تازہ ترین:

امریکی وزیر دفاع کی ہمیں بھارتی لب و لہجہ میں وارننگ ..... پاک بھارت جنگ کی راہ تو آپ خود ہموار کر رہے ہیں

ـ 22 جنوری ، 2010
امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے انتباہ کیا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے عسکریت پسند گروپ ممکنہ طور پر پاکستان اور بھارت کو جنگ کی طرف دھکیل کر پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ممبئی طرز کا پھر حملہ ہوا تو بھارت زیادہ صبر سے کام نہیں لے گا۔ گزشتہ روز بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات کے بعد نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین سے ممبئی حملوں کی طرز پر ایک اور حملہ ہونے کی صورت میں بھارت کی قوت برداشت ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دفاعی معاملات میں بھارت اور امریکہ کا تعاون اس حد تک بڑھا ہے جس کا چند برس قبل تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ان کے بقول جہادی جنوبی ایشیاء کیلئے سنگین خطرہ ہیں اور دہشت گرد بھارت میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
رابرٹ گیٹس امریکی وزارت دفاع اور مختلف فوجی اداروں کے 125 ارکان کے ہمراہ اب پاکستان پہنچ گئے ہیں اور یہاں وہ صدر‘ وزیراعظم اور آرمی چیف سے الگ الگ ملاقاتوں میں پاکستان امریکہ دفاعی و فوجی تعلقات‘ افغانستان کی صورتحال اور پاکستان اور بھارت کے مابین موجودہ کشیدگی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں‘ اس سلسلے میں وہ وزیر دفاع احمد مختار سے ملاقات کر چکے ہیں۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں اس خطہ میں چھیڑی گئی اپنے مفادات کی جنگ میں امریکہ ہمارے حکمرانوں کو اپنا فرنٹ لائن اتحادی بنا کر ان پر اپنے احکام اور پالیسیاں مسلط کرتا ہے‘ ڈکٹیشن دیتا ہے‘ نام نہاد دہشتگردی کے خاتمہ کی اس جنگ میں ہمارے کردار اور کارکردگی پر شک کا اظہار کرتا ہے اور ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے بھی بڑھاتا رہتا ہے جبکہ اسکے ساتھ ساتھ وہ ہماری سرزمین پر ڈرون حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہے‘ جسکی وجہ سے ہم خودکش حملوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں لیکن ہماری آزادی و خودمختاری اور سالمیت کے درپے ہمارے مکار دشمن بھارت کی مکمل سرپرستی کر رہا ہے‘ اسکے ساتھ ایٹمی دفاعی معاہدے کرکے اسے جدید جنگی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کررہا ہے اور اب اس خطہ میں اسکے ہٹ دھرمی پر مبنی مفادات کا بھی رکھوالا بن گیا ہے۔
نئی دہلی میں رابرٹ گیٹس اپنی پریس کانفرنس میں امریکی وزیر دفاع سے زیادہ بھارتی وزیر دفاع نظر آرہے تھے اور انہوں نے ہمیں دھمکیاں دینے والا لب و لہجہ بھی بھارتی بنیاء نیتائوں جیسا ہی اختیار کر رکھا تھا‘ جبکہ انہوں نے ہم پر الزام تراشی کرتے ہوئے اس حقیقت کو یکسر نظرانداز کر دیا کہ اس خطہ میں سارا فساد مکار ہندو بنیا کا ہی پیدا کردہ ہے‘ جس نے شروع دن سے پاکستان کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے قبول نہیں کیا اور وہ ہمیشہ ہماری سالمیت پر وار کرنے کی تاک میں رہتا ہے جبکہ اب وہ پاکستان ہی نہیں‘ دنیا کی دوسری بڑی طاقت چین کو بھی للکارے مار رہا ہے اور اسکے آرمی چیف بڑ ما رہے ہیں کہ بھارت دفاعی لحاظ سے اتنا مضبوط ہے کہ 96 گھنٹے میں چین اور پاکستان کو بیک وقت مفلوج کر سکتا ہے جبکہ بھارتی وزیراعظم اور وزیر دفاع اپنے آرمی چیف کی اس شرانگیزی پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے انکی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔ بھارت کو ایسی بڑھکیں لگانے کا موقع امریکی سرپرستی کی وجہ سے ہی حاصل ہوا ہے۔ جبکہ امریکی وزیر دفاع نے نئی دہلی میں بھارتی لب و لہجہ میں ہمارے خلاف اسکے الزام کو دہرا کر اسے مزید حوصلہ دیا ہے۔ نتیجتاً بھارت کو مبینہ دہشت گردی کے حوالے سے ہم پر مزید ملبہ ڈالنے کا موقع ملے گا جس سے دونوں ممالک میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا اور خطہ کا امن و امان مزید خراب ہو گا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رابرٹ گیٹس کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ ہماری سالمیت کیخلاف مذموم بھارتی عزائم کی وکالت کرتے ہوئے ہمیں باور کرائیں کہ ممبئی طرز کے دوسرے حملے کی صورت میں بھارت صبر سے کام نہیں لے گا‘ یہ باور کرا کے درحقیقت وہ ممبئی حملوں کے خود ساختہ ڈرامہ کا ملبہ بھی ہم پر ڈال رہے ہیں جبکہ خود بھارت آج تک ان حملوں میں پاکستان یا اسکی کسی تنظیم کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکا اور کیا بعید ہے کہ ہم پر دہشت گردی کا نیا ملبہ ڈالنے کیلئے بھارت خود یا امریکہ کی معاونت سے دوبارہ ممبئی حملوں جیسی کوئی واردات ڈال دے تاکہ اسے ہماری سالمیت کیخلاف جارحیت کے ارتکاب کا جواز مل سکے مگر امریکہ اور اسکے گماشتہ بھارت دونوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے کوئی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں کہ اپنی سالمیت کیخلاف کسی جارحیت کو خاموشی سے برداشت کر لیں گے۔
بے شک امریکہ اور اسکی معاونت سے بھارت دفاعی لحاظ سے ہم سے کہیں آگے نکل چکا ہے مگر ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی اس کیلئے ناقابل تسخیر ہے اور ہم پر اس کمینے دشمن نے دوبارہ جارحیت مسلط کرنے کی کوشش کی تو ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی 96 گھنٹے تو کجا‘ 96 سیکنڈ میں دشمن کو نیست و نابود کر دیگی۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ اور بھارت نے خود علاقائی اور عالمی امن کو تہہ وبالا کیا ہوا ہے۔ امریکہ خود پاکستان بھارت جنگ کی راہ ہموار کر رہا ہے اور اسکی اصل نیت ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی پر ہاتھ صاف کرنے کی ہے کیونکہ ہمارا ایٹمی قوت ہونا ہی مسلم امہ کو صفحہ ٔ ہستی سے مٹانے کے امریکی عزائم کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس صورتحال میں اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو اپنی ایٹمی صلاحیتوں کے بل بوتے پرہمیں اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے جس کیلئے ہماری عسکری قیادتیں ہمہ وقت تیار اور مستعد ہیں اور ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی نیشنل کمان اینڈ کنٹرول اتھارٹی کے مضبوط ہاتھوں میں مکمل محفوظ ہے۔
اندریں حالات صدر آصف زرداری‘ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو امریکی وزیر دفاع کے ساتھ دوران ملاقات کسی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے اور انہیں واضح طور پر باور کرانا چاہئے کہ اس خطہ میں امن و امان کی خرابی کا خود امریکہ ذمہ دار ہے جبکہ بھارت کو امریکی شہ پر ہی ہم پر دھمکی آمیز لہجہ میں بے سروپا الزام تراشیوں کا موقع مل رہا ہے۔ اگر امریکہ کو علاقائی اور عالمی امن مقصود ہے اور وہ کسی دوسرے نائن الیون سے بچنا چاہتا ہے تو افغانستان سے فی الفور اپنی افواج نکال کر واپس لے جائے اور ہماری سرزمین پر ڈرون حملے بند کر دیئے جائیں بصورت دیگر اس خطہ کی اور عالمی تباہی کا جو بھی نقشہ بنے گا‘ اس کا صرف اور صرف امریکہ ہی ذمہ دار ہو گا۔
مزاحمت نہیں… عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کو تسلیم کریں
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ این آر او پر عدالتی فیصلے سے متعلق ماہرین کی بریفنگ لیکر فیصلے کئے جائینگے۔ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا قانونی و آئینی ماہرین جائزہ لے رہے ہیں۔ قانون اور آئین کے مطابق عمل کرینگے۔ سینٹ میں ارکان کے نکتہ ہائے اعتراض اور کراچی کمپنی میں یوٹیلیٹی سٹور کے دورہ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ اٹارٹی جنرل نے بعض نکات پر بریفنگ کیلئے وقت مانگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارہ اپنا کام کرے تو اداروں کے درمیان تصادم کا خطرہ نہیں ہو گا۔ ہم قانون کی حکمرانی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ تحمل اور بردباری سے کام لے رہے ہیں اور وہ اپنے دھیمے مزاج کی وجہ سے توازن کو قائم رکھتے ہیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے این آر او پر تفصیلی فیصلہ کے اجرا کے بعد حکومت کو چاہئے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو مکمل طور پر تسلیم کیا جائے۔ فاضل عدالت عظمیٰ نے اس سلسلہ میں بڑی فکر اور تردد کے ساتھ این آر او پر تفصیلی فیصلہ دیا ہے۔ جمہوری ممالک میں جب عدالتیں فیصلہ کر دیں تو اس پر آئینی و قانونی ماہرین کی بریفنگ لینے کی بجائے فیصلہ کو ہی قبول کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ فاضل سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کرایا جائے۔ جو لوگ بھی کرپشن اور بدعنوانی کی زد میں آتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ بدعنوانی کی رقوم، واپس قومی خزانے میں جمع کرادیں اور اپنے آپکو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ فیصلہ کی مزاحمت کرنے سے ملک میں چلتی ہوئی جمہوریت کو بھی بے حد خطرات لاحق ہو جائینگے۔ فاضل عدالت نے جو کچھ بھی کہا ہے یہ آئین اور جمہوری نظام کو استحکام دینے اور ملک و قوم کو کرپشن سے نجات دلانے کیلئے کیا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ فاضل عدالت کے احکامات پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور جن افراد کو اس کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔ حکومت ان تمام افراد کی مدد کرنے کی بجائے انہیں علیحدہ کر دے اور انہیں کہا جائے کہ وہ عدالت کے سامنے پیش ہوں۔ اپنے اپنے کیس خود لڑیں اور جب تک فاضل عدالت انہیں مقدمات میں کلیئر نہ کرے انہیں سرکاری ڈیوٹی پر بحال نہ کیا جائے۔
جمہوری حکومتیں اعلیٰ عدالتوں کے مقدمات کی مزاحمت کرنے یا ان پر قانون دانوں کی بریفنگ لینے کی بجائے ان پر عملدرآمد کراتی ہیں۔متاثرہ افراد اپنے مقدمات خود لڑتے ہیں اپنی صفائی خود پیش کرتے ہیں۔ حکومت بدعنوان اور کرپٹ افراد کی نہ وکالت کرتی ہے اور نہ ہی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ گیلانی صاحب بھی اس روایت پر عمل کریں۔ عدالت کے فیصلے کی مزاحمت کرکے اس پورے نظام کو اتھل پتھل نہ کریں۔ قوم اب مزید بحرانوں کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں۔
سنیٹر ایم ایم ظفر کا مستحسن فیصلہ
پاکستان کے معروف قانون دان اور سابق وفاقی وزیر قانون‘ سنیٹر ایس ایم ظفر (مسلم لیگ ق) نے امریکہ کی نئی امیگریشن پالیسی کیخلاف بطور احتجاج امریکہ نہ جانے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ان کا پسندیدہ ملک ہے اور وہ بارہا امریکہ گئے ہیں امریکہ میں انکے دوستوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے لیکن جب سے امریکہ نے پاکستانیوں کے بارے میں تضحیک آمیز امیگریشن پالیسی بنائی ہے۔ انہوں نے ایک غیرت مند پاکستانی کی حیثیت سے امریکہ نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایس ایم ظفر پاکستان کے ایک نیک نام قانون دان ہیں وہ نہ صرف کرپشن اور بدعنوانی کے سخت مخالف ہیں بلکہ خود بھی ہر طرح بدعنوانی اور کرپشن سے محفوظ و مامون رہتے ہیں۔ اب انہوں نے ایک غیرتمند پاکستانی کی حیثیت سے امریکہ کی نئی امیگریشن پالیسی جو کہ پاکستانیوں کیلئے تضحیک آمیزہے۔ پر بطور احتجاج امریکہ کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا ہے یہ ایک بہت ہی مستحن اور قابل تقلید فیصلہ ہے۔ ایس ایم ظفر امریکہ میں سرکاری اور غیر سرکاری حلقوں میں جانے پہچانے جاتے ہیں اور امریکہ میں ان کا وسیع حلقہ احباب موجود ہے جن کی موجودگی میں انہیں یقیناً بہت سی مراعات بھی حاصل ہیں‘ مگر ایس ایم ظفر کی طرف سے ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے امریکی پالیسی پر احتجاج کرنا قابل تحسین ہے۔ اور پاکستان کے عوام یہ امید کرتے ہیں کہ ملک کے دیگر سیاستدان اور ارکان پارلیمنٹ بھی اس کو قابل تقلید مثال بناتے ہوئے امریکہ کے سفر سے گریز کرینگے جس ملک میں پاکستانیوں کو کھلے بازوئوں اور مسکراتے چہرے کیساتھ کوئی خوش آمدید کہنے کیلئے تیار نہیں ایسے ملک جانے سے بہتر ہے کہ آپ کسی دوسرے ملک چلے جائیں قوم انکے فیصلہ کی تائید و تحسین کرتی ہے۔ دیگر ارکان پارلیمنٹ اور رہنماء اپنے ایسے اقدامات کا اعلان بھی کریں تاکہ ان کا یہ احتجاج پوری قوم ریکارڈ کرے۔
جعل سازوں اور ملاوٹ کرنیوالوں کیلئے سزائے موت
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں چالیس سے پچاس فیصد ادویات جعلی فروخت ہو رہی ہیں۔ رحمان ملک نے بتایا کہ پاکستان میں جعلی دوائیں بیچنے والوں کو سزائیں دینے کے قانون میں سقم موجود ہیں جب تک تحقیقات مکمل ہوتی ہے ملزم بھاگ چکا ہوتا ہے۔ ملک بھر میں جعلی ادویات کی فروخت ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے۔ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ اس سے بھی بڑا مسئلہ ہے پاکستان میں استعمال کی کھانے پینے کی کوئی بھی خالص چیز میسر نہیں ہے۔ دودھ سے لیکر ہلدی، مرچ، آٹا چینی، گھی اور پھر ادویات بھی دو نمبر بلکہ تین چار نمبر بھی بازار ہی نہیں ہسپتالوں کی فارمیسیوں میں موجود ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کا یہ بیان درست نہیں کہ ہمارے ہاں قوانین میں سقم موجود ہیں۔ قرآن حکیم میں واضح طور پر حکم موجود ہے کہ جو لوگ ملاوٹ (جعل سازی) کرتے ہیں وہ ہم میں سے نہیں یعنی اللہ اور اللہ کے رسولﷺ نے انہیں دائرہ اسلام سے ہی خارج کر دیا ہے۔ قرآن میں حکم ہے۔ من غش فلیس منا۔ اس سے زیادہ مکمل قانون سازی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اس آیت کی روشنی میں سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں ملاوٹ کی سزا موت ہے۔ وزیر داخلہ بتائیں کہ اس انتہائی صاف ستھرے سمجھ میں آ جانیوالے حکم کے بعد انہیں مزید کیا چاہئے۔آپ قومی اسمبلی میں بیٹھے ہیں اس الہٰیاتی رہنمائی کو اختیار کریں اور مروجہ فوجداری قوانین میں موجود سقم دور کرلیں ۔ دو چار جعلی ادویات بنانیوالی کمپنیوں کے مالکان اور ڈائریکٹروں‘ کیمسٹوں، دکانداروں کو سزائے موت دی جائے اور اشیائے خوردنی، دودھ اور دیگر اشیاء فروخت کرنے والوں کو بھی اسی قانون کے تحت سزائیں دی جائیں۔ اسکے بعد دیکھیں کہ یہ لوگ اپنا ناجائز کام چھوڑ کر خود ہی بھاگ جائیں گے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter