پاک بحریہ کے سربراہ آصف سندھیلہ کو نشانِ امتیاز دینے کی تقریب میں صدر آصف علی زرداری سے مسلح افواج کے سربراہان نے غیررسمی ملاقات کی۔ اس دوران ملک کی سیکورٹی کی صورتحال‘ پاکستان امریکہ تعلقات‘ افواج پاکستان کے پیشہ ورانہ امور‘ نیٹو حملے پر قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عسکری قیادت نے صدر کو دہشت گردی کیخلاف جاری کارروائیوں اور فوج کے پیشہ ورانہ معاملات سے آگاہ کیا۔ ملاقات کے دوران اتفاق پایا گیا کہ پارلیمنٹ کے فیصلے تک نیٹو سپلائی بند رہے گی۔ دریں اثناءدی نیشن نے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ سمیت متعدد نیٹو ممالک کی طرف سے افغانستان کو معطل رسد کھلوانے کیلئے پاکستان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں‘ کیونکہ امریکہ اور اتحادیوں کو اس طرح چھ گنا خرچہ پڑ رہا ہے۔ پاکستان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ نیٹو سپلائی کی معطلی پر سخت گیر موقف کو طول دینے سے پاکستان کی تیل کی درآمدات‘ پاکستانی مصنوعات کی برآمدات اور نیٹو ممالک کے ساتھ تجارتی مراعات کے معاہدے متاثر ہو سکتے ہیں۔
خودساختہ نائن الیون کے بعد امریکہ دھونس اور دھمکیوں سے اپنے مطالبات منواتا اور ڈومور کے تقاضوں پر عمل کراتا چلا آرہا ہے۔ جہاں 2008ءکے بعد سلطانی جمہور کے دور میں بھی مشرف کی آمرانہ پالیسیوں بالخصوص دہشت گردی کیخلاف جنگ اور ڈرون حملے کرکے پاکستان کی سلامتی و خودمختاری کیخلاف عمل درآمد جاری رکھا۔ وہیں پاک فوج کی جانب سے ایک مثبت تبدیلی یہ نظر آئی کہ حکمرانوں کی طرح اس نے امریکہ کا ہر ناجائز مطالبہ بلاچوں و چراں ماننے سے انکار کردیا۔ امریکہ کی بڑی خواہش تھی کہ پاک فوج شمالی وزیرستان میں اپریشن کرے‘ جبکہ فوج اس اپریشن پر تیار نہیں تھی‘ امریکہ نے پاک فوج کو شمالی وزیرستان میں اپریشن پر مجبور کرنے کیلئے کبھی امداد کا لالچ دیا اور کبھی فوجی امداد بند کردی۔ پاک فوج پر الزامات کے ہتھکنڈے آزمانے کے ساتھ ساتھ فوج اور حکومت کے مابین اختلافات پیدا کرنے کی سازشیں بھی کی گئیں۔ اس سب کے باوجود فوج شمالی وزیرستان میں اپریشن اور افغانستان کے اندر نیٹو کے ساتھ تعاون پر آمادہ نہیں ہوئی۔ تاہم پاک فوج پاکستان میں امریکی مفادات کی جنگ ضرور لڑ رہی ہے جبکہ پاکستان امریکہ تعلقات میں موجودہ کشیدگی کی وجہ 25 اور 26 نومبر 2011ءکو نیٹو ہیلی کاپٹرز کی وہ جارحیت ہے‘ جس میں پاک فوج کے 24 سپوت شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اس جارحیت پر عسکری قیادت کی طرح سیاسی قیادت نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نیٹو سپلائی مستقل بنیادوں پر بند کردی۔ شمسی ایئربیس خالی کرانے کا نوٹس دیا جس پر امریکہ سے 11 دسمبر 2011ءکو اس پر عمل درآمد کرایا۔ انہی دنوں بون کانفرنس میں پاکستان نے احتجاجاً شرکت نہ کرکے امریکہ کو باور کرایا کہ پاکستان کی خودمختاری پر حملہ کسی طرح بھی برداشت نہیں کیا جائیگا۔ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے دوسرے تیسرے روز جوتا فروش وزیر دفاع احمد مختار نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کے معافی مانگنے تک نیٹو سپلائی معطل رہے گی جبکہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا زوردار موقف تھا کہ امریکہ کی طرف سے معافی مانگنے پر بھی سپلائی بحال نہیں کی جائیگی۔ یہی قوم کی سوچ اور موقف ہے۔ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات ابھی سامنے نہیں آئیں تاہم 14 جنوری کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیٹو سپلائی پر پابندی برقرار رہے گی۔ وزیراعظم گیلانی نے اس اجلاس میں یہ بھی کہا تھا کہ حکومت‘ پارلیمنٹ اور عوام بہادر مسلح افواج کی پشت پر ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم نے بھی لاہور میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ نیٹو سپلائی کا فیصلہ پارلیمنٹ کریگی حالانکہ وہ ایک بار کرچکی ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امریکہ اور اسکے اتحادی افغانستان میں عبرت ناک شکست سے دوچار ہیں‘ اسکے باوجود وہ افغانستان میں نہ صرف اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے‘ اپنی لاحاصل جنگ پاکستان کے گلے میں ڈالنا چاہتا ہے بلکہ وہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو بھی افغانستان میں کردار سونپنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں امریکہ کی مستقل تو کیا‘ عارضی موجودگی بھی پاکستان کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ امریکہ کا اتحادی بننے کا پاکستان کو یہ صلہ ملا کہ امریکہ نہ صرف اپنی جنگ پاکستان میں لے آیا ہے بلکہ وہ پاکستان کی مشرقی سرحد کےساتھ ساتھ مغربی سرحد پر بھی اسکے دشمن کو لا کر یہ سرحد بھی غیرمحفوظ بنانا چاہتا ہے۔ آج افغانستان میں بھارت کے ڈیڑھ درجن قونصل خانے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ بلوچستان میں شورش بپا کئے ہوئے ہیں‘ جب امریکہ اسے افغانستان میں لے آئیگا تو پاکستان کیخلاف اسکی سازشوں‘ تخریب کاری اور دہشت گردی میں کتنا اضافہ ہو جائیگا!
نیٹو سپلائی کیلئے پاکستان کا کوئی ملک اور ذریعہ متبادل نہیں ہو سکتا۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے‘ متبادل سپلائی اسے امریکہ کے اخراجات چھ گنا بڑھ گئے ہیں۔ امریکہ روس کے ذریعے بھی متبادل راستہ پر غور کر رہا ہے‘ اول تو روس کو امریکہ کی طرف سے دیئے گئے زخم یاد ہیں‘ وہ امریکہ کو افغانستان میں اسی انجام سے دوچار ہوتا دیکھنا چاہتا ہے جو اس کا 80ءکی دہائی میں ہوا تھا اس لئے وہ سپلائی کیلئے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیگا۔ اگر وہ اجازت دینے پر آمادہ بھی ہو جاتا ہے تو یخ بستہ موسم اور سڑکوں پر جمی کئی کئی فٹ برف کے باعث چند ماہ تک رسد کا افغانستان پہنچنا ممکن نہیں‘ اسی لئے امریکہ فوری طور پر پاکستان سے سپلائی کی بحالی کیلئے ہر حربہ استعمال کررہا ہے۔ ایک طرف امریکہ کو اتحادی افواج کیلئے رسد کا شدید مسئلہ درپیش ہے تو دوسری طرف طالبان نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ گزشتہ روز طالبان نے ہلمند میں نیٹو ہیلی کاپٹر مار گرایا جس میں چھ فوجی ہلاک ہو گئے۔ گزشتہ روز ہی اتحادیوں پر افغان فوجی نے چار فرانسیسی فوجیوں کو ڈھیر کرکے ایک اور قیامت توڑ دی جس پر فرانس نے افغانستان سے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان کر دیا۔ قبل ازیں جنوبی کوریا‘ ہالینڈ‘ سوئٹزر لینڈ اور اردن بھی اپنے فوجیوں کو بھگا کر لے جا چکے ہیں۔ برطانیہ اور آسٹریلیا بڑی بے دلی سے امریکہ کے ساتھ کھڑے ہیں‘ یہ دونوں اور دیگر ممالک بھی شاید جلد رفو چکر ہو جائیں۔ ایسے میں امریکہ کا افغانستان میں ٹھہرنا ممکن ہو جائیگا۔ نیٹو سپلائی معطل اور طالبان کے سرگرم ہونے سے امریکہ کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں‘ اسے اب آکسیجن کی ضرورت ہے جو صرف پاکستان فراہم کر سکتا ہے۔ سیاسی قیادت کے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کے لالچ یا دھمکیوں کے باعث اسکے موقف میں نرمی پیدا ہو رہی ہے۔ امریکہ معافی مانگے تو بھی سپلائی بحال نہ کرنے کا عزم ظاہر کرنیوالی حکومت اب نیٹو سپلائی کی بحالی کے حوالے سے پارلیمنٹ کی بات کر رہی ہے جس میں حکومتی پارٹی کی اکثریت ہے۔ قوم تو نیٹو سپلائی کی معطلی اور شمسی ایئربیس خالی کرانے کے بعد پرامید تھی کہ اب حکومت امریکی جنگ سے مکمل طور پر باہر نکلنے کی کوشش کریگی لیکن ہمیشہ کی طرح ایک مرتبہ پھر حکمران عوامی امنگوں کا خون کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ملکی مفادات سلامتی اور خودمختاری کا تقاضہ ہے کہ امریکہ کی جنگ سے مکمل علیحدگی اختیار کی جائے‘ نہ صرف نیٹو سپلائی کی بحالی کے آپشن کو سرے سے موضوع بحث ہی نہ بنایا جائے بلکہ اس کیلئے غور تک بھی ترک کردیا جائے۔ امریکہ نے مزید پابندیوں کی دھمکی دی ہے‘ حکمران اس سے مرعوب نہ ہوں‘ یہ پابندیاں ہمیں خودانحصاری کی طرف لے جانے میں مددگار ہونگی۔
بھارت سے مثبت یا منفی تجارت کی ضرورت نہیں ہے
وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ بھارت سے تجارت سمیت ٹریڈ پالیسی کے سارے معاملات میں وزارت دفاع اور دوسرے سٹیک ہولڈرز کو ”آن بورڈ“ رکھا ہوا ہے، تجارت کی منفی لسٹ پر کام ہو رہا ہے، اس میں وقت لگے گا۔
مخدوم امین فہیم کے ذہن پر نہ جانے کس چیز کا خبط سوار ہے کہ وہ ہر حال میں بھارت سے تجارت چاہتے ہیں، بھارت دریاﺅں پہ ڈیم بنا کر ہماری زراعت کو تباہ کر رہا ہے، زرخیز زمینیں صحرا میں تبدیل ہو چکی ہیں، دریاﺅں میں ریت اڑا رہی ہے، لیکن ان تمام حقائق کو پس پشت ڈال کر امین فہیم بھارت سے تجارت کرنے پر بضد ہیں، پاکستان بھارت سے ایسی سبزیاں درآمد کر رہا ہے جو پاکستان میں وافر مقدار میں موجود ہیں، اپنی چیزوں کو چھوڑ کر بھارتی اشیاءفروخت کروانے میں وزیر تجارت کو کوئی کمیشن تو نہیں ملتا؟ ہم لوگ کیا چیز بھارت کو ایکسپورٹ کر رہے ہیں؟ چند روز قبل اس کا انکشاف ہوا کہ بھارت کو شراب ایکسپورٹ کی جا رہی ہے، یقینی طور پر وزیر تجارت نے اس پر مہر ثبت کی ہو گی تو شراب فرودشی کی نوبت آئی۔آلو، پیاز، ٹماٹر، چاول میں تو ہم خود کفیل ہیں لیکن پھر بھی بھارت سے منگوانے کی کوشش کی جاتی ہے، وہ ہمارے ہی پیسوں سے اسلحہ خرید کر کشمیر میں ہمارے ہی بھائیوں کو قتل کرتا ہے، لیکن حکومت کی بے حسی کی حد ہو گئی ہے، وہ مسئلہ کشمیر سے انحراف کی پالیسی پر گامزن ہے، پیپلز پارٹی کو اپنے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی مسئلہ کشمیر کیلئے بھارت سے ایک ہزار سال جنگ کرنے کے اعلان پر ڈٹے رہنا چاہیے، بھارت جب تک کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلا کر کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں دیتا اس وقت تک بھارت سے کسی قسم کا لین دین یا تعلقات رکھنا سانپ کے بچے کو دودھ پلانے کے مترادف ہے۔
بلوچستان کیلئے لارجر بینچ کی تشکیل اور بیرونی خطرات
چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمدچودھری نے کہا ہے: بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر لارجر بینچ بنایا جائےگا اور ممکن ہے کہ سماعت کوئٹہ ہی میں ہو۔
بلوچستان کی صورتحال پر پہلے ہی چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے ذریعے از خود نوٹس لیا جا چکا ہے، مگر چیف جسٹس مطمئن نہیں ہوئے، اس لیے انہوں نے بجا طور پر معاملے کے غیر معمولی ہونے کے پیش نظر لارجر بینچ تشکیل دینے کی بات کی اور یہ بھی کہا کہ سماعت کوئٹہ میں ہو گی، بلوچستان میں دراصل بیرونی پاکستان دشمن ایجنسیوں کی بھی بھرمار ہے۔ پچھلے دنوں 12آئل ٹینکرز بلوچستان کی سرحد سے افغانستان جاتے ہوئے پکڑے گئے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سرحد سے ادھر کے لوگ اِدھر آ سکتے ہیں، اس لیے یہ خدشہ موجود ہے کہ ٹارگٹ کلنگ میں سی آئی اے، موساد، را، بلیک واٹر وغیرہ کا بھی ہاتھ ہو اور مقامی قومیت پرستوں یا دہشت گرد بھی اپنے تعصب کا اظہار کر رہے ہوں، ٹارگٹ کلنگ میں زیادہ تر پنجابی مارے جا رہے ہیں، یوں لگتا ہے کہ بلوچستان کو الگ کرنے کی سازش ہو رہی ہے، جسے بیرونی ایجنسیاں مقامی باغیوں کے ذریعے یا لالچ دے کر انجام تک پہنچانا چاہتے ہوں، یہ خالصتاً پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہے جس سے حکمران غافل ہیں مگر عدالت عظمیٰ نے اس کا از خود نوٹس لے لیا ہے، توقع ہے کہ لارجر بینچ کوئٹہ میں سماعت کرےگا تو سارا کچا چٹھا سامنے آ جائےگا اور سپریم کورٹ اس درد کا مداوا اپنے فیصلے کی صورت میں سنائے گی، جس پر حکومت کو بہرحال عمل کرنا ہو گا، بصورت دیگر رقبے معدنیات اور گوادر جیسی کلیدی بندر گاہ کو دیکھ کر دشمن اس صوبے پر قبضے کا منصوبہ بنا چکا ہے، لیکن حتمی بات سپریم کورٹ کا لارجر بینج ہی سامنے لائے گا، اگر حکمرانوں نے اس نازک معاملے خاطر خواہ توجہ نہ دی تو بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بھی دو روز پہلے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بگاڑنے میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے، اور انہوں نے گویا مرکزی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر بلوچستان سے اسی طرح بے اعتنائی جاری رکھی تو صوبہ بلوچستان کسی بڑے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے، سپریم کورٹ تو نوٹس لے رہی ہے، لیکن حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس سلسلے میں پیچھے نہ رہے۔
ناقص ادویات سے انسانی ہلاکتیں
لاہور میں پنجاب کارڈیالوجی کی ادویات کے ری ایکشن سے پانچ دن میں بارہ مریض جاں بحق جبکہ 150سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔
ہسپتال میں جتنی بھی ادویات سٹور ہیں، ان کو لیبارٹری میں اچھی طرح چیک کروانا چاہیے، دل کے مریضوں کے ساتھ اگر تھوڑی سی بے احتیاطی ہو جائے تو مسئلہ موت تک جا پہنچتا ہے، 12 مریض جاں بحق ہو گئے، مسیحاﺅں نے موت کب سے بانٹنی شروع کر دی ہے، لوگ تو بڑی امیدیں لگا کر ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، اگر ایسا سلسلہ جاری رہا ، تو کوئی بھی آدمی ہسپتال کا رخ نہیں کریگا۔ڈاکٹروں کو اس سلسلے میں ادویات کو اچھی طرح چیک کرکے استعمال کرنے کی اجازت دینی چاہیے، محکمہ صحت کو تمام ہسپتالوں میں موجود ادویات کو دوبارہ لیبارٹریوں میں چیک کروانا چاہیے۔
محکمہ صحت کی اس سے بڑھ کر کیا بے حسی ہو سکتی ہے، میوہسپتال جیسے بڑے ادارے میںجہاں ایسی اموات بھی ہوئی ہیں۔ ایک ہی آدمی ایم ایس بھی ہے اور ڈی جی ہیلتھ پنجاب کے فرائض بھی وہ ہی انجام دے رہا ہے، آخر کیوں؟ کیا قابل آدمی کا اتنا قحط الرجال ہو گیا ہے کہ کوئی اچھا آدمی ملتا ہی نہیں، وزیر صحت تو ماشاءاللہ سرے سے ہی نہیں ہیں، ذرا پارلیمانی سیکرٹری کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ چراغ تلے اندھیرا کیوں ہے؟ تمام ہسپتالوں کا وزٹ کرکے اس بات کا کھوج لگانا چاہیے کہ دو نمبر ادویات کہاں سے آ رہی ہیں؟ اس دھندے میں ملوث افراد کےخلاف کارروائی کرنی چاہیے تاکہ کوئی بھی بہروپیا انسانی جانوں سے مت کھیلے۔