وفاقی حکومت نے این آر او سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی فہرست جاری کردی ہے جس کے مطابق کل آٹھ ہزار اکیالیس افراد نے بدنام زمانہ قانون سے فائدہ اٹھایا، ان میں سے سات ہزار سات سو ترانوے افراد کا تعلق سندھ سے ہے سیاستدانوں کی تعداد تین درجن ہے 248 اعلیٰ سرکاری ملازمین این آر او کے فیض یافتگان میں شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدان سرفہرست ہیں جبکہ ایم کیو ایم دوسرے نمبر پرہے۔فہرست جاری کرتے ہوئے قانون کے وزیر مملکت افضل سندھو نے کہا کہ صدر مملکت کو آئینی تحفظ حاصل ہے حکومت این آر او والوں کو کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کریگی۔
سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے این آر او اگرچہ اپنے اقتدار کے تحفظ کیلئے جاری کیا اور اس کا مقصد سیاسی انتقام کیلئے درج ہونے والے ایسے مقدمات کی واپسی تھا جنہیں عدالتوں کے سامنے ثابت نہیں کیا جاسکا لیکن این آر او کے فیض یافتگان کی فہرست سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ اس کے ذریعے کرپشن، قتل، اغواءبرائے تاوان اور دیگر سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو بھی معافی مل گئی اور یہ صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سرکاری ملازمین نے بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ظاہرہے کہ سیاستدان تو یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا لیکن سرکاری ملازمین اپنی آمدنی اور وسائل سے زیادہ اثاثوں اور وسیع پیمانے پر کرپشن پر قائم ہونے والے مقدمات کے حوالے سے یہ دعویٰ نہیں کرسکتے۔
محسوس یہ ہوتا ہے کہ این آر او کی آڑ میں جنرل پرویز مشرف نے ہر اس طبقے کو فائدہ پہنچایا جو اس کے اقتدار کی طوالت میں مددگار ثابت ہوسکتا تھایا جس کے ذریعے ملک میں کرپشن کو قانونی جواز فراہم کرنے کی راہ نکل سکتی تھی یہ آرڈی ننس چونکہ آئین سے متصادم اور مساوی انسانی حقوق کے آئینی، اخلاقی اور اسلامی تصور کے منافی تھا اس لئے پرویز مشرف کی اپنی اسمبلی نے بھی اسے تحفظ نہیں دیا اور چونکہ مستقبل میں بھی اسے کسی قسم کا آئینی تحفظ ملنا محال تھا اس لئے فوجی آمر نے 3 نومبر کے غیر آئینی اقدام کے ذریعے اس آرڈی ننس کو ازخود آئینی تحفظ دینے کی کوشش کی جو عدالت عظمیٰ کے31 جولائی کے تاریخ ساز فیصلے کے ذریعے ختم کردیا گیا۔ ملک میں قانون کی حکمرانی، آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی اور شفاف جمہوری نظام کے استحکام کیلئے ضروری ہے کہ اعلیٰ ایوانوں میں براجمان افراد کا دامن ہر طرح کے الزامات سے پاک صاف ہو اور ان کی دیانت و امانت اور قانون پسندی دوسروں کیلئے لائق تقلید ہو وہ قومی خزانے اور املاک کی حفاظت ہر طرح کی قربانی دیکر کریں اور کوئی شخص ان کے کردار پر انگلی اٹھانے کی جرا¿ت نہ کرسکے۔ ان کی شخصیت میں پاکستان کے بانی اور قوم کے باپ قائداعظم محمد علی جناح کے اجلے کردار کی جھلک نظر آئے جن کی دیانت و امانت کا اعتراف ان کے بدترین مخالف انگریز اور ہندو بھی کھلے دل سے کیا کرتے تھے۔
اس وقت ملک میں پیپلز پارٹی کی اپنی حکومت ہے اور اسے کسی طرف سے بھی سیاسی انتقام کا خطرہ لاحق نہیں عدلیہ آزاد ہے اور اس کی آزادی کیلئے پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے قربانیاں دی ہیں لہٰذا صدر آصف علی زرداری سمیت حکمران جماعت اور ان کی اتحادی جماعتوں کے جن ارکان پر این آر او سے فائدہ اٹھانے کا الزام ہے اور جن کی فہرست وفاقی وزیر مملکت برائے قانون افضل سندھو نے گزشتہ روز پیش کی ہے حکومت کو بدنامی سے بچانے اور عوام کے سامنے احتساب ذات کی عمدہ مثال پیش کرنے کیلئے وہ سب کے سب اپنے آپ کو آزاد عدلیہ کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ آئین اورقانون کے دائرے میں رہ کر ان کی داد رسی کرسکے اس طرح نہ صرف حکومت کی نیک نامی میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں شفاف احتسابی نظام کی بنیاد بھی پڑے گی۔ مخالفین کو بھی پیالی میں طوفان اٹھانے اور حکمرانوں کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کرنے کا موقع نہیں ملیگا۔
اس ضمن میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اگرحہ باوثوق ذرائع سے یہ اطلاعات گشت کر رہی ہیں کہ حکومت ایسے لوگوں کو سرکاری عہدوں سے فارغ کرکے اپنا دفاع خود کرنے کا موقع فراہم کریگی جو این آر او سے مستفید ہوئے ہیں لیکن یہ کام بلا تاخیر ہونا چاہئے اور اتنی تاخیر نہیں کرنی چاہئے کہ اعلیٰ عدلیہ کو روئیداد خان اور ڈاکٹر مبشرحسن کی رٹ پٹیشن پر کوئی فیصلہ سنانا پڑے۔ عدالتوں پر اتنا ہی بوجھ ڈالا جائے جو اٹھانے کی وہ اہل ہیں پارلیمنٹ اور حکومت کو عوامی توقعات کے مطابق خود بھی سخت مگر عوامی خواہشات سے ہم آہنگ فیصلے کرنے چاہئیںتاکہ قانون کی حکمرانی کا تصور پختہ ہو اور آئندہ کسی کو اپنے منصبی اختیارات سے تجاوز کرنے، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور لوٹ مار کی دولت ہضم کرنے کی جرا¿ت نہ ہوسکے۔ اگر این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں کو یقین ہے کہ مقدمات سیاسی انتقام کے تحت درج ہوئے ہیں تو عدالتیں شواہد اور دلائل کی روشنی میں یقینا انہیں باعزت بری کردیں گی اور ان کی عوامی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ آخر مخدوم یوسف رضا گیلانی اور دیگر کئی سیاستدانوں نے بھی یہ راستہ اختیار کیا باقی ماندہ ایسا کیوں نہ کریں جبکہ آئین میں تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ آمریت کی باقیات اگر ایک ایک کرکے معاشرے سے ختم ہو رہی ہیں تو این آر او کو باقی رکھنے یا اس کی افادیت بیان کرنے کا کیا جواز ہے جب کہ قوم کا اجتماعی ضمیر اسے کالا اور بدنام زمانہ قانون تصور کرتا ہے اوراوپر سے نیچے تک احتساب کے حق میں ہے۔ حکومت بلاتاخیر احتساب کا منصفانہ، آزادانہ اور بے لاگ نظام ہی وضع کرے تاکہ معاشرہ لوٹ مار اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے کلچر سے ہمیشہ کیلئے نجات حاصل کرے۔
مسئلہ کشمیر اور یورپی وفد کا دورہ
فرانس، سپین، بلجیئم اور سویڈن سمیت آٹھ ممالک کے سفارت کاروں پر مشتمل ایک یورپی وفد کشمیر کے خصوصی دورے پر سرینگر پہنچ گیا ہے جو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کے تناظر میں کشمیری لیڈران سے تبادلہ خیال کرے گا۔ یہ وفد یہاں علیحدگی پسند اور بھارت نواز رہنماﺅں کے علاوہ فوج، پولیس اور سول حکام سے بھی تبادلہ خیال کرے گا۔ جے کے ایل ایف کے سربراہ یسٰین ملک کے بقول وفد کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کو سمجھائے کہ وہ کشمیریوں کے حقوق کا احترام کرے۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے جن سے یورپی وفد ملاقات کرنے والا ہے، اس امر کا اظہار کیا کہ ہم نے بات چیت کا راستہ اپنارکھا ہے مگر حکومت ہند بہت سست رفتاری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
اس وقت بیرونی دنیا بالخصوص امریکہ، یورپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں جس دلچسپی کا اظہار کیا جارہا ہے وہ بھی بھارتی منشاءکے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی سازش نظر آتی ہے، امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے پاکستان آ کر بھارت پر زور دیا کہ وہ خطہ میں امن وسلامتی کیلئے مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے جبکہ اپنے ملک واپس جا کر انہوں نے بیان داغ دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے امریکہ کوئی کردار ادا نہیں کریگا، پاکستان اور بھارت دونوں مل کر یہ مسئلہ حل کریں۔ درحقیقت امریکہ و یورپ مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی آڑ میں بھارت کو مزید موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کشمیر پر اپنا تسلط مضبوط کرلے ورنہ مذاکرات کے ذریعہ یہ مسئلہ حل ہونا ہوتا تو کشمیری عوام کی قربانیوں سے لبریز جدوجہد کو جاری رکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی، اب میر واعظ عمر فاروق کو بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلہ میں مذاکرات کی راہ پر لگا دیا گیا ہے جبکہ مذاکرات کا نتیجہ پہلے ہی کی طرح صفر برآمد ہوگا۔ مذاکرات مسئلہ کشمیرکا کوئی حل نہیں؟ کیونکہ ان میں بھارت اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی ترک کرنے پر کسی صورت آمادہ نہیں ہوتا۔ مسئلہ کشمیر اگر حل ہونا ہے اور اسے تمام فریقین کیلئے قابل قبول بنایا جانا ہے تو وہ صرف یو این قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے سے ہی ممکن ہے۔ اگر یورپی وفد مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلہ میں بھارت سے یو این قراردادوں پر عملدرآمد کرانے آیا ہے تو سو بسم اللہ وہ اپنی کوششیں بروئے کار لائے اسے کشمیری قائدین، عوام اور پاکستان کے عوام کی مکمل حمایت حاصل ہوگی مگر وہ مسئلہ کشمیر پر بھارتی موقف تسلیم کرانا چاہتا ہے اور اس کیلئے وہ بھارت نواز کشمیری قائدین کو متحرک کرنے آیا ہے تو اس کی سازشوں سے مسلط ہونے والا مسئلہ کشمیر کا کوئی حل کشمیری عوام کو ہر گز قابل قبول نہیں ہوگا اور بالآخر تحریک آزادی کشمیر سے مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق بزور حل کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں آزاد کشمیر کی کابینہ نے بھی گزشتہ روز اپنے اجلاس میں واضح کردیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعہ ہی ممکن ہے جبکہ پاکستان کی شرکت کے بغیر مسئلہ کشمیر پر کسی قسم کے مذاکرات قابل قبول نہیں ہوسکتے۔اندریں حالات یورپی وفد کو سری نگر میں بیٹھ کر صرف بھارت نوازکشمیری لیڈروں سے ہی مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں بلکہ جدوجہد آزادی میں مصروف کشمیری قائدین اورآزاد کشمیر سمیت عوام کی رائے بھی حاصل کرنی چاہئے اور یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ یو این قراردادوں سے ہٹ کر مسئلہ کشمیر کا کوئی حل مسلط نہیں کیا جاسکتا۔
رحمان ملک کا دعویٰ اور اعتراف
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں بلیک واٹر کی موجودگی ثابت ہو جائے تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ گزشتہ روز سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈین کور ایجنسی افغانستان میں امریکہ کیلئے کام کر رہی ہے جبکہ یہ ایجنسی مشرف دور سے پاکستان میں بھی کام کر رہی ہے مگر ہم کسی کو پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔
یہ تو اچھا ہوا کہ وزیرداخلہ نے امریکی ڈین کور ایجنسی کی پاکستان میں موجودگی کا اعتراف کرلیا ورنہ وہ اس کی موجودگی ثابت ہونے پر بھی مستعفی ہونے کی پیشکش کر سکتے تھے جبکہ ان کا بلیک واٹر کے بارے میں موقف ایسا ہی ہے جیسے وہ کہہ دیں کہ سورج مشرق سے طلوع نہیں ہوتا۔ امریکی غیر سرکاری دہشت گرد تنظیم بلیک واٹر کی پاکستان کے مختلف علاقوں بالخصوص اسلام آباد اور کہوٹہ کے گرد و نواح میں مذموم سرگرمیوں سے تو اب پورا زمانہ آگاہ ہوگیا ہے۔ اگر اس پر ایکس ای (زی) کا لیبل لگا دیا جائے تو کیا اس کے پیچھے اس تنظیم کے بھیانک چہرے کو چھپایا جاسکتا ہے جبکہ دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ ”زی“ بلیک واٹر ہی کا دوسرا نام ہے۔
بات رحمان ملک صاحب کو چیلنج دینے اور ان کا چیلنج قبول کرنے کی نہیں بلکہ ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کی ہے جس کی وزیر داخلہ پر بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر امریکی غنڈے ہمارے ایٹمی ٹیکنالوجی پر ہاتھ صاف کرنے کی نیت سے یہاں دندناتے پھر رہے ہیں، قانون ہاتھ میں لیتے ہیں اور ان کی گرفت تک نہیں ہوتی تو کیا رحمان ملک صاحب کو جن کے ماتحت کئی ایجنسیاں کام کر رہی ہیں،اس ساری صورت حال کا علم نہیں ہوتا؟ اگر امریکی ڈین کور ایجنسی افغانستان کی طرح پاکستان میں بھی امریکی مفادات کیلئے کام کر رہی ہے تو اس پر ہاتھ ڈالنے میں صرف اس عذر کی بنیادپر گریز نہیں ہونا چاہئے کہ یہ مشرف کے دور سے یہاں کام کر رہی ہے۔ اسی طرح اگر ہماری سالمیت پر بُری نظر رکھنے والے امریکی عناصر چاہے زی کے لیبل سے یہاں اپنی مذموم سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں یا کسی دوسرے لیبل کے ساتھ موجود ہیں تو انہیں قومی مفادات کے منافی سرگرمیوں سے روکنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اگر بلیک واٹر نہیں تو رحمان ملک صاحب کو بخوبی علم ہوگا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اسلام آباد میںدو سو سے زائدکرائے کے مکانوں میں رہائش پذیر ہیں اور ہمارے ملکی مفادات کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جبکہ ان کی ان سرگرمیوں کے ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔ اس لئے وزیر داخلہ کو دعوے کرنے اور مستعفی ہونے کی پیش کش کرنے کے بجائے ان تمام غیر ملکی عناصر سے ملک کی دھرتی کو پاک کرنے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے جو ہمارے ایٹمی اثاثوں کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں اور دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث ہیں۔