امداد کیلئے عالمی برادری کی حوصلہ افزاء پیشرفت....بھارت کو اس فہرست سے نکال دیں

ـ 23 اگست ، 2010
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ایک بار پھر عالمی برادری سے پاکستان کی امداد جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے آئندہ کئی ہفتوں، مہینوں اور برسوں تک امداد کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان میں سیلاب کی صورتحال پر منعقد ہونے والے یو این جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے دوسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بان کی مون نے کہا کہ عالمی برادری کی امداد سے متاثرین کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی آئیگی۔ دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت کے پاکستان میں نمائندے گوئڈ سباسٹینل نے اقوام عالم سے سیلاب زدگان کیلئے اعلان کردہ امداد کی فوری فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آلودہ پانی سے جنم لینے والی بیماریوں کے علاج کیلئے درکار ادویات محض وعدوں سے نہیں خریدی جاسکتیں۔ اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوآرڈی نیٹر جان ہومز نے برطانوی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ متاثرین سیلاب کو تین ماہ کی امداد کی اپیل پر رقم موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے بقول عالمی ادارہ اب چھ ماہ کے اخراجات کیلئے ایک اور اپیل کریگا جس کے ذریعے اربوں ڈالر ملنے کی امید ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عبد اللہ حسین ہارون نے یو این جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں توقع سے بڑھ کر امداد فراہم کرنے پر عالمی برادری کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اب دو کروڑ سے زائد متاثرین سیلاب کو احساس ہوگیا ہے کہ قوم اور عالمی برادری اس مشکل گھڑی میں انکے ساتھ ہے۔ اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے ہردیپ سنگھ پوری نے اجلاس میں بتایا کہ پچاس لاکھ ڈالر مالیتی کا امدادی سامان جلد پاکستانی حکام کے حوالے کردیا جائیگا اور امداد کی ترسیل پاکستان بھارت سرحد کے ذریعے ہوگی تاکہ وقت بچایا جاسکے۔
اقوام متحدہ نے متاثرین سیلاب کیلئے امداد کی اپیل بڑھا کر 80 کروڑ ڈالر کردی ہے جبکہ یو این جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے موقع پر 40 سے زائد ممالک نے مجموعی 25 کروڑ 95 لاکھ ڈالر امداد کے اعلانات کئے۔ یو این سیکرٹری جنرل کی اپیل پر 21 اگست تک اقوام متحدہ کو 39 کروڑ ڈالر کے عطیات موصول ہوئے ہیں۔
ملک کے تمام صوبوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں ابھی جاری ہیں۔ گزشتہ روز بھی کوٹری بیراج میں اونچے درجے کا سیلاب تھا اور ساڑھے آٹھ لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔ شہداد کوٹ میں بھی سیلابی ریلہ داخل ہوچکا ہے۔ راجن پور میں سو بستیاں سیلاب میں ڈوب گئی ہیں۔ سندھ کے مزید 800 دیہات زیرآب چکے ہیں جس کے 19 اضلاع آفت زدہ قرار دیدئیے گئے ہیں جبکہ ڈیرہ الہ یار 17 فٹ پانی میں ڈوب گیا ہے۔ بلوچستان میں بھی سیلاب کی تباہیوں کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے جبکہ بھارت کی طرف سے بغیر پیشگی اطلاع کے 18 ہزار کیوسک اضافی پانی دریائے راوی میں چھوڑنے سے دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح بڑھ کر 33 ہزار کیوسک ہوگئی ہے اور دریائے راوی کے کنارے 168 دیہات کو خالی کرانے کا حکم دیدیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بقول سیلاب سے ہونے والی تباہی کی اصل صورتحال آئندہ ماہ تک سامنے آسکے گی۔
بلاشبہ سیلاب کی تباہ کاریاں بہت زیادہ ہیں جن کا یو این سیکرٹری جنرل کی اپیل پر عالمی برادری کو احساس ہوا ہے تو سیلاب زدگان کی امداد و بحالی کیلئے دل کھول کر عطیات فراہم کئے جا رہے ہیں۔ اگر امدادی فنڈز کی خوردبرد کے حوالے سے عالمی برادری کو ہمارے حکمران طبقہ کے بارے میں تحفظات نہ ہوتے جیسا کہ برطانیہ کی مس وارثی پاکستانی نژاد خاتون نے برملا اظہار کیا ہے اور وہ بھی پاکستان کی سرزمین پر آکر، تو پاکستان کو ملنے والی امداد کہیں زیادہ ہوتی۔ اس سلسلے میں اگر حکومت مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف کی تجویز پر آزاد قومی فلڈ کمیشن تشکیل دیدیتی تو فنڈز کی خوردبرد کے حوالے سے عالمی برادری کے تحفظات دور کرنے میں مدد مل سکتی تھی مگرمیاں نواز شریف سے متفق ہونے کے باوجود وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی پارٹی کے دبائو پر ان کا تجویز کردہ کمیشن قائم کرنے سے معذرت کرلی ہے جس کا جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ اس مجوزہ کمیشن پر صوبوں کو اعتراض ہے۔
میاں نوازشریف کی جانب سے تو اس جذبے کے تحت متذکرہ کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی گئی تھی کہ ہمیں متاثرین سیلاب کی امداد و بحالی کیلئے بیرونی دنیا کا مرہون منت نہ ہونا پڑے اور باہمی اعتماد کی فضا میں ملک کے اندر سے ہی اتنے فنڈز اکٹھے ہوجائیں کہ ہمیں ملک کی تعمیر نو کیلئے عالمی مالیاتی اداروں سے کڑی شرائط پر قرض لینے کی ضرورت بھی نہ پڑے۔ جب مخیر حضرات کو یقین ہوتا کہ انکے دئیے گئے عطیات خوردبرد نہیں ہوں گے اور بلاامتیاز متاثرین سیلاب تک پہنچیں گے تو صرف اپنے وسائل سے ملک کی تعمیر نو کیلئے میاں نوازشریف کے عزم کی بھی تکمیل ہوجاتی جبکہ اب بے شک یو این سیکرٹری جنرل کی اپیل پر عالمی برادری کی جانب سے توقعات سے بڑھ کر فنڈز اقوام متحدہ کو وصول ہورہے ہیں، اگر اعتماد کی فضا برقرار ہوتی تو یہ سارے عطیات براہ راست پاکستان کو ملتے۔ اب اقوام متحدہ کی وساطت سے پاکستان کو امدادی فنڈز اور عطیات وصول ہورہے ہیں تو صدر زرداری کو سیلاب سے تباہ ہونیوالے اس وطن عزیز کی تعمیر نو کی خاطر ان فنڈز اور عطیات میں کسی قسم کی خوردبرد نہیں ہونے دینی چاہئے اور یہ ساری رقوم اور عطیات شفاف طریقہ سے سیلاب زدہ علاقوں میں مستحقین تک پہنچائے جانے چاہئیں۔ انہوں نے خود بھی نوشہرہ میں سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم اپنے وسائل کو بروئے کار لاکر نئے شہر اور نیا پاکستان تعمیر کرینگے اور اس مشکل گھڑی میں دنیا کو پانچ سال کے عرصہ میں اپنے پائوں پر کھڑا ہو کر دکھائینگے۔
یہ تبھی ممکن ہوگا جب حکمران طبقہ پر عوامی اعتماد کی فضا قائم ہوگی اور لوگ قومی جذبے کے تحت بے دھڑک ہو کر اس یقین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ عطیات جمع کرانے کیلئے آگے بڑھیں گے کہ ان کی فراہم کردہ رقوم کا ناجائز استعمال نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں حکومت فنڈز کی تقسیم کا شفاف نظام وضع کریگی تو لوگوں میں اعتماد کی فضا بحال ہوگی جبکہ اس معاملہ میں ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی خاص پیشرفت نظر نہیںآرہی۔
یہ مضحکہ خیز صورتحال ہے کہ ہمارے جس مکار دشمن بھارت کی سازشوں کی وجہ سے ہمارے ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی نوبت آئی ہے جس نے اب دریائے راوی میں بھی اضافی پانی چھوڑ دیا ہے اور اس طرح وہ لاہور اور شمالی پنجاب کو بھی ڈبونا چاہتا ہے ،اسکی پچاس لاکھ ڈالر کی حقیر امداد اور وہ بھی سامان کی صورت میں ممنونِ احسان ہو کر قبول کی جا رہی ہے جبکہ بھارت یہ امداد دیگر ممالک کی طرح اقوام متحدہ کے ذریعے دینے کے بجائے پاک بھارت سرحد کے ذریعے براہ راست پاکستان کو فراہم کرنا چاہتا ہے جس سے اسکی نیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس امداد کی آڑ میں وہ پاک بھارت سرحد کے ذریعے ہمارے ملک میں تخریب کاری کا اور کیا کیا سامان بھجوانا چاہتا ہے۔ اپنے وسائل سے ملک کی تعمیر نو کے اعلانات کرنیوالے ہمارے حکمرانوں کو اتنی قومی غیرت کا تو ضرور مظاہرہ کرنا چاہئے کہ ہمیں مارنے کی منصوبہ بندی رکھنے والے بھارت کی امداد اسکے منہ پر واپس دے ماری جائے اور اس امداد کی آڑ میں اسے پاکستان بھارت سرحد پر کسی قسم کی سرگرمی کی ہرگز اجازت نہ دی جائے کیونکہ اس کی ہمدردی میں بھی ہماری سالمیت کیخلاف کوئی نہ کوئی سازش چھپی ہوگی۔ اس ظالم دشمن کی خیرات پر تو قوم زندگی کی سانس لینے پر عزت اور خودداری کی موت کو ترجیح دیگی۔ اس لئے حکمرانوں کو بھارت کے حوالے سے قومی جذبات کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہئے اور اس موذی دشمن سے خیرات کے ٹکڑے وصول کرنے کی بے غیرتی اور بے حمیتی کا ہرگز مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ زیادہ بہتر یہی ہے کہ اپنے بارے میں پیدا شدہ غلط فہمیوں کا ازالہ کرکے قوم کو ملک کی تعمیر نو کیلئے متحرک کیا جائے اور اپنے وسائل بروئے کار لاکر سیلاب زدگان کی امداد و بحالی کے کام کو آگے بڑھایا جائے جو قومی جذبے کی موجودگی میں ناممکنات میں ہرگز شامل نہیں۔ پھر بھی اگر بیرونی امداد کی ضروت محسوس ہو تو امدادی ممالک کی فہرست میں بھارت کے نام پر لکیر پھیر دی جائے، یہی ہمارے مفادات کا تقاضہ ہے۔
کالا باغ ڈیم نہ بنانے کا شاخسانہ بھارت دریائے سندھ کے پانی پر قبضہ کرے گا!
وفاقی حکومت کے کالا باغ ڈیم جیسے قابلِ عمل منصوبے کو سر دخانے کی نذر کرنے سے ملک میں بجلی کے زبردست بحران کے ساتھ سیلاب کی تباہ کاریوں نے بھی ملک کی معیشت کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے 6 ملین فٹ تک پانی ذخیرہ کیاجاسکتا ہے جس سے 90 پیسے فی یونٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے کالا باغ ڈیم میں سیلاب اور بارشوں کا پانی جمع کیاجانا ہے اور اس سے ملک بھر میں سیلابوں کی تباہ کاریوں کا سدِباب ہوجائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر ہوچکا ہوتا تو موجودہ سیلاب اور بارشوں سے ہونے والی تباہی نہ ہوتی اور ہم سیلاب کے اس پانی کو کالا باغ ڈیم میں سٹور کرلیتے اس سے نہ صرف سستی بجلی پیدا کرتے بلکہ تین برس تک اس پانی سے چاروں صوبوں کی زراعت کو بھی فائدہ اُٹھانے کا موقع ملتا۔
کالا باغ ڈیم پاکستان کا ایک اہم ترین ترقیاتی منصوبہ ہے جسے محض چند متعصب سیاستدانوں نے سیاسی ایشو بنادیا ہے۔ بلوچستان صوبہ سندھ اور صوبہ خیبر پی کے کے عام شہری چاہتے ہیں کہ اُنہیں لوڈشیڈنگ سے نجات ملے۔ کم سے کم قیمت پر بجلی ملے۔ دشمن ملک کی سازشوں میں پھنسے ہوئے نا م نہاد سیاستدانوں کے پنجہ سے کالا باغ ڈیم کو آزاد کرانے کیلئے روزنامہ نوائے وقت نے ’’ کالا باغ ڈیم پر ریفرنڈم‘‘ کی مہم شروع کی ہے تاکہ حکمرانوں کو بتایا جاسکے کہ عوام کی بہبود اور قومی خوشحالی کے منصوبوں میں حائل نہ ہوں۔ اس میں کسی صوبے کا نقصان نہیں۔سب کا فائدہ ہے اور ریفرنڈم میں عوام کی جو بھی رائے ہوگی اسکا اعلان کردیاجائے گا۔ کیونکہ حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر پاکستان نے چھ برس کے اندر اندر کالا باغ ڈیم تعمیر نہ کیا تو بھارت دریائے سندھ کے 80فیصد پانی کو روک لے گا۔ کیونکہ سندھ طاس معاہدہ کے مطابق پاکستان کو اپنے حصہ کے دریائوں پر ڈیم تعمیر کرلینے چاہئیں اگر اس پر عمل نہ ہو تو بھارت دریائوں کا پانی سمندر میں پھینک دینے کی بجائے اس پانی کو اپنے استعمال میں لاسکتا ہے۔
اسکا واضح طورپر مطلب یہی ہے کہ جو لوگ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اس پانی سے پاکستان فائدہ نہ اُٹھا سکے اور یہ بھارت کے کام آجائے مگر ملک کے محبِ وطن عوام اور سیاستدان مل کر اس منصوبے پر عمل درآمد کریں گے تاکہ ملک کے عوام کو لوڈشیڈنگ سے نجات ملے۔ کارخانے اور فیکٹریاں چلیں گی عوام کو روزگار ملے گا اور چاروں صوبوں کو انکی ضروریات کے مطابق ہرموسم کی فصل کیلئے پانی بھی وافر دستیاب ہوگا۔
کراچی کو650 میگا واٹ بجلی کی فراہمی کا نیا معاہدہ
پیپکو نے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی( کے ای ایس سی) کے ساتھ چند ماہ قبل کیے گئے350 میگا واٹ پاور پرچیز ایگریمنٹ کو راتوں رات اچانک تبدیل کرکے نیا معاہدہ کرلیا جس کے تحت کراچی کو 650 میگا واٹ بجلی فراہم کی جائے گی۔
300 میگا واٹ بجلی جو نئے معاہدے کے مطابق اب دوگنا سے بھی زیادہ فراہم کی جائے گی۔ اس کا نقصان پنجاب کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ہوگا کیونکہ یہ بجلی پنجاب کے نجی تھرمل بجلی گھروں سے فراہم کی جائے گی جبکہ پنجاب کی صنعتیں، کارخانے پہلے ہی بند ہوچکے ہیں مزدور طبقہ دووقت کی روٹی کیلئے ترس رہا ہے ۔آئے روز مظاہرے اور جلائو گھیرائو جاری ہے اور رمضان کے مقدس مہینے میں سحری افطاری اور نماز تراویح میں بھی بجلی میسر نہیں۔ ان حالات میں کراچی کو اپنے حصے کی بھی بجلی فراہم کرنا پنجاب کی انڈسٹری کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی اس معاملے کی جانب ذرا توجہ دیں کیونکہ 18ویں آئینی ترامیم کے تحت صوبوں کو اس چیز کا اختیار دیا گیا ہے کہ جس صوبے کے وسائل ہونگے وہ اسی کے اندر استعمال ہونگے البتہ وافر مقدار ہونے پردوسروں صوبوں کو دئیے جاسکتے ہیںلیکن یہاں گنگا الٹی بہہ رہی ہے پنجاب خود بجلی کی کمی کا شکار ہے لیکن اس کے باوجود پیپکو وفاق کے دبائو پر راتوں رات معاہدے تبدیل کر رہا ہے۔ وفاقی حکمرانوں کو بھی سوچناچاہئے کہ ایک صوبے کی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر دوسرے صوبے کو نوازنے سے قومی یکجہتی کی فضا کیسے پیدا ہوپائے گی۔اس تناظر میں یہ ضروری ہے کہ پنجاب کے استحصال کی پالیسی ترک کرکے اس کی تھرمل بجلی سے کسی دوسرے صوبے کو نوازنے کے بجائے اسی کی ضروریات پوری کی جائیں بصورت دیگر صوبے کے مضطرب عوام انتہائی اقدام پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter