بھارتی امداد کی قبولیت.... امریکی غلامی میں قومی غیرت کا سودا نہ کریں

ـ 22 اگست ، 2010
حکومت پاکستان نے امریکی دبائو کے نتیجہ میں بھارت کی جانب سے سیلاب زدگان کیلئے پچاس لاکھ ڈالر فراہم کرنے کی پیشکش قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے‘ یہ اقدام اس وقت کیا جا رہا ہے‘ جب بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو دبانے کیلئے تمام تر ریاستی طاقت استعمال کر رہا ہے اور کشمیری بھائیوں کا قربانیاں دینے کے باوجود عزم لازوال ہے اور وہ خود اپنے نصب العین کی منزل کے قریب سمجھ رہے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جو ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں‘ بھارتی ٹی وی چینل ’’این ڈی ٹی وی‘‘ سے انٹرویو میں یہ انکشاف کیا کہ پاکستان نے بھارت کی امداد قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی پیشکش انکے ہم منصب بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے ان سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران کی‘ جبکہ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کو فون کرکے امداد کی پیشکش کی تھی‘ ہمارے بے غیرت وزیر خارجہ نے سیلاب زدگان کیلئے امداد دینے کے بھارتی فیصلہ کو خوش آئند بھی قرار دیا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس انٹرویو کو خوب اچھالا اور اس پر مختلف پیرائے میں تبصرے بھی کئے۔
قبل ازیں حکومت پاکستان نے بھارت کی جانب سے امداد کی پیشکش پر فوری ردعمل کا اظہار نہیں کیا تھا‘ تاہم جب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کو یہ باور کرایا گیا کہ وہ بھارت کی امداد قبول کرلے اور اسے سیاسی ایشو نہ بنائے‘ وزیر خارجہ نے اگلے ہی روز بھارتی امداد کی پیشکش قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔ امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے پاکستان کی جانب سے بھارتی امداد قبول کرنے کا خیرمقدم کیا اور کہا ہے کہ بھارتی پیشکش قبول کرنا دونوں ممالک کے تعلقات میں اچھی پیشرفت ہے‘ لیکن کس طرف؟
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب‘ جہلم اور سندھ اور افغانستان میں مقیم بھارتی انجینئرز نے دریائے کابل میں زیادہ پانی چھوڑنے کے نتیجہ میں ہی پاکستان میں سابقہ اور موجودہ صدی کا سب سے بڑا اور خوفناک سیلاب آیا ہے‘ جس کی تباہ کاریاں اس وقت بھی جاری ہیں اور یو این سیکرٹری جنرل بانکی مون نے سیلاب کی تباہ کاریوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرکے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کا سیلاب سونامی‘ قطرینہ اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں 2005ء کو آنیوالے زلزلے سے بھی زیادہ تباہی کا باعث بنا ہے۔ وہ اسی بنیاد پر عالمی برادری سے پاکستان کی دل کھول کر مدد کرنے کی اپیل کررہے ہیں اور ان کی یہ اپیل موثر بھی ثابت ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں بجائے اسکے کہ اپنے شاطر اور مکار دشمن بھارت کی امداد کی پیشکش قبول کی جائے‘ عالمی برادری کو تو ہماری جانب سے بھارت کا مکروہ چہرہ دکھایا جانا چاہیے‘ جو بغل میں چھری منہ میں رام رام کے فلسفے کی بنیاد پر ہمیں جھانسہ دے کر ہماری سالمیت پر وار کرنے کی مذموم منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔ اس وقت اصل ضرورت تو ہمیں ڈبونے کے بھارتی جرم سے پردہ ہٹانے کی ہے‘ چہ جائیکہ اسکی حقیر امداد قبول کرکے اس امداد کے بہانے اسے ہماری سرزمین پر اپنی سازشوں کے مزید جال بچھانے کا موقع فراہم کیا جائے‘ یہ صورتحال ہماری قومی غیرت کے تقاضوں کے بھی منافی ہے کہ جس ظالم دشمن کے ہاتھوں ہم برباد ہو رہے ہوں‘ اسی کے ہاتھوں امداد کے نام پر زہر بھی پھانکنا شروع کر دیں۔
ایک جانب تو حکومت شدومد سے دعوے کرتی ہے کہ ہم امریکی ڈکٹیشن قبول کرتے ہیں‘ نہ اس پر عمل کرتے ہیں‘ بلکہ ہم اپنے ملکی اور قومی مفادات کے تقاضوں کے تحت اقدامات بروئے کار لاتے ہیں مگر دوسری جانب امریکی ترجمان کی جانب سے ہمیں ہلکا سا اشارہ ملتا ہے کہ بھارتی امداد قبول کرلی جائے اور ہمارے وزیر خارجہ امریکہ میں بیٹھ کر اس اشارے پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے نہ صرف بھارتی امداد کی پیشکش قبول کرنے کا اعلان کرتے ہیں بلکہ تضحیک کے لبادے میں لپٹی ہوئی اس پیشکش کی ستائش بھی کرتے ہیں…ع… ’’اے کشتۂ ستم تیری غیرت کو کیا ہوا‘‘
کیا پچاس لاکھ ڈالر کی امداد ان زخموں پر پھاہے رکھ سکتی ہے جو اسی بھارت کے ہاتھوں ہم گزشتہ 64 برس سے کھا رہے ہیں‘ وہ تو شروع دن سے ہماری سالمیت کے درپے ہے‘ کشمیر پر غاصبانہ تسلط جمانے کے بعد ایک گھنائونی سازش کے تحت 1971ء میں پاکستان کو دولخت بھی کر چکا ہے اور اب باقیماندہ پاکستان کو کاٹنے اور نگلنے کیلئے بے تاب ہے۔ اسی نیت اور ارادے کے تحت اس نے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیکر ہماری اس شہ رگ کو اپنے خونیں پنجے میں دبوچ رکھا ہے اور ظلم و جبر کا ایسا کوئی ہتھکنڈہ نہیں ہوگا‘ جو اس نے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو دبانے اور جہاد کشمیر کو دہشت گردی تسلیم کرانے کیلئے استعمال نہ کیا ہو‘ پہلے اس نے سندھ طاس معاہدے کے قطعی برعکس ہماری جانب آنیوالے دریائوں پر 62 سے زائد ڈیم تعمیر کرکے ہمارے حصے کا پانی روکا اور اس طرح اس نے ہمیں قحط سالی کا شکار کرکے صومالیہ اور ایتھوپیا کے حالات سے دوچار کرنے کی سازش کی اور جب اس نے ڈیموں کے پونڈز میں بارشوں کا پانی ذخیرہ کرکے اپنی پانی کی ضرورت پوری کرلی تو سارا فالتو پانی اس نے ہماری جانب چھوڑ دیا جس کے نتیجہ میں ملک کے تمام صوبے تباہ کن سیلاب کی زد میں آگئے۔ اس لئے جو بھارت پانی بند کرکے بھی ہماری تباہی کا اہتمام کرتا ہے اور پانی چھوڑ کر بھی ہماری بربادی کا نظارہ کرتا ہے‘ وہ اپنی ہی جانب سے توڑی گئی مصیبت پر ہمارا ہمدرد اور خیرخواہ کیسے ہو سکتا ہے اس لئے اسکی امداد کی پیشکش ریاکاری سے زیادہ ہماری سالمیت کیخلاف اسکی کوئی دوسری گھنائونی سازش نظر آتی ہے۔ ہمیں تو اسکی سازشوں اور چالبازیوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے چہ جائیکہ کہ ہم اسکی حقیر امداد قبول کرکے اسکے مزید ٹریپ میں آئیں۔
آج ہم امریکہ کے کہنے پر بھارت کی امداد قبول کر رہے ہیں تو کل امریکہ ہم سے یہ تقاضہ بھی کریگا کہ اس امداد کی تقسیم کیلئے بھارت کو اپنے آدمی بھجوانے کی بھی اجازت دیدی جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمران طبقہ کی کرپشن اور امدادی رقوم ہڑپ کرنے کی داستانوں کی وجہ سے بیرونی ممالک ہمیں امداد دینے کے معاملہ میں مختلف تحفظات کا شکار ہیں‘ چنانچہ بھارت بھی ہمارے بارے میں پیدا شدہ بداعتمادی کی اس فضا سے فائدہ اٹھا کر اپنی امداد اپنے آدمیوں کے ذریعہ تقسیم کرنے کا تقاضہ کر سکتا ہے‘ جس سے اسے امداد کی تقسیم کے بہانے اپنے تربیت یافتہ دہشت گرد ہماری سرزمین میں داخل کرنے کا موقع مل سکتا ہے اس لئے ہمیں اپنے ظالم دشمن کی جانب سے زہر میں بجھی ہوئی امداد قبول کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے‘ جبکہ یہ امداد بھی وہ اے این پی کو خوش کرنے کیلئے فراہم کر رہا ہے جو کالاباغ ڈیم کی تعمیر نہ ہونے دینے کی بھارتی سازشوں کی شریک کار ہے۔ اگرچہ اس کا صوبہ بھی دریائے کابل کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔
یہ طرفہ تماشہ ہے کہ ملک کی سالمیت کا درد رکھنے والی اس تنظیم جماعت الدعوۃ کو جس کی اکتوبر 2005ء کے زلزلہ میں امدادی سرگرمیوں پر اقوام متحدہ بہترین کارکردگی کا سرٹیفکیٹ جاری کر چکی ہے‘ سیلاب زدگان کی امداد کیلئے کیمپ لگانے سے روکا جا رہا ہے اور وزیر اعلیٰ سرحد امیر حیدر خان ہوتی امدادی کارروائیوں میں مصروف اس سماجی تنظیم کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کا حکم صادر کر رہے ہیں مگر ملک کی سالمیت کے درپے بھارت کی معمولی سی امداد سپاس گزاری کیساتھ قبول کی جا رہی ہے جبکہ یہی بھارت ہمارے ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا باعث بنا ہے۔ اس صورتحال میں بہتر یہی ہے کہ بھارت کی امداد کے ٹکڑے پائوں کی ٹھوکر مار کر اسے واپس بھجوا دیئے جائیں اور اگر ابھی تک یہ اسکی محض پیشکش ہے تو اسے کسی صورت قبول نہ کیا جائے۔ بے شک ملک اور قوم اس وقت مصیبت کا شکار ہے‘ مگر قوم میں اتنی ہمت ہے کہ وہ دشمن کی بھیک قبول کئے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے اور ویسے بھی جب پوری عالمی برادری ہماری مدد کر رہی ہے‘ ہمیں اپنے گھٹیا دشمن سے خیرات کے ٹکڑے لینے کی کیا ضرورت ہے‘ حکمرانوں کو امریکی غلامی میں قومی غیرت کا سودا تونہیں کرنا چاہیے۔ زرداری صاحب! آپ مردِ حر ہیں‘ مردِحر بنیئے!
کالاباغ ڈیم وقت کی اہم ضرورت
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم جیسے منصوبے کو متنازعہ بنانا کسی بڑے المیے سے کم نہیں۔ قومی منصوبہ پر قومی جذبہ کو بروئے کار لانا چاہیے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے مشاورتی عمل شروع کرنا ہو گا‘ یہ کام پیپلز پارٹی کر سکتی ہے۔
دیر آید درست آید‘ گورنر پنجاب کو اگر اب بھی قومی مفاد کے اس منصوبے پر عمل کرنے کی سوجھی ہے تو بہت اچھی بات ہے‘ گورنر اپنی قیادت کو اس عظیم منصوبے پر قومی اتفاق رائے کے پیدا کرنے کیلئے مشاورتی عمل شروع کرنے کا کہیں۔ جہاں مون سون کی بارشوں کا پانی ڈیم میں سما جائیگا‘ وہیں اس سے چھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی اور اسی طرح لوڈشیڈنگ کے عذاب سے بھی قوم کو نجات مل جائیگی۔
واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک نے کہا ہے کہ آج اگر پاکستان میں کالاباغ ڈیم تعمیر کیا گیا ہوتا تو صوبہ خیبر پی کے میں سیلاب اتنی تباہی نہ پھیلاتا۔ انہوں نے کہا کہ مجید نظامی نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں آواز اٹھا کر قومی امنگوں کی ترجمانی کی ہے۔ حکمران آخر جھوٹ کی سیاست کیوں کر رہے ہیں‘ انکے غلط فیصلوں کی عوام سزا بھگت رہے ہیں‘ کسی بھی چیز میں مخالفت برائے مخالفت اچھی نہیں ہوتی‘ دوسروں کے دلائل سن کر اپنی غلطی کو تسلیم کرنا ہی بڑا پن ہوتا ہے‘ کالاباغ ڈیم کی مخالف لابی صاحب علم لوگوں کے پاس آکر اسکی افادیت کو سمجھنے کی کوشش کرے کیونکہ نوشہرہ تو کالاباغ ڈیم سے تقریباً 165 فٹ بلندی پر واقع ہے‘ یہ بات کیسے ممکن ہے کہ دریائے سندھ کا پانی نوشہرہ کو نقصان پہنچائے گا۔ موجودہ سیلاب نے یہ بات ثابت بھی کر دی ہے کیونکہ نوشہرہ کو دریائے سندھ نے نہیں‘ دریائے کابل نے ڈبویا ہے۔ خدارا! قومی ترقی کے ضامن کالاباغ ڈیم کو متنازعہ بنا کر سیاست کی نذر نہ کیجئے‘ اس اہم قومی ایشو پر عوامی آراء کیلئے نوائے وقت قومی ریفرنڈم کروا رہا ہے‘ عوام الناس اس ریفرنڈم میں بھرپور حصہ لیں اور پھر حکومت دیانت داری کے ساتھ عوامی فیصلے کے مطابق اس قومی منصوبے پر کام شروع کر دے۔
حکومت جعفر آباد کو ڈبونے کی انکوائری کروائے
ڈپٹی چیئر مین سینٹ جان محمد جمالی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ایک نیا دریائے سندھ چل پڑا ہے حکومت نے صرف ڈالروںکیلئے امریکی شہباز ائیر بیس کو بچایا اور سارے جعفر آباد کو ڈبودیا عوام سے حقائق چھپائے جارہے ہیں۔حکومت کو پاکستانی عوام سے زیادہ تو امریکی عزیز ہوئے جن کے مفادات کی جنگ وہ اپنے عوام کو ڈبو کر لڑ رہی ہے ووٹ عوام سے، تنخواہیں عوام کے پیسے سے اور دیگر عیش وعشرت بھی عوام کے سر پر ،لیکن چاپلوسی امریکہ کی یہ حکمرانوں کی دوغلی پالیسی اور منافقت نہیں تو اور کیا ہے۔ اسی طرح جیکب آباد ائر بیس پر کسی طیارے کو امدادی سامان لیکر اترنے کی اجازت نہیں دی جارہی سیلاب زدگان کھانا اور ادویات نہ ملنے کے باعث تڑپ تڑپ کر جانیں دے رہے ہیں اور ان پر اپنا ہی ملک غیر بن چکا ہے، جعفر آباد میں زیادہ پانی پھیلنے کے باعث ریلیف کیمپ لگانے کی بھی جگہ موجود نہیں ہے۔ بلوچستان میں وفاق مخالف جذبات پہلے ہی گھمبیر صورتحال اختیار کرچکے ہیں حکومت کی رٹ پہلے ہی قائم نہیں اب سیلابی ریلے کا رخ اسکی جانب موڑ کر حکومت نے وفاق مخالف جذبات کو ایک اور دلیل دیدی ہے۔ایسے اقدامات سے ملک کے مستقبل پر کیا اثر پڑیگا۔ سابق وزیراعظم ظفر اللہ جمالی نے بھی انہی خدشات کا اظہارکیا تھا۔ اور اب ڈپٹی چیئرمین سینٹ بھی اپنی حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں حکومت کو اس معاملے میںاعلیٰ سطح انکوائری کروانی چاہئے اور اس میں ملوث افراد کو سخت سزا دینی چاہئے کیونکہ یہ پاکستان کی خود مختاری کا سوال ہے اور ایسے معاملے خود مختاری پر حملے کے مترادف ہیں۔
شرمناک سانحہ
سیالکوٹ میں دو بھائیوں کی دیہاتیوں کے ہاتھوں ہلاکت کا سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او‘ ایس پی انویسٹی گیشن سیالکوٹ کیخلاف کارروائی کا حکم دیدیا جبکہ وزیر اعلیٰ نے انہیں او ایس ڈی بنا دیا اور انکی ہدایت پر اس سانحہ کے پانچ ملزمان گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ سیالکوٹ میں پولیس کی موجودگی میں لوگوں نے دو بھائیوں حافظ مغیث اور محمد منیب کو ڈنڈے مار مار کر ہلاک کرکے انکی لاشیں لٹکا دیں جبکہ پولیس اہلکار پاس کھڑے چپ چاپ یہ ظالمانہ کارروائی دیکھتے رہے اور کوئی ایکشن نہیں لیا۔ لوگوں کا یوں قانون ہاتھ میں لے لینا کسی مہذب معاشرے کیلئے ڈوب مرنے کا مقام ہے اور قانون کے محافظوں کا تماشہ دیکھتے رہنا ستم بالائے ستم ہے۔ یہ تو بھلا ہو سپریم کورٹ کا کہ اس نے اس واقعے کا سختی سے نوٹس لیا‘ یہ ایک کربناک سانحہ ہے کہ اس میں عوام اور پولیس دونوں شامل ہیں۔ آخر ایسے حالات پیدا ہی کیوں ہوتے ہیں کہ لوگوں نے قانون ہاتھ میں لے کر دو بھائیوں کو مار ڈالا اور انکی لاشیں لٹکا دیں۔ اگر انہوں نے کوئی جرم کیا بھی تھا تو انہیں سزا دینے کا یہ طریقہ اختیار کرکے ہر شخص کو قانون ہاتھ میں لینے اور کسی کو بھی مجرم بنا کر قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے کی راہ سمجھائی گئی ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران نے چاہا کہ اس واقعہ کو رفع دفع کیا جائے مگر اخباری رپورٹ پر سپریم کورٹ نے ایکشن لے لیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کسی مہذب معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا‘ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس خواجہ شریف نے بھی اس واقعہ کے بارے میں پولیس رپورٹ مسترد کر دی جبکہ شہباز شریف نے اہلکاروں سمیت تمام ملزمان گرفتار کرنے کا حکم دیدیا۔ اگر ملک میں اسی طرح لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لیتے رہے اور پولیس تماشہ دیکھتی رہی تو یہ معاشرہ جنگل میں تبدیل ہو جائیگا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter