مفاداتی سیاست میں ملک کی سالمیت کا بہرصورت خیال رکھیں
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عوام چاہیں تو بہاولپور صوبہ بن سکتا ہے مگر اس کیلئے آئین اور قانون کے اندر رہ کر بات کرنا ہو گی، پنجاب میں ایک یا دو صوبے بن سکتے ہیں۔ گذشتہ روز بہاولپور میں 58ویں فائونڈرز ڈے کی تقریب اور پارلیمانی پارٹی سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دس نکاتی ایجنڈے پر صرف مسلم لیگ (ن) ہی نہیں، تمام جماعتوں سے مشاورت کریں گے۔ اس ایجنڈے پر مکمل عملدرآمد کیلئے کچھ وقت درکار ہو گا۔ ان کے بقول مسلم لیگ (ن) کے دس نکاتی ایجنڈے میں سے چھ نکات پر عمل کر دیا ہے۔ دیگر چار نکات مختلف اداروں کی تنظیم نو کے بارے میں ہیں جو پلک جھپکتے میں اور صرف بٹن دبانے سے حل نہیں ہو سکتے۔ اس کیلئے کچھ وقت درکار ہو گا اور اس سلسلہ میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مثبت انداز سے مذاکرات جاری رہیں گے۔
میاں نوازشریف نے سسٹم کو بچائے رکھنے کے جذبے کے تحت وفاقی حکومت کو اصلاح احوال کیلئے جو دس نکاتی ایجنڈہ پیش کیا تھا اس پر عملدرآمد کیلئے 45 روز کی دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہو چکی ہے مگر وزیراعظم کے اس دعوے کے باوجود کہ اس ایجنڈے کے دس نکات میں سے چھ پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ عملاً اس، ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے اب تک سوائے بیکارباہمی مذاکرات کے، ذرہ برابر بھی پیشرفت نہیں ہوئی اور جن نکات پر عملدرآمد کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ 18ویں آئینی ترمیم کے تقاضے کے تحت اور سپریم کورٹ کے احکام کی روشنی میں ہوا ہے۔ میاں نوازشریف کے ایجنڈے کا بنیادی نکتہ کرپٹ وزراء کو فارغ کر کے کابینہ کا حجم کم کرنے کا تھا جبکہ اس کے برعکس کابینہ کا حجم کم کرتے وقت اچھی شہرت والے وزراء کو فارغ کیا گیا اور ان وزراء کو جن کے خلاف نیب آرڈیننس کے تحت مقدمات درج تھے اور کرپشن کے الزامات کی زد میں تھے نہ صرف کابینہ میں دوبارہ شامل کیا گیا بلکہ انہیں اہم اضافی مناصب بھی سونپ دئیے گئے جو میاں نوازشریف کے اصلاحاتی پیکیج کا منہ چڑانے کے مترادف ہے۔ کنٹریکٹ ملازمین سپریم کورٹ کے احکام کے تحت بہ امر مجبوری فارغ کئے گئے جبکہ حکومتی عیاشیاں ختم کر کے کفایت شعاری اختیار کرنے کی تجویز کو ابھی تک درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا گیا۔ اسی طرح ملک سے باہر بھجوائی گئی رقوم واپس لانے اور اربوں روپے کے معاف کرائے گئے قرضے وصول کرنے کے معاملہ میں بھی اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی حالانکہ اس بارے میں بھی سپریم کورٹ واضح ہدایات جاری کر چکی ہے۔ آزاد الیکشن کمشن اور آزاد احتساب کمشن کے قیام کی تجویز پر عملدرآمد سے گڈ گورننس کو تقویت مل سکتی ہے مگر وزیراعظم کے بقول ایسے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں سے طویل مشاورت کی ضرورت ہے گویا حکومت اپنے معاملات کی اصلاح کے لئے حقیقی پیشرفت کرنے کے بجائے وقت گزاری کی حکمتِ عملی پر کاربند ہے تاکہ مسلم لیگ (ن) اس دوران پہلے ہی کی طرح وفاقی حکومت کے لئے ڈھال بنی رہے اور دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات کو لٹکاتے لٹکاتے اسمبلی کی آئینی میعاد بھی پوری کر لی جائے جس کے بعد انتخابی عمل شروع ہو گا تو ہر جماعت کا اپنا اپنا منشور اور اپنا اپنا ایجنڈہ ہو گا۔
یہ خوش آئند صورت حال ہے کہ حکمران پیپلز پارٹی کی قیادت کے بار بار کے دامِ فریب میں آتے آتے اب مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بھی وفاقی حکمرانوں کی اصل حکمتِ عملی کا احساس و ادراک ہو گیا ہے۔ چنانچہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے واضح کر دیا ہے کہ ہم نااہل حکومت کو مزید سینے سے نہیں لگا سکتے۔ احسن اقبال کے بقول مسلم لیگ (ن) کے دس نکاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کرانے کیلئے وفاقی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیا جائے گا جس کیلئے تیاری شروع کر دی گئی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی قیادت اب یقینا مزید کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہو گی اور ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اب ان کیلئے وفاقی اور صوبائی سطح پر پیپلز پارٹی کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی اس لئے 25 فروری کو طلب کئے گئے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کو پنجاب حکومت سے فارغ کرنے کا حتمی فیصلہ آنے کا قوی امکان ہے جس کے بعد لازماً سیاسی محاذ آرائی اور اکھاڑ پچھاڑ کی فضا گرم ہو گی اور ایک دوسرے کے خلاف سیاسی دائو پیچ آزمائے جائیں گے جو قبل از وقت انتخابات کی نوبت بھی لا سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادتیں اپنی جو بھی سیاسی حکمت عملی سوچ رہی ہیں وہ آئندہ انتخابات کو پیش نظر رکھ کر ہی طے کی جائیں گی اور اس کیلئے ایک دوسرے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور ایک دوسرے کی کمزوریاں ڈھونڈ کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا گذشتہ روز کا دورۂ بہاولپور بھی اسی سلسلہ کی کڑی نظر آتا ہے جہاں انہوں نے بالخصوص صوبہ بہاولپور کی بات کی جو پیپلز پارٹی کی انتخابی سیاسی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
اگر پیپلز پارٹی کی قیادت محسوس کر رہی ہے کہ اگلے انتخابات کی تیاری کیلئے چاہے وہ مقررہ وقت پر ہوں یا ان کے انعقادکی وقت سے پہلے نوبت آ جائے، یہی مناسب وقت ہے تو اسے مخصوص علاقوں کے عوام کی سیاسی ہمدردیاں حاصل کرنے کی خاطر ان کیلئے من پسند وعدے کرتے اور نعرے لگاتے وقت ملکی استحکام اور قومی مفادات کے تقاضوں کو بہرصورت پیش نظر رکھنا چاہئے۔ پنجاب کو تقسیم کرنے کا آئیڈیا درحقیقت پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بنک کو تقسیم کرنے اور اس کا سیاسی زور توڑنے کیلئے سامنے لایا گیا ہے۔ جو ملک کی موجود اقتصادی صورت حال میں قابلِ عمل ہو سکتا ہے نہ اس کے قومی استحکام کے حوالے سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر بالفرض صوبہ بہاولپور کی تجویز منظور کر لی جائے تو پھر لسانی بنیادوں پر سندھ، خیبر پی کے اور بلوچستان میں بھی نئے صوبوں کے قیام کو کیسے روکا جا سکے گا۔ پھر لازماً کراچی کو بھی صوبے کی حیثیت دینا پڑے گی اور سندھی زبان کے پس منظر میں اندرون سندھ بھی مزید صوبوں میں تقسیم ہو گا۔ اسی طرح خیبر پی کے میں صوبہ ہزارہ کی تحریک ابھی تک توانا ہے۔ بہاولپور کو صوبہ بنانے کی بات ہو گی تو ہزارہ صوبے کا تقاضہ کرنے والے خاموش تو نہیں بیٹھے رہیں گے۔ بلوچستان کی صورت حال تو اس معاملہ میںانتہائی پیچیدہ ہے جہاں موقع پاتے ہی آزاد بلوچستان کے نعرے لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر نئے صوبوں کی تحریک انتخابی مہم کا حصہ بنے گی تو خدا خیر کرے، جو ملک دشمن قوتیں بلوچستان کو بھی سقوط ڈھاکہ جیسے کسی سانحہ سے دوچار کرنے کے مذموم عزائم رکھتی ہیں، انہیں ملک کی سالمیت سے کھیلنے کا نادر موقع مل جائے گا۔ وفاق کے ساتھ اس کی اکائیوں بالخصوص چھوٹے صوبوں میں پیدا کی جانے والی منافرت سے پہلے ہی ملک کی سالمیت کو سخت خطرات لاحق ہو چکے ہیں اس لئے محض اپنے سیاسی فائدے کی خاطر ملک میں ایسی فضا پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہئے جو ملک کی سالمیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے پر منتج ہوسکتی ہو ۔نئے صوبوں کا قیام انتظامی طور پر بھی نئی پیچیدگیوں کا باعث بنے گا جس سے عوام کی خدمت کے بجائے ان کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے اس لئے بہتر ہے کہ کوئی نیا پنڈورہ بکس نہ کھولا جائے اور حکومتی بے ضابطگیاں دور کر کے اپنی گورننس بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔ مسلم لیگ (ن) کو بھی اب ملک اور عوام کے مفاد کی خاطر اپنی قومی پالیسی طے کرنی چاہئے اور اس میثاق جمہوریت کو حرزِ جاں نہیں بنائے رکھنا چاہئے جو محترمہ بے نظیر بھٹو کے سیاسی جانشینوں کو اپنے من مانے ایجنڈے کی بنیاد پر سُوٹ ہی نہیں کر رہا۔
بلوچستان کے مسائل کے حل کی طرف مزید توجہ کی ضرورت
آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے لورالائی میں کاسہ پہاڑی کے دورے کے دوران کاسہ ماربل منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے جنرل کیانی نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے۔آئندہ نسلوں کو دہشتگردی سے پاک ماحول دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ گولی اور طاقت کسی مسئلے کا حل نہیں۔ نفرت اور دوریوں کو اچھے رویوں سے ختم کیاجاسکتا ہے۔بلوچ کسی بھی پاکستانی کی طرح محب وطن ہیں۔ چند شر پسندوں کے کیے دھرے کی سزا پورے صوبے کے لوگوں کو نہیں دی جاسکتی۔ماضی میں کچھ عاقبت نااندیش حکمرانوں نے حکومتی رٹ کے قیام کے نام پر بلوچوں کے ساتھ درشت لہجہ اور سخت رویہ اختیار کیا۔اپریشن کرکے بہت سے لوگ ماردئیے گئے۔ مشرف دور میں اکبر بگٹی کو قتل کردیا گیا۔ ایسے اقدامات سے نفرتوں میں اضافہ تو ہونا ہی تھا۔بلاشبہ بلوچستان وسائل سے مالا مال اور صوبے کے مکین پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ صوبے میں غربت اور نفرت کا فائدہ دشمن نے اٹھایا اور بعض ناراض لوگوں کو اسلحہ اور پیسہ دیکرریاست کے خلاف کھڑا کردیا۔ان ناراض لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ پسماندگی دور کرنے کیلئے بلوچستان کے وسائل وہیں صرف کیے جائیں۔ بلوچوں کے حقوق کا تحفظ کیاجائے۔ اس حوالے سے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی قیادت میں فوج اہم کردار ادا کر رہی ہے ،گزشتہ سال4ہزار بلوچوں کو فوج میں بھرتی کیا گیا رواں سال 5ہزار مزید بھرتی کیے جائیںگے۔ تعلیمی پروگرام کے تحت 4ہزار بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں جنرل کیانی نے صوبے میں مزید سکول قائم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے جب بندوق کے بجائے ہاتھ میں مرہم اٹھالے تو زخمی لوگ اس کی طرف نفرت سے نہیں پیار اور محبت سے دیکھتے ہیں۔فوج یقینا حکومت کا ماتحت ادارہ ہے۔ فوج جو کچھ کر رہی ہے یہ بھی حکومت کی کارکردگی ہی شمار ہو گی تاہم حکومت کو سیاسی معاملات پر توجہ دینا چاہئے۔ بلوچوں کی محرومیاں دور کرنے کیلئے فوری اور عملی اقدامات کئے جائیں۔ آج صدر بھی بلوچ ہیں ان کے ہوتے ہوئے تو بلوچوں کے مسائل دنوں میں حل ہو جانے چاہئیں۔
صدر کا دورۂ جاپان
صدر آصف زرداری نے کہا ہے: جاپان ایٹمی ٹیکنالوجی میں بھارت جیسا تعاون کرے ایٹمی طاقت بننے کا فیصلہ خود نہیں بھارت کی جانب سے ہتھیاروں کی دوڑ کے باعث مجبوراً کیا۔گوادر کو فری پورٹ بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔پاکستان کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا ہے، جاپانی سرمایہ کاروںکو بہترین مواقع فراہم کرینگے۔ صدر پاکستان نے جاپان جاکر پاکستان کی بہبود وفلاح کیلئے جاپانی حکومت کے سامنے جن مطالبات و خیالات کا اظہار کیااُن کے پیش یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ جاپان، پاکستان سے بھی ایٹمی ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں بھارت جیسا تعاون کرے انہوں نے بہت اچھا کیا کہ جاپانی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے بہترین ترغیبات دیں لیکن یہ بات قدرے قابلِ غور ہے کہ جاپان کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی یقین دہانی منظر عام پر نہیں آئی،ممکن ہے اس دورے کے بہتر نتائج بعد میں ظاہر ہوں اور جاپان پاکستان اور بھارت میں کوئی فرق روا نہ رکھے، بہرصورت یہی کہا جاسکتا ہے کہ پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ، سردست یہ بھی کافی ہے کہ امریکہ کے امداد سے انکار کے فوری بعد صدر زرداری نے جاپان کا رُخ کیا، اس سے کم از کم ایک باہمی تعلقات اور تعاون کی تو امید کی جاسکتی ہے اور امریکہ کو بھی یہ تاثر ضرور ملے گا کہ پاکستان کا دارومدار فقط امریکہ پر نہیں وہ دوسری قوتوں سے بھی رجوع کرسکتا ہے۔
ڈوبتے ہوئے سورج کو وقتِ شام دیکھ
مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف نے پارٹی کے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذوالفقار مرزا نے غیر مہذب زبان استعمال کی۔چودھری برادران سے ملکر حکومت بنانے پر لعنت بھیجتا ہوں۔ میاںنواز شریف عمومی طورپروضعدار قسم کے انسان اور اپنے لگے بندھے اصولوں کے بے حد پابند ہیں لیکن…؎
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبانِ عقل.... لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
کے مترادف خود ایسی بات کرجاتے ہیں اور کوئی دوسرا کرے تو اسے معیوب سمجھتے ہیں۔ جب ذوالفقار مرزا کی باتوں کو غیر مہذب قرار دیتے ہیں اور خود چودھری برادران کے ساتھ ملکر حکومت بنانے پر لعنت بھیجنے جیسے الفاظ استعمال کریں۔ جواب میں چودھری شجاعت نے بھی جس لہجے میں بات سنی اسی لہجے میں جواب بھی دیدیا۔ انہوں نے میاں صاحب کو خالی الذہن اور دماغی طورپر مفلوج قرار دیا۔یہ الفاظ بھی شائستگی کے دائرے میں نہیں آتے تاہم انہوں نے شعر کی صورت میں درست فقرہ ضرور کہہ ڈالا…؎
حسن والے حسن کا انجام دیکھ.... ڈوبتے سورج کو وقتِ شام دیکھ
لوگ سیاسی قائدین سے مہذبانہ اور شائستہ رویے کی توقع رکھتے ہیں اور خصوصی طورپر مسلم لیگ کے قائدین سے۔ یہ لیڈر قائداعظم کی کرسی پر بیٹھتے ہیں محب وطن پاکستانیوں کو ان سے قائداعظم جیسے کردار کی اُمید ہے۔ مسلم لیگ وہی جماعت ہے جس نے پاکستان بنایا اور وہی پاکستان کو سنبھال بھی سکتی ہے۔ مسلم لیگوں کے قائدین اپنی اپنی پارٹی کو قائداعظم کی مسلم لیگ قرار دیتے ہیں۔ اگر وہ دل سے بھی ا یسا سمجھتے ہیں تو ان کے ادغام اور انضمام میں کیا امر مانع ہے۔اگر آ پ اتحاد نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ خود پاکستان کی بانی جماعت کو اقتدار میں نہیں لاناچاہتے۔ مسلم لیگی لیڈر شپ انا کے خول سے نکلے۔ایک دوسرے پر تبریٰ بازی کے بجائے دل و جان سے قائد اور اقبال کی مسلم لیگ کو متحد کریں۔