے رہے ہیں‘ ان کو بھی یہاں عوام کے سامنے ’’ٹاسک‘‘ دیں تو شاید موزوں نتائج بھی حاصل کر سکیں۔ وگرنہ قائد الطاف حسین تو سات سمندر پار بیٹھے ہیں اور یہاں بڑی مشکلات اور قربانیوں کے بعد جو جمہوریت بحال کی گئی ہے‘ اسی اچھی یا بری بھلی جیسی بھی ہے‘ جمہوریت تو ہے‘ کو قربان کرکے اٹھارہ کروڑ عوام کی جان مال اور عزت و آبرو کو پھر کسی جرنیل کے سپرد کرنا مناسب نظر نہیں آتا۔ البتہ الطاف بھائی یہاں پاکستان میں اپنے سیاسی حامیوں اور دیگر ہم خیالوں کے ساتھ بیٹھ کر اس پر تفصیلی بحث مباحثہ کریں اور جرنیل شاہی کے بجائے سلطانی ٔ جمہور کو ان مسائل کے حل کا ذریعہ بنائیں تو عوامی حلقوں میں انکی سوچ کو پذیرائی مل سکتی ہے۔
سانحہ سیالکوٹ ملزمان کو جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے
سیالکوٹ میں پولیس کی موجودگی میں پندرہ اور سترہ سالہ دو سگے بھائیوں کو وحشیانہ تشدد کرکے سرعام قتل کرنے کا وزیراعظم نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او کو فوری طور پر معطل کردیا۔
دونوں بھائیوں کا قتل انتہائی سفاکیت ہے‘ ایسا بھیانک فعل انسانیت سے عاری لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ ہمارے سٹاف رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق دونوں بھائیوں کے قتل میں اعلیٰ پولیس افسران اور بااثر شخصیات ملوث ہیں۔ حقائق سے پردہ اٹھنے کے خوف سے انکوائری آفیسر میجر (ر) مبشر کو سیاسی شخصیات کے دبائو پر تبدیل کرکے ڈی آئی جی مشتاق سکھیرا کو تفتیشی سربراہ بنایا گیا۔
حسب سابق پولیس اس واقعہ میں ملوث اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہے‘ اسکی ایک دلیل ڈی پی او رانا چوہان کا پولیس کی ملی بھگت سے نظربندی توڑ کر فرار ہونا ہے اور اس سے پہلے ایس ایچ او رانا الیاس کا ڈی سی او کے دفتر سے بھاگ جانا ہے۔ پوری دنیا کو اس واقعہ کا علم ہو چکا ہے لیکن وزیراعظم کو میاں شہباز شریف نے فون کرکے کہا کہ ڈی پی او کو معطل کریں‘ کیا گیلانی صاحب کو خود یہ واقعہ نظر نہیں آرہا تھا‘ وہ فون کا انتظار کیوں کرتے رہے‘ پہلے ایکشن کیوں نہیں لیا۔ اب ڈی پی او کے سسر کی پنجاب حکومت کو سفارشیں کرنے اور چودھری نثار سے آر پی او راولپنڈی کی خفیہ ملاقات کی باتیں بھی سامنے آچکی ہیں۔ ان حالات میں انصاف ہوتا تو نظر نہیں آرہا‘ لیکن یہ حکومت کا کڑا امتحان ہے۔ حکومت بغیر کسی دبائو کے اس واقعہ میں ملوث تمام افراد کو کیفرکردار تک پہنچائے اور انکوائری کو جلد از جلد مکمل کرے اور اس میں جتنے بھی خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں‘ ان کو مدنظر رکھتے ہوئے انکوائری کو شفاف بنائیں اور خدارا اس معاملے کو سیاست کی نذر مت کریں۔ اس وقوعہ کی ساری گواہیاں موجود ہیں‘ جن کی بنیاد پر انصاف کی عملداری میں سفاک ملزمان کیفرکردار تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔