صدر آصف علی زرداری نے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے پاکستان میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کے بارے میں اتفاق رائے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ گزشتہ روز ایوان صدر اسلام آباد میں رابرٹ گیٹس سے ملاقات کے دوران صدر نے انہیں باور کرایا کہ پاکستان کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 35 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے‘ اس لئے امریکہ پاکستان کی روکی گئی 1.43 ارب ڈالر کی رقم کی فوری ادائیگی کرے۔ رابرٹ گیٹس نے اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری کے علاوہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی‘ وزیر دفاع احمد مختار‘ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی‘ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید اور آئی ایس آئی کے سربراہ احمد شجاع پاشا سے بھی ملاقاتیں کیں اور اس دوران پاکستان کی جانب سے انہیں باور کرایا گیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے ساتھ متصل مشرقی سرحد پر جارحانہ رویہ اختیار کئے رکھا تو پاکستان اپنی مغربی سرحد پر خاطرخواہ توجہ نہیں دے سکے گا۔ اس سلسلہ میں پاکستان نے امریکی دبائو کو مسترد کرتے ہوئے شمالی وزیرستان سمیت کسی بھی علاقے میں نیا فوجی اپریشن شروع کرنے سے انکار کر دیا اور رابرٹ گیٹس کی جانب سے بھارت میں پاکستان کے بارے میں اختیار کئے گئے نامناسب رویے پر بھی ان سے احتجاج کیا۔ رابرٹ گیٹس نے ان ملاقاتوں کے دوران عندیہ دیا کہ امریکہ پاکستان کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے‘ انہوں نے امریکی تنظیموں بلیک واٹر اور ڈین کورپ کی پاکستان میں موجودگی کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ یہ تنظیمیں یہاں نجی حیثیت میں کام کر رہی ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی رابرٹ گیٹس کی جانب سے بھارت میں پاکستان کے بارے میں جارحانہ بیانات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا جبکہ وزیراعظم نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پاکستان کو باضابطہ طور پر ایٹمی ملک تسلیم کیا جائے۔
درحقیقت رابرٹ گیٹس اس خطہ میں امریکی مفادات پر مبنی اپنے ایجنڈے کے تحت پاکستان اور بھارت کے دورے پر آئے تھے‘ جس کا بنیادی مقصد اس خطے میں بھارت کی بالادستی تسلیم کرانا اور ہمیں اپنے ساتھ ساتھ بھارت کے بھی زیر بار رکھنا تھا۔ اسی بناء پر امریکی وزیر دفاع نے پہلے نئی دہلی میں بھارتی حکمرانوں اور فوجی سربراہوں سے ملاقات کرنا اور انہیں تھپکی دینا ضروری سمجھا اور خبث باطن اور ہٹ دھرمی پر مبنی بھارتی مؤقف کی نہ صرف تائید کی بلکہ بھارت ہی کی زبان میں ہمیں وارننگ بھی دی کہ اگر بھارت میں پاکستان کی جانب سے ممبئی حملوں جیسا کوئی دوسرا واقعہ ہوا تو پھر بھارت کیلئے صبر سے کام لینا مشکل ہو جائیگا۔
گیٹس درحقیقت بھارت کا نام لے کر ہماری سالمیت کیخلاف امریکی جارحانہ عزائم کا اظہار کر رہے تھے‘ جو ایک آزاد اور خودمختار ایٹمی ملک کی حیثیت سے ہمیں بھلا کیسے قابل قبول ہو سکتے ہیں جبکہ امریکی مفادات کی جنگ میں شریک ہو کر ہم پہلے ہی اپنا خطیر جانی و مالی نقصان کر چکے ہیں۔ اس تناظر میں ہماری سیاسی اور عسکری قیادتوں نے رابرٹ گیٹس کی جانب سے ہمارے مکار دشمن بھارت کی حمایت میں دیئے گئے بیانات پر بجا طور پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور انہیں باور کرایا کہ مزید اپریشن کیلئے امریکہ کا دبائو کسی صورت قبول نہیں کیا جائیگا۔
درحقیقت امریکی ڈرون حملوں اور اسکے ایماء پر شروع کئے گئے فوجی اپریشن کے ردعمل میں ہی ہم خودکش حملوں اور بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے ہیں جبکہ ڈرون حملوں اور فوجی اپریشن میں بھی ہمارے ہی کلمہ گو بھائیوں کا خون ناحق بہا ہے اور ہماری سالمیت کو خطرہ لاحق ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری معیشت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے اور اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری کا عمل بھی رک گیا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر شروع کی گئی امریکی مفادات کی جنگ میں اس کا فرنٹ لائن اتحادی بن کر ہمارے حکمرانوں نے ملک و قوم کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ اس وطن عزیز کو چاروں جانب سے سنگین خطرات لاحق ہو گئے اور موقع کی تاک میں بیٹھے ہمارے شاطر دشمن بھارت کو بھی دہشت گردی کا ملبہ ہم پر ڈالنے اور امریکی زبان میں ہم سے ڈومور کا تقاضہ کرنے کا موقع مل گیا۔
اب رابرٹ گیٹس کی تھپکی کے بعد بھارت کے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں اور بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے گزشتہ روز بھی ہم سے امریکی لب و لہجے میں تقاضہ کیا ہے کہ پاکستان ممبئی حملوں میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی کے ساتھ اپنی سرزمین سے دہشت گرد تنظیموں کا بھی خاتمہ کرے۔ اس مطالبے کی آڑ میں بھارت درحقیقت جہاد کشمیر میں سرگرم تنظیموں کو دہشت گرد قرار دلانا اور اسکی بنیاد پر ہم پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ بھی اس معاملہ میں بھارت کی پشت پر کھڑا ہے کیونکہ ہماری سالمیت کیخلاف شیطانی اتحاد ثلاثہ امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل کے مقاصد اور مفادات مشترکہ ہیں جو ایک ایٹمی قوت کی حیثیت سے ہمیں مسلم امہ کیخلاف اپنی گھنائونی سازشوں کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ رابرٹ گیٹس اپنے بھارت اور پاکستان کے دورے کے دوران درحقیقت اپنے دفاعی اتحادی بھارت کی جانب سے ہم پر دہشت گردی کا ملبہ ہی ڈلوانے آئے تھے‘ تاکہ اسکی آڑ میں ہم پر جارحیت کا ارتکاب کرکے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کی جا سکے۔
اب جبکہ یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ شیطانی اتحادی قوتیں مسلم امہ کو تہس نہس کرنے کی نیت سے ہماری سلامتی پر وار کرنا اور ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی پر ہاتھ صاف کرنا چاہتی ہیں‘ اس لئے ہماری سالمیت کیخلاف امریکی لب و لہجہ اور عزائم پر محض تحفظات کا اظہار نہ کیا جائے بلکہ خود کو اسکے مفادات کی جنگ سے باہر نکال کر فوجی اپریشن فی الفور بند کیا جائے اور آئندہ جو بھی ڈرون جہاز ہماری سرزمین پر حملہ کرنے کی نیت سے آئے‘ اسے فوراً مار گرایا جائے جس کی ہماری فضائیہ کے پاس پوری صلاحیت موجود ہے۔ جب امریکہ ایک دفاعی اتحادی کی حیثیت سے ہمارے دشمن بھارت کی سرپرستی کر رہا ہے اور اسی کے لب و لہجے میں ہماری سلامتی کو چیلنج کر رہا ہے تو اس کا فرنٹ لائن اتحادی بنے رہنے سے ہمیں کیا حاصل ہو گا‘ سوائے اسکے کہ وہ اپنی ایجنسیوں کے ذریعے دفاعی لحاظ سے ہمارے کمزور پہلوئوں کا کھوج لگا کر اس سے بھارت کو آگاہ کرے تاکہ اسے ہماری سالمیت پر اوچھا وار کرنے میں آسانی ہو سکے۔ رابرٹ گیٹس کی جانب سے امریکی سیکورٹی کی تنظیموں بلیک واٹر اور ڈین کورپ کی ہماری سرزمین پر موجودگی کے اعتراف سے ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کو بخوبی سمجھ آجانی چاہئے کہ سانپ کو دودھ پلا کر بھی ہم اسکے ڈنک سے نہیں بچ سکیں گے۔ امریکہ ہمارا دوست‘ ہمدرد یا اتحادی ہرگز نہیں بلکہ ہمارا بدترین دشمن ہے جس کے ساتھ ہمیں دشمن جیسا ہی سلوک کرنا چاہئے۔ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں اور ہمارے مشترکہ دشمن امریکہ بھارت کو باور کرایا جانا ضروری ہے کہ اگر انہوں نے ہماری سالمیت کی جانب میلی آنکھ سے دیکھا تو یہ آنکھ ہی نہیں پھوڑی جائیگی‘بلکہ ان کا وجود بھی اس صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائیگا۔ ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں نے امریکی وزیر دفاع کے سامنے بلاشبہ قومی غیرت و حمیت کے تقاضوں کے مطابق مؤقف اختیار کیا ہے اور اب اس مؤقف میں کسی قسم کی لچک یا ڈھیل پیدا نہیں ہونے دی جانی چاہئے کیونکہ دشمن کو دوست سمجھ کر ہم اپنے مفادات کی نگہداشت نہیں کر سکتے۔
زرداری صاحب!
جوش نہیں ہوش کریں!
صدر مملکت اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو سیاست کو ڈرائنگ رومز اور محلات سے نکال کر سڑکوں اور گلیوں میں لے آئے‘ اسے غریب کے دروازے پر پہنچا دیا‘ جب بھٹو کو آمر شکست نہ دے سکے تو ان کا عدالتی قتل کرادیا گیا۔ قلم کے دبائو پر بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا‘ آج ہمارے خلاف بھی ایسی ہی سازشیں کی جا رہی ہیں‘ ہم عوام کے دلوں پر راج کر رہے ہیں اور اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری جو کہ پیپلز پارٹی کے بھی سربراہ ہیں‘ اپنی اس دہری حیثیت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس وقت آمریت نہیں ہے اور آپ کو عوام کی طرف سے جو مینڈیٹ دیا گیا ہے‘ یہ منقسم ہے۔ آپ کے پاس دو تہائی اکثریت بھی نہیں ہے‘ عوام کی طرف سے ملک کی اہم سیاسی پارٹیوں میں منقسم مینڈیٹ کا جمہوری ممالک میں ترجمہ یہ ہوتا ہے کہ مختلف الخیال پارٹیاں مل جل کر حکومت کریں۔ اس لئے آپ کا یہ موقف بھی درست نہیں کہ آپ عوام کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔ ان تلخ حقائق کی روشنی میں صدر آصف علی زرداری کو چاہئے کہ وہ پیچھے کی طرف دیکھنے کے بجائے سامنے آنے والے حالات کی طرف دیکھیں۔
فاضل سپریم کورٹ یا کسی اور ادارے کے ساتھ ٹکرانے کے بجائے عدالتوں کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ ماضی میں آپ سے جو غلطیاں ہوئی ہیں‘ اس پر قوم سے معذرت کریں‘ سوئس اکائونٹس اور ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی دیگر رقوم پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کرائیں‘ آپکی پارٹی کے اندراور حلیف پارٹیوں میں بھی جو سیاست دان قومی دولت کو غیرملکی بنکوں میں دبا کر بیٹھے ہیں‘ انہیں ترغیب دی جائے کہ وہ قومی دولت واپس لائیں۔ اس سے قومی حالات بہتر ہونگے۔
جناب زرداری کے غور و فکر کرنے کیلئے ایک اور اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اس وقت ملک کے اندر اور باہر حالات بہت زیادہ خراب اور پریشان کن ہیں‘ امریکہ اور بھارت کے درمیان گٹھ جوڑ ہو رہا ہے اور پاکستان کیخلاف سازشیں تیار کی جا رہی ہیں۔ ایسے نازک اور حساس حالات میں انہیں چاہئے کہ حالات مزید خراب نہ کریں۔ وہ اگر حالات سے مطمئن نہیں تو عوام کی طرف دوبارہ رجوع کرنے کا اعلان کر دیں‘ ملک میں ہنگامہ برپا کرکے جمہوریت کیلئے خطرات پیدا نہ کریں۔
سیاسی اتفاق رائے‘ قوم کیلئے
نہ کہ بدعنوانی کی حفاظت کیلئے
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے ملاقات کی۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ حکومت مفاہمت کی پالیسی پر عملدرآمد جاری رکھے گی ایشوز پر تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلا جائیگا ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو ہاتھ میں ہاتھ ملانا چاہیے۔
ملاقات میں چودھری شجاعت حسین نے جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے کیلئے وزیراعظم کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ بتایا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سے پنجاب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی میں صدر آصف علی زرداری کے حق میں قرارداد منظور کروانے اور این آر او کے حوالے سے سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے چودھری شجاعت حسین سے مدد مانگ لی ہے۔ ملک میں جاری سیاسی بحران پر قابو پانے کیلئے سیاسی لیڈروں کو چاہیے کہ باہمی سیاسی اختلافات پر قابو پایا جائے اور وہ لوگ جو جمہوریت کو جاری رکھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہوں انہیں اکٹھا کیا جائے۔ سیاسی معاملات میں اتفاق رائے کو اختیار کیا جائے یہ اتفاق رائے کرپشن کو چھپانے اور بدعنوانیوں کو پس پشت ڈالنے کیلئے نہیں ہونا چاہیے۔ ملک کے سیاسی حلقوں کو سپریم کورٹ کے مقابل صف آراء نہ کیا جائے بلکہ عدالت عظمٰی کے فیصلوں کو قبول کرنے کیلئے اکٹھا ہونا چاہیے۔
پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی اگر آصف علی زرداری کے حق میں قرارداد منظور بھی کر لیں تو اس سے کیا فرق پڑیگا؟ کیا یہ قراردادیں سوئس اکاؤنٹس ، سرے محل اور دیگر ممالک میں موجود املاک کے مقدمات اور انکے ثبوتوں کو چھپا لیں گی؟ قومی رہنماؤں کو چاہیے کہ سیاسی اتفاق رائے، ملک وقوم کی تعمیر و ترقی اور بہبود کیلئے کریں جو مقدمات سپریم کورٹ میں اپنے مکمل ریکارڈ سمیت موجود ہیں۔ ان کا فیصلہ عدالتوں کو ہی کرنے دیں اور سب قومی لیڈر مل کر سپریم کورٹ کو اس طرح طاقتور بنائیں کہ انصاف کرنے اور ملک کو بدعنوانی اور کرپشن سے پاک کرنے میں سپریم کورٹ کو پوری قوم کی حمایت حاصل ہو جائے۔