عرب ریاستوں میں مطلق العنانیت کیخلاف تبدیلی کی لہرسلطانی ٔ جمہور والوں کو بھی عوامی تیور بھانپ لینے چاہئیں

ـ 22 فروری ، 2011
لیبیا میں صدر قذافی مخالف مظاہروں اور حکومت کی طرف سے تشدد میں تیزی آگئی ہے اور لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں ہفتہ کے روز مارے جانیوالے درجنوں افراد کی نماز جنازہ کے موقع پر لاکھوں افراد نے احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ فوج نے بھاری ہتھیاروں سے مظاہرین کو نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں مزید درجنوں افراد کی ہلاکتیں ہوئیں۔ صدر قذافی مخالف مظاہرین میں ہلاک ہونیوالے لیبیئن باشندوں کی تعداد تین سو تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ لیبیا کے حکام نے غیرملکی صحافیوں کو لیبیا میں آنے کی اجازت نہیں دی‘ شہر میں اس وقت افراتفری کا سماں ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق عمارتوں کی چھتوں پر موجود فوجی نشانہ باز مظاہرین پر گولیاں چلا رہے ہیں‘ جبکہ مظاہرین سڑک پر موجود فوجیوں کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہیں۔ بی بی سی کے مطابق قذافی حکومت مشرقی شہروں البیفا اور بن غازی کا کنٹرول کھو چکی ہے‘ جبکہ فوج اور پولیس کے اہلکار بھی مظاہرین میں شامل ہو رہے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے قذافی حکومت کی جانب سے اپنے شہریوں پر خونی تشدد کو خوفناک قرار دیا اور یہ معاملہ یورپی یونین کے اجلاس میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے جبکہ ترکی نے ان واقعات کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔
اپنے مفادات کی اسیر عرب ریاستوں کی بادشاہتوں اور آمریتوں کیخلاف تبدیلی کی جو لہر تیونس میں شروع ہوئی تھی‘ وہ انقلاب تیونس پر منتج ہونے کے بعد انقلاب مصر کی نوید لائی اور اب تبدیلی کی یہ لہر لیبیا‘ بحرین‘ یمن اور مراکش میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظر آرہی ہے۔ لیبیا کے صدر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے گزشتہ روز سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مظاہروں میں بیرونی عناصر ملوث ہیں‘ جو تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انکے بقول لیبیا‘ تیونس یا مصر نہیں ہے‘ جبکہ انہوں نے مظاہرین کی جانب سے مشرقی لییا میں کچھ فوجی چھائونیوں اور ٹینکوں پر قابض ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔ اگرچہ وہ لیبیا کے حالات کی تیونس اور مصر کے حالات سے مطابقت نہ ہونے کے داعی ہیں‘ تاہم اس وقت لیبیا میں مظاہرین پر تشدد کے ردعمل میں جو فضا بنی نظر آرہی ہے‘ وہ قذافی حکومت کیلئے تیونس اور مصر سے بھی بدترین صورتحال کی غمازی کر رہی ہے اور کوئی بعید نہیں کہ گزشتہ بیالیس سال سے یکا و تنہا اقتدار پر براجمان صدر معمر قذافی کو بھی اپنے اقتدار کا بوریا بستر لپیٹ کر اپنے خاندان کے ہمراہ تیونس اور مصر کے آمروں ہی کی طرح ملک سے راہ فرار اختیار کرنا پڑے۔ لیبیا کی حکومت کی جانب سے مظاہرین کیخلاف طاقت کے استعمال کے ردعمل میں عرب لیگ میں لیبیا کے نمائندے عبدالمنعم الہونی اپنے منصب سے مستعفی ہو چکے ہیں جبکہ بھارت میں تعینات لیبیا کے سفیر نے بھی حکومتی تشدد کیخلاف احتجاجاً مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ کرنل قذافی کے بیٹے سیف الاسلام سٹیٹ مشینری کے سامنے ڈٹے ہوئے مظاہرین کے عزائم کو بھانپ کر ہی لیبیا میں اصلاحات اور جمہوریت نافذ کرنے کا وعدے کر رہے ہیں جو ایک طرح سے لیبیئن حکومت کی پسپائی کا ثبوت ہے جبکہ عرب ریاست بحرین کے مطلق العنان حکمران کو بھی مظاہرین کے بڑھتے ہوئے دبائو کے پیش نظر ایسے ہی حالات کا سامنا ہے۔ یہ مظاہرین بحرین کے دارالحکومت مناما کے مرکزی چوک پرل سکوائر میں جمع ہیں اور وزیراعظم سے اقتدار چھوڑنے کا تقاضہ کر رہے ہیں۔ بحرین کے ولی عبدالشیخ سلمان بن حماد الخلیفہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ بحرینی حکومت عوام کے کچھ بنیادی مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہی ہے‘ جبکہ مظاہرین تبدیلی کا عزم راسخ لئے پرل سکوائر میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔
اسی طرح عرب ریاست یمن میں جمہوریت نواز مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کے بقول ملک میں بے روزگاری اور غربت کے نام پر حکومت کیخلاف ہونیوالے مظاہرے درحقیقت بیرونی اشاروں پر ملک کو غیرمستحکم کرنے کی سازش ہے۔ ادھر مراکش میں بھی شاہ محمد ششم کیخلاف ہزاروں افراد کا احتجاج جاری ہے۔
عرب ریاستوں میں شروع ہونیوالے پرتشدد مظاہروں میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے امکان کو یقیناً مسترد نہیں کیا جا سکتا مگر کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ عرب ریاستوں میں سالہا سال سے جاری مطلق العنانیت‘ بادشاہتوں اور آمریتوں سے وہاں کے عوام جس گھٹن کا شکار تھے اور اپنے حکمرانوں کی لوٹ مار اور دولت سمیٹنے کی ہوس کے مقابلہ میں اپنی حالت زار کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے لئے جس بے بسی کو محسوس کرتے تھے‘ وہی سوچ مطلق العنانیت کے ماتحت عرب ریاستوں میں تبدیلی کی لہر کا باعث بنی ہے اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے اس دور میں نیٹ اور موبائل سروس کے ذریعے پیغام رسانی اس لہر کو منظم تحریک میں بدلنے کیلئے انتہائی موثر ثابت ہوئی ہے جبکہ تیونس اور مصر کے مطلق العنان حکمرانوں کی جانب سے اس منظم عوامی تحریک کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونے کی صورتحال اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ عمر بھر کے اقتدار کے عزائم رکھنے اور اس کیلئے ریاستی مشینری کے ذریعے جبر کے ہر ہتھکنڈے اور حربے کو بروئے کار لانے والے مطلق العنان حکمران بزعم خویش خود کو کتنا ہی طاقتور اور مضبوط کیوں نہ سمجھتے ہوں اور ریاستی مشینری کی طاقت پر انہیں کتنا ہی اعتماد کیوں نہ ہو‘ عوامی بیداری کی پرعزم تحریک کے سامنے وہ زیادہ دیر تک جم کر کھڑے نہیں رہ سکتے اور عوام پر مزید تشدد سے ہاتھ کھینچنے والی ریاستی مشینری ہی انکے اقتدار کے پائوں اکھاڑنے کا باعث بن جاتی ہے۔ سالہا سال تک اقتدار پر براجمان رہنے اور اپنے بعد اپنی آل اولاد کو بھی مسند اقتدار پر بٹھانے کی منصوبہ بندی کرنیوالے عرب ریاستوں کے حکمرانوں کو اس صورتحال کا خود ہی ادراک کر لینا چاہیے تھا کہ ظلم کی حکومت تازندگی قائم نہیں رہ سکتی۔
اگر مغربی ممالک کے عوام جمہوریت کے ثمرات سے مستفید ہو رہے ہیں تو جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ایک دائرے میں سمٹ آنیوالی گلوبل ورلڈ کے کسی بھی خطے میں آباد کوئی بھی انسان جمہوریت کے ان ثمرات سے بے بہرہ یا لاعلم نہیں رہ سکتا۔ بالخصوص مطلق العنان حکمرانوں میں تو سٹیٹ مشینری کے ہاتھوں پسے‘ کچلے ہوئے مظلوم و مقہور انسانوں کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی بدولت جمہوریت کے ثمرات سے فیضاب ہونیوالے انسانوں کے طرزِ زندگی کا مشاہدہ کرکے اپنی محرومیوں کا کچھ زیادہ ہی احساس ہوتا ہے‘ اس تناظر میں عرب ریاستوں کے عوام میں یہ احساس زیادہ شدت کے ساتھ اس لئے اجاگر ہوا کہ جمہوریت کا تصور دین اسلام سے ہم آہنگ ہے‘ اس لئے مسلم بادشاہتوں اور آمریتوں میں اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہونے اور روٹی روزگار کی خاطر راندۂ درگاہ بننے والے انسانوں میں جمہوریت کی تڑپ زیادہ شدت کے ساتھ پیدا ہونا فطری امر تھا۔ چنانچہ تبدیلی کی لہر میں عرب ریاستوں میں آج جس نئے سیاسی کلچر کی نشوونما ہو رہی ہے‘ وہ دنیا کے ہر خطے میں مطلق العنانیت اور آمریتوں کے خاتمہ کی نوید بن سکتا ہے۔ آج عرب ریاستوں میں مطلق العنان حکمرانوں کے طویل اقتدار کا سورج ڈوبتا نظر آرہا ہے تو کل سلطانیٔ جمہور کے نام پر شخصی آمریت کو رائج کرنے اور فروغ دینے والے ہمارے حکمرانوں کو بھی ایسے حالات کا سامنا ہو سکتا ہے اس لئے انہیں تیونس‘ مصر‘ لیبیا‘ بحرین‘ یمن اور دیگر عرب ریاستوں کے ڈکٹیٹر حکمرانوں کیلئے پیدا ہونیوالی صورتحال سے ابھی سے عبرت حاصل کرلینی چاہیے۔ یہ درحقیقت ہر قسم کی مطلق العنانیت کیخلاف قدرت کی طرف سے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ہوش کے ناخن لیجئے اور وسائل سے محروم کئے گئے اپنے عوام کی حالتِ زار تبدیل کرنے کی جانب توجہ دیجئے۔ انہیں سلطانی ٔ جمہور کے ثمرات سے فیضیاب کیجئے‘ ورنہ مطلق العنان حکمرانوں کے چالیس چالیس سالہ اقتدار کے نیچے سے اقتدار کا قالین کھسک رہا ہے تو سلطانی ٔ جمہور کے نام پر مطلق العنان بننے والے حکمرانوں کے پائوں کیسے جم سکتے ہیں‘ ہر عقلمند را اشارہ کافی است۔
ذوالفقار مرزا
ملک کو خانہ جنگی کی طرف نہ دھکیلیں
وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا نے مسلم لیگ (ن) کیخلاف نیا محاذ کھولتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان کیخلاف اعلان جنگ کرتا ہوں، پنجاب حکومت ہمیں دھکے دیکر نکالنا چاہتی ہے، پنجاب میں ہم پر غیر جمہوری وار کیا گیا تو سندھ میں مسلم لیگ کا کوئی دفتر نہیں چھوڑیں گے۔2008ء کے انتخابات کے بعد میاں نواز شریف اور صدر آصف زرداری نے جمہوریت کی بقا کیلئے اکٹھے چلنے کا عہد و پیماں کیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے جب دیکھا کہ انکے مطالبات پر پیپلز پارٹی پورا نہیں اتر رہی ‘ وعدوں اور معاہدوں سے مکر گئی تو (ن) لیگ نے وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ مسلم لیگ (ن) جس دن وفاقی حکومت سے الگ ہوئی تھی اصولی طور پر پیپلز پارٹی کو پنجاب حکومت سے اسی دن الگ ہو جانا چاہئے تھا لیکن پی پی وزراء اپنے مفادات کی خاطر آنکھیں بند کر کے پنجاب حکومت سے چمٹے رہے۔ مسلم لیگ (ن) نے وفاقی حکومت کی لوٹ مار، کرپشن، کمیشن کو سامنے رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی کو 10 نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔ اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور جے یو آئی کی وفاقی حکومت سے علیحدگی کے بعد وزیراعظم نے امنا و صدقنا کہتے ہوئے 10 نکاتی ایجنڈے کو قبول کیا اور 45 روز میں تمام امور پر کام مکمل کرنے کی یقین دہانی کروائی لیکن آج 45 روز مکمل ہونے تک تمام امور پر معاملہ جوں کا توں ہے‘ ایک قدم بھی پیش رفت نہیں ہوئی۔اس سے بڑھ کر وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا نے ایک اور محاذ کھول لیا ہے کہ اگر ہمارے وزراء کو الگ کیا گیا تو کراچی سے کشمور تک (ن) لیگ کے دفتر اکھاڑ پھینکیں گے۔ انہی موصوف نے بے نظیر بھٹو کی شہادت پر کہا تھا کہ ہم پاکستان توڑنے کیلئے نکل کھڑے تھے کہ آصف زرداری نے ہمیں روک لیا۔ آج پھر وہ ایسے طرز عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کے باعث ملک میں انتشار پیدا ہو۔ (ن) لیگ کو پنجاب میں اکثریت حاصل ہے، اسکی مرضی جس کو اقتدار میں رکھے جسے نکالے۔ ذوالفقار مرزا کو 90ء کی دہائی والی سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ اب حالات تبدیل ہو چکے ہیں ایسی فضا پیدا کرنے سے ملک و قوم کا نقصان ہوگا۔ صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی مفاہمت کی فضا برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ذوالفقار مرزا کو بے سمت پرواز کی اجازت نہ دیں‘ ان کو کنٹرول میں رکھیں۔ انہوں نے پہلے ایم کیو ایم سے راستے جدا کئے تھے پھر نائن زیرو جانے پر سلسلہ ختم ہوا۔ سیاسی صورتحال بڑھکوں کی متحمل نہیں ہو سکتی، سنجیدگی اختیار کرنے میں ملک و قوم کے ساتھ ساتھ پی پی کا بھی فائدہ ہوگا۔ بہتر ہے پیپلز پارٹی پنجاب حکومت سے نکالے جانے کی شرمندگی سے بچنے کیلئے خود ہی حکومت سے الگ ہو جائے۔
ڈرون حملے پھر شروع
حکمران قومی غیرت کا مظاہرہ کریں
تین ہفتوں کی طویل خاموشی کے بعد امریکی ڈرونز نے پھر حملہ کر دیا‘ جس سے جنوبی وزیرستان میں چھ افراد جاں بحق ہو گئے۔ ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو افراد کی ہلاکت کے بعد یہ پہلا ڈرون اٹیک ہے۔
امریکہ نے پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی‘ بچوں اور عورتوں سمیت لاکھوں بے گناہ انسانوں کو خاک اور خون میں نہلادیا۔ دیہات کے دیہات صفحۂ ہستی سے مٹا دیئے‘ پہاڑوں تک کو بمباری کرکے ریزہ ریزہ کر دیا۔ بعض علاقوں میں انسانی حیات اور نباتات کا نشان تک مٹ گیا۔ پھر یہ جنگ پاکستان میں بھی در آئی۔ امریکہ نے پاکستانی مدرسوں پر بمباری کی‘ ہیلی کاپٹروں میں آکر نیٹو افواج نے زمینی اپریشن کئے اور ڈرون حملوں کو معمول بنالیا۔ گزشتہ اور موجودہ حکمرانوں کی بزدلی کے باعث یہاں ڈرون حملوں میں ہزاروں بے گناہ انسان مارے گئے‘ وہیں ان حملوں کے انتقام میں خودکش حملوں نے بھی پورے ملک میں دہشت اور وحشت کی فضا پیدا کر دی۔ عام آدمی سڑکوں‘ بازاروں‘ گلیوں میں محفوظ ہوتا ہے‘ گھروں اور عبادت گاہوں میں محفوظ نہیں ہے‘ پولیس اور حساس ادارے تو قلعہ نما عمارتوں اور سات پردوں میں بھی حملوں کا نشانہ بن جاتے ہیں‘ جنگ کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہیں‘ گزشتہ روز نیٹو اور افغان فورسز نے افغانستان میں مشترکہ اپریشن کے دوران 29 خواتین اور 20 بچوں سمیت 64 افراد کو بھون کر رکھ دیا۔ یہ حقیقت اب اظہر من الشمس ہے کہ امریکہ افغانستان میں تمام تر ظلم و جبر کے باوجود ذلت آمیز شکست سے دوچار ہے۔ کیا وہ اب جاتے جاتے افغانوں کی نسل تک کو ختم کرنا چاہتا ہے؟ بہتر ہے کہ وہ نوشتہ دیوار پڑھ لے اور اپنے زیادہ سے زیادہ فوجیوں کو تابوتوں میں بند کرکے لے جانے کے بجائے زندہ سلامت لے جائے۔ پاکستانی حکمرانوں کو بھی ڈرون حملے رکوانے کیلئے اسی طرح قومی غیرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے‘ جس طرح ریمنڈ کو امریکہ کے حوالے نہ کرکے فی الحال کیا ہے۔ پاکستان کی حدود میں داخل ہونیوالا ہر ڈرون مار گرایا جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں