سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ اور ممکنہ حکومتی ردعمل...... محض اعلان نہ کریں‘ عدلیہ کے احترام کو یقینی بنائیں

ـ 21 جنوری ، 2010
سپریم کورٹ نے این آر او کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں قرار دیا گیا ہے کہ صدر کی اہلیت کو ان کے منتخب ہونے کے بعد بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے اور فوجداری مقدمات سیاسی مفاہمت کے نام پر ختم نہیں کئے جا سکتے۔ 287 صفحات پر مشتمل اس فیصلہ میں فلپائن کے صدر مارکوس کے بیرون ملک 635 ملین ڈالرز کے اثاثوں اور نائیجریا کے صدر کے 22 ملین ڈالرز کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ کس طرح ان دونوں ممالک کی حکومتوں نے یہ رقوم واپس منگوائیں۔ اس تناظر میں عدالت نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے بیرون ملک مقدمات کی بحالی کا بھی حکم دیا ہے اور حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ سوئس مقدمات کی بحالی کیلئے سوئس کورٹ کو درخواست دے۔
دوسری جانب صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ آزاد عدلیہ پر یقین رکھتے ہیں اور عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔ گذشتہ روز گورنر ہائوس لاہور میں وسیلہ حق پروگرام کی چوتھی قرعہ اندازی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آئین کے محافظ ہیں اور اداروں کے ساتھ تصادم کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
سپریم کورٹ نے معاشرے میں سرائت کر جانے والی کرپشن، بے ضابطگیوں، اقربا پروری، بددیانتی، بے انصافی کے تدارک اور کرپشن کلچر کی وجہ سے عدلیہ سمیت ہر ملکی و قومی ادارے میں پیدا ہونے والے گند کی صفائی کیلئے جس عزم کا اظہار کیا ہے این آر او کیس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر اس کی روح کے مطابق عمل کرکے نہ صرف قانون و انصاف کی علمداری کو یقینی بنایا جا سکتا ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ دور کرکے ملک کا مستقبل بھی سنوارا جا سکتا ہے اور سسٹم پر لوگوں کا اعتماد بھی بحال کیا جا سکتا ہے۔ یقیناً عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ ایک واضح گائیڈ لائن ہے جس کی روشنی میں لاقانونیت، بے ضابطگیوں، ادارہ جاتی اور حکومتی بداعمالیوں، قومی دولت اور وسائل کی لوٹ مار اور کرپشن کے آگے بند باندھ کر اس معاشرے کو شفاف بنایا جا سکتا ہے جبکہ اس فیصلہ پر مکمل عملدرآمد کرا کے گڈگورننس کی بنیاد بھی مضبوط کی جا سکتی ہے اور موجودہ اور آنے والے حکمران طبقہ کو خبردار کیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی قانون اور آئین کی شق کی بنیاد پر احتساب سے بالاتر نہیں ہیں نہ اقتدار ان کے لئے پھولوں کی سیج ہے۔ اس فیصلہ میں وہ پیرامیٹرز بھی متعین کر دئیے گئے ہیں جن کے تحت حکمران اور بااختیار طبقہ کی جانب سے سرکاری خزانے اور قومی وسائل کی لوٹ مار کے ذریعہ حاصل کی گئی اور بیرون ملک منتقل کی گئی رقوم واپس لی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ ہر حوالے سے ملک، حکومت، مملکت اور معاشرے کی اصلاح کے لئے ممدومعاون اور مشعل راہ ہو سکتا ہے۔ بے شک صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی اور متعدد مواقع پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی عندیہ دیا ہے کہ عدالتی فیصلوں کا ہر صورت احترام کیا جائیگا اور عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس سلسلہ میں حکومت این آر او کیس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کرکے اپنے وعدوں اور اعلانات کی لاج بھی رکھ سکتی ہے اور قانون، آئین اور انصاف کی عملداری کو بھی یقینی بنا سکتی ہے۔ تاہم بدقسمتی سے حکومتی حلقوں کے ممکنہ اقدامات اور عزائم اسکے برعکس ہی نظر آتے ہیں بالخصوص این آر او کیس کے فیصلہ کے بعد عدلیہ کے بارے میں حکمران طبقہ کے بدلے ہوئے تیور اس امر کا اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ ماضی سے سبق سیکھنے کے بجائے اداروں کے ساتھ تصادم کی راہ پر گامزن ہے جس سے اس حکمران طبقہ کے شہید جمہوریت بننے کا تو شائد ہی کوئی موقع بن پائے گا مگر اس سے حکومت ہی نہیں پورے سسٹم کو ضرور ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جرنیلی آمر مشرف کی جانب سے بھی عدلیہ کے احترام اور عدالتی فیصلوں کو لاگو کرنے کے دعوئوں کے برعکس اس آئینی ادارے کو اپنی مرضی کے تابع کرنے کے اقدامات ہی بروئے کار لائے جاتے رہے اور پی سی او کو قبول نہ کرنیوالی اعلیٰ عدلیہ کے تمام معزز ارکان کو بیک جنبش قلم معزول کرکے گھروں میں پابند سلاسل کر دیا گیا۔ اس سے دنیا میں ہمارے وطن عزیز کا آئین و قانون کی حکمرانی کے حوالے سے جو امیج خراب ہوا‘ اب سلطانی ٔ جمہور میں عدالتی فیصلوں کو انکی روح کیمطابق لاگو کراکے اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے اور اگر جرنیلی آمروں والی روش ہی اختیار کی گئی اور کسی نہ کسی سازش سے اپنے ریاستی انتظامی اختیارات کی بنیاد پر عدلیہ کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے سسٹم کی بقاء کی ضمانت دی جا سکے گی‘ نہ ریاستی اداروں میں تطہیر کے شروع کئے گئے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے گا۔ قانون و انصاف کا بول بالا تبھی ہو گا‘ جب حکمران طبقہ اپنے خلاف صادر ہونیوالے فیصلوں پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائے گااور خود کو ان فیصلوں کے تابع کرکے انصاف کے کٹہرے میں لائے گا۔
جہاں تک صدر مملکت کو حاصل آئینی استثنیٰ کا معاملہ ہے‘ اس بارے میں متعلقہ آئینی شق میں کوئی ابہام نہیں ہے اور اسکی رو سے صدر مملکت کو صرف اپنے منصب کے دوران اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی سے متعلق اپنے کسی اقدام پر عدالتی جوابدہی سے استثنیٰ حاصل ہے جبکہ انہیں اپنے ماضی کے اقدامات پر کسی قسم کا آئینی تحفظ حاصل نہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلہ میں اس حوالے سے بھی اب کسی قسم کا ابہام نہیں رہنے دیا اس لئے صدر مملکت اور دیگر حکومتی شخصیات کیخلاف درج جو بھی فوجداری مقدمات این آر او کی بنیاد پر ختم ہوئے تھے‘ وہ اب سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت بحال ہو چکے ہیں‘ جن پر قانون و انصاف کی عملداری کو یقین بنانا اب حکومتی ریاستی اتھارٹی کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ چونکہ متعلقہ سوئس عدالت کی جانب سے پہلے ہی عندیہ دیا جا چکا ہے کہ حکومت پاکستان باضابطہ درخواست دیگی تو اس عدالت میں صدر آصف علی زرداری کیخلاف مقدمات بحال کرکے انکی ازسرنو سماعت شروع کردی جائیگی۔ اس لئے عدالتِ عظمٰی کے فیصلہ کی روشنی میں وفاقی حکومت کو ان مقدمات کی ازسرنو سماعت کیلئے فی الفور سوئس کورٹ سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ عدالتِ عظمٰی کے احکام پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت جن حکومتی شخصیات بشمول صدر مملکت کیخلاف درج مقدمات بحال ہوئے ہیں‘ انہیں اپنے ضمیر کی روشنی میں ازخود فیصلہ کرنا چاہئے کہ ان مقدمات کی آزادانہ‘ غیرجانبدارانہ اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق سماعت کیلئے انہیں اپنے حکومتی ریاستی مناصب پر فائز رہنا چاہئے یا نہیں‘ اگر وہ اپنے مناسب سے الگ ہو کر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرتے ہیں اور ان میں قانون و آئین کی حکمرانی کی بنیاد پر بری ہوتے ہیںتو وہ سرخرو ہو کر اقتدار میں واپس آجائیں گے اور ان پر عوام کا اعتماد بھی بڑھ جائیگا۔ اس لئے بجائے اسکے کہ اداروں کے ساتھ ٹکرائو کی راہ اختیار کی جائے‘ نتیجتاً سسٹم کو پھر ’’ڈی ریل‘‘ ہونے کی جانب دھکیل دیا جائے‘ مناسب یہی ہے کہ صدر مملکت اور وزیراعظم اپنے اعلانات کی لاج رکھتے ہوئے این آر او کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو خوش دلی سے قبول کرلیں اور اس پر عملدرآمد کا آغاز کردیں‘ اس سے وہ قومی ہیرو بن کر آئندہ کیلئے اپنی پارٹی کے اقتدار کو یقینی اور مستحکم بنا سکتے ہیں‘ بصورت دیگر وہ جمہوریت کی بساط پھر سے الٹائے جانے کے عمل سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکیں گے۔
پاک بھارت تعلقات امریکہ دخل اندازی بند کرے
قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے کامرس کے چیئرمین خرم دستگیر نے بتایا ہے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان پر شدید دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ بھارت کو افغانستان کے ساتھ تجارت کیلئے راہداری فراہم کی جائے‘ ویسے بھی امریکی اعلیٰ ترین حکام حکومت پاکستان کو مجبور کر رہے ہیں کہ پاک بھارت تعلقات کو دوستانہ بنایا جائے اور بھارت کی تمام شرائط مان لی جائیں اور خطہ میں دہشت گردی کیخلاف مل کر کام کریں۔
قومی اسمبلی کی کامرس کمیٹی کے چیئرمین خرم دستگیر نے جو کچھ کہا ہے‘ اس میں حقیقت ہے کہ امریکہ ہر طبقے سے بھارتی مفادات کی حفاظت کرنے کیلئے پاکستان کو زیر کرنے کی فکر میں ہے۔ گزشتہ روز امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کیلئے ثالثی کرانے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بھارت سے اختلافات ختم کرنے چاہئیں تاکہ دہشت گردی کیخلاف دونوں ممالک کام کر سکیں۔ بھارت کے ساتھ امریکی رومانس پاگل پن کی حد تک آگے جا چکا ہے‘ امریکہ پاکستان کو بھارت کا ایک طفیلی ملک بنانا چاہتا ہے۔
امریکی پالیسی سازوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ امریکہ کا یہ رویہ انتہائی ناپسندیدہ ہے‘ بھارت اگر پاکستان سے دوستی چاہتا ہے تو پہلے مسئلہ کشمیر حل کرے‘ پاکستان کے ساتھ اپنے اختلافات دور کرنے کیلئے مثبت بنیادوں پر مذاکرات کرے اور امریکی انتظامیہ کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاک بھارت تنازعات حل کرنے کیلئے قراردادیں موجود ہیں‘ بھارت ان پر عملدرآمد سے انکار کر چکا ہے۔ امریکہ ان قراردادوں پر عملدرآمد کرائے‘ خود ماضی میں امریکہ ان قراردادوں کی زبردست حمایت کر چکا ہے۔ ایک طرف پاکستان کو امریکی فرنٹ لائن اتحادی قرار دیتا ہے‘ دوسری طرف اپنے فرنٹ لائن اتحادی کو اپنی اور بھارتی شرائط سے باندھنا بھی چاہتا ہے۔ جو کہ ممکن نہیں ہے۔ امریکہ کو واضح طور پر بتا دیا جائے کہ بھارت کو پاکستان افغانستان کے ساتھ تجارت کیلئے کوئی راہداری نہیں دیگا‘ تاوقتیکہ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل نہ کرے۔ اس کیلئے مذاکرات نہ کرے‘ تمام سرحدی تنازعات طے کئے جائیں۔ پاکستان میں بھارتی دہشت گردی بند کی جائے اور بھارت واشگاف الفاظ میں پاک بھارت اختلافات کو ختم کرنے کا اعلان کرے۔ پاکستانی دریائوں کا پانی روکنے کے تمام منصوبے بند کرے‘ پاکستان کے حصے کا دریائی پانی ریلیز کرے‘ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق رائے شماری دے۔
اگر بھارت اس کیلئے تیار نہیں تو بھارت کو راہداری دینے یا اس سے دوستی کرنے کی پاکستان کو کوئی خواہش نہیں ہے۔ امریکہ بھارت سے دوستی چاہتا ہے تو پاکستان کے ساتھ اپنے اتحادی تعلقات کو بے شک ختم کر دے اور اس خطہ سے اپنا بوریا بستر سمیٹ لے۔ پاکستان افغانستان جیسے برادر ملک کے حالات بہتر کرنے کیلئے انکی مدد کریگا اور بھارت کے جارحانہ عزائم سے خود نپٹ لے گا۔ امریکہ اگر پاک بھارت تعلقات میں ثالثی کیلئے تیار نہیں تو پھر باقی معاملات میں بھی دخل اندازی نہ کرے۔
مسلم خواتین کے نقاب پر ڈنمارک بھی چراغ پا
ڈنمارک کے وزیراعظم لارس لوئیکی راسموسین نے کہا ہے کہ ڈنمارک میں برقعہ اور نقاب پہننے والی مسلم خواتین کیلئے کوئی جگہ نہیں اسلئے حکومت برقعہ اور نقاب پہننے پر پابندی لگانے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ برقعہ اور نقاب کا استعمال ہمارے نزدیک غیر انسانی اور فطرت کیخلاف ہے۔ ڈنمارک ایک اوپن جمہوری معاشرہ ہے اسی لئے ہم ڈنمارک کے معاشرے میں برقعہ اور نقاب اوڑھنے والی خواتین کو نہیں دیکھنا چاہتے۔ ڈنمارک ایسا معاشرہ ہے جہاں انسانوں کو ’’جانوروں جیسے حقوق‘‘ بھی دے دیئے گئے ہیں جن کا مہذب معاشروں میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ نقاب اور برقعہ گرجا گھروں کیلئے زندگی وقف کر دینے والی ننوں کے لباس سے ملتا جلتا ہے اگر اس پر کوئی قدغن نہیں اور وہ کسی کی آزادی میں مخل نہیں تونقاب پر ہی تنقید اور پابندیوں کی بات کیوں کی جاتی ہے اس سے قبل فرانس میں تو برقعہ اوڑھنے کی پاداش میں جرمانہ مقرر کرنے کی قانون سازی کی تیاری ہو رہی ہے۔ جرمنی کی عدالت میں نقاب اوڑھنے پر قتل کر دیا گیا تھا۔ سوئٹزر لینڈ میں مساجد کی تعمیر پر پابندی لگا دی ہے اور برطانیہ نے ایک زیر تعمیر مسجد کی تعمیر بھی روک دی ہے ایسے اقدامات سے 57 اسلامی ممالک کے سوا ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔ آج کسی اسلامی ملک میں کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کی بودوباش عبادت، رہن سہن اور عبادت گاہیں تعمیر کرنے پر پابندی نہیں لیکن مغرب کی طرف سے تسلسل کیساتھ مسلمانوں کو منفی پیغام مل رہا ہے جس سے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف مغرب کی طرف سے بین المذاہب ہم آہنگی اور ڈائیلاگ کی بات ہو رہی ہے، دوسری طرف کچھ یورپی ممالک کی طرف سے کئے گئے اقدامات سے مذاہب کے مابین نفرت کی دیواریں چنی جا رہی ہیں۔ جبکہ مذاہب کے درمیان نفرتیں بڑھانے کی نہیں کم کرنے کی ضرورت ہے۔ جس کا ان مغربی ممالک کو ادراک کرنا چاہیے جو نقاب، سکارف، مسجد کی تعمیر کے حوالے سے الٹے سیدھے احکامات اور بیانات جاری کرتے رہتے ہیں اور نبی کریمؐ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کو آزادی اظہار قرار دیتے ہیں‘ اگر مغرب کی طرف سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے رہے ہیں تو پہلے سے ابتر عالمی امن بدترصورت اختیار کرے گا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter